مقبول خبریں

تربوز کھانے والوں کے لیے خوشخبری، نئی تحقیق میں بڑا انکشاف

تربوز، موسم گرما کا ایک لازمی پھل، اپنی ٹھنڈی تاثیر اور میٹھے ذائقے کی وجہ سے ہر خاص و عام میں مقبول ہے۔ یہ نہ صرف پیاس بجھاتا ہے بلکہ جسم کو گرمی کی شدت اور پانی کی کمی سے بھی بچاتا ہے۔ حالیہ سائنسی تحقیق نے تربوز کے ایسے حیرت انگیز فوائد کا انکشاف کیا ہے جو اسے صرف ایک مزیدار پھل سے بڑھ کر ایک مکمل صحت بخش غذا ثابت کرتے ہیں۔ یہ نئی رپورٹس تربوز کھانے والوں کے لیے واقعی ایک خوشخبری ہے، جو اس پھل کو ایک عام غذا کے بجائے ایک سپر فوڈ کے طور پر پیش کرتی ہیں۔

دل کی صحت کے لیے تربوز کے حیرت انگیز فوائد

تازہ ترین تحقیقی رپورٹس کے مطابق، تربوز کا باقاعدگی سے استعمال دل اور خون کی شریانوں کے افعال پر مثبت اثرات مرتب کرتا ہے۔ یہ انکشافات طبی جریدے ‘نیچر’ اور ‘نیوٹرینٹس’ میں شائع ہوئے ہیں، جو دل کی صحت کے حوالے سے تربوز کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تربوز میں موجود قدرتی مرکبات دل کی شریانوں، خون کی روانی اور میٹابولک صحت کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

  • لائکوپین اور سٹرولین: تربوز میں لائکوپین (Lycopene) نامی ایک طاقتور اینٹی آکسیڈنٹ وافر مقدار میں پایا جاتا ہے۔ یہ اینٹی آکسیڈنٹ کولیسٹرول اور بلند فشار خون کی سطح کو کم کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ، تربوز میں ایل-سٹرولین (L-citrulline) نامی ایک امینو ایسڈ بھی موجود ہوتا ہے جو جسم میں نائٹرک آکسائیڈ کی پیداوار کو بڑھاتا ہے۔ نائٹرک آکسائیڈ خون کی نالیوں کو پھیلانے اور انہیں پرسکون رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، جس سے خون کی روانی بہتر ہوتی ہے اور بلڈ پریشر میں کمی آتی ہے۔
  • شریانوں کی لچک: تحقیق میں یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ تربوز کے جوس کے استعمال سے دل کی دھڑکن کی صحت مند رفتار برقرار رکھنے اور خون کی شریانوں کے افعال بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔ دیگر مطالعات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ تربوز کے استعمال سے خون کی شریانوں کی لچک میں بہتری آ سکتی ہے اور یہ شریانوں کی سختی (atherosclerosis) کو کم کرنے میں بھی معاون ہے۔
  • پوٹاشیم: تربوز میں پوٹاشیم بھی مناسب مقدار میں ہوتا ہے، جو کم بلڈ پریشر اور فالج کے خطرے کو کم کرنے سے وابستہ ہے۔

جسمانی ہائیڈریشن اور نظام ہاضمہ کی بہتری

تربوز کا تقریباً 92 فیصد حصہ پانی پر مشتمل ہوتا ہے، جو اسے ہائیڈریٹ رہنے کے لیے ایک بہترین انتخاب بناتا ہے، خاص طور پر گرمیوں کے مہینوں میں۔ جسمانی افعال کے لیے مناسب ہائیڈریشن بہت ضروری ہے، جس میں درجہ حرارت کو برقرار رکھنا، غذائی اجزاء کی نقل و حمل اور جوڑوں کو چکنا رکھنا شامل ہے۔

  • پانی کی کمی کا خاتمہ: گرمیوں میں پسینہ زیادہ آنے کی صورت میں جسم میں پانی کی کمی ہونا عام بات ہے، جسے تربوز کا استعمال مؤثر طریقے سے پورا کرتا ہے۔ یہ جسم میں پانی کی نمکیات کو بھی کنٹرول کرتا ہے۔
  • نظام ہاضمہ: تربوز میں پانی کی زیادہ مقدار اور تھوڑی مقدار میں فائبر (ریشہ) پایا جاتا ہے۔ یہ دونوں اجزاء صحت مند ہاضمے کے لیے ضروری ہیں۔ فائبر آنتوں کی صحت کو برقرار رکھنے میں مدد کرتا ہے، جبکہ پانی ہاضمے کے ذریعے فضلہ کو زیادہ مؤثر طریقے سے حرکت دینے میں معاون ہوتا ہے، جس سے قبض کی شکایت میں کمی آتی ہے۔ تربوز کا پانی آنتوں کی سختی میں بھی کمی لاتا ہے۔

تربوز کی بھرپور غذائی افادیت

تربوز ایک غذائیت سے بھرپور پھل ہے جس میں کیلوریز کی مقدار بہت کم ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق، تربوز پانی، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور پھل ہے۔

غذائی جزومقدار (100 گرام تربوز میں)فوائد
پانیتقریباً 92 گرامجسم کو ہائیڈریٹ رکھتا ہے، ٹھنڈک دیتا ہے
کیلوریزتقریباً 30 کیلوریزوزن کم کرنے میں معاون
وٹامن سی13 فیصد (روزانہ کی ضرورت کا)قوت مدافعت بڑھاتا ہے، اینٹی آکسیڈنٹ کے طور پر کام کرتا ہے
وٹامن اے11 فیصد (روزانہ کی ضرورت کا)آنکھوں اور جلد کی صحت، خلیوں کی مرمت
پوٹاشیم112 ملی گرامدل اور پٹھوں کی صحت، بلڈ پریشر کنٹرول
لائکوپینوافر مقدار میںطاقتور اینٹی آکسیڈنٹ، کینسر اور دل کی بیماریوں کا خطرہ کم کرتا ہے
سیٹرولینوافر مقدار میںخون کی روانی بہتر بناتا ہے، پٹھوں کی تھکن کم کرتا ہے
فائبر0.4 گرامہاضمہ بہتر بناتا ہے، قبض میں افاقہ

جلد اور بالوں کی صحت میں تربوز کا کردار

تربوز صرف اندرونی صحت کے لیے ہی نہیں بلکہ بیرونی خوبصورتی کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔ اس میں موجود وٹامنز اور ہائیڈریٹنگ خصوصیات جلد اور بالوں کو تروتازہ اور صحت مند رکھتی ہیں۔

  • جلد کی نمی اور شادابی: تربوز میں 90 فیصد سے زیادہ پانی ہوتا ہے، جو اسے ایک قدرتی موئسچرائزر بناتا ہے۔ اس میں موجود وٹامن اے، بی6 اور سی جلد کو نرم، ہموار اور کومل رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ وٹامن اے جلد کے خلیات کی مرمت اور خشکی کو روکتا ہے، جبکہ لائکوپین جلد کو سورج کی مضر شعاعوں کے اثرات سے بچاتا ہے۔ وٹامن سی کولیجن کی پیداوار کو بڑھاتا ہے، جو جلد کی لچک اور جوانی کو برقرار رکھنے کے لیے اہم ہے۔
  • بالوں کی مضبوطی: تربوز کے بیجوں کا تیل جلد کو ہائیڈریٹ اور پرورش دیتا ہے، لچک کو بہتر بناتا ہے اور سوزش کو کم کرتا ہے۔ تیل میں موجود فیٹی ایسڈز اور وٹامنز بالوں کو مضبوط کرتے ہیں، ٹوٹ پھوٹ کو کم کرتے ہیں، اور مجموعی ساخت کو بہتر بناتے ہیں۔

مجموعی صحت اور خوبصورتی کے لیے تربوز کو اپنی غذا میں شامل کرنا ایک بہترین فیصلہ ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے، آپ ڈان نیوز کی اس رپورٹ کا مطالعہ کر سکتے ہیں: دل کی صحت بہتر بنانے میں تربوز کا کردار۔

سائنسدانوں نے تربوز کھانے سے ہونے والا حیران کن فائدہ دریافت کرلیا

ذیابیطس کے مریض اور تربوز کا استعمال

ذیابیطس کے مریضوں کے لیے تربوز کے استعمال کے حوالے سے کچھ احتیاط اور معلومات ضروری ہیں۔ اگرچہ تربوز میں قدرتی مٹھاس ہوتی ہے، لیکن اس کا ہائی گلیسیمک انڈیکس (GI) ہونے کے باوجود اسے اعتدال میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

  • گلیسمیک انڈیکس: تربوز کا جی آئی اسکور تقریباً 72 ہے، جو اسے تیزی سے شوگر بڑھانے والے پھلوں میں شامل کرتا ہے۔ تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ تربوز میں پانی کی زیادہ مقدار کے باعث اس کی کچھ مقدار کا جی آئی اسکور گھٹ جاتا ہے۔
  • اعتدال میں استعمال: ذیابیطس کے مریضوں کو تربوز کو پھل کی صورت میں کھانا چاہیے، جوس کی صورت میں نہیں، کیونکہ جوس میں فائبر کی کمی کی وجہ سے شوگر تیزی سے خون میں جذب ہوتی ہے۔ اسے کسی پروٹین یا صحت بخش چکنائی (جیسے گری دار میوے) کے ساتھ کھانے سے شوگر کے جذب ہونے کی رفتار سست ہو سکتی ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق، ذیابیطس کے مریضوں کو اپنے معالج یا ماہرِ غذائیت سے مقدار کے بارے میں مشورہ ضرور کرنا چاہیے۔

دیگر اہم فوائد اور احتیاطی تدابیر

تربوز کے فوائد صرف دل اور ہائیڈریشن تک ہی محدود نہیں، بلکہ یہ کئی دیگر بیماریوں سے بچاؤ اور صحت کی بہتری میں بھی کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔

  • پٹھوں کی صحت اور درد میں کمی: تربوز میں موجود سیٹرولین پٹھوں میں جلن اور درد کو کم کرنے میں مدد کرتا ہے، خاص طور پر ورزش کے بعد۔ یہ خون کی گردش کو بہتر بناتا ہے، جو کھلاڑیوں کے لیے فائدہ مند ہے۔
  • قوت مدافعت میں اضافہ: تربوز میں وٹامن سی کی وافر مقدار پائی جاتی ہے جو قوت مدافعت کو بڑھاتی ہے اور جسم کو انفیکشن سے لڑنے میں مدد دیتی ہے۔ یہ فلو، نزلہ اور زکام سے لڑنے میں بھی معاون ثابت ہوتا ہے۔
  • آنکھوں کی بینائی: تربوز کا سرخ رنگ بیٹا کیروٹین کی موجودگی کا اشارہ ہے، جو جسم میں وٹامن اے میں تبدیل ہوتا ہے۔ وٹامن اے بینائی کی حفاظت کرتا ہے اور عمر کی وجہ سے ہونے والی آنکھوں کی بیماریوں، جیسے اندھاپن کو قدرتی طور پر روکنے میں مدد دیتا ہے۔
  • گردوں کی صحت: تربوز میں شامل پانی کا اعلیٰ مواد جگر اور گردوں پر کشیدگی کا دباؤ کم کرتا ہے۔ یہ فضلہ ضائع کرنے اور ہٹانے کی سہولت فراہم کرتا ہے، جس سے گردے صاف رہتے ہیں۔
  • وزن میں کمی: کم کیلوریز اور زیادہ پانی کی مقدار کی وجہ سے تربوز وزن کم کرنے والوں کے لیے ایک بہترین پھل ہے۔ یہ پیٹ بھرنے کا احساس دیتا ہے اور بے وقت کھانے کی خواہش کو کم کرتا ہے۔
  • ہڈیوں کی مضبوطی: تربوز لائکوپین اور پوٹاشیم سے بھرپور ہے جو ہڈیوں اور جوڑوں کو مضبوط رکھتے ہیں۔ لائکوپین ہڈیوں کی کمزوری کی بیماری آسٹیوپوروسس کو شروع ہی سے روکنے میں مدد دیتا ہے۔

احتیاطی تدابیر: تربوز کو کھانے کے فوراً بعد پانی پینے سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ یہ ہاضمے کے عمل کو متاثر کر سکتا ہے۔ اسے کھانے سے کم از کم دو گھنٹے پہلے یا دو گھنٹے بعد کھانا بہتر ہے۔ زیادہ مقدار میں تربوز کا استعمال پیٹ میں گیس یا اسہال کا سبب بن سکتا ہے۔

نتیجہ

حالیہ سائنسی تحقیقات نے تربوز کی افادیت کو ایک نئی سطح پر پہنچا دیا ہے۔ یہ صرف ایک تازگی بخش پھل نہیں بلکہ ایک ایسا “سپر فوڈ” ہے جو دل کی صحت، ہائیڈریشن، نظام ہاضمہ، جلد اور بالوں کی خوبصورتی، قوت مدافعت اور پٹھوں کی مضبوطی سمیت بے شمار طبی فوائد کا حامل ہے۔ تربوز میں موجود لائکوپین، سیٹرولین، وٹامنز اور معدنیات اسے ایک بہترین غذائی انتخاب بناتے ہیں۔ ذیابیطس کے مریضوں کے لیے اعتدال اور مناسب طریقے سے استعمال کرنے پر یہ ایک صحت بخش اضافہ ہو سکتا ہے۔ پس، ان تمام حیرت انگیز انکشافات کے بعد، تربوز کھانے والوں کے لیے واقعی یہ ایک بڑی خوشخبری ہے کہ ان کا پسندیدہ پھل صحت کے بے شمار خزانوں سے مالا مال ہے۔