مقبول خبریں

سونے کی اونچی اڑان، ایک دن میں ہزاروں روپے کا اضافہ ریکارڈ

سونے کی اونچی اڑان نے ایک بار پھر سرمایہ کاروں اور عام صارفین کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ گزشتہ چند روز کے دوران پاکستان سمیت عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جہاں ایک ہی دن میں ہزاروں روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ یہ صورتحال ملکی معیشت، افراطِ زر اور روپے کی قدر سے جڑے پیچیدہ عوامل کا نتیجہ ہے، جس نے سونے کو ایک بار پھر محفوظ سرمایہ کاری کی پناہ گاہ بنا دیا ہے۔ عالمی بلین مارکیٹ میں تیزی اور علاقائی جغرافیائی سیاسی صورتحال نے اس قیمتی دھات کی طلب میں اضافہ کیا ہے، جس کے مقامی مارکیٹ پر گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ حالیہ اضافے نے بہت سے لوگوں کو سونے میں سرمایہ کاری کی طرف راغب کیا ہے، جبکہ بعض اسے عارضی اتار چڑھاؤ قرار دے رہے ہیں۔

حالیہ تیزی کی وجوہات: عالمی و مقامی محرکات

سونے کی قیمتوں میں حالیہ غیر معمولی اضافے کی کئی وجوہات ہیں جو عالمی اور مقامی دونوں سطحوں پر موجود ہیں۔ سب سے پہلے، عالمی جغرافیائی سیاسی صورتحال سونے کی قیمتوں پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہے۔ حالیہ دنوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات پر متضاد اشاروں اور غیر یقینی کی صورتحال نے عالمی منڈی میں سونے اور چاندی کی طلب میں اضافہ کیا ہے۔ جب بین الاقوامی سطح پر کشیدگی بڑھتی ہے یا معاشی غیر یقینی کی فضا پیدا ہوتی ہے تو سرمایہ کار محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر سونے کا رخ کرتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں عالمی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے، جس کے اثرات فوری طور پر مقامی مارکیٹوں پر مرتب ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر، 5 اگست 2026 کو عالمی مارکیٹ میں فی اونس سونا یکدم 100 ڈالر مہنگا ہو کر 4155 ڈالر کی سطح پر پہنچ گیا۔

دوسری بڑی وجہ پاکستان میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور روپے کی قدر میں مسلسل کمی ہے۔ پاکستان میں سونے کی قیمت کا تاریخی سفر صرف ایک دھات کی قیمت کا سفر نہیں بلکہ ملکی معیشت، افراطِ زر اور روپے کی قدر کی پوری تاریخ بیان کرتا ہے۔ جب ملکی کرنسی کی قدر میں کمی آتی ہے تو درآمدی اشیاء مہنگی ہو جاتی ہیں، اور چونکہ سونے کا ایک بڑا حصہ درآمد کیا جاتا ہے، اس کی قیمت میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔ روپے کی قدر میں گراوٹ کے باعث مقامی کرنسی میں سونا خریدنا مہنگا ہو جاتا ہے، جس سے اس کی قیمت بڑھ جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق، سونا روایتی طور پر ایک محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے جس کی قیمت افراط زر، سیاسی اور معاشی عدم استحکام کے اوقات میں بڑھ جاتی ہے۔ جب سرمایہ کار دوسرے اثاثوں کے بارے میں غیر یقینی محسوس کرتے ہیں، تو وہ اکثر سونا خریدتے ہیں۔

ملکی سطح پر ہونے والے کاروباری فیصلے اور مالیاتی پالیسیاں بھی سونے کی قیمتوں کو متاثر کرتی ہیں۔ گزشتہ برس پاکستان میں سونے کی قیمت کے تعین کے طریقہ کار میں تبدیلی کی گئی تھی، جس کے تحت سونے کی قیمت انٹرنیشنل مارکیٹ ریٹ سے 20 ڈالر فی اونس زیادہ مقرر کی گئی۔ اس طرح کے اقدامات بھی مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں کو متاثر کرتے ہیں۔ مزید برآں، مقامی طلب اور رسد (demand and supply) بھی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ میں اہم کردار ادا کرتی ہے، خاص طور پر تہواروں اور شادیوں کے موسم میں سونے کی طلب میں اضافہ ہو جاتا ہے جس سے قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں۔

سونے کی تاریخی حیثیت اور سرمایہ کاری کا رجحان

سونا ہمیشہ سے دولت، سرمایہ کاری اور مالی تحفظ کی علامت رہا ہے۔ پاکستان کی آزادی کے وقت 1947 میں ایک تولہ سونا صرف 57 روپے کا تھا۔ آج 2026 میں یہ لاکھوں روپے تک پہنچ چکا ہے۔ یہ اضافہ صرف وقت کے ساتھ نہیں ہوا بلکہ عالمی اور مقامی اقتصادی تبدیلیوں کا عکاس ہے۔ 1970 کی دہائی سونے کے لیے ایک تاریخی موڑ ثابت ہوئی جب نکسن شاک (Bretton Woods کا خاتمہ) جیسی عالمی تبدیلیوں نے اس کی قیمتوں میں پہلی بڑی اڑان بھرنے میں مدد دی۔ 1970 میں جو سونا تقریباً 154 روپے فی تولہ تھا، وہ 1979 تک تقریباً 1230 روپے فی تولہ تک پہنچ گیا۔

یہ تاریخی اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ سونا کس طرح افراط زر، کرنسی کی قدر میں کمی اور عالمی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ کے خلاف ایک ہیج (hedge) کے طور پر کام کرتا ہے۔ سرمایہ کار طویل المدتی بنیادوں پر سونے کو ایک محفوظ اثاثہ سمجھتے ہیں، خاص طور پر جب اسٹاک مارکیٹیں غیر مستحکم ہوں یا بانڈز کم منافع دے رہے ہوں۔ سونے کی اپنی ایک موروثی قدر ہے جو اسے دیگر اثاثوں سے ممتاز کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی معاشی بحرانوں، سیاسی عدم استحکام، اور کرنسی کی قدر میں کمی کے ادوار میں سونے کی مانگ میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ پاکستان میں بھی، جہاں روپے کی قدر میں مسلسل کمی دیکھنے میں آتی ہے، سونا ایک قابل اعتماد سرمایہ کاری کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔

آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق، سونے کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ بین الاقوامی مارکیٹ میں تیزی کے براہ راست اثرات کا نتیجہ ہے۔ 6 اگست 2026 کو ملک میں فی تولہ سونے کی قیمت 11 ہزار 300 روپے اضافے کے بعد 4 لاکھ 49 ہزار 236 روپے کی سطح پر جا پہنچی تھی۔ یہ اضافہ دو روز کے دوران مجموعی طور پر 21 ہزار 300 روپے کا رہا۔ یہ اعداد و شمار سونے میں سرمایہ کاری کی اپیل کو مزید تقویت دیتے ہیں کیونکہ یہ تیزی سے منافع بخش ثابت ہو سکتا ہے، تاہم اس میں اتار چڑھاؤ کا خطرہ بھی موجود ہوتا ہے۔

سالقیمت فی تولہ (PKR)قیمت فی 10 گرام (PKR)اہم عوامل
194757نامعلومقیام پاکستان
20039,000نامعلومعالمی استحکام
200929,500نامعلومعالمی مالیاتی بحران
201156,000نامعلومعالمی معاشی غیر یقینی
201988,100نامعلوممہنگائی کا آغاز
2021126,000نامعلومکووڈ-19، افراط زر
2023219,000نامعلومروپے کی گراوٹ، شدید مہنگائی
جنوری 2026514,660نامعلومعالمی و مقامی غیر یقینی
5 اگست 2026437,936375,459امریکا-ایران مذاکرات، عالمی تیزی
6 اگست 2026449,236385,147مسلسل دوسرے روز بڑا اضافہ

مقامی معیشت اور عام صارف پر اثرات

سونے کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کے مقامی معیشت اور عام صارف پر گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ایک طرف، وہ افراد جنہوں نے پہلے سے سونے میں سرمایہ کاری کر رکھی ہے، انہیں منافع ہوتا ہے اور ان کے اثاثوں کی قدر میں اضافہ ہوتا ہے۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب دیگر سرمایہ کاری کے ذرائع غیر مستحکم ہوں، سونا ایک پرکشش آپشن بن جاتا ہے۔ تاہم، دوسری طرف، عام صارفین، خاص طور پر وہ جو زیورات کی خریداری کے خواہشمند ہیں، ان کے لیے سونا خریدنا مشکل ہو جاتا ہے۔ شادی بیاہ جیسے مواقع پر زیورات کی خریداری پاکستانی ثقافت کا ایک اہم حصہ ہے، اور قیمتوں میں یہ اضافہ ان کی قوت خرید کو بری طرح متاثر کرتا ہے۔

صرافہ بازاروں میں خریداروں کی تعداد میں کمی دیکھنے میں آتی ہے کیونکہ سونا عام خریدار کی پہنچ سے کافی حد تک باہر ہو چکا ہے۔ اس سے زیورات کی صنعت بھی متاثر ہوتی ہے، کیونکہ طلب میں کمی کے باعث کاروبار پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ چھوٹے جیولرز اور کاریگروں کے لیے روزگار کے مواقع کم ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، سونے کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ملکی معیشت پر بھی اثر انداز ہوتی ہیں، خاص طور پر جب ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی ہو رہی ہو۔ درآمدی سونا مہنگا ہو جاتا ہے، جس سے ادائیگیوں کا توازن متاثر ہو سکتا ہے۔

سونے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ سرمایہ کاروں میں بھی غیر یقینی پیدا کرتا ہے۔ اگرچہ سونا ایک محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے، لیکن اس کی قیمتوں میں تیزی سے ہونے والے اضافے اور کمی دونوں کے خطرات ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر، 1 اگست 2026 کو عالمی بلین مارکیٹ میں مندی کے اثرات پاکستان میں بھی نمایاں ہوئے، جہاں 24 قیراط سونے کی فی تولہ قیمت میں 3,700 روپے کی بڑی کمی ریکارڈ کی گئی۔ یہ اتار چڑھاؤ ظاہر کرتا ہے کہ سرمایہ کاروں کو محتاط رہنا چاہیے اور مارکیٹ کے رجحانات پر گہری نظر رکھنی چاہیے۔

ایک ایکسپریس نیوز کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں سونے کے نرخ روزانہ کی بنیاد پر تبدیل ہوتے ہیں، جس کی بنیادی وجہ عالمی مارکیٹ، ڈالر کے مقابلے میں روپے کا اتار چڑھاؤ اور مقامی صرافہ مارکیٹ کے رجحانات ہیں۔ یہ رپورٹ اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ سونے کی قیمتیں صرف عالمی عوامل سے ہی نہیں بلکہ مقامی معاشی حالات سے بھی متاثر ہوتی ہیں۔ حکومت اور مرکزی بینک کی پالیسیاں، افراطِ زر کے خدشات اور بین الاقوامی سیاسی کشیدگی جیسے عوامل بھی سونے کی قیمتوں پر نمایاں اثر ڈالتے ہیں۔

مستقبل کے امکانات اور سرمایہ کاروں کے لیے مشورے

سونے کی قیمتوں میں مستقبل کے امکانات کا انحصار کئی عالمی اور مقامی عوامل پر ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر عالمی سیاسی کشیدگی اور معاشی خدشات برقرار رہے تو آنے والے دنوں میں سونے کی قیمتیں مزید بلند سطح پر جا سکتی ہیں۔ خاص طور پر، اگر امریکہ اور ایران کے درمیان تناؤ بڑھتا ہے یا دیگر بڑی عالمی طاقتوں کے درمیان гео سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے تو سونے کی طلب میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ اس کے علاوہ، اگر عالمی معیشت سست روی کا شکار ہوتی ہے اور افراط زر میں اضافہ ہوتا ہے، تو سرمایہ کار سونے کو ایک محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر ترجیح دیں گے۔

تاہم، ڈالر کی مضبوطی یا عالمی مالیاتی پالیسی میں تبدیلی کی صورت میں قیمتوں میں اتار چڑھاؤ بھی متوقع ہے۔ اگر امریکی فیڈرل ریزرو شرح سود میں اضافہ کرتا ہے تو ڈالر مضبوط ہو سکتا ہے، جس سے سونے کی قیمتوں پر منفی اثر پڑے گا۔ اسی طرح، اگر عالمی معاشی صورتحال میں بہتری آتی ہے اور سرمایہ کار زیادہ رسک والے اثاثوں کی طرف راغب ہوتے ہیں تو سونے کی قیمتوں میں کمی آ سکتی ہے۔

سرمایہ کاروں کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ سونے کی خرید و فروخت سے قبل مقامی اور عالمی مارکیٹ کے تازہ ترین رجحانات پر گہری نظر رکھیں۔ ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ بین الاقوامی اقتصادی حالات میں معمولی تبدیلی بھی سونے کی قیمتوں پر نمایاں اثر ڈال سکتی ہے۔ پورٹ فولیو کو متنوع (diversify) بنانا اور صرف ایک اثاثے پر مکمل انحصار نہ کرنا ایک دانشمندانہ حکمت عملی ہے۔ سونے میں سرمایہ کاری کرتے وقت، اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ یہ ایک طویل المدتی سرمایہ کاری ہے اور قلیل المدتی اتار چڑھاؤ سے گھبرانا نہیں چاہیے۔

پاکستان میں بھی، جہاں مہنگائی اور روپے کی قدر میں کمی ایک مسلسل چیلنج ہے، سونا طویل المدتی سرمایہ کاری کے لیے ایک اچھی آپشن ہو سکتا ہے۔ تاہم، اس کے ساتھ ساتھ دیگر اثاثوں جیسے رئیل اسٹیٹ یا اسٹاک مارکیٹ میں بھی سرمایہ کاری پر غور کرنا چاہیے تاکہ خطرات کو کم کیا جا سکے۔ آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن اور دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والی روزانہ کی اپ ڈیٹس پر نظر رکھنا بھی اہم ہے تاکہ بروقت فیصلے کیے جا سکیں۔ 2026 میں سونے کی ممکنہ قیمت کے حوالے سے ماہرین مختلف اندازے لگا رہے ہیں، اور یہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ عالمی اور مقامی سطح پر معاشی اور سیاسی صورتحال کس رخ پر جاتی ہے。

نتیجہ

سونے کی اونچی اڑان اور ایک دن میں ہزاروں روپے کا اضافہ ایک پیچیدہ رجحان ہے جو عالمی جغرافیائی سیاسی صورتحال، افراط زر، روپے کی قدر میں کمی، اور سرمایہ کاروں کے محفوظ اثاثوں کی طرف رجحان جیسے متعدد عوامل کا مجموعہ ہے۔ پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ نے نہ صرف سرمایہ کاروں کو متوجہ کیا ہے بلکہ عام صارفین کو بھی متاثر کیا ہے، خاص طور پر زیورات کی خریداری کے حوالے سے۔ سونے کی تاریخی حیثیت بطور ایک محفوظ سرمایہ کاری ہمیشہ برقرار رہی ہے، اور معاشی غیر یقینی کے ادوار میں اس کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ تاہم، اس کے ساتھ جڑے اتار چڑھاؤ کے خطرات سے آگاہ رہنا اور ماہرین کے مشوروں پر عمل کرنا ضروری ہے۔ مستقبل کے امکانات عالمی اقتصادی اور سیاسی استحکام سے گہرا تعلق رکھتے ہیں، اور اس قیمتی دھات کی قیمتیں ان عوامل کی روشنی میں ہی اپنی سمت متعین کریں گی۔