ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے صدر مسعود پزشکیان سے ایک اہم ملاقات کی جس میں ملک کی داخلی و خارجی صورتحال پر گہرائی سے مشاورت کی گئی۔ یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایران کو اندرونی طور پر سنگین معاشی چیلنجز اور عوامی بے چینی کا سامنا ہے، جبکہ علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر بھی اسے پیچیدہ صورتحال کا سامنا ہے۔ تہران کے سیاسی ایوانوں میں ہونے والی یہ مشاورت ملک کے مستقبل کی حکمت عملی اور پالیسی سازی کے حوالے سے انتہائی اہمیت کی حامل سمجھی جا رہی ہے۔ حالیہ مہینوں میں مشرق وسطیٰ کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال نے ایران پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں اور قیادت اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے مسلسل غور و فکر میں مصروف ہے۔
مقدمہ: ایک نازک موڑ پر اہم مشاورت

ایران کی قیادت اس وقت کئی محاذوں پر بیک وقت چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔ ایک طرف داخلی طور پر اقتصادی مشکلات اور عوامی بے اطمینانی بڑھ رہی ہے تو دوسری جانب امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جاری کشیدگی اور خطے میں نئی سفارتی صف بندیاں تہران کے لیے تشویش کا باعث بن رہی ہیں۔ ان حالات میں سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای اور صدر مسعود پزشکیان کی ملاقات کو ملکی اور علاقائی سطح پر بڑی اہمیت دی جا رہی ہے۔ اس ملاقات کا بنیادی مقصد ان تمام چیلنجز کا جائزہ لینا اور ایسے فیصلے کرنا تھا جو ملک کو موجودہ بحرانوں سے نکال سکیں۔
صدر مسعود پزشکیان نے 2024 میں ابراہیم رئیسی کی وفات کے بعد صدارت کا عہدہ سنبھالا تھا اور انہیں ایک اصلاح پسند رہنما کے طور پر دیکھا جاتا ہے، اگرچہ ان کے اختیارات ملک کے ادارہ جاتی ڈھانچے اور ان کے آزاد سیاسی بنیاد کی کمی کی وجہ سے محدود ہیں۔ اس ملاقات میں ممکنہ طور پر قومی سلامتی، معیشت کی بحالی، اور خطے میں ایران کے تزویراتی کردار کو مزید مضبوط کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ قیادت اس بات پر زور دے رہی ہے کہ قومی یکجہتی اور مزاحمت ہی ملک کی سلامتی اور دفاعی صلاحیتوں کو تحفظ فراہم کر سکتی ہے۔
داخلی صورتحال: معاشی بدحالی اور عوامی بے چینی
ایران کو کئی سالوں سے معاشی بحران کا سامنا ہے جو حالیہ عرصے میں مزید شدت اختیار کر چکا ہے۔ بین الاقوامی پابندیاں، نظام میں موجود بدعنوانی، اور انتظامی کمزوریاں ملک کی معیشت کو شدید متاثر کر رہی ہیں۔ سن 2021 سے 2023 کے دوران افراط زر کی شرح اوسطاً 42.2 فیصد رہی، اور 2024 میں اس کے 31.7 فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا گیا تھا۔ تاہم، 2026 کے اوائل تک افراط زر 50 فیصد سے تجاوز کر چکی تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ، ایرانی ریال کی قدر میں بھی حیرت انگیز حد تک کمی آئی ہے، جنوری 2026 میں ایک امریکی ڈالر 14 لاکھ ایرانی ریال کے برابر ہو چکا تھا۔ یہ صورتحال ایرانی شہریوں کے لیے روزمرہ کی زندگی کو انتہائی مشکل بنا رہی ہے، جہاں خوراک اور صحت کی اشیاء کی قیمتوں میں بالترتیب 72 فیصد اور 50 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔ ملک میں غربت کی شرح میں اضافہ ہوا ہے، اور حکومت کی سماجی و اقتصادی مسائل سے نمٹنے کی صلاحیت محدود ہو کر رہ گئی ہے۔
معاشی بدحالی نے بڑے پیمانے پر عوامی بے چینی کو جنم دیا ہے۔ 2025 کے اختتام سے دسمبر 2025 سے لے کر فروری 2026 کے اوائل تک ملک کے تمام 31 صوبوں میں شدید احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ یہ مظاہرے ابتدا میں مہنگائی اور خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے خلاف تھے، لیکن جلد ہی انہوں نے حکومت مخالف نعروں اور وسیع تر سیاسی مطالبات کی شکل اختیار کر لی۔ ان احتجاجات کو حکومتی سطح پر سختی سے کچل دیا گیا، جس کے نتیجے میں سویلین آزادیوں پر مزید پابندیاں عائد کی گئیں۔ تاہم، عوام میں عدم اطمینان گہرا ہے اور ملک بھر میں وقفے وقفے سے احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔ نائب صدر محمد رضا عارف نے یہ اعتراف کیا ہے کہ ایران اگلے دو برسوں میں ممکنہ بدترین حالات کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہے، اور حکومت ضروری سامان کی فراہمی کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔
اقتصادی چیلنجز اور عوام پر بوجھ
ایران کی معیشت اس وقت کئی دہائیوں کی بدانتظامی، وسیع پیمانے پر پھیلی بدعنوانی اور امریکہ سمیت بین الاقوامی پابندیوں کی وجہ سے تباہ حال ہے۔ 2012 سے 2024 کے دوران فی کس آمدنی میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ عالمی بینک کے اعداد و شمار کے مطابق، براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری جی ڈی پی کے 0% پر رہنے کی توقع ہے۔ پابندیاں ایرانی تیل کی برآمدات کو بری طرح متاثر کر چکی ہیں، جو ایران کی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ اس کے نتیجے میں ملک کو غیر ملکی کرنسی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ بین الاقوامی بینکنگ سسٹم (جیسے SWIFT) سے مکمل علیحدگی نے غیر ملکی تجارت اور لین دین کو تقریباً ختم کر دیا ہے۔ 2024-25 کے موسم سرما میں وسیع پیمانے پر توانائی کی قلت نے مہینوں تک شدید بلیک آؤٹ کا باعث بنا، جس نے پہلے سے خراب صورتحال کو مزید ابتر کر دیا۔ حکومت نے 2026 کے ایرانی نئے سال میں ٹیکس بڑھانے کا بھی منصوبہ بنایا ہے، جس سے عوام پر مزید بوجھ بڑھنے کا امکان ہے۔
خارجہ تعلقات: امریکہ سے کشیدگی اور سفارتی چیلنجز
ایران کے خارجی تعلقات بھی اس وقت انتہائی کشیدہ صورتحال کا شکار ہیں۔ فروری 2026 سے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ایک فوجی تنازع جاری ہے، جس کے دوران دونوں ممالک کی افواج نے ایران کے مختلف مقامات پر مشترکہ کارروائیاں کیں، جنہیں امریکہ نے “آپریشن ایپک فیوری” کا نام دیا تھا۔ ان حملوں میں ایران کی جوہری تنصیبات اور فوجی ٹھکانوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ ستمبر 2025 میں اقوام متحدہ کی جانب سے ایران پر جوہری معاہدے (JCPOA) کے تحت دوبارہ پابندیاں عائد کر دی گئی تھیں، جس سے ایران کے جوہری اور میزائل پروگرامز متاثر ہوئے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا، اور مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں اسے سخت ترین فوجی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ دوسری جانب، ایران کے صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ مذاکرات اور سفارت کاری نے امریکہ کو ایران کے ساتھ مفاہمت اختیار کرنے پر مجبور کیا ہے، اور یہ معاہدے تک پہنچنے کا بہترین وقت ہے۔ جون 2026 میں امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کو باضابطہ شکل دینے اور آبنائے ہرمز کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے ایک عبوری مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط کیے گئے تھے۔ تاہم، جولائی 2026 میں دونوں ممالک کے درمیان دوبارہ حملوں کے باعث یہ معاہدہ ناکام ہو گیا۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے عبوری معاہدے کی خلاف ورزی جاری رکھنے تک امریکہ سے براہ راست مذاکرات نہیں ہوں گے، تاہم ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔ ایران نے اپنے بنیادی ڈھانچے پر حملوں کی صورت میں “امریکی حاکمانہ نظام کی تباہی” کا انتباہ بھی جاری کیا ہے۔
| پہلو | داخلی صورتحال (2026) | خارجی صورتحال (2026) |
|---|---|---|
| معیشت | اعلیٰ افراط زر (50%+)، ریال کی قدر میں تاریخی کمی، تیل کی برآمدات متاثر، بین الاقوامی بینکنگ سسٹم سے علیحدگی، غربت میں اضافہ، توانائی کا بحران۔ | امریکی اور بین الاقوامی پابندیاں، محدود غیر ملکی سرمایہ کاری، امریکہ کے ساتھ معاشی دباؤ میں اضافہ۔ |
| سیاست و سلامتی | سیاسی جبر اور سویلین آزادیوں پر پابندیاں، عوامی بے اطمینانی، معاشی مظاہرے، نئی قیادت (صدر پزشکیان، سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل میں تبدیلیاں)۔ | امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جاری فوجی تنازع، آبنائے ہرمز پر کشیدگی، علاقائی طاقتوں کے ساتھ نئی دفاعی صف بندیاں (مکہ معاہدہ)، پاکستان کا ثالثی کا کردار۔ |
| سماجی چیلنجز | بڑھتی ہوئی غربت، ضروری اشیا کی قیمتوں میں اضافہ، صحت اور خوراک کی اشیاء مہنگی، توانائی کی قلت سے بلیک آؤٹ۔ | اقوام متحدہ کی جانب سے دوبارہ جوہری اور میزائل پابندیاں، خطے میں ایران کی حمایت یافتہ گروہوں کی کمزور پوزیشن۔ |
آبنائے ہرمز کی اہمیت اور علاقائی سلامتی کے خدشات
آبنائے ہرمز تیل کی عالمی ترسیل کے لیے ایک انتہائی اہم سمندری گزرگاہ ہے، اور یہاں کی صورتحال ہمیشہ سے خطے کی سلامتی کے لیے تشویش کا باعث رہی ہے۔ حالیہ کشیدگی کے دوران آبنائے ہرمز کی بندش کے خدشات ایک بار پھر نمایاں ہوئے ہیں۔ ایران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے نئی شرائط پیش کی ہیں، اور تہران اور مسقط کے درمیان اس حوالے سے ایک معاہدہ حتمی مراحل میں ہے۔ تاہم، ایران کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کو فوری طور پر بحری آمدورفت کے لیے نہیں کھولا جائے گا جب تک کہ امریکہ عبوری معاہدے میں طے شدہ دیگر شرائط پوری نہیں کرتا۔ دوسری جانب، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ آبنائے ہرمز اس وقت کھلا ہے اور امریکی کنٹرول میں ہے۔ اس متضاد صورتحال نے علاقائی سلامتی کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔
ایران نے یہ انتباہ بھی جاری کیا ہے کہ اگر علاقائی ممالک نے امریکہ یا اسرائیل کی کسی بھی فوجی کارروائی میں کردار ادا کیا تو ایران ان کے خلاف بھی سخت ردعمل دینے سے گریز نہیں کرے گا۔ یہ دھمکیاں خطے میں مزید کشیدگی کا باعث بن سکتی ہیں، جہاں کئی ممالک پہلے ہی اپنی سلامتی کے حوالے سے نئی صف بندیوں میں مصروف ہیں۔ ایران کے قائم مقام وزیر دفاع مجید ابن الرضا کا کہنا ہے کہ ایران اپنے مخالفین کی جانب سے دی جانے والی ہر دھمکی کو حقیقی سمجھتا ہے اور کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔
علاقائی صف بندیاں اور ایران کا بدلتا کردار
مشرق وسطیٰ میں سلامتی کا روایتی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار ہے، اور نئی علاقائی صف بندیاں تیزی سے ابھر رہی ہیں۔ 7 اگست 2026 کو مکہ مکرمہ میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان ایک مشترکہ دفاعی معاہدہ طے پایا، جس میں یہ طے کیا گیا کہ تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر بھی مسلح حملہ تمام رکن ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ یہ معاہدہ نیٹو کے آرٹیکل فائیو سے مشابہت رکھتا ہے اور اسے خطے میں ایک نئے تزویراتی اتحاد کی بنیاد قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ پیش رفت ایران کے لیے یقیناً نظر انداز کرنے والی نہیں ہے، کیونکہ یہ تینوں ممالک ایران کے گرد جغرافیائی طور پر اہم حیثیت رکھتے ہیں۔
پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔ پاکستان نے دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر لانے میں اہم کردار ادا کیا اور جولائی 2026 میں شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ اجلاس میں پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایرانی، روسی اور چینی ہم منصبوں سے ملاقاتیں کیں۔ پاکستانی قیادت نے سعودی عرب کو بھی یقین دلایا ہے کہ اس کی سرزمین ایران پر حملے کے لیے استعمال نہیں کی جائے گی، جبکہ ایران کے ساتھ بھی رابطے برقرار رکھے گئے ہیں۔ یہ تمام سفارتی کوششیں خطے میں امن و استحکام کو فروغ دینے کی جانب ایک قدم ہیں۔ تاہم، ایران کی علاقائی پوزیشن کمزور ہوئی ہے کیونکہ 2023 سے جاری علاقائی تنازعات میں ایران کی حمایت یافتہ مسلح گروہوں کے رہنماؤں کو نشانہ بنایا گیا ہے اور ان کی طاقت بھی کمزور ہوئی ہے۔
قیادت میں تبدیلیاں اور حکمت عملی کی تشکیل
موجودہ صورتحال میں ایران کی قیادت میں اہم تبدیلیاں بھی رونما ہوئی ہیں۔ صدر مسعود پزشکیان نے 10 اگست 2026 کو پاسداران انقلاب کے سابق کمانڈر محسن رضائی کو ملک کے سب سے بڑے سیکیورٹی ادارے، سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل (SNSC) کا نیا سیکرٹری مقرر کیا۔ اس کے علاوہ، سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے بھی محسن رضائی کو کونسل میں اپنا نمائندہ نامزد کیا ہے، جس کی وجہ ان کا ایران-عراق جنگ کا وسیع تجربہ بتایا گیا ہے۔ یہ تقرریاں ایران کی داخلی اور خارجی پالیسیوں پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہیں، خاص طور پر موجودہ فوجی تنازع کے تناظر میں۔ محسن رضائی کا شمار ایران کے سینئر ترین عسکری اور سیاسی رہنماؤں میں ہوتا ہے، اور وہ ملک کی تشخیصِ مصلحت کونسل کے بھی رکن ہیں۔
ان تبدیلیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایرانی قیادت موجودہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اپنی حکمت عملی کو مضبوط کر رہی ہے۔ سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای، جن کی ہدایات ریاستی پالیسی کے اہم فیصلوں میں مرکزی حیثیت رکھتی ہیں، اس بات پر زور دیتے ہیں کہ تمام اقدامات ان کی رہنمائی میں اجتماعی طور پر کیے جائیں۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اہم فیصلوں میں اتفاق رائے کو اہمیت دی جا رہی ہے تاکہ ملک کو موجودہ مشکل صورتحال سے نکالا جا سکے۔
ایک مضبوط اور متحد قیادت ہی ایسے وقت میں ملک کو استحکام فراہم کر سکتی ہے جہاں داخلی بے چینی اور خارجی دباؤ دونوں عروج پر ہیں۔ نئی تقرریوں سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ایران اپنی سیکیورٹی اور دفاعی صلاحیتوں کو مزید مستحکم کرنے کی جانب گامزن ہے، تاکہ کسی بھی ممکنہ جارحیت کا بھرپور جواب دیا جا سکے۔ ملک کے نائب صدر کے بیانات بھی اس امر کی تصدیق کرتے ہیں کہ ایران آئندہ دو سالوں کے لیے ہر ممکن بدترین حالات کا مقابلہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔
خطے میں حالیہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے دفاعی معاہدے کو بھی ایران کے نقطہ نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔ اگرچہ یہ معاہدہ کسی مخصوص ملک کو دشمن قرار نہیں دیتا، لیکن اس کے جغرافیائی اثرات ایران کے ارد گرد کے تزویراتی ماحول کو تبدیل کر سکتے ہیں۔ انڈیپنڈنٹ اردو کی ایک رپورٹ کے مطابق، ایران اس پیش رفت کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔ یہ تمام عوامل ایران کی قیادت کو مزید چوکس رہنے اور اپنی حکمت عملیوں کو مسلسل اپ ڈیٹ کرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔
نتیجہ: چیلنجز کے درمیان استحکام کی تلاش
ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای اور صدر مسعود پزشکیان کے درمیان ہونے والی یہ اہم ملاقات اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ایران ایک نازک دور سے گزر رہا ہے۔ داخلی معاشی دباؤ، عوامی بے چینی، اور امریکہ و اسرائیل کے ساتھ جاری فوجی تنازع نے ملک کو ایک پیچیدہ صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ تاہم، ایرانی قیادت ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک جامع حکمت عملی وضع کرنے میں مصروف ہے، جس میں قومی یکجہتی کو فروغ دینا، معیشت کی بحالی کے لیے اقدامات کرنا، اور علاقائی و بین الاقوامی سطح پر اپنی سفارتی پوزیشن کو مضبوط کرنا شامل ہے۔
نئی علاقائی صف بندیاں اور عالمی طاقتوں کے ساتھ کشیدگی کے باوجود، ایران سفارت کاری کے ذریعے مسائل حل کرنے کی کوششوں میں بھی شامل ہے۔ پاکستان کا امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کا کردار اس بات کی ایک مثال ہے کہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ آنے والے مہینے ایران کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہوں گے، جہاں اسے اندرونی استحکام برقرار رکھنے اور بیرونی دباؤ سے نمٹنے کے لیے دانشمندانہ فیصلوں اور ایک مضبوط قومی عزم کی ضرورت ہوگی۔ قیادت کی کوشش ہے کہ وہ ان تمام عوامل کے درمیان توازن قائم کرے تاکہ اسلامی جمہوریہ ایران اپنے چیلنجز پر قابو پا سکے۔


