مقبول خبریں

ڈیجیٹل کرنسی کے استعمال پر مفتی تقی عثمانی کا اہم فتویٰ سامنے آ گیا

ڈیجیٹل کرنسی کے استعمال پر مفتی تقی عثمانی کا اہم فتویٰ سامنے آ گیا ہے، جس نے اسلامی مالیاتی دنیا میں ایک نئی بحث کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ فتویٰ، جو جامعہ دارالعلوم کراچی کے دیگر جید علماء کرام کے دستخطوں کے ساتھ جاری کیا گیا ہے، کرپٹو کرنسیوں کی خرید و فروخت کو اسلامی شریعت کی رو سے ناجائز (حرام) قرار دیتا ہے۔ اس فیصلے سے پاکستان سمیت دنیا بھر کے مسلمانوں میں ڈیجیٹل اثاثوں میں سرمایہ کاری کے حوالے سے ایک واضح شرعی رہنمائی میسر آ گئی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب عالمی سطح پر ڈیجیٹل کرنسیوں کا استعمال بڑھتا جا رہا ہے۔ یہ فتویٰ اسلامی فقہ کے گہرے مطالعے اور جدید مالیاتی نظام کے تجزیے کا نتیجہ ہے، اور یہ ان افراد کے لیے ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے جو اپنی مالی سرگرمیوں کو اسلامی اصولوں کے مطابق ڈھالنا چاہتے ہیں۔

مفتی تقی عثمانی کا تاریخی فتویٰ اور اس کی اہمیت

عالمی شہرت یافتہ اسلامی اسکالر اور وفاق المدارس العربیہ کے صدر، مفتی محمد تقی عثمانی نے کرپٹو کرنسی کی شرعی حیثیت پر ایک جامع فتویٰ جاری کیا ہے، جس کے مطابق ڈیجیٹل کرنسیوں کی خرید و فروخت اسلامی شریعت کی رو سے ناجائز ہے۔ یہ فتویٰ جامعہ دارالعلوم کراچی کے زیر نگرانی دیگر معروف علماء کرام کی تائید اور دستخطوں کے ساتھ 9 اور 10 جولائی 2026 کو سامنے آیا ہے۔ اس فتوے کی اشاعت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب دنیا بھر میں ڈیجیٹل کرنسیوں کا چلن عام ہو رہا ہے اور لوگ ان میں سرمایہ کاری کے حوالے سے شرعی رہنمائی کے متلاشی تھے۔ اس سے قبل بھی کئی اسلامی ادارے اور علماء انفرادی طور پر اس مسئلے پر آراء دے چکے تھے، تاہم مفتی تقی عثمانی جیسے جید عالم دین کا یہ واضح اور جامع فتویٰ اس مسئلے پر ایک حتمی نقطہ نظر فراہم کرتا ہے۔

اس فتوے کی اہمیت اس بات میں پنہاں ہے کہ یہ اسلامی فقہ کے گہرے اصولوں پر مبنی ہے اور ڈیجیٹل کرنسی کی پیچیدہ نوعیت کو مکمل طور پر سمجھنے کے بعد جاری کیا گیا ہے۔ مفتی صاحب نے واضح کیا کہ ماہرین کی تحقیق کے مطابق، کرپٹو کرنسیاں مال یا جائیداد کی اسلامی تعریف پر پوری نہیں اترتیں۔ یہ فتویٰ نہ صرف عام مسلمانوں کے لیے بلکہ اسلامی مالیاتی اداروں اور علماء کے لیے بھی ایک گائیڈ لائن کا کام کرے گا جو ڈیجیٹل اثاثوں کے شرعی جواز پر غور کر رہے ہیں۔ اس فیصلے کا مقصد مالیاتی معاملات میں شرعی اصولوں کی پاسداری کو یقینی بنانا اور غیر یقینی یا ناجائز صورتحال سے بچنا ہے۔

کرپٹو کرنسی کو “مال” نہ ماننے کی شرعی وجوہات

مفتی تقی عثمانی کے فتوے کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ کرپٹو کرنسیوں کو اسلامی شریعت کی رو سے “مال” یا “جائیداد” کی تعریف میں شامل نہیں کیا جا سکتا۔ اسلامی فقہ میں “مال” اس چیز کو کہتے ہیں جس کی طرف طبعی میلان ہو اور جسے ضرورت کے وقت کے لیے ذخیرہ کیا جا سکے، نیز اس میں ملکیت کا تصور پایا جاتا ہو۔ اس کے علاوہ، مالیت کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ لوگ اسے عام طور پر یا جزوی طور پر مالی حیثیت دیں۔ “تقوّم” (قابل قدر ہونا) کے لیے مالیت کے ساتھ شرعی طور پر نفع اٹھانے کی اباحت بھی ضروری ہے۔

مفتی صاحب اور دیگر علماء نے ماہرین کی تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ کرپٹو کرنسیاں کوئی مادی یا حقیقی اثاثہ نہیں ہیں، بلکہ یہ محض کھاتے میں فرضی نمبروں کا اندراج ہیں۔ ان میں حقیقی کرنسی کے بنیادی اوصاف اور شرائط موجود نہیں ہیں۔ روایتی کرنسیوں کے برعکس، جن کی پشت پر ریاست یا مرکزی بینک کی ضمانت ہوتی ہے اور ان کی ایک محسوس شکل ہوتی ہے، ڈیجیٹل کرنسیوں کی کوئی حسی صورت نہیں ہوتی اور نہ ہی ان کے پیچھے کوئی حکومتی یا مالیاتی نظام کی مضبوط پشت پناہی ہوتی ہے۔ یہ بنیادی فرق انہیں اسلامی شریعت میں مال کی تعریف سے خارج کرتا ہے۔ اس کے علاوہ، ان کرنسیوں میں ‘قبضہ’ بھی متحقق نہیں ہوتا، جو کہ اسلامی بیع (خرید و فروخت) کے لیے ایک لازمی شرط ہے۔ یہ ڈیجیٹل اثاثے انتہائی غیر مستحکم بھی ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے ان میں “غرر” (غیر یقینی) کا عنصر بہت زیادہ پایا جاتا ہے، جو اسلامی لین دین میں ناجائز قرار دیا گیا ہے। بعض علماء نے تو اسے فاریکس ٹریڈنگ کی طرح سود اور جوئے کی ایک شکل بھی قرار دیا ہے۔

تاحیات کسی کو عدالتی کارروائی سے تحفظ دینا شریعت اور آئین کی روح کیخلاف ہے: مفتی

فتاویٰ کا دائرہ کار: بٹ کوائن سے اسٹیبل کوائنز تک

اس فتوے کی ایک اہم خصوصیت اس کا وسیع دائرہ کار ہے۔ یہ حکم صرف معروف کرپٹو کرنسیوں جیسے بٹ کوائن (Bitcoin) اور ایتھیریم (Ethereum) تک محدود نہیں ہے۔ بلکہ اس میں بلاک چین پر مبنی تمام ٹوکنز (Tokens) اور اسٹیبل کوائنز (Stablecoins)، مثلاً یو ایس ڈی ٹی (USDT) بھی شامل ہیں۔ فتوے میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ کسی بھی ڈیجیٹل اثاثے کا نام تبدیل کر دینے یا اسے نئے عنوان سے پیش کرنے سے اس کی شرعی حیثیت تبدیل نہیں ہوتی۔ چاہے وہ ورچوئل کرنسی، کرپٹو ٹوکن یا اسٹیبل کوائن کہلائے، یہ تمام ڈیجیٹل اثاثے ایک ہی زمرے میں آتے ہیں اور ان پر ایک ہی شرعی حکم لاگو ہوتا ہے۔

علماء کا مؤقف ہے کہ ان ڈیجیٹل اثاثوں کی بنیادی نوعیت ایک ہی ہے، جو انہیں “مال” کی شرعی تعریف سے باہر رکھتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ڈیجیٹل دنیا میں ایجاد ہونے والی کوئی بھی ایسی کرنسی جو مذکورہ شرعی معیار پر پورا نہیں اترتی، اس کی خرید و فروخت جائز نہیں ہو گی۔ یہ وضاحت اس لیے ضروری تھی کیونکہ ڈیجیٹل اثاثوں کی دنیا میں نت نئے نام اور اقسام مسلسل سامنے آ رہی ہیں، اور بعض لوگ یہ گمان کر سکتے ہیں کہ مختلف ناموں والی کرنسیاں شاید شرعی طور پر مختلف حیثیت رکھتی ہوں۔ اس فتوے نے اس ابہام کو دور کر دیا ہے۔

اسلامی مالیاتی اصولوں کے تناظر میں ڈیجیٹل کرنسی

اسلامی مالیات کے بنیادی اصولوں میں شفافیت، انصاف، اور غرر (غیر یقینی) سے اجتناب شامل ہے۔ کوئی بھی مالیاتی لین دین اس وقت تک جائز نہیں ہوتا جب تک اس میں یہ بنیادی اصول موجود نہ ہوں۔ ڈیجیٹل کرنسیوں کے معاملے میں کئی ایسے خدشات پائے جاتے ہیں جو ان اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔

  1. غرر اور جہالت: ڈیجیٹل کرنسیوں کی قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ (Volatility) ہوتا ہے، جس میں سرمایہ کار کو شدید نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس غیر یقینی صورتحال کو “غرر” کہا جاتا ہے، جو اسلامی شریعت میں ممنوع ہے۔ نیز، ان کی قدر کا تعین کسی ٹھوس بنیاد پر نہیں ہوتا، جس سے جہالت پیدا ہوتی ہے۔
  2. مالیت کا فقدان: جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا، ڈیجیٹل کرنسیاں مال کی شرعی تعریف پر پورا نہیں اترتیں۔ یہ کوئی مادی اثاثہ نہیں ہیں، نہ ہی ان کی کوئی اندرونی قدر ہے اور نہ ہی یہ کسی ٹھوس چیز کی نمائندگی کرتی ہیں۔ یہ محض فرضی نمبروں کا اندراج ہیں۔
  3. قبضہ کی عدم موجودگی: اسلامی فقہ میں خرید و فروخت کے لیے ‘قبضہ’ ایک اہم شرط ہے۔ ڈیجیٹل کرنسیوں کے معاملے میں حقیقی قبضہ ممکن نہیں ہوتا، بلکہ صرف اکاؤنٹ میں اندراجات تبدیل ہوتے ہیں۔
  4. ربا اور جوا: بعض علماء نے ڈیجیٹل کرنسی کی تجارت کو فاریکس ٹریڈنگ کی طرح سود اور جوئے کی ایک شکل قرار دیا ہے۔ یہ لین دین اکثر قیاس آرائیوں (speculation) پر مبنی ہوتے ہیں جہاں ایک فریق کا فائدہ دوسرے کے نقصان پر منحصر ہوتا ہے، جو جوئے کی تعریف میں آتا ہے۔
  5. مرکزی اتھارٹی کا فقدان: روایتی کرنسیوں کے برعکس، کرپٹو کرنسیوں کو کسی مرکزی بینک یا حکومت کی حمایت حاصل نہیں ہوتی۔ اس سے ان کے استحکام اور قانونی حیثیت کے حوالے سے سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ اسلامی مالیاتی نظام میں کرنسی کو ایک بااعتماد اتھارٹی کی پشت پناہی حاصل ہونی چاہیے تاکہ اس کی قدر میں استحکام ہو اور دھوکہ دہی سے بچا جا سکے।

ان تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے، مفتی تقی عثمانی اور دیگر علماء نے یہ فتویٰ جاری کیا ہے کہ ڈیجیٹل کرنسیوں کی خرید و فروخت جائز نہیں۔

پہلوروایتی (فیٹ) کرنسیڈیجیٹل (کرپٹو) کرنسی
شرعی مالیتشریعت میں مال کی تعریف پر پوری اترتی ہےشریعت میں مال کی تعریف پر پوری نہیں اترتی
حسی وجودکاغذی نوٹوں یا دھاتی سکوں کی صورت میں حسی وجود رکھتی ہےکوئی حسی وجود نہیں، محض ڈیجیٹل ریکارڈ
پشت پناہی / ضمانتمرکزی بینک یا حکومت کی ضمانت حاصل ہوتی ہےکسی مرکزی اتھارٹی کی ضمانت حاصل نہیں
قبضہحقیقی اور شرعی قبضہ متحقق ہوتا ہےحقیقی قبضہ متحقق نہیں ہوتا، محض اکاؤنٹ میں اندراج
استحکام قیمتنسبتاً مستحکم، حکومت کی پالیسیوں سے متاثرانتہائی غیر مستحکم، قیاس آرائیوں کا شکار
غرر (غیر یقینی)کم غرر، قیمتوں میں شفافیتزیادہ غرر، قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ

دیگر معروف اسلامی اداروں اور علماء کی آراء

مفتی تقی عثمانی کا فتویٰ درحقیقت ایک وسیع تر اتفاق رائے کی عکاسی کرتا ہے جو اسلامی دنیا کے کئی معروف علماء اور اداروں میں پایا جاتا ہے۔ جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن، کراچی کے دارالافتاء سے بھی ڈیجیٹل کرنسی کے حوالے سے فتاویٰ جاری کیے گئے ہیں۔ ان فتاویٰ میں بھی بٹ کوائن اور دیگر ڈیجیٹل کرنسیوں کو محض فرضی کرنسی قرار دیا گیا ہے اور ان کی خرید و فروخت کو حلال اور جائز نہیں سمجھا جاتا۔ بنوری ٹاؤن کے علماء نے بھی یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان میں حقیقی کرنسی کے بنیادی اوصاف موجود نہیں ہیں، کوئی مادی چیز نہیں ہوتی، اور ان میں قبضہ بھی متحقق نہیں ہوتا۔ ان کے مطابق، یہ فاریکس ٹریڈنگ کی طرح سود اور جوئے کی ایک شکل ہے۔

اسی طرح، کچھ عرصے قبل ‘المرکز الاسلامی’ نے بھی ایک فتویٰ جاری کیا تھا جس میں کرپٹو کرنسی کو جائز قرار دیا گیا تھا، تاہم بعد میں کچھ نئی جہتیں سامنے آنے کے بعد اسے زیر تحقیق اور زیر توقف رکھا گیا۔ یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ڈیجیٹل کرنسی کا مسئلہ کافی پیچیدہ ہے اور اس پر تحقیق و غور و خوض کا عمل جاری ہے، لیکن جید علماء کی اکثریت اس کے موجودہ ڈھانچے کو اسلامی شریعت کے مطابق نہیں پا رہی ہے۔ مراجع کرام کی آراء بھی مختلف ہیں، تاہم زیادہ تر احتیاط کا مشورہ دیتے ہیں اور اس بات پر زور دیتے ہیں کہ جب تک کرپٹو کرنسی کی قانونی اور شرعی حیثیت واضح نہ ہو، اس کا استعمال احتیاط کے ساتھ کیا جائے۔

پاکستان میں ڈیجیٹل کرنسی کا مستقبل اور فتوے کے ممکنہ اثرات

مفتی تقی عثمانی کا یہ فتویٰ پاکستان میں ڈیجیٹل کرنسی کے مستقبل اور اس کے حوالے سے عوامی رویوں پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ اگرچہ یہ ایک مذہبی و شرعی رائے ہے اور اسے ریاستی قانون کی حیثیت حاصل نہیں، تاہم پاکستان کی اکثریت آبادی کے لیے مفتی تقی عثمانی جیسے علماء کی شرعی رہنمائی انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔ اس فتوے کے بعد بہت سے مسلمان ڈیجیٹل کرنسی میں سرمایہ کاری اور تجارت سے گریز کریں گے، جس سے ملک میں کرپٹو مارکیٹ پر ایک نمایاں اثر پڑ سکتا ہے۔

حکومتِ پاکستان نے بھی ڈیجیٹل اثاثوں کے حوالے سے اقدامات کیے ہیں اور نیشنل کرپٹو کونسل کے قیام پر غور کر رہی ہے تاکہ مالیاتی جرائم اور غیر قانونی سرگرمیوں سے تحفظ کے لیے جامع فریم ورک تیار کیا جا سکے۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ ڈیجیٹل اثاثہ جاتی ماحولیاتی نظام کی محفوظ، مستحکم اور پائیدار ترقی کو یقینی بنایا جائے۔ تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل کرنسیز میں سب سے بڑا مسئلہ اسے ریگولرائز کرنے سے متعلق ہے، کیونکہ یہ مالیاتی معاملات کا ایک نیا رجحان ہے اور کافی غیر مستحکم ہے۔

پاکستان میں کرپٹو کرنسی کو ریگولیٹ کرنے اور قوانین بنانے میں فرق ہے، اور اصل مسئلہ قوانین پر عمل درآمد نہ ہونا ہے۔ اگرچہ ڈیجیٹل کرنسی کو مستقبل کی کرنسی کہا جاتا ہے اور بعض ماہرین پاکستان کے موجودہ معاشی مسائل کے حل کے لیے اس میں حکومتی مداخلت اور باقاعدہ ٹریڈنگ پلیٹ فارمز کے قیام کا مشورہ دیتے ہیں، لیکن شرعی نقطہ نظر سے اس کے جواز پر اب تک سوالات موجود ہیں۔ یہ فتویٰ صارفین کو ایک اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری کا احساس دلائے گا اور ممکنہ طور پر انہیں ایسے مالیاتی آلات سے دور رہنے کی ترغیب دے گا جو شرعی اصولوں کے خلاف ہیں۔ حکومت کے لیے بھی یہ ایک چیلنج ہوگا کہ وہ جدید مالیاتی رجحانات کو اسلامی تعلیمات کے مطابق کیسے ڈھالے۔ ڈان نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق، کرپٹو کرنسیز کے حوالے سے عالمی سطح پر بھی ریگولیٹری غیر یقینی صورتحال پائی جاتی ہے، جو اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہے۔

نتیجہ

مفتی تقی عثمانی کا ڈیجیٹل کرنسی کے استعمال پر جاری کردہ فتویٰ اسلامی فقہ کے تناظر میں ایک اہم پیشرفت ہے۔ یہ فتویٰ کرپٹو کرنسیوں کو “مال” نہ مانتے ہوئے ان کی خرید و فروخت کو ناجائز قرار دیتا ہے، جس کی بنیادی وجہ ان میں شرعی مالیت، قبضہ، اور غرر کی عدم موجودگی ہے۔ یہ حکم بٹ کوائن، ایتھیریم اور اسٹیبل کوائنز سمیت تمام ڈیجیٹل اثاثوں پر لاگو ہوتا ہے، قطع نظر اس کے کہ انہیں کس نام سے پکارا جائے۔ اگرچہ یہ فتویٰ کوئی ریاستی قانون نہیں، مگر یہ پاکستان اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے مالیاتی معاملات میں شرعی رہنمائی کا ایک واضح ذریعہ بن گیا ہے، اور یہ توقع کی جاتی ہے کہ یہ ڈیجیٹل کرنسی مارکیٹ میں مسلمانوں کے طرز عمل پر گہرے اثرات مرتب کرے گا۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ ایسے مالیاتی معاملات میں شرعی اصولوں کو مقدم رکھیں اور علماء کی رہنمائی پر عمل پیرا ہوں۔