مقبول خبریں

آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے ایران نے امریکا کے سامنے سخت شرائط رکھ دیں

آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے ایران نے امریکا کے سامنے سخت شرائط رکھ دی ہیں، جس سے دنیا کی سب سے اہم تیل کی گزرگاہ پر کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ یہ آبنائے خلیج فارس کو خلیج عمان اور پھر بحیرہ عرب سے ملاتی ہے، اور عالمی توانائی کی فراہمی میں اس کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ حالیہ واقعات نے خطے میں تناؤ کو عروج پر پہنچا دیا ہے، جہاں ایران کی قومی سلامتی کونسل نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز اس وقت تک مکمل طور پر نہیں کھولی جائے گی جب تک امریکا اپنا رویہ درست نہیں کرتا اور ایرانی شرائط کو تسلیم نہیں کرتا۔ یہ مطالبات خطے میں امریکا کی فوجی موجودگی کے خاتمے، پابندیوں کے خاتمے، جنگی نقصانات کے معاوضے اور ایران کے منجمد اثاثوں کی واپسی جیسے اہم نکات پر مشتمل ہیں۔ ان شرائط نے بین الاقوامی سطح پر تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، کیونکہ اس آبی گزرگاہ کی مکمل یا جزوی بندش کے عالمی معیشت پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

آبنائے ہرمز کی عالمی اہمیت اور جغرافیائی سیاسی حیثیت

آبنائے ہرمز، جسے فارسی میں تنگہ ہرمز بھی کہا جاتا ہے، خلیج عمان اور خلیج فارس کے درمیان واقع ایک تنگ سمندری راستہ ہے۔ یہ اپنے جغرافیائی محل وقوع کے اعتبار سے دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں سے ایک ہے اور اسے عالمی توانائی کی شہ رگ سمجھا جاتا ہے۔ اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ دنیا بھر میں روزانہ تیل کی کل رسد کا تقریباً 20 فیصد سے 21 ملین بیرل خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات اسی آبنائے سے گزرتے ہیں۔ یہ تیل سعودی عرب، ایران، عراق، کویت، قطر اور متحدہ عرب امارات جیسے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک سے عالمی منڈیوں تک پہنچایا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ، عالمی مائع قدرتی گیس (LNG) کی 30 فیصد ترسیل بھی اسی راستے سے ہوتی ہے۔ آبنائے ہرمز کی چوڑائی مختلف مقامات پر مختلف ہے، لیکن اپنے تنگ ترین مقام پر یہ تقریباً 33 کلومیٹر (21 میل) چوڑی ہے، جس میں جہازرانی کا راستہ صرف چند کلومیٹر تک محدود ہو جاتا ہے۔ یہ تنگ راستہ عالمی تجارت اور توانائی کی نقل و حمل کے لیے ایک اہم چوک پوائنٹ (chokepoint) بناتا ہے۔ جغرافیائی طور پر، آبنائے ہرمز کے شمالی ساحلوں پر ایران واقع ہے جبکہ جنوبی ساحلوں پر متحدہ عرب امارات اور عمان کے علاقے موجود ہیں۔

اسٹریٹیجک اعتبار سے، آبنائے ہرمز صرف تیل کی ترسیل کا راستہ نہیں بلکہ یہ خطے میں طاقت کے توازن اور سیاسی اثر و رسوخ کا بھی ایک اہم مرکز ہے۔ ایران نے ماضی میں بھی اس آبی گزرگاہ کو اپنی خارجہ پالیسی کے ایک اہم آلے کے طور پر استعمال کیا ہے اور عالمی طاقتوں پر دباؤ ڈالنے کے لیے اس کی بندش کی دھمکیاں دیتا رہا ہے۔ 1980 کی دہائی کی ایران-عراق جنگ کے دوران “ٹینکر وار” میں تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنایا گیا تھا، جس نے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں کو متاثر کیا۔ موجودہ صورتحال میں، ایران کی جانب سے سخت شرائط عائد کرنا عالمی برادری کے لیے ایک نیا چیلنج بن گیا ہے، جو خطے میں مزید عدم استحکام کا باعث بن سکتا ہے۔

ایران کی امریکا کے سامنے سخت شرائط

ایران کی اعلیٰ ترین سلامتی کونسل اور پاسداران انقلاب کے حکام نے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے کے لیے امریکا کے سامنے کئی سخت شرائط پیش کی ہیں۔ ان شرائط کا مقصد امریکا کو خطے میں اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنے اور ایران کے مفادات کو تسلیم کرنے پر مجبور کرنا ہے۔ یہ شرائط نہ صرف ایران کی خود مختاری اور علاقائی تحفظات کو اجاگر کرتی ہیں بلکہ ایک وسیع تر علاقائی حکمت عملی کا حصہ بھی معلوم ہوتی ہیں۔ ذیل میں ایران کی جانب سے پیش کی گئی اہم شرائط کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں:

  • امریکی دھمکیوں کا خاتمہ: ایران نے مطالبہ کیا ہے کہ امریکا کسی بھی صورت اور کسی بھی زبان میں ایران کو دھمکیاں دینے سے مکمل طور پر باز آئے۔ ایران کا موقف ہے کہ دھمکیوں کی سیاست سے تعلقات بہتر نہیں ہو سکتے اور خطے میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔
  • ایرانی قوم کی توہین بند کی جائے: دوسری شرط کے تحت ایران نے مطالبہ کیا ہے کہ ایرانی قوم کی توہین نہ کی جائے۔ یہ شرط ایران کی قومی غیرت اور وقار کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے، جو کہ ایران کی خارجہ پالیسی کا ایک اہم جزو ہے۔
  • خطے میں جنگ کا خاتمہ: ایران نے مطالبہ کیا ہے کہ ایران اور اس کے اتحادیوں (جیسے لبنان، فلسطین، یمن اور عراق میں) پر مسلط جنگ کو دائمی طور پر ختم کیا جائے۔ یہ شرط خطے میں جاری پراکسی جنگوں اور امریکی فوجی مداخلتوں کے خلاف ایران کے دیرینہ موقف کی عکاسی کرتی ہے۔
  • ایرانی منجمد اثاثوں کی غیر مشروط واپسی: ایران کی ایک اہم شرط یہ ہے کہ امریکا ایران کے چرائے ہوئے اور منجمد اثاثے غیر مشروط طور پر جاری کرے۔ یہ اثاثے کئی دہائیوں سے امریکی اور عالمی پابندیوں کی وجہ سے منجمد ہیں، اور ایران انہیں اپنی اقتصادی بحالی کے لیے ناگزیر سمجھتا ہے۔
  • جنگی نقصانات کا مکمل معاوضہ: ایران نے مطالبہ کیا ہے کہ امریکا اسے جنگی نقصانات کا مکمل معاوضہ ادا کرے۔ یہ مطالبہ ان اقتصادی اور جانی نقصانات کے ازالے کے لیے ہے جو ایران کے بقول امریکی پالیسیوں اور کارروائیوں کی وجہ سے اسے اٹھانے پڑے ہیں۔
  • ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کا خاتمہ اور فوجی انخلا: ایران نے یہ بھی شرط رکھی ہے کہ امریکا ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کو ختم کرے اور خطے سے اپنی فوجی موجودگی کا انخلا یقینی بنائے۔ یہ شرط خطے میں امریکی اثر و رسوخ کو کم کرنے اور ایران کی علاقائی سلامتی کو مضبوط بنانے کی خواہش کو ظاہر کرتی ہے۔

پاسداران انقلاب کے ترجمان اور میجر جنرل محبی نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بحالی کا فیصلہ ایران کی اعلان کردہ ان شرائط کی منظوری سے مشروط ہے اور اس کا عمان کے ساتھ ہونے والے کسی معاہدے سے کوئی تعلق نہیں۔ ایران کا یہ بھی مؤقف ہے کہ آبنائے ہرمز محض ایک اقتصادی آبی گزرگاہ نہیں بلکہ یہ جغرافیائی، سیاسی اور تزویراتی طاقت کا ایک اہم عنصر ہے۔

امریکا کا ردعمل اور عالمی برادری کا موقف

امریکا نے ایران کی ان سخت شرائط پر فوری طور پر کوئی جامع ردعمل ظاہر نہیں کیا، تاہم واشنگٹن کی جانب سے یہ مؤقف بارہا دہرایا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری آمدورفت کو یقینی بنانا اس کی اولین ترجیح ہے۔ امریکی حکام اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ کسی بھی حتمی معاہدے سے قبل آبنائے ہرمز کی معمول کی کارروائیوں کو بحال کیا جانا چاہیے۔ امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس نے اس سے قبل دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے آبنائے ہرمز پر ٹول نہ لگانے کی یقین دہانی کرائی ہے، لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا تھا کہ امریکا ایرانی یقین دہانیوں پر اس وقت تک اعتماد نہیں کرے گا جب تک عملی اقدامات سامنے نہیں آتے۔ امریکا تجارتی جہازوں پر حملے نہ کرنے کی واضح ضمانت چاہتا ہے اور خلیج سے تیل اور گیس کی ترسیل کو جنگ سے پہلے کی سطح پر بحال دیکھنا چاہتا ہے۔

دوسری جانب، امریکی حکام نے اشارہ دیا ہے کہ اگر ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق متوقع معاہدہ طے پا جاتا ہے، تو امریکا ایرانی بندرگاہوں کا محاصرہ اور بحری پابندیاں ختم کر سکتا ہے۔ یہ ایک اہم پیش رفت ہو سکتی ہے جو خطے میں کشیدگی کو کم کرنے میں مدد دے گی۔ تاہم، امریکا نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز پر ایران کے مکمل کنٹرول کو کبھی تسلیم نہیں کرے گا، کیونکہ یہ عالمی توانائی کی سپلائی کے لیے ایک انتہائی اہم راستہ ہے۔

عالمی برادری بھی اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش کے عالمی معیشت پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جس سے تیل کی قیمتیں آسمان کو چھو سکتی ہیں اور عالمی تجارت میں خلل پیدا ہو سکتا ہے۔ چین، جو ایران کی تیل برآمدات کا تقریباً 90 فیصد خریدتا ہے، آبنائے کی بندش سے شدید متاثر ہو گا۔ اسی طرح جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک بھی اس آبی گزرگاہ پر اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی ادارے فریقین پر زور دے رہے ہیں کہ وہ کشیدگی کو کم کریں اور مذاکرات کے ذریعے کوئی حل تلاش کریں۔ عمان، قطر، پاکستان اور سعودی عرب جیسے ممالک ثالثی کی کوششوں میں شامل ہیں تاکہ اس اہم مسئلے کا پرامن حل نکالا جا سکے۔

عمان کی ثالثی اور جاری مذاکرات

خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے اور آبنائے ہرمز کے مسئلے کا حل تلاش کرنے کے لیے سلطنت عمان ایک اہم ثالث کا کردار ادا کر رہی ہے۔ عمان کے حکام نے ایران اور امریکا کے درمیان بات چیت کو “مثبت اور تعمیری” قرار دیا ہے۔ عمان کی ثالثی میں ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ مذاکرات جاری ہیں، جن کا مقصد آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے حوالے سے ایک مشترکہ مفاہمت تک پہنچنا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے تصدیق کی ہے کہ ایران اور عمان آبنائے ہرمز میں ایک نئے شپنگ روٹ کے تعین کے لیے “انتہائی قریب” ہیں۔ یہ بات چیت جہاز رانی کے حوالے سے ایک عبوری یا عارضی معاہدے کے قریب پہنچ چکی ہے، جس میں تجارتی جہازوں کے گزرنے کے لیے ایک محفوظ راستے کا تعین شامل ہے۔ تاہم، ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ عمان کے ساتھ یہ معاہدہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے کے لیے کافی نہیں ہوگا اور اس کا تعلق امریکا کے سامنے ایران کی جانب سے رکھی گئی وسیع تر شرائط سے نہیں ہے۔

ایرانی پاسداران انقلاب کے ترجمان نے زور دیا ہے کہ آبنائے ہرمز کا دوبارہ کھلنا امریکا کی جانب سے ایرانی شرائط کی منظوری سے مشروط ہے۔ ان کے مطابق، عمان کے ساتھ ہونے والا معاہدہ محض ایک تکنیکی انتظام ہے جبکہ اصل مسئلہ امریکا کے ساتھ ایران کے بنیادی اختلافات کا ہے۔ یہ مذاکراتی عمل 60 روزہ مدت کے اختتام کے قریب پہنچ چکا ہے، تاہم اس میں توسیع کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس دوران، امریکی وزیر خارجہ نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ امریکا ایرانی یقین دہانی پر اس وقت تک اعتماد نہیں کرے گا جب تک اس کے عملی اقدامات سامنے نہیں آتے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فریقین کے درمیان اعتماد کی بحالی ابھی ایک طویل اور پیچیدہ عمل ہے۔

ڈان نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق، ایران نے عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے انتظام کے لیے ایک عمومی فریم ورک پر اتفاق کیا ہے، لیکن اس کی حتمی منظوری اعلیٰ سطح پر باقی ہے۔ یہ پیش رفت خطے میں کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اہم ہو سکتی ہے، لیکن آبنائے کی مکمل بحالی کے لیے ابھی بھی کئی اہم رکاوٹیں موجود ہیں۔

عالمی تیل کی منڈیوں اور تجارت پر ممکنہ اثرات

آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال اور ایران کی جانب سے عائد کردہ سخت شرائط کے عالمی تیل کی منڈیوں اور عالمی تجارت پر گہرے اور وسیع تر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ یہ آبی گزرگاہ دنیا کی توانائی کی شہ رگ ہے، اور اس میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت کو شدید متاثر کر سکتی ہے۔

پہلوممکنہ اثرات
تیل کی قیمتیںآبنائے ہرمز کی مکمل یا جزوی بندش کی صورت میں عالمی خام تیل کی قیمتوں میں فوری اور نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، ممکنہ طور پر 130 ڈالر فی بیرل تک۔ اس سے عالمی معیشت پر دباؤ بڑھے گا اور مہنگائی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
توانائی کی فراہمیتیل اور گیس کی ترسیل میں رکاوٹ سے دنیا بھر میں توانائی کا بحران پیدا ہو سکتا ہے، خاص طور پر ایشیائی ممالک جیسے چین، جاپان، اور جنوبی کوریا شدید متاثر ہوں گے جو خلیجی تیل پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں۔
شپنگ لاگت اور انشورنسکشیدگی کے باعث شپنگ لاگت (فریٹ ریٹس) اور بحری جہازوں کے لیے انشورنس پریمیم میں اضافہ ہو چکا ہے۔ مزید عدم استحکام کی صورت میں یہ لاگت اور بھی بڑھ سکتی ہے، جس کا بوجھ بالآخر صارفین پر پڑے گا۔
عالمی تجارتصرف تیل نہیں بلکہ خطے میں تمام قسم کے تجارتی سامان کی آمدورفت بھی آبنائے ہرمز سے ہوتی ہے۔ اس کی بندش سے عالمی سپلائی چین متاثر ہوں گی، جس سے مختلف اشیاء کی کمی اور قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
علاقائی استحکامآبنائے ہرمز پر کشیدگی خلیجی خطے میں سیاسی اور عسکری عدم استحکام کو مزید بڑھا سکتی ہے، جس سے وسیع تر علاقائی تنازعے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
ایرانی معیشتاگرچہ ایران آبنائے کو اپنے دفاع کے لیے ایک اہم تزویراتی عنصر سمجھتا ہے، تاہم اس کی مکمل بندش سے خود ایران کی تیل کی برآمدات بھی متاثر ہوں گی، جس سے اس کی پہلے سے ہی پابندیوں سے متاثرہ معیشت کو مزید نقصان پہنچے گا۔

حالیہ رپورٹس کے مطابق، آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد میں کمی آئی ہے، جو اس بات کی نشاندہی ہے کہ مارکیٹیں ایران اور عمان کے درمیان مذاکرات کے نتائج کا انتظار کر رہی ہیں۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہتی ہے تو عالمی معیشت کو طویل مدتی منفی اثرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

چیلنجز اور مستقبل کے امکانات

آبنائے ہرمز کا تنازعہ ایک پیچیدہ مسئلہ ہے جس میں گہرے تاریخی، سیاسی اور اقتصادی عوامل شامل ہیں۔ ایران کی جانب سے عائد کردہ شرائط نہ صرف امریکا کے لیے بلکہ عالمی برادری کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج ہیں، کیونکہ ان میں سے کچھ مطالبات امریکا کی موجودہ خارجہ پالیسی کے منافی ہیں۔

  • اعتماد کی بحالی: ایران اور امریکا کے درمیان دہائیوں سے عدم اعتماد کی فضا موجود ہے۔ کسی بھی پائیدار حل کے لیے دونوں فریقین کو اعتماد سازی کے اقدامات اٹھانے ہوں گے، جو ایک مشکل عمل ہے۔
  • پابندیوں کا خاتمہ: ایران کے منجمد اثاثوں کی واپسی اور پابندیوں کا خاتمہ ایران کی اہم شرائط میں سے ہیں۔ امریکا کے لیے ان پابندیوں کو مکمل طور پر ختم کرنا ایک مشکل فیصلہ ہو سکتا ہے، کیونکہ یہ اس کی خارجہ پالیسی کا ایک اہم حصہ ہیں۔
  • علاقائی فوجی انخلا: امریکا سے خطے سے فوجی انخلا کا مطالبہ ایک طویل المدتی اور اسٹریٹیجک تبدیلی کا متقاضی ہے، جو فی الحال بعید از قیاس نظر آتا ہے۔ امریکی حکام نے اپنی بحری آمدورفت کے تسلسل کو ہر صورت یقینی بنانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
  • عمان معاہدے کی حد: اگرچہ عمان کی ثالثی میں آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے حوالے سے ایک فریم ورک پر اتفاق رائے ہو چکا ہے، ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ یہ معاہدہ آبنائے کو مکمل طور پر کھولنے کے لیے کافی نہیں ہے۔ آبنائے کی مکمل بحالی کے لیے امریکا کی جانب سے ایران کی تمام شرائط کو تسلیم کرنا ضروری ہے، جو ایک بڑا چیلنج ہے۔
  • علاقائی سلامتی کی ضمانتیں: ایران خطے میں اپنی اور اپنے اتحادیوں کی سلامتی کی ضمانتیں چاہتا ہے۔ یہ ایک ایسا مطالبہ ہے جس کے لیے وسیع تر علاقائی ڈائیلاگ اور بین الاقوامی ضمانتوں کی ضرورت ہوگی۔

مستقبل کے امکانات میں ایک عبوری معاہدہ شامل ہو سکتا ہے جو آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو ایک محدود حد تک بحال کرے اور فریقین کو مزید مذاکرات کا وقت فراہم کرے۔ تاہم، مکمل بحالی اور کشیدگی میں دیرپا کمی کے لیے امریکا اور ایران دونوں کو اپنی اسٹریٹیجک ترجیحات میں نمایاں تبدیلیاں لانا ہوں گی۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس بحران کا حل صرف سفارتی کوششوں اور باہمی سمجھوتوں کے ذریعے ہی ممکن ہے، اور کسی بھی قسم کی عسکری تصادم کے نتائج خطے اور پوری دنیا کے لیے تباہ کن ہو سکتے ہیں۔

نتیجہ

آبنائے ہرمز کا مسئلہ عالمی سیاست اور توانائی کے شعبے میں ایک حساس اور پیچیدہ نوعیت کا تنازعہ ہے، جسے ایران نے اپنی جغرافیائی سیاسی طاقت کے ایک اہم حربے کے طور پر استعمال کیا ہے۔ ایران کی جانب سے آبنائے کو مکمل طور پر کھولنے کے لیے امریکا کے سامنے رکھی گئی سخت شرائط، جن میں دھمکیوں کا خاتمہ، منجمد اثاثوں کی واپسی، جنگی نقصانات کا معاوضہ، اور خطے سے امریکی فوجی انخلا شامل ہیں، فریقین کے درمیان گہرے اختلافات کی عکاسی کرتی ہیں۔

اگرچہ عمان کی ثالثی میں جہاز رانی کے حوالے سے ایک عبوری فریم ورک پر بات چیت قریب پہنچ چکی ہے، لیکن ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ آبنائے کی مکمل بحالی ان وسیع تر شرائط کی منظوری سے مشروط ہے، جس کا تعلق براہ راست امریکا کی پالیسیوں سے ہے۔ عالمی معیشت، خاص طور پر تیل اور گیس کی منڈیوں پر آبنائے کی ممکنہ بندش کے سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جس سے عالمی قیمتوں میں اضافہ اور سپلائی چین میں خلل پیدا ہو گا۔

آگے کا راستہ مشکل اور چیلنجوں سے بھرا ہے۔ فریقین کے درمیان اعتماد کی بحالی، سفارتی مذاکرات اور باہمی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے لچکدار رویہ ہ اس پیچیدہ مسئلے کا پائیدار حل فراہم کر سکتا ہے۔ بصورت دیگر، آبنائے ہرمز ایک بار پھر عالمی سطح پر تنازعات کا مرکز بن سکتی ہے، جس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے۔