مقبول خبریں

ہاکی کے سُنہرے دن واپس لانے کے لیے پی ایچ ایف نے بڑا فیصلہ کر لیا

ہاکی کے سُنہرے دن واپس لانے کے لیے پاکستان ہاکی فیڈریشن (پی ایچ ایف) نے متعدد بڑے اور انقلابی فیصلے کیے ہیں جن کا مقصد قومی کھیل کو دوبارہ عالمی سطح پر اس کا کھویا ہوا مقام دلانا ہے۔ پاکستان ہاکی، جو ایک طویل عرصے سے زوال کا شکار تھی، اب ایک نئے اور جامع منصوبے کے تحت بحالی کی راہ پر گامزن ہے۔ پی ایچ ایف کی ایڈہاک مینجمنٹ نے کھلاڑیوں کی فلاح و بہبود، ڈومیسٹک ہاکی کی مضبوطی، اور بین الاقوامی ایکسپوژر کو یقینی بنانے کے لیے ایک بے مثال اور تاریخی پروگرام ترتیب دیا ہے۔ رواں سال پاکستان میں ہاکی کی بحالی کا سال ثابت ہو رہا ہے، اور ان اقدامات سے امید کی جا رہی ہے کہ قومی کھیل کا مستقبل روشن ہوگا۔

پی ایچ ایف کے تاریخی اقدامات: ایک نئے دور کا آغاز

پاکستان ہاکی فیڈریشن کی موجودہ ایڈہاک مینجمنٹ نے قومی کھیل کی ترقی کے لیے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے، کوچز کی فنی مہارتوں میں اضافہ کرنے، اور گراس روٹ سے لے کر ایلیٹ سطح تک یکساں اور مؤثر کوچنگ طریقہ کار کو فروغ دینے کا عزم کیا ہے۔ اس مقصد کے تحت ایک جامع “کوچنگ ایجوکیشن پروگرام” کا آغاز کیا گیا ہے جس میں صوبائی ہاکی ایسوسی ایشنز، محکمہ جات کھیل، تعلیمی اداروں، اور دیگر متعلقہ اداروں کے ذریعے اہل کوچز سے نامزدگیاں طلب کی گئی ہیں۔ یہ پروگرام کوچز کی پیشہ ورانہ تربیت، ٹیلنٹ کی نشاندہی، جدید تربیتی تکنیکوں کے استعمال، اسپورٹس سائنس اور کھلاڑیوں کی طویل مدتی ترقی کے مختلف پہلوؤں پر خصوصی توجہ دے گا۔

فیڈریشن نے نہ صرف انتظامی ڈھانچے کو بہتر بنانے پر کام کیا ہے بلکہ ایک ڈیٹا پر مبنی نظام بھی متعارف کرایا ہے جس کا مقصد سفارش اور ذاتی پسند ناپسند کے کلچر کا خاتمہ کرنا ہے۔ اس بات کا ثبوت یہ ہے کہ پی ایچ ایف نے حال ہی میں انڈر 18 قومی ہاکی ٹورنامنٹ سے عمر کی غلط بیانی پر 9 کھلاڑیوں کو باہر کر دیا تاکہ شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنایا جا سکے۔ ان تمام اقدامات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پی ایچ ایف محض عارضی حل کے بجائے ایک پائیدار اور دیرپا بحالی کی بنیاد رکھ رہی ہے۔

غیر ملکی کوچنگ اسٹاف کی تعیناتی

قومی ہاکی کو عالمی سطح پر دوبارہ مضبوط بنانے کے لیے پاکستان ہاکی فیڈریشن نے بین الاقوامی شہرت یافتہ کوچنگ ٹیم کی خدمات حاصل کی ہیں۔ یہ تعیناتیاں پاکستان ہاکی کے ایک نئے دور کا آغاز ہیں، جس میں بین الاقوامی ماہرین پاکستانی کوچز کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔ مردوں کی قومی ٹیموں (سینئر، جونیئر، انڈر-18، یوتھ) کے لیے ہالینڈ کے ہرمن کروس کو نیشنل ہاکی کوچنگ ایڈوائزر اور ہیڈ کوچ، آسٹریلیا کے ڈیوڈ ڈوائر کو فٹنس اور ہائی پرفارمنس کوچ، جرمنی میں مقیم پاکستان کے عدنان ذاکر کو جونیئر ٹیلنٹ آئیڈینٹیفکیشن کوچ، ہالینڈ کے باب جوہان ویلڈہوف کو گول کیپنگ کوچ، اور جنوبی افریقہ کے کرس بوون کو اسپورٹس سائیکالوجسٹ مقرر کیا گیا ہے۔ یہ تمام ماہرین جدید کوچنگ سسٹم متعارف کرانے، کوچنگ کے معیار کو بہتر بنانے، اور قومی ٹیم کے تکنیکی امور کی رہنمائی کرنے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔

اسی طرح خواتین ہاکی کی بحالی کے لیے بھی پی ایچ ایف نے بڑا قدم اٹھاتے ہوئے ڈچ کوچ رچرڈ ڈی سنیجر کو قومی خواتین ہاکی ٹیم کا ہیڈ کوچ مقرر کیا ہے۔ رچرڈ ڈی سنیجر کو دو دہائیوں سے زائد عرصے کی کوچنگ کا تجربہ حاصل ہے اور وہ نیدرلینڈز اور بیلجیئم میں ایلیٹ کوچنگ کا تجربہ رکھتے ہیں۔ ان کی تقرری طویل مدتی حکمت عملی کا حصہ ہے اور وہ خواتین ٹیم کے ٹیکنیکل، ٹیکٹیکل، اور فزیکل معیار کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوں گے۔ یہ غیر ملکی کوچنگ اسٹاف نہ صرف کھلاڑیوں کی صلاحیتوں کو نکھارے گا بلکہ مقامی کوچز کی رہنمائی بھی کرے گا، جس سے پاکستان میں ہاکی کی کوچنگ کا مجموعی معیار بہتر ہوگا۔

بین الاقوامی مواقع میں اضافہ اور مصروف شیڈول

کھلاڑیوں کو عالمی سطح پر زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کرنے کے لیے پی ایچ ایف نے ایک انتہائی مصروف بین الاقوامی شیڈول ترتیب دیا ہے۔ اس شیڈول میں سینئر، جونیئر، اور انڈر 18 مرد و خواتین دونوں ٹیموں کے لیے اہم ٹورنامنٹس اور دورے شامل ہیں۔ سینئر مردوں کی ٹیم ورلڈ کپ کوالیفائر میں شرکت کرے گی اور ایف آئی ایچ (FIH) پرو لیگ کے لیے بیلجیم اور برطانیہ کا دورہ بھی کرے گی۔ اس کے علاوہ، ستمبر میں کوریا کا اہم دورہ اور آنے والے ایف آئی ایچ ورلڈ کپ اور ایشین گیمز میں شرکت بھی اس شیڈول کا حصہ ہے۔

جونیئر اور یوتھ ٹیموں کو بھی بھرپور بین الاقوامی ایکسپوژر دیا جا رہا ہے۔ انڈر 18 بوائز ٹیم جاپان میں انڈر 18 ایشیا کپ اور عمان میں ایشین 5-اے-سائیڈ چیمپئن شپ میں شرکت کر چکی ہے، جبکہ انڈر 21 مردوں کی ٹیم عمان کا دوطرفہ انٹرنیشنل سیریز کے لیے دورہ، چین میں جونیئر ایشیا کپ اور ملائیشیا میں سلطان آف جوہر کپ میں حصہ لے گی. پاکستان کی انڈر-18 ہاکی ٹیم نے مصر میں منعقد ہونے والے ہاکی فائیو اے سائیڈ ورلڈ کپ کے لیے بھی کوالیفائی کر لیا ہے، جو پاکستان ہاکی کے روشن مستقبل کا ایک واضح ثبوت ہے. یہ عالمی مقابلوں میں شرکت کھلاڑیوں کو جدید کھیل کی تکنیک سیکھنے، حکمت عملی کو بہتر بنانے، اور اپنی فٹنس کو بین الاقوامی معیار کے مطابق ڈھالنے کا بہترین موقع فراہم کرے گی۔

ایک اور تاریخی پیشرفت یہ ہے کہ پاکستان میں 24 سال بعد انٹرنیشنل سینئر ہاکی کی واپسی ہو رہی ہے۔ جنوبی کوریا کی ہاکی فیڈریشن نے جولائی میں پاکستان کا دورہ کرنے کی تصدیق کی ہے، جہاں وہ اسلام آباد میں میچز کھیلے گی۔ یہ دورہ ملک میں بین الاقوامی ہاکی سرگرمیوں کی بحالی کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے۔

کھلاڑیوں کی فلاح و بہبود اور مالی معاونت

پاکستان ہاکی فیڈریشن نے کھلاڑیوں کی فلاح و بہبود اور مالی معاونت پر بھی خصوصی توجہ دی ہے۔ حکومت پاکستان نے کھلاڑیوں کے روزمرہ کے اخراجات (ڈیلی الاؤنس) میں بڑا اضافہ منظور کیا ہے۔ اب سینئر ٹیم کے کھلاڑیوں کو 110 امریکی ڈالر روزانہ اور جونیئر ٹیم کے کھلاڑیوں کو 65 امریکی ڈالر روزانہ الاؤنس دیا جا رہا ہے، تاکہ بیرون ملک پاکستان کی نمائندگی کے دوران کھلاڑیوں کو بہترین مالی مدد حاصل ہو سکے۔ یہ اضافہ کھلاڑیوں کے حوصلے بلند کرنے اور انہیں مکمل طور پر کھیل پر توجہ دینے میں مدد دے گا۔

اس کے علاوہ، پنجاب حکومت نے پاکستان ہاکی فیڈریشن کے لیے 15 کروڑ روپے کی خطیر گرانٹ منظور کی ہے، جس کا مقصد نچلی سطح پر ہاکی کے فروغ اور کوچنگ معیار کو جدید بنانا ہے۔ یہ فنڈز ملک بھر میں نئے ٹیلنٹ کی شناخت، گراس روٹ ڈویلپمنٹ پروگرامز کے انعقاد، اور کوچز کو جدید ترین عالمی معیار کے مطابق تربیت فراہم کرنے پر خرچ ہوں گے۔ یہ مالی امداد ہاکی کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کرنے اور کھلاڑیوں کی کارکردگی کو عالمی معیار تک پہنچانے میں انتہائی معاون ثابت ہوگی۔

اقدام/پہلوتفصیلاثرات/فوائد
غیر ملکی کوچنگ اسٹافہالینڈ کے ہرمن کروس (ہیڈ کوچ)، ڈیوڈ ڈوائر (فٹنس کوچ)، باب جوہان ویلڈہوف (گول کیپنگ کوچ)، کرس بوون (اسپورٹس سائیکالوجسٹ) اور عدنان ذاکر (ٹیلنٹ آئیڈینٹیفکیشن کوچ) کی تعیناتی۔ خواتین ٹیم کے لیے ڈچ کوچ رچرڈ ڈی سنیجر کی تقرری۔جدید کوچنگ نظام، تکنیکی بہتری، عالمی معیار کی فٹنس، ذہنی مضبوطی، اور گراس روٹ ٹیلنٹ کی نشاندہی۔
بین الاقوامی دورےسینئر، جونیئر اور انڈر 18 مرد و خواتین ٹیموں کے لیے ورلڈ کپ کوالیفائر، ایف آئی ایچ پرو لیگ، ایشین ٹورنامنٹس، اور دوطرفہ سیریز کا مصروف شیڈول۔کھلاڑیوں کو عالمی ایکسپوژر، مسابقتی صلاحیتوں میں اضافہ، اور تجربہ فراہم کرنا۔
کھلاڑیوں کے الاؤنس میں اضافہسینئر ٹیم کے کھلاڑیوں کو 110 امریکی ڈالر اور جونیئر ٹیم کے کھلاڑیوں کو 65 امریکی ڈالر یومیہ الاؤنس۔کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی، مالی استحکام، اور کھیل پر بہتر توجہ۔
ڈومیسٹک چیمپئن شپسپاکستان انڈر 18 نیشنل چیمپئن شپ اور پاکستان گرلز انڈر 21 نیشنل چیمپئن شپ کا انعقاد۔ نیشنل انڈر 15 ہاکی رجسٹریشن پورٹل کا آغاز۔نچلی سطح پر ٹیلنٹ کی تلاش اور فروغ، نوجوان کھلاڑیوں کے لیے مسابقتی پلیٹ فارم۔
ڈیٹا پر مبنی سلیکشنکھلاڑیوں کی فٹنس، تکنیکی مہارت، ذہنی مضبوطی، اور رویے کا جی پی ایس ٹریکنگ اور ویڈیو اینالسٹ کی مدد سے جائزہ۔میرٹ اور شفافیت کو یقینی بنانا، ذاتی پسند ناپسند کا خاتمہ، سائنسی تجزیے کی بنیاد پر انتخاب۔

ڈومیسٹک ہاکی کی مضبوطی اور ٹیلنٹ کی تلاش

پاکستان ہاکی کے سنہرے دنوں کی واپسی کے لیے ڈومیسٹک ڈھانچے کی مضبوطی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ پی ایچ ایف نے ملک بھر سے ابھرتے ہوئے ٹیلنٹ کو سامنے لانے کے لیے پاکستان انڈر 18 نیشنل چیمپئن شپ اور پاکستان گرلز انڈر 21 نیشنل چیمپئن شپ کا کامیابی سے انعقاد کیا ہے۔ چیمپئن، رنر اپ، اور تیسری پوزیشن حاصل کرنے والی ٹیموں کو بھاری نقد انعامات سے نوازا گیا ہے تاکہ کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کی جا سکے۔

اس کے علاوہ، فیڈریشن نے گراس روٹ سطح پر ہاکی کے فروغ کو ممکن بنانے کے لیے نیشنل انڈر 15 ہاکی رجسٹریشن پورٹل کا بھی باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ملک بھر کے اسکولوں سے 15 سال سے کم عمر طلبا کی رجسٹریشن کروا کر ہاکی کھلاڑیوں کا ایک جامع قومی ڈیٹا بیس تیار کرنا ہے۔ اس ڈیٹا کی روشنی میں پی ایچ ایف اضلاع کی سطح پر تربیت یافتہ کوچز تعینات کرے گی، کوچنگ پروگرامز منعقد کرے گی، اور کھلاڑیوں کی مہارت کو نکھارے گی۔ منتخب اسکولوں کو ہاکی کٹس اور کھیلوں کے سامان کی فراہمی پر بھی غور کیا جائے گا، اور اس پروگرام کا اختتام نیشنل انڈر 15 ہاکی چیمپئن شپ پر ہوگا، جہاں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کھلاڑیوں کو قومی ٹیم کے لیے منتخب کیا جائے گا۔

پنجاب حکومت نے بھی نچلی سطح پر ہاکی کے فروغ کے لیے 15 کروڑ روپے کی گرانٹ منظور کی ہے، جس سے ملک میں ہاکی کی بحالی کے ان اقدامات کو مزید تقویت ملے گی۔

ڈیٹا پر مبنی حکمت عملی اور احتساب

جدید دور کی ہاکی میں مسلسل جانچ اور سائنسی تجزیے کے بغیر بین الاقوامی سطح پر فتوحات ممکن نہیں۔ اسی حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے پی ایچ ایف نے ہاکی کے فروغ اور اسے جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ایک بڑا قدم اٹھایا ہے اور پاکستان انڈر 18 ٹیم کی حالیہ بین الاقوامی مہم کا جامع تکنیکی اور شماریاتی جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں ٹیم مینجمنٹ اور سلیکشن کمیٹی کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ کھلاڑیوں کی کارکردگی پر مبنی ایک مفصل تجزیاتی رپورٹ فوری طور پر ایڈہاک کمیٹی کو پیش کریں۔

فیڈریشن کا موقف ہے کہ قومی ہاکی کے ڈھانچے میں سفارش اور ذاتی پسند ناپسند کے کلچر کا خاتمہ کر کے مکمل طور پر ‘ڈیٹا اور ہائی پرفارمنس’ پر مبنی نظام متعارف کرایا جائے گا۔ کھلاڑیوں کی ترقی، کوچنگ، فٹنس اور حکمت عملی کے ہر پہلو کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اس میں پنالٹی کارنرز کو گول میں تبدیل کرنے کی شرح، حریف ٹیم کے پنالٹی کارنرز کے خلاف دفاعی حکمت عملی، ضائع ہونے والے گول کے مواقع کی تکنیکی وجوہات، اور دفاعی غلطیاں شامل ہیں۔ مستقبل کے سینئر دستے کے باصلاحیت کھلاڑیوں کا انتخاب اسی ڈیٹا کی بنیاد پر کیا جائے گا۔

کھلاڑیوں کی سلیکشن کے لیے 5 شعبوں میں جائزہ لیا جائے گا، جن میں فٹنس، تکنیکی مہارت، ذہنی مضبوطی اور رویہ شامل ہیں۔ غیر ملکی کوچز کھلاڑیوں کو 1 سے 5 تک نمبر دیں گے اور سلیکشن کے لیے 5 میں سے کم از کم 3 شعبوں میں 3 یا اس سے زائد نمبر لینا لازمی ہوں گے۔ کھلاڑیوں کی کارکردگی کا جائزہ جی پی ایس ٹریکنگ اور ویڈیو اینالسٹ کی مدد سے لیا جائے گا، جس سے شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنایا جا سکے گا۔ یہ اقدامات ہاکی میں جوابدہی اور احتساب کا کلچر لانے کا ثبوت ہیں۔

پی ایچ ایف نے قومی ٹیم کے سابق کپتان عماد بٹ پر عائد پابندی بھی ختم کر دی ہے، جس سے کھلاڑیوں کے حوصلے مزید بلند ہوئے ہیں۔ اس قسم کے انتظامی فیصلے کھیل میں اعتماد کی فضا بحال کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

ہاکی میں اصلاحات اور بحالی کے لیے پی ایچ ایف کے اقدامات سے متعلق مزید تفصیلات کے لیے آپ ایکسپریس نیوز کی اس رپورٹ کا مطالعہ کر سکتے ہیں۔

خواتین ہاکی کی ترقی: ایک اہم پہلو

پاکستان ہاکی فیڈریشن مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین ہاکی کی ترقی اور ترویج پر بھی برابر توجہ دے رہی ہے۔ پی ایچ ایف خواتین ہاکی کی ترقی اور گراس روٹ لیول سے قومی ٹیم تک ایک مضبوط اور پائیدار نظام کے قیام کے لیے مکمل طور پر متحرک ہے۔ قومی انڈر 21 ویمنز ہاکی چیمپئن شپ کے کامیاب انعقاد کے بعد، خواتین کی ٹیموں نے عمان میں منعقدہ جونیئر انڈر 21 اور انڈر 18 چیمپئن شپ میں بھی پاکستان کی نمائندگی کی اور شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

انٹرنیشنل سطح پر یہ پیشرفت کھلاڑیوں کی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے انتہائی اہم سنگ میل ثابت ہوگی اور انہیں مستقبل کے عالمی مقابلوں کے لیے تیار کرے گی۔ پی ایچ ایف جونیئر اور سینئر دونوں ویمنز ٹیموں کی ترقی اور استعداد کار بڑھانے کے لیے سرمایہ کاری جاری رکھے گی۔ خواتین ہاکی ٹیم کی کوچنگ کے لیے ایک یورپی کوچ رچرڈ ڈی سنیجر کی خدمات حاصل کی گئی ہیں، اور ان کی نگرانی میں پاکستان ویمن ہاکی پلیئرز کے یورپ کے دورے بھی ترتیب دیے جائیں گے۔ یہ اقدامات خواتین کھلاڑیوں کو بہترین مواقع فراہم کرنے اور انہیں عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کے قابل بنانے کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔

نتیجہ: ایک روشن مستقبل کی امید

پاکستان ہاکی فیڈریشن کے حالیہ فیصلے اور اقدامات قومی کھیل کے لیے ایک نئے دور کا آغاز ہیں۔ غیر ملکی کوچنگ اسٹاف کی تعیناتی، بین الاقوامی مقابلوں کا مصروف شیڈول، کھلاڑیوں کی مالی معاونت میں اضافہ، ڈومیسٹک ہاکی کی مضبوطی، اور ڈیٹا پر مبنی شفاف نظام کا نفاذ — یہ سب مل کر پاکستان ہاکی کو اس کے سُنہرے دنوں کی طرف واپس لے جانے کی سنجیدہ کوششوں کا مظہر ہیں۔ اگرچہ ہاکی کی بحالی راتوں رات ممکن نہیں اور اس کے لیے دو سے تین سال کی مسلسل محنت درکار ہوگی، لیکن فیڈریشن بالکل درست سمت میں گامزن ہے۔ امید کی جا سکتی ہے کہ ان ٹھوس اقدامات اور عزم کے ساتھ، پاکستان عالمی ہاکی کے نقشے پر اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کر سکے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت، میڈیا، شائقین اور تمام اسٹیک ہولڈرز ان کوششوں میں پی ایچ ایف کا بھرپور ساتھ دیں تاکہ قومی کھیل کا مستقبل روشن ہو اور ہم ایک بار پھر ہاکی میں عالمی چیمپئن بن سکیں۔