مقبول خبریں

ایران جنگ نہیں چاہتا مگر دفاع کے لیے تیار ہے، باقر قالیباف

ایران جنگ نہیں چاہتا مگر دفاع کے لیے تیار ہے، یہ وہ واضح اور دو ٹوک موقف ہے جو ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے عالمی برادری کے سامنے رکھا ہے۔ حالیہ بیانات میں قالیباف نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ایران نے کبھی بھی جنگ کی خواہش نہیں رکھی، تاہم وہ ظلم، دباؤ یا کسی بھی قسم کی دھمکیوں کے سامنے ہرگز نہیں جھکے گا۔ یہ بیان ایران کی اس دیرینہ دفاعی حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے جو نہ صرف اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ پر مرکوز ہے بلکہ خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے سفارتی حل کو بھی ترجیح دیتی ہے۔

خطے کی موجودہ کشیدہ صورتحال اور عالمی طاقتوں کے ساتھ ایران کے تعلقات کے تناظر میں قالیباف کا یہ موقف انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دنیا کو یہ حقیقت سمجھ لینی چاہیے کہ ایران کے ہتھیار ڈالنے یا سرِ تسلیم خم کرنے سے تنازعات ختم نہیں ہوں گے۔ ایران کا یہ ماننا ہے کہ مؤثر مذاکرات صرف وہی فریق کر سکتا ہے جو اپنی دفاعی صلاحیت اور جنگ کی بھرپور تیاری رکھتا ہو۔ یہ فلسفہ ایران کی دفاعی پالیسی کی بنیاد ہے، جہاں طاقت کا توازن سفارتی کامیابی کے لیے ایک اہم عنصر سمجھا جاتا ہے۔

ایرانی قیادت کا یہ عزم کہ اگر امریکہ نے کسی بھی معاہدے کی خلاف ورزی کی تو ایران اپنے مکمل دفاع کے لیے ہمہ وقت تیار ہے، یہ ظاہر کرتا ہے کہ تہران اپنی قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں ہے۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان فوجی کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا ہے، اور دونوں ممالک ایک دوسرے پر جنگ بندی یا مفاہمتی فریم ورک کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔ یہ مضمون ایران کے اس دفاعی فلسفے، اس کی فوجی صلاحیتوں، سفارتی کوششوں اور علاقائی حرکیات کا تفصیلی جائزہ پیش کرے گا، جس کے تحت محمد باقر قالیباف کا یہ بیان سامنے آیا ہے۔

مقدمہ: ایران کا دفاعی فلسفہ اور علاقائی امن کی خواہش

ایران کا دفاعی فلسفہ صدیوں پر محیط ایک تاریخ رکھتا ہے، جہاں اس نے بیرونی مداخلتوں اور جارحیتوں کا مقابلہ کیا ہے۔ 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد، ایران کی خارجہ پالیسی میں ایک ڈرامائی تبدیلی آئی، جس میں غیر مسلم مغربی اثرات کو ختم کرتے ہوئے اسلامی انقلاب کو فروغ دینے پر زور دیا گیا۔ تاہم، وقت کے ساتھ ساتھ، یہ پالیسی عملیت پسندی کی طرف بھی مائل ہوئی، جس کا مقصد اقتصادی ترقی اور تعلقات کو معمول پر لانا تھا۔ ایران نے ہمیشہ “پیشگی دفاع” (Forward Defense) کی حکمت عملی اپنائی ہے، جس کا مطلب ہے خطرات کو اپنی سرحدوں سے دور رکھنا۔ یہ حکمت عملی خاص طور پر 2010 میں عرب اسپرنگ کے بعد واضح طور پر سامنے آئی، جب ایران نے شام پر اپنی توجہ مرکوز رکھی تاکہ خطرات کو اپنی سرحدوں سے دور رکھ سکے۔

ایرانی قیادت، بشمول پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف، مسلسل یہ واضح کرتی رہی ہے کہ ایران امن کا خواہاں ہے لیکن اپنی قومی خودمختاری اور مفادات کے دفاع کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ ان کا یہ موقف محض ایک سیاسی بیان نہیں بلکہ ایران کی گہری اسٹریٹجک سوچ کا حصہ ہے۔ ایران کا خطے میں موجود امریکی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ اور آبنائے ہرمز پر اپنی مضبوط پوزیشن بھی اسی دفاعی فلسفے کی عکاسی کرتی ہے، جہاں وہ کسی بھی جارحیت کی صورت میں بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ایران کے حکام نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ دنیا کے بیشتر ممالک جنگ کے خاتمے اور سفارتی حل کو ترجیح دیتے ہیں، لیکن پائیدار امن باہمی احترام اور کیے گئے وعدوں کی پاسداری سے ہی ممکن ہے۔ یہ ایک ایسا نکتہ ہے جو ایران کے سفارتی نقطہ نظر کی بنیاد بناتا ہے، جہاں وہ مذاکرات کو سفارتی حل کا ذریعہ سمجھتا ہے لیکن یہ عمل دھمکی، دباؤ یا طاقت کے استعمال کے سائے میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔ ایران کا یہ موقف خطے میں امن اور استحکام کے لیے اس کے عزم کو ظاہر کرتا ہے، لیکن یہ بھی واضح کرتا ہے کہ وہ کسی بھی قیمت پر اپنی سلامتی پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

محمد باقر قالیباف کے بیانات کی اہمیت

محمد باقر قالیباف، جو ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اہم سیاسی اور عسکری شخصیت بھی ہیں، کے بیانات کو ایران کی پالیسی کا ایک اہم اشارہ سمجھا جاتا ہے۔ ان کے حالیہ بیانات میں یہ نکتہ نمایاں رہا ہے کہ “ایران نے کبھی جنگ کا خیرمقدم نہیں کیا اور نہ اب کرتا ہے، لیکن ہمیں جنگ کے لیے ہمیشہ تیار رہنا چاہیے اور اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے آخری سانس تک ڈٹ جانا چاہیے”۔ یہ بیان اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ ایران اپنی بقا کے لیے ہر ممکن اقدام کرنے کو تیار ہے۔

قالیباف نے امریکی نائب صدر کے ساتھ مذاکرات کے دوران بھی واضح طور پر کہا تھا کہ ایران کو امریکہ پر بالکل اعتماد نہیں ہے۔ یہ اعتماد کا فقدان ایران کے امریکہ کے ساتھ تعلقات میں ایک بنیادی عنصر رہا ہے، خاص طور پر 2015 کے جوہری معاہدے (JCPOA) سے امریکہ کی علیحدگی اور اس کے بعد کی پابندیوں کے بعد۔ قالیباف کا یہ کہنا کہ “دنیا کو یہ حقیقت سمجھ لینی چاہیے کہ ایران کے ہتھیار ڈالنے یا سرِ تسلیم خم کرنے سے تنازعات ختم نہیں ہوں گے”، عالمی برادری کو ایک واضح پیغام ہے کہ ایران کسی دباؤ میں نہیں آئے گا۔

ان کے بیانات میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ “امریکہ کے ساتھ مؤثر مذاکرات صرف وہی فریق کر سکتا ہے جو اپنی دفاعی صلاحیت اور جنگ کی بھرپور تیاری رکھتا ہو”۔ یہ نہ صرف ایران کی دفاعی طاقت میں اعتماد کا اظہار ہے بلکہ یہ بھی واضح کرتا ہے کہ تہران مذاکرات کی میز پر کمزور پوزیشن میں نہیں بیٹھنا چاہتا۔ حالیہ کشیدگی کے تناظر میں، جہاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملوں کی دھمکی دی تھی، قالیباف کے بیانات کو واشنگٹن کو یہ پیغام دینے کے طور پر دیکھا گیا ہے کہ ایران سفارت کاری کے دروازے بند نہیں کر رہا، لیکن مذاکرات کا مطلب یہ نہیں کہ تہران امریکی دباؤ کے آگے جھک جائے گا۔ ان بیانات کا مقصد نہ صرف اندرونی طور پر عوام کا حوصلہ بڑھانا ہے بلکہ بیرونی دنیا کو بھی ایران کے عزم سے آگاہ کرنا ہے۔

ایران کی دفاعی صلاحیتیں اور حکمت عملی

ایران کی دفاعی صلاحیتیں ایک اہم عنصر ہیں جو اس کے “جنگ نہیں چاہتے مگر دفاع کے لیے تیار ہیں” کے موقف کی حمایت کرتی ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں ایران کی فوجی طاقت کو تیسرے نمبر پر شمار کیا جاتا ہے، جس کی بنیادی وجہ اس کی بڑی افرادی قوت اور میزائل پروگرام ہے۔ ایران کے پاس تقریباً 6 لاکھ 10 ہزار فعال فوجی اہلکار ہیں، اور ساڑھے 3 لاکھ کے قریب ریزرو اہلکار بھی موجود ہیں، جو اسے خطے کی سب سے بڑی افواج میں سے ایک بناتے ہیں۔

ایران کی فوجی طاقت کا مرکزی جزو اس کا میزائل پروگرام ہے۔ امریکی محکمہ دفاع کی رپورٹ کے مطابق، ایران کی میزائل قوت مشرق وسطیٰ میں سب سے بڑی ہے، جو بنیادی طور پر مختصر اور درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں پر مشتمل ہے۔ ایران نے مقامی طور پر تیار کردہ میزائلوں جیسے خیبر شکن اور فتاح کی صلاحیتوں میں نمایاں بہتری لائی ہے، جن کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ وہ ہائپرسونک صلاحیت رکھتے ہیں اور 2 ہزار کلومیٹر تک کی رینج رکھتے ہیں۔ یہ صلاحیت اسے اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کی اہلیت فراہم کرتی ہے۔

فضائی قوت کے لحاظ سے، اگرچہ ایران کے پاس زیادہ تر پرانے طیارے ہیں جو سرد جنگ کے دور سے تعلق رکھتے ہیں، اس نے اس کمزوری کو اپنے ڈرون پروگرام کے ذریعے پورا کرنے کی کوشش کی ہے۔ شاہد اور مہاجر ڈرونز اپنی کم لاگت اور مہلک صلاحیت کے باعث عالمی سطح پر پہچانے جاتے ہیں۔ ایران کے پاس ہزاروں کی تعداد میں ڈرونز موجود ہیں جو اہداف کی طرف اڑنے اور پھٹنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔

ایران کی دفاعی حکمت عملی میں ایک اور اہم پہلو اس کا فضائی دفاعی نظام ہے۔ تہران نے 2016 میں روس سے S-300 طیارہ شکن نظام حاصل کیا اور مقامی طور پر صیاد، رعد، اور پاور 373 جیسے زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل سسٹم بھی تیار کیے ہیں۔ حالیہ جنگوں کے بعد، ایرانی وزارت دفاع نے اپنی دفاعی ٹیکنالوجی، میزائل اور ڈرون کی پیداواری صلاحیت میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔

ایران کی یہ فوجی تیاریاں اور دفاعی حکمت عملی اسے کسی بھی ممکنہ بیرونی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کی پوزیشن میں رکھتی ہیں۔ یہ بات واضح ہے کہ ایران اپنی بقا اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مسلسل مضبوط بنا رہا ہے۔

دفاعی شعبہکل تعداد / صلاحیتنمایاں خصوصیات
فعال فوجی اہلکارتقریباً 6 لاکھ 10 ہزارخطے کی سب سے بڑی افواج میں سے ایک
ریزرو اہلکارتقریباً 3 لاکھ 50 ہزارفوجی نفری کو مزید تقویت دیتے ہیں
لڑاکا طیارے113 سے 186 (بشمول پرانے امریکی/روسی ماڈلز)ڈرون پروگرام کے ذریعے فضائی کمزوری کو پورا کیا جاتا ہے
ڈرونزہزاروں کی تعداد میںشاہد اور مہاجر ڈرونز (کم لاگت، مہلک صلاحیت)
ٹینک1700 سے 1900مقامی کرار ٹینک اور اپ گریڈ شدہ ٹی-72
بکتر بند گاڑیاں65 ہزار سے زائدزمینی نقل و حرکت میں برتری
بیلسٹک میزائلمشرق وسطیٰ کا سب سے بڑا ذخیرہخیبر شکن، فتاح (ہائپرسونک صلاحیت، 2000 کلومیٹر رینج)
فضائی دفاعی نظامS-300، صیاد، رعد، پاور 373جدید ترین طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل سسٹم

ایران کا جوہری پروگرام اور بین الاقوامی تشویش

ایران کا جوہری پروگرام کئی دہائیوں سے بین الاقوامی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے اور محمد باقر قالیباف کے دفاعی بیانات کے تناظر میں اسے سمجھنا ضروری ہے۔ ایران کا جوہری پروگرام 1950 کی دہائی میں امریکہ کے تعاون سے شروع ہوا تھا، لیکن 1979 کے انقلاب کے بعد اسے خفیہ طور پر دوبارہ شروع کیا گیا۔ اگرچہ ایران مسلسل یہ دعویٰ کرتا رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے، تجزیہ نگاروں اور بین الاقوامی ایجنسیوں نے ان دعووں کو مسترد کیا ہے۔

حالیہ برسوں میں، ایران کی جانب سے یورینیم کی افزودگی اور اس کے ذخیرے میں اضافہ بین الاقوامی تشویش کا باعث بنا ہے۔ جون 2025 میں عالمی ادارہ برائے جوہری توانائی (IAEA) نے ایران کو 20 سال بعد پہلی بار جوہری وعدوں کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیا۔ ایران نے اس کے جواب میں ایک نیا افزودگی مرکز قائم کیا اور جدید سینٹری فیوج مشینیں نصب کیں، جس سے اس کی جوہری پیش رفت میں تیزی آئی۔ ماہرین کا خبردار ہے کہ ایران ایک ہفتے میں اتنی افزودہ یورینیم پیدا کر سکتا ہے جو ایک جوہری بم کے لیے کافی ہو اور ایک ماہ میں سات بموں کے لیے، جس سے اس کا بریک آؤٹ ٹائم خطرناک حد تک کم ہو گیا ہے۔

امریکی حکومت نے واضح کیا ہے کہ ایران کے ساتھ کسی بھی وسیع تر معاہدے یا تعلقات میں پیش رفت کا انحصار ایک قابل قبول جوہری معاہدے پر ہوگا۔ امریکہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے لیے زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالتا رہے گا، اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے مذاکرات کاروں کو ہدایت دی ہے کہ بات چیت جاری رکھی جائے لیکن بنیادی شرط یہی رہے گی کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کے بارے میں ایسا معاہدہ کرے جو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے قابل قبول ہو۔

دوسری جانب، ایران کا موقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے اور وہ ایسے معاہدے کو قبول نہیں کرے گا جو اس کے قانونی حقوق یا خودمختاری کو متاثر کرے۔ تہران کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ کسی بھی نئے معاہدے کے ساتھ اقتصادی پابندیوں میں مؤثر نرمی اور ضمانتیں فراہم کی جائیں۔ یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ جوہری پروگرام ایران کی دفاعی حکمت عملی کا ایک حساس حصہ ہے، اور اس پر بین الاقوامی دباؤ کے باوجود، ایران اپنے موقف پر قائم ہے۔ اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے کے سربراہ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ 2015 کا جوہری معاہدہ کسی نئے معاہدے کی بنیاد نہیں بن سکتا اور اب کسی مختلف راستے پر غور کرنا ہوگا کیونکہ ایرانی جوہری پروگرام میں بہت زیادہ تبدیلی آ چکی ہے۔

علاقائی حرکیات اور ایران کا سفارتی موقف

مشرق وسطیٰ کی پیچیدہ علاقائی حرکیات میں ایران کا کردار کئی دہائیوں سے نمایاں رہا ہے۔ ایران کی خارجہ پالیسی نہ صرف اپنی قومی سلامتی بلکہ علاقائی استحکام کو بھی مدنظر رکھتی ہے۔ محمد باقر قالیباف کے بیانات، جن میں جنگ سے اجتناب اور دفاع پر زور دیا گیا ہے، اسی وسیع تر سفارتی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ ایران اپنے پڑوسی ممالک اور عالمی طاقتوں کے ساتھ تعلقات کو متوازن رکھنے کی کوشش کرتا ہے، لیکن اس کی خارجہ پالیسی میں خودمختاری اور قومی مفادات کا تحفظ ہمیشہ اولین ترجیح رہا ہے۔

ایران نے ہمیشہ مذاکرات کو سفارتی حل کا ذریعہ سمجھا ہے، لیکن یہ بھی واضح کیا ہے کہ یہ عمل دھمکیوں، دباؤ یا طاقت کے استعمال کے سائے میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔ حال ہی میں، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے آبنائے ہرمز سے متعلق امور پر بات چیت کے لیے عمان کا دورہ کیا۔ یہ دورہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ایران علاقائی شراکت داروں کے ساتھ سفارتی روابط برقرار رکھنے اور کشیدگی کو کم کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ جون کے وسط میں ایران اور امریکہ نے پاکستان کی ثالثی میں مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تھے جس کا مقصد فوجی تنازعات کو ختم کرنا اور دیرپا امن معاہدے تک پہنچنا تھا۔ تاہم، آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد کشیدگی میں اضافہ ہوا اور دونوں فریقوں نے حملوں کا تبادلہ کیا۔

ایران کی یہ دھمکی کہ جو بھی ملک، فوجی اڈہ یا تنصیب ایران پر حملوں میں امریکہ کو کسی بھی قسم کی فوجی، لاجسٹک یا آپریشنل معاونت فراہم کرے گی، اسے ایرانی افواج کی جانب سے “جائز ہدف” تصور کیا جائے گا، علاقائی ممالک کے لیے ایک سخت پیغام ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ایران اپنی سلامتی کے معاملے میں کسی بھی سمجھوتہ پر تیار نہیں ہے۔ ایران، خاص طور پر پاسداران انقلاب، نے قطر، عمان، اردن، متحدہ عرب امارات، بحرین اور کویت میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔ یہ اقدامات ایران کے دفاعی عزم اور جارحیت کی صورت میں بھرپور جواب دینے کی صلاحیت کو ظاہر کرتے ہیں۔

پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات کو ایران کی خارجہ پالیسی کا اہم جزو قرار دیا گیا ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے وزیراعظم شہباز شریف کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ پاکستان ہمارا دوسرا گھر ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات مشترکہ ثقافت اور مذہب پر مبنی ہیں۔ یہ تعلقات علاقائی امن و استحکام کے لیے اہم ہیں اور ایران کی سفارتی کوششوں کا ایک حصہ ہیں۔

مذاکرات اور اعتماد کا فقدان

محمد باقر قالیباف کے بیانات میں “مذاکرات کا مطلب سمجھوتہ نہیں ہے” کا نکتہ ایران کی سفارتی حکمت عملی کا ایک کلیدی حصہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ “مذاکرات یا جنگ میں سے کسی ایک کو واحد حل کے طور پر چننا ایک سٹریٹجک غلطی ہوگی”۔ یہ موقف ظاہر کرتا ہے کہ ایران بیک وقت دفاعی تیاریوں اور سفارتی کوششوں کو جاری رکھنے میں یقین رکھتا ہے۔

ایران اور امریکہ کے درمیان اعتماد کا فقدان ایک دیرینہ مسئلہ رہا ہے۔ قالیباف نے واضح کیا تھا کہ مذاکرات کے دوران امریکی نائب صدر کو بتا دیا گیا تھا کہ ایران کو امریکہ پر بالکل اعتماد نہیں۔ یہ عدم اعتماد امریکہ کی جانب سے جوہری معاہدے سے یکطرفہ علیحدگی اور اس کے بعد کی پابندیوں کے نتیجے میں مزید گہرا ہوا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ امریکہ نے گزشتہ ماہ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کی ہے، جس کی وجہ سے کشیدگی میں اضافہ ہوا۔

ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے زور دیا کہ مؤثر مذاکرات وہی فریق کر سکتا ہے جو اپنی دفاعی صلاحیت برقرار رکھتا ہو اور ممکنہ خطرات کا مقابلہ کرنے کی تیاری رکھتا ہو۔ یہ بیان اس بات کی تائید کرتا ہے کہ ایران مذاکرات کی میز پر اپنی طاقت اور عزم کو ظاہر کرنا چاہتا ہے، نہ کہ کمزوری کو۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر امریکہ نے کسی معاہدے کی خلاف ورزی کی تو ایران اپنے مکمل دفاع کے لیے تیار ہے۔ یہ دھمکی آمیز بیانات، جیسے کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کے پاور پلانٹس اور پلوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی، ایران کو اپنے دفاعی موقف پر مزید مضبوطی سے قائم رہنے پر مجبور کرتے ہیں۔

ایران کا یہ موقف کہ وہ “مقاومت اور قومی مفادات کے تحفظ کی سٹریٹجی کا ایک حصہ” کے طور پر مذاکرات کو استعمال کرتا ہے، عالمی برادری کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ تہران اپنے حقوق پر کوئی سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں، خاص طور پر امریکی دباؤ یا دھمکیوں کے تحت۔ یہ پیچیدہ صورتحال دونوں ممالک کے درمیان طویل مدتی حل کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے، جس کے لیے باہمی احترام اور اعتماد کی بحالی ضروری ہے، جیسا کہ قالیباف نے بھی نشاندہی کی تھی۔

نتیجہ

ایران کا یہ موقف کہ “جنگ نہیں چاہتا مگر دفاع کے لیے تیار ہے” محمد باقر قالیباف کے حالیہ بیانات کا مرکزی نکتہ ہے، جو ایران کی جامع دفاعی حکمت عملی اور خارجہ پالیسی کا عکاس ہے۔ تہران کی قیادت جنگ سے اجتناب کو ترجیح دیتی ہے، لیکن اپنی قومی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور مفادات کے تحفظ کے لیے کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ایران کی فوجی طاقت، خاص طور پر اس کا میزائل اور ڈرون پروگرام، اور اس کی مضبوط دفاعی حکمت عملی، اسے خطے میں ایک مضبوط کھلاڑی بناتی ہے۔

جوہری پروگرام کے حوالے سے بین الاقوامی خدشات کے باوجود، ایران اپنے پرامن مقاصد پر زور دیتا ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی یورینیم کی افزودگی میں اضافہ اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال عالمی طاقتوں کے لیے ایک چیلنج ہے۔ ایران کا یہ موقف کہ مؤثر مذاکرات وہی فریق کر سکتا ہے جو دفاعی طور پر مضبوط ہو، اس کے امریکہ کے ساتھ تعلقات میں عدم اعتماد اور معاہدوں کی پاسداری پر اس کے خدشات کو ظاہر کرتا ہے۔

علاقائی سطح پر، ایران اپنے پڑوسیوں کے ساتھ سفارتی روابط کو برقرار رکھنے کی کوشش کرتا ہے، لیکن کسی بھی فوجی یا لاجسٹک معاونت کو جو ایران کے خلاف استعمال ہو، اسے جائز ہدف سمجھنے کا انتباہ بھی جاری کرتا ہے۔ یہ پیچیدہ صورتحال مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے ایک مستقل چیلنج ہے، جس کے لیے تمام فریقین کو باہمی احترام اور اعتماد کی فضا قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ ایران کا یہ دو ٹوک موقف نہ صرف اس کے اندرونی عزم کی عکاسی کرتا ہے بلکہ عالمی برادری کو بھی یہ پیغام دیتا ہے کہ وہ اپنی بقا اور قومی وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ یہ حقیقت ہے کہ ایران جنگ نہیں چاہتا، لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بھی ایک غیر متزلزل حقیقت ہے کہ وہ اپنے دفاع کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔