Table of Contents
امریکا ایران تعلقات میں ایک نیا موڑ آ رہا ہے جہاں دونوں ممالک کے درمیان مثبت مذاکرات کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں یہ بیان دیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے اور اس میں اچھی پیشرفت کی امید ہے۔ ان کے مطابق، مذاکرات مثبت انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں اور توقع ہے کہ جلد ہی کوئی اہم پیش رفت ہو سکتی ہے۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں شدید کشیدگی کے بعد کچھ عرصے سے دونوں فریقوں نے فوجی حملے روکے ہوئے ہیں، جس نے سفارت کاری کے لیے ایک موقع فراہم کیا ہے۔
یہ پیشرفت عالمی مبصرین اور تجزیہ کاروں کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ گزشتہ چند سالوں سے امریکا اور ایران کے تعلقات مسلسل کشیدگی، پابندیوں اور عسکری جھڑپوں کی زد میں رہے ہیں۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایک دوسرے کے خلاف فوجی کارروائیوں کے بعد، مذاکرات کا دوبارہ شروع ہونا خطے میں امن و استحکام کی جانب ایک مثبت اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا یہ مؤقف رہا ہے کہ ایران پر اقتصادی اور فوجی دباؤ بڑھا کر اسے مذاکرات کی میز پر لایا جائے، اور حالیہ بیانات سے ایسا لگتا ہے کہ یہ حکمت عملی کسی حد تک کامیاب ہو رہی ہے۔
امریکا اور ایران کے تعلقات کی تاریخ کئی دہائیوں پر محیط ہے اور یہ اتار چڑھاؤ سے بھرپور رہی ہے۔ 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں شدید سرد مہری اور تناؤ غالب رہا ہے۔ جوہری پروگرام، خطے میں ایران کا اثر و رسوخ، اور انسانی حقوق جیسے مسائل دونوں ممالک کے درمیان اختلافات کی بنیادی وجوہات رہے ہیں۔ 2015 میں طے پانے والا جوہری معاہدہ (Joint Comprehensive Plan of Action – JCPOA) ایک اہم سفارتی کامیابی تھی جس کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنا اور اس کے بدلے میں عالمی پابندیاں ہٹانا تھا۔ تاہم، 2018 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے یکطرفہ طور پر اس معاہدے سے دستبرداری اختیار کر لی اور ایران پر دوبارہ سخت پابندیاں عائد کر دیں۔ اس کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں بے پناہ اضافہ ہوا، جس میں آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں پر حملے، فوجی تنصیبات پر ڈرون حملے اور ایک دوسرے کے خلاف سائبر حملے شامل ہیں۔
گزشتہ دو ہفتوں سے جاری شدید فوجی حملوں کے بعد، جس میں امریکی افواج نے ایران کے فوجی اہداف کو نشانہ بنایا، خطے میں ایک وسیع جنگ کے خدشات بڑھ گئے تھے۔ تاہم، حال ہی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ایران پر حملے روک دیے گئے ہیں تاکہ سفارت کاری کو موقع دیا جا سکے۔ یہ فیصلہ دفاعی حکام کی بریفنگ کے بعد کیا گیا جس میں پیٹریاٹ دفاعی میزائلوں کے ذخائر، خطے کی سیکیورٹی صورتحال اور امریکی اتحادیوں کے خدشات پر غور کیا گیا۔ دوسری جانب، ایرانی فوج نے بھی حملے رکنے کے بعد اپنی جوابی فوجی کارروائیاں معطل کر دی ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ کا جارحانہ اور سفارتی نقطہ نظر
ٹرمپ انتظامیہ کا ایران سے متعلق نقطہ نظر ہمیشہ سے جارحانہ رہا ہے، جس میں “زیادہ سے زیادہ دباؤ” کی پالیسی کو مرکزی حیثیت حاصل تھی۔ اس پالیسی کا مقصد ایران کی معیشت کو کمزور کرنا اور اسے اپنے جوہری اور میزائل پروگراموں کے ساتھ ساتھ خطے میں اپنے اثر و رسوخ کو محدود کرنے پر مجبور کرنا تھا۔ صدر ٹرمپ نے بارہا یہ واضح کیا کہ وہ ایک نئے اور بہتر معاہدے کے خواہاں ہیں، جو ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے مکمل طور پر روکے اور خطے میں استحکام لائے۔
حالیہ دنوں میں ٹرمپ کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ فوجی دباؤ کو سفارتی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق، ایران پر حالیہ فوجی کارروائیاں نہ کی جاتیں تو تہران کبھی مذاکرات کی میز پر نہ آتا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکا کے پاس ہر قسم کے ہتھیار وافر مقدار میں موجود ہیں اور ملک کو کسی قسم کی کمی کا سامنا نہیں۔ تاہم، فوجی حملوں میں وقفہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ امریکی انتظامیہ سفارت کاری کے لیے موقع پیدا کرنا چاہتی ہے۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، صدر ٹرمپ نے فی الحال ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کو مزید وسعت نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے ڈائریکٹر برائے مواصلات، اسٹیون چونگ، نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایران کے حوالے سے امریکی پالیسی میں تمام ممکنہ آپشنز بدستور موجود ہیں، تاہم امریکا اب بھی سفارتی حل کو ترجیح دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کا بہترین طریقہ بات چیت اور کسی قابل قبول معاہدے تک پہنچنا ہے۔
ایران کے مطالبات اور مذاکراتی پوزیشن
ایران نے ہمیشہ سے اپنی خودمختاری اور علاقائی مفادات کے تحفظ پر زور دیا ہے۔ حالیہ مذاکرات میں ایران کے 10 نکاتی منصوبے کے اہم نکات سامنے آئے ہیں، جنہیں ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے پیش کیا ہے۔ ان مطالبات میں ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی نئی فوجی یا سیاسی جارحیت نہ کرنا، جاری کشیدگی اور جنگ کا مکمل اور مستقل خاتمہ کرنا، آبنائے ہرمز پر ایران کا کنٹرول برقرار رکھنا، اور یورینیم افزودگی کے حق کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کرنا شامل ہیں۔
اس کے علاوہ، ایران نے مطالبہ کیا ہے کہ اس پر عائد تمام معاشی اور سیاسی پابندیوں کو فوری اور مکمل طور پر ختم کیا جائے، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور بورڈ آف گورنرز کی ایران مخالف تمام قراردادیں ختم کی جائیں۔ ایران کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ جنگ اور پابندیوں سے ہونے والے نقصانات اور ایران کی تعمیر نو کے لیے ہرجانہ/معاوضہ ادا کیا جائے، اور مشرق وسطیٰ کے خطے سے تمام امریکی افواج کا مکمل انخلا یقینی بنایا جائے۔
اگرچہ امریکی صدر ٹرمپ نے مثبت مذاکرات کی بات کی ہے، ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے 28 جولائی 2026 کو کہا ہے کہ تہران نے ثالثوں کے ذریعے کیے جانے والے مذاکرات میں امریکی تجاویز کو “بے جا مطالبات” کی وجہ سے مسترد کر دیا ہے۔ ان کے مطابق، بات چیت اسلام آباد میں شروع ہوئی تھی، لیکن امریکی وفد نے ایسے مطالبات پیش کیے جنہیں ایران نے واضح طور پر مسترد کر دیا، جس کے بعد امریکی وفد بات چیت چھوڑ کر چلا گیا۔ غریب آبادی نے یہ بھی واضح کیا کہ آبنائے ہرمز کو بند رکھنے کی پالیسی برقرار ہے اور یہ بھی ایران کی باوقار سفارت کاری کی دوسری مثال ہے۔
یورپی ممالک کا کردار اور جوہری معاہدے کی بحالی
جوہری معاہدے (JCPOA) سے امریکا کی دستبرداری کے بعد، یورپی ممالک (جرمنی، فرانس، برطانیہ) نے اس معاہدے کو بچانے کی بھرپور کوشش کی۔ وہ ایران پر زور دیتے رہے کہ وہ معاہدے کی پاسداری کرے اور یورینیم افزودگی کی سطح کو محدود رکھے۔ یورپی یونین نے بھی جوہری معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی کرنے پر ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کی ہیں، جس کے تحت ایران کے مرکزی بینک اور دیگر ایرانی بینکوں کے اثاثے منجمد کر دیے گئے ہیں۔
2025 میں یورپی ممالک نے ایران سے جوہری مذاکرات بحال کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔ ان کا مؤقف تھا کہ ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، اور اسی وجہ سے وہ ایک پائیدار اور قابل تصدیق سفارتی حل کی تلاش میں ہیں۔ تاہم، ایران کا موقف یہ رہا ہے کہ یورپی ممالک نے امریکا کی جانب سے معاہدے سے دستبرداری اور پابندیوں کے بعد اس کے نقصانات کو کم کرنے میں خاطر خواہ کردار ادا نہیں کیا۔
ایران نے اسنیپ بیک میکانزم (snap-back mechanism) کے فعال ہونے کی صورت میں جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے سے دستبردار ہونے کی دھمکی بھی دی ہے، جو معاہدے کے کسی بھی دستخط کنندہ ملک کو یہ اختیار دیتا ہے کہ اگر اسے لگے کہ ایران معاہدے کی پاسداری نہیں کر رہا تو وہ اقوام متحدہ کی سابقہ پابندیاں دوبارہ نافذ کر سکتا ہے۔

| مذاکرات کے اہم نکات | امریکی موقف | ایرانی موقف |
|---|---|---|
| جوہری پروگرام | ایران جوہری ہتھیاروں کی صلاحیت مکمل طور پر ترک کرے۔ | یورینیم افزودگی کے حق کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا جائے۔ |
| پابندیاں | دباؤ برقرار رہے گا جب تک ایران شرائط نہیں مانتا۔ | تمام معاشی اور سیاسی پابندیاں فوری اور مکمل ختم کی جائیں۔ |
| علاقائی اثر و رسوخ | ایران خطے میں “دہشت گردی کی حمایت” اور “جارحانہ سرگرمیاں” بند کرے۔ | خطے سے تمام امریکی افواج کا مکمل انخلا ہو۔ |
| آبنائے ہرمز | تجارتی جہاز رانی کی آزادانہ آمدورفت یقینی بنائی جائے۔ | آبنائے ہرمز پر ایران کا کنٹرول برقرار رہے گا۔ |
| سفارت کاری | دباؤ کے بعد ایران مذاکرات پر مجبور ہے۔ | امریکا مذاکرات کو مطالبات مسلط کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ |
پاکستان اور قطر کی ثالثی کی کوششیں
امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے اور انہیں مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے پاکستان اور قطر جیسے ممالک نے اہم ثالثی کا کردار ادا کیا ہے۔ علاقائی حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ قطر اور پاکستان کی قیادت میں ثالثی کی کوششیں جاری ہیں تاکہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اختلافات کم کیے جا سکیں اور دونوں کو دوبارہ عبوری جنگ بندی معاہدے تک لایا جا سکے۔
پاکستانی حکام نے بتایا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان پیغامات کا فعال تبادلہ جاری ہے اور اس عمل میں پاکستان اور قطر ثالث کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر امیر سعید ایروانی نے بھی اعتراف کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان رابطے اور تبادلہ خیال کا سلسلہ جاری ہے، اور ایران اور امریکا پاکستان کے ذریعے اپنے خیالات اور تجاویز کا تبادلہ کر رہے ہیں تاکہ معاہدے کے حتمی متن پر اتفاق کیا جا سکے۔
اس سے قبل نیویارک ٹائمز نے بھی رپورٹ کیا تھا کہ قطر مزید کشیدگی کو روکنے اور مواصلاتی ذرائع کو کھلا رکھنے کی کوشش میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان ثالثی کر رہا ہے۔ یہ ثالثی کی کوششیں ایک ایسے وقت میں خاصی اہمیت کی حامل ہیں جب خطے میں فوجی تصادم کا خطرہ شدت اختیار کر چکا تھا۔ پاکستان کے لیے، جو مشرق وسطیٰ، جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا کے مفادات کے سنگم پر واقع ہے، اس کشیدگی میں کمی خطے میں استحکام کے لیے نہایت اہم ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات، اگرچہ مثبت پیشرفت کا اشارہ دے رہے ہیں، بہت سے چیلنجز سے دوچار ہیں۔ ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی کے مطابق، امریکا کی جانب سے “بے جا مطالبات” کے باعث مذاکرات تعطل کا شکار ہوئے ہیں۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے متعلق اس کے مطالبات پورے ہونے تک عارضی جنگ بندی کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ یہ مطالبات ایران کی سیکیورٹی، خودمختاری اور معاشی مفادات سے جڑے ہوئے ہیں جن پر وہ کوئی سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں۔
دوسری جانب، ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ ایران پر فوجی اور اقتصادی دباؤ جاری رکھا جائے گا تاکہ وہ سنجیدہ مذاکرات پر مجبور ہو۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر ایران سفارتی راستہ اختیار نہیں کرتا تو امریکا آئندہ کے اقدامات کے لیے بھی تیار ہے۔ اس صورتحال میں، دونوں فریقوں کے درمیان اعتماد کی بحالی اور مشترکہ بنیاد تلاش کرنا ایک بڑا چیلنج ہے۔ ماضی کے تلخ تجربات، جن میں جوہری معاہدے سے امریکا کی یکطرفہ دستبرداری شامل ہے، نے ایران کے اندر امریکی وعدوں پر سے اعتماد کو کمزور کیا ہے۔
اس کے باوجود، دونوں ممالک کے درمیان براہ راست رابطے اور ثالثی کی کوششیں ایک امید افزا پہلو ہیں۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ انہیں امید ہے کہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات سے کوئی مثبت پیش رفت سامنے آ سکتی ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ خطے میں ایک بڑی جنگ کے نتائج دونوں فریقوں اور عالمی معیشت کے لیے تباہ کن ہوں گے، یہی وجہ ہے کہ سفارت کاری کا راستہ اب بھی کھلا رکھا جا رہا ہے۔ علاقائی استحکام کے لیے ضروری ہے کہ ایک ایسا معاہدہ طے پائے جو دونوں فریقوں کے جائز خدشات کو دور کر سکے اور طویل مدتی امن کی ضمانت دے۔ اس تناظر میں، بین الاقوامی برادری اور خاص طور پر ڈان نیوز کی رپورٹس بھی اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ سفارت کاری ہی واحد قابل عمل راستہ ہے۔
نتیجہ
امریکا اور ایران کے درمیان مثبت مذاکرات کے حوالے سے صدر ٹرمپ کا بیان خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان ایک اہم پیشرفت ہے۔ یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ فوجی دباؤ کے ساتھ ساتھ سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں تاکہ ایک حل تلاش کیا جا سکے جو دونوں فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔ اگرچہ ایران نے امریکی تجاویز کو مسترد کر کے اپنی سخت گیر پوزیشن کا اظہار کیا ہے، لیکن بات چیت کا سلسلہ برقرار رہنا بذات خود ایک مثبت علامت ہے۔ پاکستان اور قطر جیسے ممالک کی ثالثی کی کوششیں بھی اس عمل میں کلیدی حیثیت رکھتی ہیں اور امید ہے کہ وہ دونوں فریقوں کو ایک مشترکہ بنیاد پر لانے میں کامیاب ہوں گی۔
مستقبل میں امریکی اور ایرانی تعلقات کا دارومدار اس بات پر ہوگا کہ دونوں فریق کس حد تک اپنے مطالبات میں لچک دکھاتے ہیں اور ماضی کی بداعتمادی کو ختم کر کے ایک پائیدار معاہدے کی طرف بڑھتے ہیں۔ عالمی سطح پر بھی اس بات پر اتفاق رائے ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے امریکا اور ایران کے درمیان تناؤ میں کمی ناگزیر ہے۔ اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو یہ نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک بڑی سفارتی کامیابی ہوگی۔ تاہم، چیلنجز بدستور موجود ہیں اور ان پر قابو پانے کے لیے مسلسل سفارتی کوششوں اور دونوں فریقوں کی جانب سے حقیقی سیاسی عزم کی ضرورت ہوگی۔


