مقبول خبریں

ویپ استعمال کرنے کے 5 خطرناک اثرات سامنے آگئے

ویپ استعمال کرنے کے 5 خطرناک اثرات ایک ایسا موضوع ہے جس پر آج کل دنیا بھر میں تشویش پائی جاتی ہے۔ الیکٹرانک سگریٹ، جسے عام طور پر ویپ (Vape) کہا جاتا ہے، بظاہر روایتی سگریٹ کا ایک “محفوظ” متبادل سمجھا جاتا تھا، لیکن حالیہ تحقیق اور طبی ماہرین کی آراء نے اس تصور کو مکمل طور پر بدل دیا ہے۔ اب یہ واضح ہو چکا ہے کہ ویپنگ اپنے اندر کئی سنگین اور پوشیدہ خطرات رکھتی ہے جو انسانی صحت کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ نوجوانوں میں اس کا بڑھتا ہوا رجحان، اس کی رنگین اور پرکشش تشہیر، اور اس کے نقصان دہ اثرات سے متعلق کم آگاہی ایک تشویشناک صورتحال پیدا کر رہی ہے۔

تعارف: ویپنگ ایک بڑھتا ہوا خطرہ

ویپنگ ایک ایسا عمل ہے جس میں الیکٹرانک آلات کے ذریعے تیار کردہ بخارات کو سانس لیا جاتا ہے، جنہیں ای سگریٹ یا ویپ ڈیوائسز کہا جاتا ہے۔ روایتی سگریٹ کے برعکس، یہ آلات تمباکو کو جلاتے نہیں بلکہ ایک مائع محلول (ای-لیکوڈ یا ویپ جوس) کو گرم کرتے ہیں جو بخارات میں بدل جاتا ہے۔ اس مائع میں عام طور پر نیکوٹین، ذائقے اور دیگر کیمیکلز شامل ہوتے ہیں۔ اگرچہ اسے تمباکو نوشی کے متبادل کے طور پر فروغ دیا گیا، یہ تاثر کہ ویپنگ مکمل طور پر بے ضرر ہے، ایک بڑی غلط فہمی ہے۔ ماہرین صحت کے مطابق، ویپنگ صحت کے کئی پہلوؤں کے لیے ممکنہ خطرات کی نشاندہی کرتی ہے، خاص طور پر قلبی نظام، پھیپھڑوں اور دماغی صحت کے حوالے سے۔ پاکستان میں بھی ویپنگ کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے، جہاں ایک حالیہ گیلپ سروے کے مطابق 1.2 ملین سے زائد افراد ویپنگ ڈیوائسز استعمال کر رہے ہیں، جبکہ عوامی آگاہی ابھی بھی کم ہے۔

پھیپھڑوں کو ناقابل تلافی نقصان

ویپنگ کے سب سے نمایاں اور فوری اثرات میں سے ایک پھیپھڑوں کو پہنچنے والا نقصان ہے۔ ویپنگ ایروسول میں کیمیکلز کیمیکلز اور باریک ذرات شامل ہوتے ہیں جنہیں سانس لینے سے کھانسی، گھرگھراہٹ اور سانس لینے میں تکلیف ہو سکتی ہے۔ یہ ذرات پھیپھڑوں میں سوزش کا باعث بن سکتے ہیں اور ان کے کام کرنے کی صلاحیت کو متاثر کرتے ہیں۔

  • پاپ کارن لنگز (Popcorn Lungs): ویپ مائعات میں استعمال ہونے والا ایک کیمیکل جسے ‘Diacetyl’ کہا جاتا ہے، ‘پاپ کارن لنگز’ جیسی حالت سے منسلک کیا گیا ہے. اس حالت میں پھیپھڑوں میں ہوا کی چھوٹی تھیلیوں پر داغ پڑ جاتے ہیں، جس سے سانس لینے میں شدید دشواری ہوتی ہے۔
  • سوزش اور دیگر بیماریاں: ویپنگ سے کیمیکلز سانس لینے سے ایئرویز میں جلن ہو سکتی ہے اور پھیپھڑوں میں سوزش پیدا ہو سکتی ہے۔ طویل مدتی استعمال سے برونکائٹس، نمونیا، اور دائمی رکاوٹ پلمونری بیماری (COPD) جیسے پھیپھڑوں کے مسائل بڑھ سکتے ہیں۔
  • EVALI: ای سگریٹ یا ویپنگ پروڈکٹ کے استعمال سے منسلک پھیپھڑوں کی چوٹ (EVALI) ایک سنگین حالت ہے جو ویپنگ کے نتیجے میں پھیپھڑوں کو شدید نقصان پہنچاتی ہے۔

دل کی بیماریوں کا بڑھتا ہوا خطرہ

ویپنگ کا دل کی صحت پر بھی گہرا اور منفی اثر پڑتا ہے۔ ویپ مائعات میں موجود نیکوٹین دل کی دھڑکن کو تیز کرتا ہے اور بلڈ پریشر بڑھاتا ہے۔ طویل مدتی نیکوٹین کی نمائش سے خون کی نالیوں کو تنگ کیا جا سکتا ہے، جس سے دل پر سوزش اور تناؤ پیدا ہوتا ہے، اور دل کی بیماریوں کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

  • ہارٹ اٹیک اور سٹروک کا خطرہ: ویپنگ خون کی نالیوں کے اندر خلیات کو نقصان پہنچا سکتی ہے، جس سے ایتھروسکلروسیس (شریانوں کا بند ہونا) ہو سکتا ہے۔ اس سے خون کا بہاؤ کم ہوتا ہے اور ہارٹ اٹیک اور سٹروک کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ نیکوٹین کی وجہ سے خون کی نالیاں سخت اور تنگ ہو سکتی ہیں، جو تختیوں کو جمع ہونے میں مدد دیتی ہیں اور دل کی بیماری کے خطرات کو مزید بڑھاتی ہیں۔
  • بے قاعدہ دل کی دھڑکن (Arrhythmias): ویپنگ میں موجود کیمیکلز، خاص طور پر نیکوٹین، دل کے برقی سگنلز میں مداخلت کر سکتے ہیں، جس سے دل کی دھڑکن بے قاعدہ ہو سکتی ہے جسے اریتھمیا (arrhythmias) کہتے ہیں۔ سنگین صورتوں میں دھڑکن، بے ہوشی، یا اچانک دل کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔
  • کاربن مونو آکسائیڈ اور بھاری دھاتیں: کچھ ویپ مائعات میں کاربن مونو آکسائیڈ اور بھاری دھاتیں جیسے سیسہ اور نکل پائے گئے ہیں جو دل کی صحت پر نقصان دہ اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ کاربن مونو آکسائیڈ خون کے سرخ خلیات کے ذریعے آکسیجن لے جانے کی صلاحیت کو کم کرتا ہے، جس سے دل سمیت اہم اعضاء کو آکسیجن کی کمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

دماغی صحت اور نشوونما پر منفی اثرات

نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا استعمال خاص طور پر تشویشناک ہے کیونکہ ان کا دماغ ابھی نشوونما کے مراحل میں ہوتا ہے۔ نیکوٹین، جو زیادہ تر ای سگریٹ میں پائی جاتی ہے، انتہائی نشہ آور ہے اور بڑھتے ہوئے دماغ پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ یہ یادداشت اور توجہ کے لیے ذمہ دار دماغ کے حصوں کو متاثر کرتی ہے، جس سے طویل مدتی علمی خرابی اور دیگر منشیات کی لت کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

  • ذہنی مسائل کا بڑھتا ہوا خطرہ: تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ویپنگ نوجوانوں میں ڈپریشن، بے چینی، اور توجہ کی کمی جیسی علامات پیدا کر سکتی ہے۔ نیکوٹین کے باعث نوجوانوں میں چڑچڑاپن اور مزاج کی تبدیلی بھی عام ہو سکتی ہے۔
  • یادداشت اور سیکھنے کی صلاحیت: نیکوٹین کا استعمال یادداشت کو متاثر کرتا ہے اور سیکھنے کی صلاحیت میں کمی کا باعث بن سکتا ہے۔ یہ چیز نوجوانوں کی تعلیمی کارکردگی پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔
  • دماغی توازن پر اثرات: ویپنگ کو ڈیمنشیا (بھولنے کی بیماری) اور دماغی توازن کی خرابی سے بھی جوڑا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ویپنگ سگریٹ سے زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ لوگ اسے بغیر رکے مسلسل استعمال کر سکتے ہیں، جس سے نیکوٹین کی زیادہ مقدار جسم میں جاتی ہے۔

کینسر کا بڑھتا ہوا امکان

اگرچہ ویپنگ کو روایتی سگریٹ کے مقابلے میں کم نقصان دہ سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس میں تمباکو نہیں جلتا، لیکن یہ مکمل طور پر کینسر کے خطرات سے پاک نہیں ہے۔ ویپ مائعات میں مختلف کیمیکلز شامل ہوتے ہیں جو گرم ہونے پر زہریلے مادوں میں تبدیل ہو سکتے ہیں، جن میں سے کچھ کینسر کا سبب بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ایک حالیہ جامع سائنسی تحقیق نے ویپنگ کو پھیپھڑوں اور منہ کے کینسر سے جڑا ہونے کا انکشاف کیا ہے۔

خطرناک کیمیکل ممکنہ صحت پر اثرات
نیکوٹین (Nicotine) شدید لت، دل کی دھڑکن اور بلڈ پریشر میں اضافہ، دماغی نشوونما پر منفی اثرات۔ کینسر کا براہ راست سبب نہیں، لیکن دیگر کیمیکلز کے ساتھ مل کر خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
فارملڈیہائیڈ (Formaldehyde) ایک معروف کارسنجن (کینسر پیدا کرنے والا مادہ)۔ یہ ایئر ویز میں جلن کا سبب بن سکتا ہے اور طویل مدتی نمائش سے پھیپھڑوں کے کینسر کا باعث بن سکتا ہے۔
ایکرولین (Acrolein) پھیپھڑوں میں جلن، سانس کے مسائل۔ طویل عرصے تک سانس لینے پر پھیپھڑوں کو نقصان اور کینسر سے منسلک ہے۔
غیر مستحکم نامیاتی مرکبات (VOCs) کچھ VOCs کینسر کا سبب بن سکتے ہیں اور نظام تنفس میں جلن پیدا کرتے ہیں۔
بھاری دھاتیں (Heavy Metals) سیسہ اور نکل جیسے ذرات جو ویپنگ ایروسول میں پائے جاتے ہیں، کینسر اور دیگر شدید بیماریوں کا خطرہ بڑھا سکتے ہیں۔
ڈائیسیٹائل (Diacetyl) “پاپ کارن لنگز” جیسی پھیپھڑوں کی بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے.

تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ ویپنگ جسم میں ایسے ابتدائی حیاتیاتی اثرات پیدا کرتی ہے جو کینسر سے مضبوط تعلق رکھتے ہیں، جن میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنا اور سوزش میں اضافہ شامل ہیں۔ خاص طور پر، ای سگریٹ کے بخارات کو سانس کے ذریعے اندر لینے سے منہ اور پھیپھڑوں کے خلیات میں نمایاں تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔ کچھ کیسز میں صرف ویپنگ کرنے والے افراد میں منہ کے کینسر کی تشخیص بھی ہوئی ہے، حالانکہ وہ روایتی سگریٹ نوشی نہیں کرتے تھے۔

لت اور دیگر پوشیدہ خطرات

ویپنگ کا سب سے واضح لیکن اکثر نظر انداز کیا جانے والا خطرہ نیکوٹین کی لت ہے۔ زیادہ تر ویپ مصنوعات میں نیکوٹین ہوتی ہے، جو انتہائی نشہ آور ہے۔ یہ لت نہ صرف صحت کے مختلف خطرات کا باعث بنتی ہے بلکہ تمباکو اور نیکوٹین کے ساتھ زندگی بھر کی جدوجہد کا سبب بھی بن سکتی ہے۔

  • نظر اور بینائی پر اثرات: نئی تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ ویپنگ بینائی کے سنگین امراض کا خطرہ بڑھاتی ہے۔ یہ آنکھوں کی صحت پر ایک بڑا اور جامع اثر ڈال سکتی ہے۔
  • نوجوانوں کے ہارمونز پر اثرات: ویپنگ کے استعمال سے ہارمونز کا نظام بھی متاثر ہو سکتا ہے اور یہ بانجھ پن (infertility) کا سبب بھی بن سکتی ہے۔
  • بیٹری پھٹنے کا خطرہ: الیکٹرانک سگریٹ میں استعمال ہونے والی بیٹریاں زیادہ گرم ہونے یا زیادہ چارج ہونے کی صورت میں پھٹ سکتی ہیں، جس سے منہ، ہاتھ اور چہرے پر شدید چوٹیں آ سکتی ہیں۔
  • ثانوی دھواں (Secondhand Vapor): اگرچہ ویپنگ کا سیکنڈ ہینڈ دھواں روایتی سگریٹ کے دھوئیں سے کم نقصان دہ کیمیکل پیدا کرتا ہے، لیکن یہ مکمل طور پر خطرے سے پاک نہیں ہے اور ارد گرد موجود افراد، خاص طور پر بچوں اور حاملہ خواتین کے لیے مضر صحت ہو سکتا ہے۔

نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا رجحان

نوجوانوں میں ویپنگ کی بڑھتی ہوئی مقبولیت ایک عالمی تشویش بن چکی ہے۔ پرکشش ذائقوں، سمجھدار ڈیزائنوں اور اس غلط فہمی کی وجہ سے کہ یہ سگریٹ نوشی سے زیادہ محفوظ ہے، نوعمر اور نوجوان بالغ ویپنگ کی طرف راغب ہو رہے ہیں۔ انہیں اکثر یہ احساس نہیں ہوتا کہ ویپ میں موجود نیکوٹین اور کیمیکلز ان کے نشوونما پاتے ہوئے جسموں اور دماغوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ پاکستان میں ایک گیلپ سروے کے مطابق، نوجوانوں میں ویپنگ کے بڑھتے رجحان کی سب سے بڑی وجہ فیشن اور سماجی دباؤ ہے۔ اس لت کو روکنے کے لیے تعلیم، آگاہی مہموں اور سخت قوانین کی ضرورت ہے۔ حکومتی سطح پر ویپنگ کی فروخت اور تشہیر پر قابو پانے کے لیے سخت قوانین نافذ کرنا بہت ضروری ہے۔ اس حوالے سے مزید معلومات کے لیے ڈان نیوز کی ایک تفصیلی رپورٹ بھی دیکھی جا سکتی ہے جس میں اس مسئلے کی سنگینی پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

نتیجہ

مجموعی طور پر، ویپنگ کو روایتی سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنا ایک خطرناک غلط فہمی ہے۔ طبی ماہرین کی جانب سے سامنے آنے والے شواہد اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ ویپ استعمال کرنے کے کئی سنگین اور جان لیوا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ پھیپھڑوں اور دل کی بیماریوں سے لے کر دماغی نشوونما میں رکاوٹ، کینسر کے بڑھتے خطرات اور بینائی کے امراض تک، ویپنگ انسانی صحت کو کئی طرح سے نقصان پہنچا سکتی ہے۔ خاص طور پر نوجوان نسل کے لیے یہ ایک تباہ کن عادت ثابت ہو سکتی ہے جو انہیں نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی طور پر بھی متاثر کرتی ہے۔ ایک صحت مند معاشرے کی تشکیل کے لیے ضروری ہے کہ ویپنگ کے ان خطرناک اثرات سے مکمل آگاہی حاصل کی جائے اور اس کے استعمال کو ترک کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے۔