مقبول خبریں

صدر ٹرمپ نے بھی ایران سے اپنے نقصانات کے معاوضے کی ادائیگی کا مطالبہ کر دیا


صدر ٹرمپ نے بھی ایران سے اپنے نقصانات کے معاوضے کی ادائیگی کا مطالبہ کر دیا ہے۔ یہ مطالبہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے تعلقات کئی دہائیوں کی سب سے نچلی سطح پر ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے۔ حالیہ مہینوں میں خلیجی خطے میں فوجی تصادم اور اقتصادی پابندیوں کے سلسلے نے ایک پیچیدہ صورتحال پیدا کر دی ہے، جس میں اب معاوضے کے مطالبے کا اضافہ ہو گیا ہے۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں یہ واضح کیا ہے کہ اگر ایران امریکہ سے جنگی نقصانات کا ہرجانہ طلب کرتا ہے تو امریکہ بھی ایران سے اپنے نقصانات کی تلافی کا مطالبہ کرے گا۔ یہ بیان ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے امریکہ سے جنگ کے دوران ہونے والے نقصانات کے معاوضے کا مطالبہ کرنے کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے۔ اس پیشرفت نے عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ کر دیا ہے کہ آیا یہ صورتحال مزید کشیدگی کا باعث بنے گی یا سفارتی حل کی کوئی راہ ہموار ہو سکے گی۔

ایران سے امریکی مطالبات کی تفصیلات اور پس منظر

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 10 اگست 2026 کو اپنے سوشل میڈیا پیغامات میں ایران سے معاوضے کے مطالبات کی تفصیلات پیش کیں۔ ان کے بقول، امریکہ ایران سے امریکی شہریوں کی ہلاکتوں اور زخمیوں کا معاوضہ طلب کرے گا۔ ان میں خاص طور پر ان کارروائیوں کا ذکر کیا گیا جو مبینہ طور پر جنرل قاسم سلیمانی کی قیادت میں ہوئیں، نیز یو ایس ایس کول پر حملے میں ہلاک ہونے والے افراد کے خاندانوں کو بھی معاوضہ ملنا چاہیے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران میں گزشتہ 50 برس کے دوران ہونے والے مظاہروں میں مارے جانے والے لاکھوں افراد کے خاندانوں کو بھی ہرجانہ دیا جانا چاہیے، اور ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ پانچ ماہ میں 52 ہزار افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ مطالبات آئندہ ہونے والے تمام مذاکرات میں باضابطہ طور پر شامل کیے جائیں گے۔

امریکی موقف کے مطابق، ایران نے خطے میں پراکسی گروپس کی حمایت اور مختلف حملوں میں ملوث ہو کر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ جنرل قاسم سلیمانی، جو ایرانی پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے کمانڈر تھے، جنوری 2020 میں عراق کے دارالحکومت بغداد کے قریب ایک امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے سلیمانی کو ایک دہشت گرد قرار دیا تھا جو مبینہ طور پر پانچ امریکی فوجی اڈوں پر حملوں کی تیاری کر رہے تھے۔ اس واقعے کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا اور ایران نے سلیمانی کے قتل میں ملوث افراد، بشمول ڈونلڈ ٹرمپ، کے خلاف خصوصی عدالتیں قائم کی ہیں تاکہ ان پر مقدمہ چلایا جا سکے۔ امریکہ کے یہ مطالبات دراصل ایران کی جانب سے اس کے اپنے نقصانات کی تلافی کے مطالبے کا ردعمل ہیں، جو کہ آبنائے ہرمز کے مسئلے پر بھی شامل ہیں۔

خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور اقتصادی اثرات

امریکہ اور ایران کے درمیان فوجی کشیدگی فروری 2026 سے جاری ہے، جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران میں “آپریشن ایپک فیوری” کے نام سے فضائی حملے شروع کیے۔ ان حملوں کا مقصد مبینہ طور پر ایران میں رجیم چینج لانا تھا۔ ان کارروائیوں میں جدید ترین امریکی ہتھیار استعمال کیے گئے، جس پر امریکہ کو روزانہ اربوں ڈالر خرچ کرنا پڑ رہے ہیں۔ ایک معروف دفاعی تھنک ٹینک ‘سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز’ (CSIS) کی رپورٹ کے مطابق، امریکہ کو اس جنگ پر یومیہ تقریباً 89 کروڑ 14 لاکھ ڈالر کا بوجھ برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔

یہ بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی عالمی معیشت پر بھی گہرے اثرات مرتب کر رہی ہے۔ خاص طور پر تیل کی قیمتوں اور بحری تجارت پر اس کے منفی اثرات نمایاں ہیں۔ آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث تجارتی جہازوں کی آمدورفت میں رکاوٹیں پیدا ہوئی ہیں، جس سے عالمی منڈیوں میں تیل اور دیگر اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ امریکی مالیاتی منڈیوں میں بھی اس جنگ کے معاشی اثرات واضح طور پر نظر آ رہے ہیں، جہاں توانائی کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور غیر یقینی صورتحال کے باعث اسٹاک مارکیٹ میں مندی اور کساد بازاری کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ اس صورتحال نے عالمی سطح پر تشویش پیدا کر دی ہے کہ یہ تنازع مزید عالمی اقتصادی بحران کا سبب بن سکتا ہے۔

آبنائے ہرمز کی اہمیت اور تنازع کا مرکز

آبنائے ہرمز دنیا کے سب سے اہم سمندری راستوں میں سے ایک ہے، جہاں سے عالمی خام تیل کا تقریباً 20 سے 30 فیصد حصہ روزانہ کی بنیاد پر گزرتا ہے۔ یہ آبنائے خلیج فارس کو بحر عمان اور پھر بحر ہند سے