مقبول خبریں

جعلی آئی ڈیز سے پریشان بشریٰ انصاری: مداحوں کے لیے 5 خطرناک اور تشویشناک انتباہات

جعلی آئی ڈیز اور سوشل میڈیا پر غلط شناخت کا مسئلہ پاکستان میں تیزی سے بڑھ رہا ہے، اور اس کا سب سے زیادہ شکار وہ مشہور شخصیات ہوتی ہیں جن کی عوامی مقبولیت کو سائبر مجرم اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں سینئر اداکارہ بشریٰ انصاری نے ایک بار پھر اس سنگین مسئلے کی طرف مداحوں کی توجہ مبذول کرائی ہے، جب وہ اپنے نام سے بنائے گئے جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ان کے ذریعے لوگوں سے پیسے بٹورنے والوں پر شدید برہم ہو گئیں۔ انہوں نے اپنی انسٹاگرام پر ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے سخت وارننگ جاری کی ہے، جس میں انہوں نے واضح طور پر کہا ہے کہ “دنیا میں بے غیرتوں کی کوئی کمی نہیں” جو ان کی تصاویر اور نام کا استعمال کرتے ہوئے لوگوں کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ یہ مسئلہ صرف بشریٰ انصاری تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک وسیع تر سماجی اور ڈیجیٹل چیلنج بن چکا ہے، جہاں صارفین کو محتاط رہنے اور جعلی شناختوں کے جال میں پھنسنے سے بچنے کی ضرورت ہے۔

مشہور شخصیات کے لیے جعلی اکاؤنٹس کا بڑھتا ہوا چیلنج

ڈیجیٹل دور نے جہاں معلومات کے تبادلے کو آسان بنایا ہے، وہیں اس نے آن لائن جرائم اور دھوکہ دہی کے نئے دروازے بھی کھول دیے ہیں۔ مشہور شخصیات، جن کی عوامی رسائی اور اثر و رسوخ بہت زیادہ ہوتا ہے، اکثر ان سائبر مجرموں کے لیے آسان ہدف بن جاتی ہیں۔ ان کے نام پر جعلی اکاؤنٹس بنانا اور ان کی تصاویر کو غلط مقاصد کے لیے استعمال کرنا ایک عام رجحان بن چکا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ لوگ اپنے پسندیدہ فنکاروں اور شخصیات پر اندھا اعتماد کرتے ہیں، اور اسی اعتماد کا فائدہ اٹھا کر دھوکہ باز اپنی وارداتیں انجام دیتے ہیں۔ یہ جعلی پروفائلز صرف مالی دھوکہ دہی تک محدود نہیں ہوتیں بلکہ کردار کشی، جھوٹی خبریں پھیلانے، اور غلط معلومات کی ترویج کا ذریعہ بھی بنتی ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق، ڈیجیٹل دور میں جعلی پروفائلز کے ذریعے کردار کشی کا مسئلہ بہت بڑا ہو چکا ہے، جہاں کسی کی عزت، ساکھ اور حتیٰ کہ اس کی زندگی کو تباہ کرنا چند منٹ کا کام ہو گیا ہے۔ پاکستان میں سوشل میڈیا کے استعمال میں اضافے کے ساتھ ساتھ یہ مسائل بھی بڑھتے جا رہے ہیں، اور ایف آئی اے جیسے ادارے سائبر کرائم سے نمٹنے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔

بشریٰ انصاری کی ماضی کی وارننگز اور ان کے اثرات

بشریٰ انصاری جیسی سینئر اداکارہ کے لیے یہ کوئی نیا مسئلہ نہیں ہے۔ وہ کئی بار اپنے مداحوں کو جعلی اکاؤنٹس کے حوالے سے خبردار کر چکی ہیں۔ جنوری 2026 میں انہوں نے انسٹاگرام پر ایک ویڈیو پیغام میں بتایا کہ لوگ ان کی نجی تصاویر کو استعمال کرکے پیسے مانگ رہے ہیں۔ ان جعلی اکاؤنٹس پر یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ وہ غریبوں اور بیواؤں کی مدد کے لیے چندہ جمع کر رہے ہیں یا کسی خاص مذہبی دن کے موقع پر خیرات کی اپیل کر رہے ہیں۔ اداکارہ نے واضح کیا کہ وہ کبھی بھی عوامی طور پر چندہ نہیں مانگتیں اور اگر وہ کسی کی مدد کرتی ہیں تو وہ خاموشی سے اور ذاتی طور پر کرتی ہیں۔ انہوں نے اپنے اصلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی نشاندہی بھی کی تاکہ مداح کسی بھی غلط فہمی سے بچ سکیں۔ ان کے اصلی انسٹاگرام اکاؤنٹ کا نام “ansari.bushra” اور فیس بک پر “Bushra Bashir” ہے۔

اداکارہ کی یہ بار بار کی وارننگز اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ یہ مسئلہ کتنا گمبھیر اور مستقل ہے۔ جعلی اکاؤنٹس بنانے والے اپنی تکنیکوں کو مسلسل بہتر بنا رہے ہیں اور نئے طریقوں سے لوگوں کو دھوکہ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بشریٰ انصاری کی جانب سے دی گئی سخت وارننگ دراصل ان کی اس مایوسی کا اظہار ہے جو انہیں اپنے نام اور ساکھ کے غلط استعمال پر ہو رہی ہے۔ انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ ایسے کسی بھی اکاؤنٹ کو فالو نہ کریں اور نہ ہی ان کی اپیلوں پر کان دھریں۔

مداحوں کو درپیش خطرات: دھوکہ دہی اور گمراہی

جعلی آئی ڈیز کا سب سے بڑا نشانہ وہ سادہ لوح مداح بنتے ہیں جو اپنے پسندیدہ ستارے پر بھروسہ کرتے ہوئے ان دھوکہ بازوں کے جال میں پھنس جاتے ہیں۔ یہ جعلی اکاؤنٹس مختلف طریقوں سے مداحوں کو دھوکہ دیتے ہیں جن میں مالی فراڈ سرفہرست ہے۔ دھوکہ باز خیرات، فلاحی کاموں، یا کسی ہنگامی صورتحال کے نام پر رقم طلب کرتے ہیں، اور مداح یہ سمجھتے ہوئے کہ وہ اپنے پسندیدہ فنکار کی مدد کر رہے ہیں، اپنا پیسہ گنوا دیتے ہیں۔

مالی فراڈ کے علاوہ، یہ جعلی اکاؤنٹس ذاتی معلومات چوری کرنے، ہراساں کرنے، اور گمراہ کن معلومات پھیلانے کا ذریعہ بھی بنتے ہیں۔ آن لائن دھوکہ دہی صرف پیسے تک محدود نہیں ہوتی بلکہ یہ لوگوں کے ذاتی ڈیٹا کو بھی خطرے میں ڈالتی ہے۔ سائبر سیکیورٹی ماہرین کے مطابق، پاکستان میں آن لائن مارکیٹ تیزی سے بڑھ رہی ہے، لہٰذا صارفین کو زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ انہیں معتبر اور معروف ویب سائٹس کا انتخاب کرنا چاہیے اور مشکوک پیشکشوں پر فوراً بھروسا نہیں کرنا چاہیے۔

علامتتفصیل
غیر تصدیق شدہ پروفائلاکثر مشہور شخصیات کے اصلی اکاؤنٹس پر بلیو ٹک (Verified Badge) ہوتا ہے۔ اگر یہ موجود نہ ہو تو احتیاط کریں۔
مالی امداد کی اپیلاگر کوئی اکاؤنٹ خیرات، چندے، یا کسی بھی قسم کی مالی مدد طلب کرے، خاص طور پر مشہور شخصیت کے نام سے، تو یہ یقینی طور پر جعلی ہے۔ بشریٰ انصاری سمیت زیادہ تر مشہور شخصیات اس طرح کی اپیل نہیں کرتیں۔
قلیل فالوورز یا غیر معمولی سرگرمیجعلی اکاؤنٹس کے فالوورز کی تعداد عام طور پر کم ہوتی ہے یا ان کی پوسٹنگ میں غیر معمولی سرگرمی (مثلاً صرف چند پوسٹیں یا اچانک بہت زیادہ پوسٹیں) نظر آتی ہے۔
تخلیق کی تاریخ اور مواد کا معیاراکاؤنٹ کی تخلیق کی تاریخ چیک کریں۔ اگر یہ حال ہی میں بنایا گیا ہے اور دعویٰ کسی مشہور شخصیت کا ہے، تو یہ مشکوک ہو سکتا ہے۔ مواد کا معیار بھی اہم ہے، جعلی اکاؤنٹس اکثر انٹرنیٹ سے لی گئی تصاویر یا ویڈیو استعمال کرتے ہیں جن میں ترمیم کی گئی ہو سکتی ہے۔
ذاتی معلومات کا مطالبہکوئی بھی حقیقی مشہور شخصیت آپ سے ذاتی معلومات جیسے پاس ورڈ، بینکنگ تفصیلات، یا ون ٹائم پاس ورڈ (OTP) کبھی نہیں مانگے گی۔
عام یا غلط گرامر والی تحریرجعلی اکاؤنٹس اکثر عمومی نوعیت کی، بار بار دہرائی جانے والی یا گرامر کی غلطیوں سے بھری تحریریں استعمال کرتے ہیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی ذمہ داری اور کردار

جعلی آئی ڈیز کے پھیلاؤ کو روکنے میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ فیس بک، انسٹاگرام، اور دیگر پلیٹ فارمز کو اپنی پالیسیوں کو مزید سخت کرنے اور جعلی اکاؤنٹس کی نشاندہی اور انہیں ہٹانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستانی ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) بھی اس حوالے سے آگاہی پیدا کرنے اور کارروائی کرنے میں مصروف ہیں۔ پی ٹی اے نے ڈیپ فیک ویڈیوز اور جعلی مواد سے بچنے کے لیے صارفین کو اپنی سوشل میڈیا پروفائلز کی پرائیویسی سیٹنگز مضبوط رکھنے اور مشکوک مواد کو رپورٹ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

پلیٹ فارمز کو صارفین کی رپورٹس پر تیزی سے عمل درآمد کرنا چاہیے اور تصدیقی عمل کو مزید مؤثر بنانا چاہیے۔ صرف بلیو ٹک ہی نہیں بلکہ مصنوعی ذہانت (AI) اور دیگر ٹیکنالوجیز کی مدد سے جعلی شناختوں کا سراغ لگانا اور انہیں ختم کرنا ضروری ہے۔ پاکستان میں ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ کی جگہ اب نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) نے لے لی ہے جو سائبر جرائم سے نمٹنے کے لیے قائم کی گئی ہے۔ تاہم، ان اداروں کو بھی مزید وسائل اور تکنیکی صلاحیتوں کی ضرورت ہے تاکہ وہ اس بڑھتے ہوئے چیلنج سے نمٹ سکیں۔

پاکستان میں سائبر کرائمز اور قانونی چارہ جوئی

پاکستان میں سائبر کرائمز سے نمٹنے کے لیے “پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016” (PECA) نافذ العمل ہے۔ یہ قانون آن لائن دھوکہ دہی، ہراساں کرنے، اور ڈیٹا چوری جیسے جرائم پر سزائیں تجویز کرتا ہے۔ مثال کے طور پر، اگر کوئی شخص کسی شخصیت کے بارے میں غلط معلومات پھیلاتا ہے تو اسے تین سال قید یا دس لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔ اسی طرح، اگر کوئی فوٹوشاپ امیج یا ویڈیو بناتا یا پھیلاتا ہے، تو پچاس لاکھ روپے جرمانہ یا پانچ سال قید یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔

بدقسمتی سے، سائبر کرائم کے بڑھتے ہوئے واقعات کے باوجود، ان مقدمات میں سزاؤں کی شرح نسبتاً کم ہے۔ وزارت داخلہ کی جانب سے قومی اسمبلی میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق، 2020 سے اب تک سائبر کرائم کے الزامات میں 7 ہزار 20 ملزمان کو گرفتار کیا گیا، لیکن ان میں سے صرف 222 کو سزا سنائی گئی، جو کہ 3.16 فیصد کی شرح ہے۔ حکام کے مطابق، کم سزا کی کئی وجوہات ہیں جن میں صلاحیت کے مسائل اور سائبر کرائم قوانین کے بارے میں لوگوں میں آگاہی کا فقدان شامل ہے۔ سال 2024 میں 3 لاکھ 80 ہزار سے زائد شکایات موصول ہوئیں جن میں سے 63 فیصد پنجاب سے تھیں۔ ایف آئی اے کے اعداد و شمار کے مطابق، ہر ماہ 500 سے 700 شکایات سوشل میڈیا ہیکنگ اور فراڈ سے متعلق موصول ہو رہی ہیں۔

سائبر کرائم سے متعلق مزید تفصیلات اور تازہ ترین اعداد و شمار کے لیے آپ ایکسپریس نیوز کی رپورٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ایسے میں، بشریٰ انصاری جیسی شخصیات کی جانب سے عوامی سطح پر آواز اٹھانا نہ صرف آگاہی پھیلانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے بلکہ حکومتی اداروں کو بھی اس مسئلے کی سنگینی کا احساس دلاتا ہے۔

جعلی آئی ڈیز سے بچاؤ کے طریقے اور احتیاطی تدابیر

آن لائن دنیا میں محفوظ رہنے کے لیے صارفین کو کچھ بنیادی احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہیئں:

  • تصدیق شدہ اکاؤنٹس کو ترجیح دیں: ہمیشہ ان اکاؤنٹس کو فالو کریں جن پر تصدیق شدہ (verified) بلیو ٹک موجود ہو۔ بشریٰ انصاری نے اپنے اصلی اکاؤنٹس کی نشاندہی خود کی ہے۔
  • مالی درخواستوں سے محتاط رہیں: کسی بھی ایسے اکاؤنٹ پر اعتبار نہ کریں جو مشہور شخصیت کے نام پر مالی امداد، چندہ یا ذاتی معلومات طلب کرے۔
  • مشکوک لنکس اور ای میلز سے بچیں: غیر مصدقہ لنکس اور ای میلز کو کھولنے سے گریز کریں، کیونکہ یہ فیشنگ کا ذریعہ ہو سکتے ہیں۔
  • ڈیپ فیک اور جعلی مواد کی شناخت: کسی بھی وائرل ویڈیو یا تصویر پر فوراً یقین نہ کریں، خاص طور پر اگر وہ غیر معمولی ہو یا آپ کے جذبات کو بھڑکانے والی ہو۔ ڈیپ فیک ویڈیوز میں چہرے کے تاثرات، پلک جھپکنے کی رفتار، اور آواز میں فرق کو نوٹ کریں۔
  • ذاتی معلومات کا تحفظ: اپنے پاس ورڈز، او ٹی پی، اور بینکنگ تفصیلات کسی کے ساتھ شیئر نہ کریں۔
  • اکاؤنٹ کی پرائیویسی سیٹنگز: اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی پرائیویسی سیٹنگز کو مضبوط بنائیں تاکہ آپ کی ذاتی معلومات اور تصاویر محفوظ رہیں۔
  • رپورٹ کریں: اگر آپ کو کوئی جعلی اکاؤنٹ یا مشکوک سرگرمی نظر آئے تو اسے فوری طور پر متعلقہ پلیٹ فارم اور ایف آئی اے سائبر کرائم کو رپورٹ کریں۔
  • آگاہی حاصل کریں: سائبر کرائم اور آن لائن دھوکہ دہی کی اقسام اور ان سے بچنے کے طریقوں کے بارے میں آگاہی حاصل کرتے رہیں۔

نتیجہ

جعلی آئی ڈیز سے تنگ بشریٰ انصاری کا ایک بار پھر مداحوں کو خبردار کرنا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ڈیجیٹل دنیا میں اخلاقی اور قانونی چیلنجز کس قدر بڑھ چکے ہیں۔ یہ مسئلہ صرف ایک فرد کی ساکھ کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کے اعتماد اور آن لائن تحفظ کا ہے۔ مشہور شخصیات کا اپنے نام اور کام کے غلط استعمال سے بچنے کے لیے آواز اٹھانا ضروری ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ مداحوں، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، اور حکومتی اداروں کی بھی یہ مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس مسئلے کی روک تھام کے لیے فعال کردار ادا کریں۔ سائبر کرائم سے متعلق قوانین کو مزید مؤثر بنانے اور ان پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ، عوامی آگاہی میں اضافہ ہی اس چیلنج سے نمٹنے کا واحد راستہ ہے۔ ہر صارف کو آن لائن احتیاط اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے تاکہ وہ خود کو اور دوسروں کو اس طرح کے دھوکہ دہی سے محفوظ رکھ سکیں۔