مقبول خبریں

کیا نیتن یاہو کو نیویارک آنے پر گرفتار کیا جاسکتا ہے؟ ظہران ممدانی نے بڑا اعلان کردیا

کیا نیتن یاہو کو نیویارک آنے پر گرفتار کیا جاسکتا ہے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو حالیہ دنوں میں بین الاقوامی سطح پر گرما گرم بحث کا موضوع بن چکا ہے، خصوصاً جب نیویارک کے میئر ظہران ممدانی نے اس حوالے سے ایک بڑا اعلان کیا ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو پر غزہ میں جاری جنگ کے دوران جنگی جرائم کے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں، اور بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) نے ان کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ بھی جاری کر رکھے ہیں۔ اسی تناظر میں، ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں نیتن یاہو کی نیویارک آمد کی توقع ہے، جس پر میئر ممدانی نے اپنی انتظامیہ کے قانونی اختیارات کا جائزہ لینے کا اعلان کیا ہے۔

پس منظر: نیتن یاہو پر جنگی جرائم کے الزامات

غزہ کی پٹی میں جاری طویل المدتی تنازع اور حالیہ فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں، اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو پر بین الاقوامی سطح پر جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) کے پراسیکیوٹر کریم خان نے نومبر 2024 میں نیتن یاہو اور اسرائیل کے وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کے خلاف “بھوک کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے”، “جان بوجھ کر قتل” اور “غارت گری یا قتل” جیسے جرائم کے شبے میں وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی درخواست کی تھی۔ ان وارنٹس کو بعد ازاں عالمی فوجداری عدالت نے جاری کر دیا تھا، جس میں حماس کے عسکری رہنما محمد دیاب ابراہیم المصری (عرف محمد دائف) کے خلاف بھی وارنٹ شامل تھے۔

اسرائیل نے ان وارنٹس کو مسترد کرتے ہوئے انہیں “بے بنیاد اقدام” قرار دیا ہے اور عدالت کے دائرہ اختیار پر سوالات اٹھائے ہیں۔ اسرائیل کا مؤقف ہے کہ وہ بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے اپنے اور اپنے شہریوں کا دفاع جاری رکھے گا۔ تاہم، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور عالمی ادارے غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کو نسل پرستانہ پالیسیوں اور جنگی جرائم سے تعبیر کر چکے ہیں، جن میں زمینوں پر ناجائز قبضے، جبری بے دخلی، اور بستیوں کی تعمیر کے ذریعے فلسطینیوں کے حق خودارادیت کی پامالی شامل ہے۔ عالمی برادری میں اس معاملے پر شدید تنقید اور تشویش پائی جاتی ہے، اور نیتن یاہو پر عالمی دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔

ظہران ممدانی کون ہیں اور ان کا اعلان کیا ہے؟

ظہران کوامے ممدانی نیویارک شہر کے 112ویں میئر ہیں، جنہوں نے جنوری 2026ء سے اپنا عہدہ سنبھالا ہے۔ وہ ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں اور نیویارک کے پہلے ایشیائی اور ہندوستانی نژاد اور پہلے مسلمان میئر ہیں۔ 18 اکتوبر 1991 کو یوگنڈا کے دارالحکومت کمپالا میں پیدا ہونے والے ممدانی سات سال کی عمر میں اپنے خاندان کے ساتھ نیویارک منتقل ہو گئے تھے۔ ان کے والد محمود ممدانی کولمبیا یونیورسٹی کے ممتاز محقق اور پروفیسر ہیں، جبکہ والدہ میرا نائر ایک عالمی شہرت یافتہ فلمساز ہیں۔ ظہران ممدانی نے تعلیم کے دوران ہی سماجی انصاف اور عوامی حقوق کی تحریکوں میں حصہ لیا اور “اسٹوڈنٹس فار جسٹس اِن فلسطین” کے بانی رکن بھی رہے ہیں۔ سیاست میں آنے سے قبل وہ ہاؤسنگ کونسلر اور ہپ ہاپ موسیقار کے طور پر کام کرتے تھے۔ 2020 میں وہ نیویارک اسٹیٹ اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے، اور اپنی مہم میں مہنگائی، رہائش، چائلڈ کیئر اور عام شہریوں کے معیارِ زندگی کو مرکزی نکتہ بنایا۔

نیویارک کے میئر ظہران ممدانی نے اعلان کیا ہے کہ اگر اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک آتے ہیں تو ان کی انتظامیہ نیتن یاہو کی ممکنہ گرفتاری سے متعلق قانونی اختیارات کا جائزہ لے رہی ہے۔ ممدانی نے نیتن یاہو کو ایک “جنگی مجرم” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا اصل مقام ہیگ (بین الاقوامی فوجداری عدالت کا مرکز) ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ وہ قانون سے ہٹ کر کوئی قدم نہیں اٹھائیں گے اور صرف وہی اقدام کریں گے جس کی قانون اجازت دے گا۔ میئر ممدانی نے بتایا کہ وہ اس معاملے پر نیویارک سٹی کے لا ڈیپارٹمنٹ اور متعلقہ حکام سے مشاورت کر رہے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا شہر کے پاس ایسا کوئی قانونی اختیار موجود ہے یا نہیں۔

سربراہان مملکت کی استثنیٰ اور بین الاقوامی قانون

بین الاقوامی قانون کے تحت، سربراہان مملکت اور حکومت کو عام طور پر سفارتی استثنیٰ (diplomatic immunity) حاصل ہوتا ہے جو انہیں اپنے دور حکومت میں غیر ملکی عدالتوں میں مقدمات سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔ اس استثنیٰ کا مقصد بین الاقوامی تعلقات کو برقرار رکھنا اور ریاستوں کے درمیان آزادانہ رابطوں کو یقینی بنانا ہے، تاکہ ایک ملک کا رہنما دوسرے ملک میں بلا خوف و خطر سرکاری دورے کر سکے۔ تاہم، یہ استثنیٰ مطلق نہیں ہے اور اس کی کچھ حدود بھی ہیں۔

  • ریاستی استثنیٰ (State Immunity): یہ اصول اس بات پر مبنی ہے کہ ایک ریاست کی عدالتیں کسی دوسری خودمختار ریاست یا اس کے نمائندوں کے خلاف دائر مقدمات کی سماعت نہیں کر سکتیں۔ یہ بین الاقوامی خودمختاری کے احترام کا اصول ہے۔
  • ذاتی استثنیٰ (Personal Immunity): یہ سربراہان مملکت، حکومتی سربراہان، اور وزرائے خارجہ کو ان کے عہدے پر رہتے ہوئے ان کے تمام اعمال، خواہ وہ نجی ہوں یا سرکاری، کے لیے حاصل ہوتا ہے۔ یہ استثنیٰ ان کے عہدے سے ہٹنے کے بعد ختم ہو جاتا ہے، تاہم سرکاری حیثیت میں کیے گئے اعمال کے لیے استثنیٰ برقرار رہ سکتا ہے۔
  • فنکشنل استثنیٰ (Functional Immunity): یہ ان تمام سرکاری اہلکاروں کو حاصل ہوتا ہے جو ریاست کی جانب سے کام کرتے ہیں، اور یہ ان کے سرکاری اعمال تک محدود ہوتا ہے۔ یہ استثنیٰ عہدے سے ہٹنے کے بعد بھی ان سرکاری اعمال کے لیے برقرار رہتا ہے۔

نیتن یاہو کے معاملے میں، چونکہ وہ ایک موجودہ وزیر اعظم ہیں، انہیں عمومی طور پر سربراہ مملکت کی حیثیت سے ذاتی استثنیٰ حاصل ہونا چاہیے۔ لیکن، بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) کا دائرہ اختیار اس حوالے سے مختلف ہے۔ ICC کا روم سٹیٹیوٹ (Rome Statute) واضح طور پر بیان کرتا ہے کہ اس کے دائرہ اختیار میں آنے والے جرائم، جیسے جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم، کے لیے سربراہان مملکت کو بھی استثنیٰ حاصل نہیں ہوتا۔ ICC کے پراسیکیوٹر نے اسی بنیاد پر نیتن یاہو کے وارنٹ گرفتاری کی درخواست کی تھی۔

یونیورسل دائرہ اختیار (Universal Jurisdiction) کا اصول

یونیورسل دائرہ اختیار ایک بین الاقوامی قانونی اصول ہے جو بعض سنگین جرائم، جیسے جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم، نسل کشی اور تشدد (torture) کے مرتکب افراد کو کسی بھی ملک میں مقدمہ چلانے کی اجازت دیتا ہے، چاہے جرم کسی بھی جگہ ہوا ہو اور مجرم یا متاثرین کی قومیت کچھ بھی ہو۔ اس اصول کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ایسے سنگین جرائم کے مرتکب افراد کو کہیں بھی انصاف سے فرار نہ ہونے دیا جائے۔ یہ اصول ایسے جرائم کو انسانیت کے خلاف جرم قرار دیتا ہے، اس لیے کسی بھی ریاست کو ان پر کارروائی کرنے کا حق حاصل ہوتا ہے۔

  • مقصد: اس کا بنیادی مقصد عالمی سطح پر انصاف کی فراہمی اور سب سے زیادہ سنگین جرائم کے لیے استثنیٰ کو ختم کرنا ہے۔
  • عملدرآمد: یونیورسل دائرہ اختیار کے تحت، اگر کوئی جنگی مجرم کسی ایسے ملک میں داخل ہوتا ہے جس نے اس اصول کو اپنے قوانین میں شامل کیا ہے، تو اسے وہاں گرفتار کر کے مقدمہ چلایا جا سکتا ہے، قطع نظر اس کے کہ وہ جرم کس ملک میں ہوا یا مجرم کی قومیت کیا ہے۔
  • امریکہ میں اطلاق: امریکہ میں “وار کرائمز ایکٹ 1996” (18 U.S. Code § 2441) کے تحت جنگی جرائم کے لیے یونیورسل دائرہ اختیار کا اطلاق ہوتا ہے۔ یہ قانون امریکہ سے باہر بھی جنگی جرائم کے مرتکب افراد پر مقدمہ چلانے کی اجازت دیتا ہے، اگر متاثرین یا مجرم کا تعلق امریکہ سے ہو یا وہ امریکہ میں موجود ہوں۔ تاہم، موجودہ سربراہان مملکت کے استثنیٰ کا معاملہ امریکہ میں ایک پیچیدہ قانونی بحث کا حصہ ہے۔

نیتن یاہو کے معاملے میں، میئر ظہران ممدانی کی جانب سے قانونی مشاورت کا آغاز اسی یونیورسل دائرہ اختیار اور امریکی قوانین کے تحت ان کے اختیارات کا جائزہ لینے کے لیے کیا گیا ہے۔ تاہم، امریکی وفاقی حکومت کا مؤقف اور سفارتی تعلقات اس معاملے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

پہلوسربراہ مملکت کا استثنیٰعالمی فوجداری عدالت (ICC)یونیورسل دائرہ اختیار (Universal Jurisdiction)
تعریفموجودہ سربراہان مملکت کو غیر ملکی عدالتوں میں مقدمات سے تحفظ۔جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم، نسل کشی کی تحقیقات اور مقدمات چلانے والی عدالت۔سنگین جرائم پر کسی بھی ملک کی عدالت میں مقدمہ چلانے کا اصول۔
مقصدسفارتی تعلقات کو برقرار رکھنا، بین الاقوامی خودمختاری کا احترام۔سنگین عالمی جرائم کے مرتکب افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانا۔عالمی انصاف کی فراہمی، استثنیٰ کا خاتمہ۔
نیتن یاہو پر اطلاقبطور موجودہ وزیر اعظم استثنیٰ کا دعویٰ کر سکتے ہیں۔ICC نے ان کے خلاف جنگی جرائم کے وارنٹ جاری کیے ہیں۔امریکہ میں وار کرائمز ایکٹ کے تحت ممکنہ اطلاق زیر بحث۔
امریکی مؤقفسربراہان مملکت کے استثنیٰ کا احترام کرتا ہے، تاہم حدود موجود ہیں۔امریکا ICC کا رکن نہیں اور اس کے فیصلوں کو تسلیم نہیں کرتا۔امریکی قوانین میں شامل، لیکن وفاقی حکومت کا فیصلہ اہم ہوگا۔

امریکی قانون اور بین الاقوامی فوجداری عدالت کا دائرہ اختیار

امریکی قانون اور بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) کا دائرہ اختیار ایک پیچیدہ معاملہ ہے، خصوصاً جب کسی غیر ملکی سربراہ مملکت کی گرفتاری کا سوال ہو۔ امریکہ ICC کا رکن نہیں ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ روم سٹیٹیوٹ کے تحت ICC کے فیصلوں اور وارنٹس کو تسلیم کرنے کا پابند نہیں ہے۔ امریکہ نے ماضی میں بھی ICC کے خلاف سخت مؤقف اپنایا ہے اور اس کے کردار و اختیارات کو محدود کرنے کے لیے اقدامات کا عندیہ دیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر نیتن یاہو امریکہ میں داخل ہوتے ہیں، تو ICC کے جاری کردہ وارنٹ کی بنیاد پر امریکی وفاقی حکام کے لیے ان کو گرفتار کرنا لازمی نہیں ہوگا۔

  • میئر کے اختیارات: نیویارک کے میئر ظہران ممدانی نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ نیتن یاہو کی گرفتاری کے حوالے سے ان کے قانونی اختیارات مکمل طور پر واضح نہیں ہیں۔ وہ نیویارک سٹی کے قانون کے دائرہ کار میں رہ کر ہی کوئی قدم اٹھائیں گے اور اس مقصد کے لیے اپنے قوانین خود نہیں بنائیں گے۔ اس معاملے میں نیویارک سٹی کے لا ڈیپارٹمنٹ اور متعلقہ حکام سے مشاورت جاری ہے۔
  • وفاقی حکومت کا کردار: غیر ملکی سربراہان مملکت سے متعلق امور وفاقی حکومت کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں، جن میں سفارتی تعلقات اور بین الاقوامی معاہدے شامل ہیں۔ امریکہ کی وفاقی حکومت نے عام طور پر موجودہ سربراہان مملکت کو سفارتی استثنیٰ دیا ہے، اور کسی غیر ملکی رہنما کی گرفتاری کے لیے وفاقی حکومت کی اجازت یا حکم ضروری ہو سکتا ہے۔ اس صورتحال میں وفاقی حکومت کا مؤقف انتہائی اہمیت کا حامل ہو گا۔
  • سیاسی اور سفارتی دباؤ: یہ معاملہ قانونی سے زیادہ سیاسی نوعیت اختیار کر سکتا ہے۔ اسرائیلی حکام نے میئر ممدانی کے بیان پر سخت ردعمل دیا ہے اور کہا ہے کہ امریکہ بین الاقوامی فوجداری عدالت کا رکن نہیں، اس لیے ICC کے وارنٹ کی بنیاد پر کسی کارروائی کا قانونی جواز موجود نہیں۔ اس کے علاوہ، امریکی حکومت پر اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو برقرار رکھنے کا دباؤ بھی ہو سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ نیویارک کے میئر کے لیے کسی غیر ملکی سربراہ حکومت کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کرنا ایک مشکل امر ہے، اور اس کے لیے انہیں وفاقی حکام کے ساتھ تعاون اور ان کی منظوری درکار ہوگی۔ نیویارک میں اسرائیل کے قونصل جنرل اوفیر اکونیس نے میئر کے اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے پاس نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے، اور انہیں نیویارک شہر کا نظام چلانے پر توجہ دینی چاہیے۔

نیتن یاہو پر عالمی سطح پر بڑھتے دباؤ کو سمجھنے کے لیے یہ دیکھنا اہم ہے کہ بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اور عالمی برادری کس طرح اسرائیل کی کارروائیوں کو دیکھتی ہے۔ ہیومن رائٹس واچ نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ اسرائیلی حکام نسلی امتیاز اور جبر کی پالیسی اختیار کر کے انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کر رہے ہیں۔ غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں، جن میں بلاجواز گرفتاری، تشدد، اور بچوں تک کو حراست میں لینا شامل ہے، انسانی حقوق کے عالمی معیارات کی صریح خلاف ورزی ہیں۔ اقوام متحدہ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل جیسی تنظیمیں بارہا ان اقدامات کو نسل پرستانہ پالیسیوں اور جنگی جرائم سے تعبیر کر چکی ہیں۔ ان تمام حالات کے پیش نظر، نیتن یاہو پر قانونی اور سیاسی دباؤ میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

مزید تفصیلات کے لیے ڈان نیوز کی عالمی عدالت میں اسرائیل کے خلاف مقدمے کی رپورٹ دیکھی جا سکتی ہے۔

مستقبل کے امکانات اور سیاسی و قانونی اثرات

نیتن یاہو کی نیویارک آمد اور میئر ظہران ممدانی کے اعلان کے بعد، مستقبل میں کئی سیاسی و قانونی امکانات سامنے آ سکتے ہیں۔

  • وفاقی حکومت کا مؤقف: حتمی صورت حال کا انحصار ستمبر میں نیتن یاہو کے ممکنہ دورۂ نیویارک اور امریکی حکام کے مؤقف پر ہوگا۔ اگر وفاقی حکومت نیتن یاہو کو سفارتی استثنیٰ فراہم کرتی ہے، تو مقامی سطح پر ان کی گرفتاری انتہائی مشکل ہو جائے گی۔ امریکہ عام طور پر غیر ملکی سربراہان مملکت کو استثنیٰ دیتا ہے تاکہ سفارتی تعلقات متاثر نہ ہوں۔
  • سیاسی کشیدگی: میئر ممدانی کے بیان نے پہلے ہی اسرائیل اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں اضافہ کر دیا ہے۔ اسرائیلی حکام نے اس بیان کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اگر نیویارک شہر کی انتظامیہ کوئی ایسا اقدام کرتی ہے جو وفاقی حکومت کے مؤقف سے متصادم ہو، تو اس سے داخلی اور بین الاقوامی سطح پر ایک بڑا سیاسی بحران پیدا ہو سکتا ہے۔
  • بین الاقوامی دباؤ میں اضافہ: نیتن یاہو پر پہلے ہی بین الاقوامی برادری کی جانب سے شدید دباؤ ہے۔ اگر وہ نیویارک آتے ہیں اور ان کی گرفتاری کا معاملہ شدت اختیار کرتا ہے، تو یہ عالمی سطح پر اسرائیل کو مزید تنہا کر سکتا ہے اور اس پر بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کے لیے دباؤ بڑھا سکتا ہے۔
  • قانونی پیچیدگیاں: یہ معاملہ بین الاقوامی قانون، امریکی وفاقی اختیارات، اور سفارتی معاملات سے جڑا ہوا ہے۔ قانونی ماہرین نے اس امکان پر سوالات اٹھائے ہیں کہ آیا نیویارک کا میئر یا مقامی پولیس کسی غیر ملکی سربراہ حکومت کے خلاف ایسی کارروائی کر سکتی ہے یا نہیں۔
  • عوامی رائے اور احتجاج: نیتن یاہو کی آمد کی صورت میں نیویارک میں بڑے پیمانے پر احتجاج اور مظاہرے متوقع ہیں، جس سے عوامی رائے اور بین الاقوامی سطح پر بحث کو مزید تقویت ملے گی۔

ایران اور دیگر ممالک کی جانب سے امریکہ پر جنگی جرائم میں ملوث ہونے کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں، جو اس بحث کو مزید پیچیدہ بنا دیتے ہیں کہ بین الاقوامی قانون کا اطلاق کس طرح اور کن پر ہوتا ہے۔ یہ تمام عوامل اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ نیتن یاہو کی ممکنہ نیویارک آمد نہ صرف ان کے لیے بلکہ امریکہ اور عالمی سطح پر بھی کئی قانونی اور سیاسی چیلنجز کا سبب بن سکتی ہے۔

نتیجہ

کیا نیتن یاہو کو نیویارک آنے پر گرفتار کیا جاسکتا ہے؟ اس سوال کا جواب بین الاقوامی قانون، امریکی وفاقی قوانین، اور سفارتی تعلقات کی پیچیدگیوں میں پنہاں ہے۔ نیویارک کے میئر ظہران ممدانی کا اعلان نیتن یاہو پر بڑھتے ہوئے بین الاقوامی دباؤ کی عکاسی کرتا ہے، جس میں بین الاقوامی فوجداری عدالت کے وارنٹس اور غزہ میں جنگی جرائم کے الزامات نمایاں ہیں۔ تاہم، امریکہ کا ICC کا رکن نہ ہونا اور سربراہان مملکت کو حاصل سفارتی استثنیٰ اس معاملے میں اہم رکاوٹیں ہیں۔ اگرچہ یونیورسل دائرہ اختیار کا اصول موجود ہے، لیکن اس کے عملی اطلاق اور وفاقی حکومت کی مداخلت اس کی راہ میں حائل ہو سکتی ہے۔ ستمبر میں نیتن یاہو کی ممکنہ آمد سے قبل، نیویارک سٹی انتظامیہ کی قانونی مشاورت اور امریکی وفاقی حکومت کا حتمی مؤقف اس صورتحال کا رخ متعین کرے گا۔ یہ معاملہ ایک اہم قانونی اور سیاسی نظیر قائم کر سکتا ہے، جس کے عالمی سطح پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔