ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکا کو ایک اہم پیغام دیتے ہوئے مذاکرات کو مفاہمت کے لیے بہترین موقع قرار دیا ہے۔ ان کے اس بیان نے ایک بار پھر عالمی سطح پر ایران اور امریکا کے درمیان طویل عرصے سے جاری کشیدگی کے خاتمے اور ممکنہ سفارتی حل کی امیدوں کو جنم دیا ہے۔ تاہم، دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی پیچیدہ تاریخ، حالیہ پابندیاں، اور علاقائی تنازعات اس راہ میں کئی چیلنجز بھی کھڑے کر رہے ہیں۔ صدر پزشکیان کے مطابق، سفارتکاری اور مسلسل دباؤ نے امریکا کو مجبور کیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ مفاہمت کی راہ اپنائے، اور موجودہ حالات کسی بھی معاہدے پر پہنچنے کے لیے نہایت موزوں ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایران اپنے قومی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور دھمکیوں کے ماحول میں مذاکرات کو قبول نہیں کرے گا۔
تعلقات کی تاریخی پیچیدگیاں اور مستقل کشیدگی
امریکا اور ایران کے تعلقات کی بنیادیں کئی دہائیوں پر محیط ہیں، جو 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد سے انتہائی کشیدہ اور معاندانہ رہے ہیں۔ 1953 میں امریکا اور برطانیہ کی مدد سے منتخب وزیر اعظم محمد مصدق کی حکومت کا تختہ الٹنے اور شاہ رضا پہلوی کو دوبارہ اقتدار میں لانے کے واقعے نے ایرانی قوم میں مغرب کے خلاف گہری بدگمانی پیدا کر دی تھی۔ انقلاب کے بعد، تہران میں امریکی سفارت خانے پر قبضے اور 52 امریکیوں کو 444 دن تک یرغمال بنائے رکھنے کے واقعے نے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات مکمل طور پر منقطع کر دیے۔ اس کے بعد سے، ایران عراق جنگ کے دوران امریکی حمایت، ایران کونٹرا سکینڈل، خطے میں امریکی فوجی موجودگی، اور ایران کے جوہری پروگرام نے تعلقات کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔
جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت جیسے واقعات نے دونوں ممالک کو جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا تھا۔ ماضی میں ہونے والے مختلف مذاکراتی ادوار، جن میں 2015 کا جوہری معاہدہ (جوائنٹ کمپری ہینسو پلان آف ایکشن – JCPOA) بھی شامل ہے، نے وقتی طور پر تناؤ میں کمی کی، لیکن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی 2018 میں اس معاہدے سے یکطرفہ دستبرداری اور ایران پر دوبارہ پابندیوں کے نفاذ نے صورتحال کو ایک بار پھر ابتر کر دیا۔ ایران نے اس کے جواب میں اپنے جوہری پروگرام کو وسیع کرنا شروع کر دیا، اور آج اس کے افزودہ یورینیم کے ذخائر معاہدے کی حدود سے کئی گنا بڑھ چکے ہیں۔
موجودہ ایرانی موقف: سفارتکاری کی کامیابی اور “بہترین موقع”
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے حالیہ بیانات میں اس بات پر زور دیا ہے کہ مذاکرات اور سفارتکاری نے امریکا کو ایران کے ساتھ مفاہمت پر مجبور کیا ہے۔ انہوں نے تہران میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران کہا کہ “مذاکرات اور سفارتکاری نے امریکا کو مجبور کیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ مفاہمت اختیار کرے، معاہدے پر پہنچنے کے لیے موجودہ صورتحال بہترین وقت ہے”۔ صدر پزشکیان نے یہ بھی واضح کیا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت امریکا کے لیے ضروری تھا کہ وہ ایران اور عمان کی تیار کردہ گائیڈ لائنز پر عمل کرے، مگر امریکا نے ایسا نہیں کیا جس پر ایران کو ردعمل دینا پڑا۔ انہوں نے زور دیا کہ ایران اپنے قومی مفادات کو مقدم رکھے گا اور کسی بھی صورت حال میں سرینڈر نہیں کرے گا۔
ایرانی قیادت نے ماضی میں بھی مذاکرات کی پیشکش کی ہے، لیکن ہمیشہ یہ شرط رکھی ہے کہ مذاکرات دھمکیوں اور غیر معقول مطالبات سے پاک ہونے چاہئیں اور برابری کی بنیاد پر ہوں۔ اس تناظر میں، صدر پزشکیان کا موجودہ بیان ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے، جہاں ایران اپنی سفارتکاری کو ایک کامیابی کے طور پر پیش کر رہا ہے اور بین الاقوامی دباؤ کے باوجود اپنی پوزیشن مستحکم رکھنے کا ارادہ ظاہر کر رہا ہے۔ ایران کا یہ بھی مؤقف ہے کہ امریکا اور اسرائیل جانتے ہیں کہ صرف جنگ کے ذریعے ایرانیوں کو حکم ماننے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔
امریکی ردعمل اور متضاد اشارے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی ایران کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے کے اشارے دے چکے ہیں۔ انہوں نے کئی مواقع پر کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات “اس وقت” جاری ہیں اور یہ تہران کے لیے کسی اچھے معاہدے پر پہنچنے کا “آخری موقع” ہو سکتا ہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے مذاکرات کی درخواست اس وقت کی جب امریکا ایک بڑے فوجی حملے کی تیاری مکمل کر چکا تھا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی انتظامیہ عسکری دباؤ کو سفارتی کامیابی کی ایک وجہ سمجھ رہی ہے۔
تاہم، امریکی حکام کی جانب سے متضاد اشارے بھی ملتے رہے ہیں۔ ایک طرف سفارتکاری اور مذاکرات کی باتیں ہیں تو دوسری طرف ایران پر نئی پابندیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ جولائی 2026 میں، امریکا نے ایران پر مزید نئی اقتصادی پابندیاں عائد کیں، جن میں کاروباری شخصیات، کرنسی ایکسچینج ہاؤسز اور متعدد کمپنیاں شامل ہیں۔ یہ پابندیاں ایران کے لیے مالیاتی پابندیوں سے بچنے اور رقوم منتقل کرنے والے نیٹ ورکس کو ہدف بناتی ہیں، خاص طور پر آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کے خلاف کارروائیوں کے جواب میں۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی کارروائیوں کے نتیجے میں ایران کے جوہری پروگرام کو شدید نقصان پہنچا ہے اور تہران کی عسکری صلاحیتوں کو بھی کمزور کیا گیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکا یہ جائزہ لے رہا ہے کہ آیا ایران مستقبل میں ایسے طویل مدتی تبدیلیاں کرنے کے لیے تیار ہے جن سے دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری آئے۔ یہ متضاد اشارے ظاہر کرتے ہیں کہ دونوں فریقوں کے درمیان اعتماد کی شدید کمی ہے اور ہر فریق اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
جوہری پروگرام اور پابندیاں: تنازعہ کی بنیادی وجوہات
ایران کا جوہری پروگرام امریکا اور اس کے اتحادیوں کے لیے طویل عرصے سے تشویش کا باعث رہا ہے۔ ایران ہمیشہ یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے، جب کہ مغربی ممالک کو شبہ ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ 2015 کا جوہری معاہدہ (JCPOA) اس تنازعے کو حل کرنے کی ایک بڑی سفارتی کوشش تھی، جس کے تحت ایران نے اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے بدلے میں پابندیوں میں نرمی حاصل کی تھی۔
امریکا کی 2018 میں معاہدے سے دستبرداری نے ایران کو بھی اپنے وعدوں سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا، اور اس کے بعد سے ایران نے افزودہ یورینیم کی پیداوار میں اضافہ کر دیا ہے۔ عالمی ادارہ برائے جوہری توانائی (IAEA) کے مطابق، ایران واحد غیر جوہری ہتھیار رکھنے والی ریاست ہے جس نے اس سطح کا مواد تیار کیا ہے جو جوہری بم کے لیے کافی ہو سکتا ہے۔
امریکا نے ایران پر جو نئی پابندیاں عائد کی ہیں، ان کا مقصد ایران کی معیشت پر دباؤ بڑھانا، خاص طور پر اس کی تیل کی صنعت اور عالمی مالیاتی نظام تک رسائی کو محدود کرنا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کی معیشت شدید بحران اور خوفناک مہنگائی کا شکار ہو چکی ہے۔ ان پابندیوں نے ایران کو مالی طور پر کمزور کیا ہے اور اسے عالمی سطح پر الگ تھلگ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
| پہلو | ایران کا موقف | امریکا کا موقف | حالیہ صورتحال |
|---|---|---|---|
| جوہری پروگرام | پرامن مقاصد کے لیے، قومی حمیت کا مسئلہ | جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی | ایران نے افزودگی بڑھا دی؛ امریکا نیا فریم ورک پیش کر رہا |
| مذاکرات | سفارتکاری کی کامیابی، بہترین موقع، دھمکیوں کے بغیر | آخری موقع، بعض معاملات پر بات چیت جاری | پاکستان، قطر، عمان کے ذریعے بالواسطہ مذاکرات جاری |
| پابندیاں | غیر منصفانہ، اقتصادی بحران کی وجہ | ایران کے طرز عمل کا جواب، مالی دباؤ بڑھانا | امریکا کی جانب سے نئی پابندیاں، بعض پابندیاں ہٹائی بھی گئیں |
| آبنائے ہرمز | عمان کے ساتھ معاہدہ قریب، نئی شرائط | امریکی بحریہ کی مکمل نگرانی، ایران فیس نہیں لے سکتا | عبوری معاہدے کے قریب، جنگ بندی کی بحالی کی کوششیں |
| علاقائی سلامتی | امریکی مداخلت سے امن ممکن نہیں | خطے میں استحکام چاہتے ہیں، ایرانی توسیع پسندی پر تشویش | تناؤ برقرار، ثالثی کی کوششیں جاری |
آبنائے ہرمز کا بحران اور علاقائی استحکام
آبنائے ہرمز، دنیا کی توانائی کی شہ رگ، امریکا اور ایران کے درمیان تنازعے کا ایک اور اہم نقطہ ہے۔ یہ اہم سمندری گزرگاہ عالمی تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہمیت رکھتی ہے، اور اس میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت پر تباہ کن اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ حالیہ عرصے میں، آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں اور امریکی بحری ناکہ بندی نے کشیدگی میں اضافہ کیا ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ امریکا آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول رکھتا ہے اور ایران کو وہاں سے گزرنے والے بحری جہازوں پر کسی قسم کی فیس یا ٹرانزٹ چارجز عائد کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ دوسری جانب، ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے لیے نئے انتظامات پر بات چیت حتمی مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی کے مطابق، مجوزہ ایران-عمان مفاہمت کے تحت آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کا نیا طریقہ کار وضع کیا جا رہا ہے، جس کے تحت تجارتی جہازوں کے سفر کا ایک بڑا حصہ ایرانی سمندری حدود سے گزرے گا۔
تاہم، ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے آبنائے ہرمز کی بندش ختم کرنے کے لیے امریکا سے جنگ کا ہرجانہ ادا کرنے سمیت 6 نئی شرائط بھی پیش کی ہیں۔ یہ مطالبات ظاہر کرتے ہیں کہ ایران اس بحران کو اپنی شرائط پر حل کرنا چاہتا ہے اور امریکا پر دباؤ برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ پاکستان اور قطر جیسے ممالک نے بھی آبنائے ہرمز کے بحران کے سفارتی حل کے لیے ثالثی کی کوششیں کی ہیں، اور ایک عبوری معاہدے کے قریب پہنچنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے جس کا مقصد امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کو بحال کرنا ہے۔
مفاہمت کی راہ میں درپیش چیلنجز اور عالمی کردار
ایران اور امریکا کے درمیان مفاہمت کی راہ میں متعدد چیلنجز حائل ہیں۔ سب سے بڑا چیلنج دونوں ممالک کے درمیان شدید بے اعتمادی ہے، جو طویل عرصے سے چلی آ رہی ہے۔ ایرانی صدر پزشکیان نے خود امریکی حکام کی جانب سے “غیر تعمیری اور متضاد اشاروں” کا تذکرہ کیا ہے، جو اس بے اعتمادی کی عکاسی کرتا ہے۔ امریکا کی جانب سے نئی پابندیاں، اسرائیل کے ایران پر حملے کے دعوے اور ایران کے خطے میں بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے حوالے سے واشنگٹن کے تحفظات بھی اس راہ میں رکاوٹ ہیں۔
جوہری پروگرام کے علاوہ، خطے میں علاقائی پراکسی جنگیں، لبنان میں حزب اللہ کی حمایت، اور شام و عراق میں ایرانی کردار جیسے مسائل بھی تنازعے کا حصہ ہیں۔ امریکا کی پوری کوشش ہے کہ 2015 کے معاہدے سے زیادہ کڑی شرطیں ایران پر لگائی جائیں، اور امریکا و اسرائیل دونوں چاہتے ہیں کہ ایران کا ایٹمی اور میزائل پروگرام ختم کر دیا جائے، لیکن ایرانی حکومت کے لیے یہ ایک ریڈ لائن ہو گی۔
عالمی سطح پر پاکستان، قطر اور عمان جیسے ممالک نے فریقین کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ برادر اسلامی ممالک کے مابین مفاہمت اور مذاکرات کی حمایت کی ہے۔ قطری ترجمان ماجد الانصاری نے حال ہی میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے سفارتی حل کے لیے کوششیں انتہائی اہم مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں، اور ایک ممکنہ معاہدے کا ابتدائی مسودہ بھی تیار کیا جا چکا ہے۔ یہ سفارتی کوششیں اگرچہ پیچیدہ ہیں، لیکن یہ خطے میں پائیدار امن کے لیے امید کی کرن ہیں۔
نتیجہ
ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا امریکا کو مذاکرات کے لیے “بہترین موقع” کا پیغام، ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی اور سفارتی کوششیں دونوں عروج پر ہیں۔ ایک طرف امریکا کی جانب سے نئی پابندیاں اور فوجی دباؤ برقرار ہے، تو دوسری طرف ایران اپنے قومی مفادات کے تحفظ اور سفارتکاری کو اپنی کامیابی کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ آبنائے ہرمز کا بحران اور جوہری پروگرام کے مستقبل جیسے معاملات دونوں ممالک کے درمیان تناؤ کا مرکزی نقطہ بنے ہوئے ہیں۔ عالمی ثالثوں کی کوششیں، خاص طور پر پاکستان، قطر اور عمان کی جانب سے، ایک عبوری معاہدے اور جنگ بندی کی بحالی کی امیدیں دلا رہی ہیں۔ تاہم، پائیدار امن کے لیے دونوں فریقوں کو باہمی بے اعتمادی کو کم کرنے، ایک دوسرے کے جائز تحفظات کو تسلیم کرنے اور دھمکیوں کے بجائے تعمیری مذاکرات کا راستہ اپنانے کی ضرورت ہوگی۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا یہ “بہترین موقع” واقعی مفاہمت کی جانب ایک ٹھوس قدم ثابت ہوگا یا یہ کشیدگی کا ایک نیا باب کھولے گا۔


