Table of Contents
فیس بک (میٹا) نے حال ہی میں اپنے پلیٹ فارم پر مصنوعی ذہانت (AI) سے چلنے والے سرچ فیچر کو متعارف کرایا ہے، جسے ‘اے آئی موڈ’ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ نیا فیچر صارفین کے لیے معلومات تک رسائی کو آسان اور تیز بنانے کا دعویٰ کرتا ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی رازداری کے حوالے سے شدید خدشات نے بھی جنم لیا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ فیچر صارفین کی عوامی پوسٹس اور دیگر معلومات کو وسیع پیمانے پر استعمال کر سکتا ہے، جس سے سائبر کرائمز اور ذاتی معلومات کے غلط استعمال کا خطرہ بڑھ جائے گا۔ ٹیکنالوجی کی دنیا میں تیزی سے آتی ہوئی یہ تبدیلیاں جہاں نئی سہولیات فراہم کر رہی ہیں، وہیں ڈیٹا کی حفاظت اور صارف کی پرائیویسی پر اس کے اثرات کے بارے میں اہم سوالات بھی اٹھا رہی ہیں۔ اس مضمون میں ہم فیس بک کے اس نئے اے آئی سرچ فیچر کی تفصیلات، اس سے منسلک پرائیویسی خدشات، ماہرین کی آراء اور صارفین کے لیے حفاظتی تجاویز کا تفصیلی جائزہ لیں گے۔
فیس بک کا نیا اے آئی سرچ فیچر کیا ہے؟
میٹا نے اپنے فیس بک پلیٹ فارم پر ایک نئے اے آئی سے چلنے والے سرچ فیچر ‘اے آئی موڈ’ کا اعلان کیا ہے، جو روایتی سرچ سے کہیں زیادہ جدید اور انٹرایکٹو تجربہ فراہم کرے گا۔ یہ فیچر فیس بک سرچ بار کو محض الفاظ کی تلاش سے ہٹ کر ایک چیٹ اسسٹنٹ میں تبدیل کر دیتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب صارفین اپنے سوالات کو عام گفتگو کے انداز میں پوچھ سکیں گے، اور اے آئی اسسٹنٹ انہیں جوابات فراہم کرے گا جو میٹا کے تمام ایپس پر عوامی طور پر شیئر کی گئی معلومات، بشمول گروپس، ریلز، پرانی پوسٹس، اور تبصروں پر مبنی ہوں گے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ اس فیچر کا مقصد معلومات تک رسائی کو بہتر بنانا ہے تاکہ صارفین کو تیزی سے اور زیادہ متعلقہ نتائج مل سکیں، جو حقیقی لوگوں کے تجربات، آراء اور سفارشات پر مبنی ہوں۔ مثال کے طور پر، اگر کوئی صارف کسی مقامی ریستوران کی سفارشات تلاش کر رہا ہے یا کسی مخصوص موضوع پر لوگوں کی آراء جاننا چاہتا ہے، تو اے آئی موڈ چیٹ فارمیٹ میں فوری جوابات فراہم کرے گا۔ یہ نظام پیچیدہ سوالات کو سمجھنے اور انہیں فیس بک کے وسیع ڈیٹا بیس میں موجود متعلقہ معلومات سے جوڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ میٹا اے آئی اب فیس بک، واٹس ایپ، انسٹاگرام، اور میسنجر میں مربوط ہے، اور ایک علیحدہ ایپ کے طور پر بھی دستیاب ہے، جو صارف کو ذاتی نوعیت کا اے آئی تجربہ فراہم کرتی ہے۔ یہ صارف کو پوسٹس کا خلاصہ کرنے، بہتر جوابات تیار کرنے اور سیکنڈوں میں تصاویر بنانے جیسی سہولیات بھی فراہم کرتا ہے۔
رازداری کے بڑھتے ہوئے خدشات کی وجوہات
اگرچہ فیس بک کا نیا اے آئی سرچ فیچر معلومات تک رسائی کو آسان بنا سکتا ہے، لیکن اس سے صارفین کی رازداری کے حوالے سے شدید خدشات بھی پیدا ہو گئے ہیں۔ ماہرین سکیورٹی اور پرائیویسی کے وکلاء نے خبردار کیا ہے کہ اس فیچر کی وجہ سے صارفین کی عوامی پوسٹس اور تبصرے، جو سالوں پرانے ہو سکتے ہیں، سائبر مجرموں کے لیے زیادہ آسانی سے دستیاب ہو جائیں گے۔ ایک روایتی سرچ انجن صرف کی ورڈز کی بنیاد پر لنکس فراہم کرتا ہے، لیکن ایک چیٹ اسسٹنٹ ان معلومات کا خلاصہ کرکے براہ راست جوابات فراہم کرتا ہے، جس سے ذاتی ڈیٹا تک رسائی کا عمل مزید تیز اور موثر ہو جاتا ہے۔
یہ خدشہ اس لیے بڑھ رہا ہے کہ اگر کسی صارف نے اپنی ذاتی معلومات، مثلاً تاریخ پیدائش، رہائش کا پتہ، خاندان کے افراد کی تفصیلات، یا دیگر حساس ڈیٹا عوامی طور پر شیئر کیا ہے، تو اے آئی سرچ فیچر ان معلومات کو ایک مربوط شکل میں پیش کر سکتا ہے۔ سائبر مجرم اس ڈیٹا کا تجزیہ کرکے فیشنگ حملوں، شناخت کی چوری، یا دیگر آن لائن فراڈ کے لیے صارفین کو آسانی سے نشانہ بنا سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، کسی صارف کی ماضی کی پوسٹس سے اس کی عادات، پسند و ناپسند، یا یہاں تک کہ اس کے روزمرہ کے معمولات کے بارے میں معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں، جنہیں نقصان دہ مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، عوامی ڈیٹا کے اس وسیع پیمانے پر استعمال سے غلط معلومات کے پھیلاؤ کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے، کیونکہ اے آئی ماڈلز غیر تصدیق شدہ یا گمراہ کن عوامی پوسٹس کو بھی اپنی تربیت کا حصہ بنا سکتے ہیں۔
ڈیٹا کا استعمال اور اس کے مضمرات
فیس بک کا اے آئی سرچ فیچر میٹا کے ایپس پر عوامی طور پر دستیاب مواد کو اپنے ڈیٹا سورس کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ اس میں نہ صرف آپ کی پوسٹس بلکہ آپ کے تبصرے، آپ کی جانب سے شیئر کی گئی تصاویر، ویڈیوز، اور یہاں تک کہ آپ جن گروپس میں شامل ہیں وہاں ہونے والی عوامی گفتگو بھی شامل ہو سکتی ہے۔ یہ تمام ڈیٹا اے آئی ماڈلز کی تربیت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے تاکہ وہ صارفین کے سوالات کا زیادہ مؤثر طریقے سے جواب دے سکیں۔
اس ڈیٹا کے استعمال کے کئی مضمرات ہیں۔ اولاً، یہ آپ کے ڈیجیٹل فٹ پرنٹ کو نمایاں طور پر بڑھا دیتا ہے۔ جو معلومات آپ نے برسوں پہلے عوامی طور پر شیئر کی تھی، اسے اب اے آئی ایک نئے، زیادہ قابل رسائی انداز میں پیش کر سکتا ہے۔ یہ صورتحال ان صارفین کے لیے خاص طور پر تشویشناک ہے جو شاید اپنی پرانی پوسٹس کے مواد یا ان کے عوامی ہونے کی نوعیت کو بھول چکے ہوں۔ ثانیاً، یہ میٹا کو صارفین کے بارے میں ایک انتہائی جامع پروفائل بنانے کی اجازت دیتا ہے، جس میں ان کی آراء، عادات، اور مفادات کی گہری تفہیم شامل ہوتی ہے۔ یہ معلومات نہ صرف سرچ کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کی جا سکتی ہیں بلکہ اشتہارات کی ٹارگٹنگ اور مواد کی سفارشات کو مزید ذاتی بنانے کے لیے بھی استعمال ہو سکتی ہیں۔
ایک اور متعلقہ فیچر جو پرائیویسی خدشات کا باعث بنا ہے وہ میٹا کا ‘میوز امیج’ (Muse Image) ہے، جو ایک اے آئی سے چلنے والا امیج جنریشن ٹول ہے۔ یہ ٹول صارفین کو واٹس ایپ اور انسٹاگرام پر ٹیکسٹ پرامپٹس کے ذریعے تصاویر بنانے کی سہولت دیتا ہے۔ تاہم، اس کی تشویشناک بات یہ ہے کہ یہ عوامی انسٹاگرام اکاؤنٹس سے تصاویر کو اے آئی سے تیار کردہ نئے مواد میں شامل کر سکتا ہے، یہاں تک کہ متعلقہ صارف کی واضح اجازت کے بغیر۔ یہ “پرائیویسی پر ایک بڑا حملہ” قرار دیا گیا ہے، جہاں صارفین کی شکل و صورت اور ان کے مواد کو بغیر ان کی رضامندی کے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اگرچہ میٹا کا کہنا ہے کہ اگر کسی کا اکاؤنٹ عوامی ہے، تو کوئی بھی دوسرا شخص میٹا کے اس نئے طریقے سے اس کی تصویروں کا استعمال کرکے نیا مواد بنا سکتا ہے، اور اس کی اطلاع دی جائے گی، لیکن پرائیویسی کے ماہرین رضامندی اور ممکنہ غلط استعمال کے بارے میں سنگین سوالات اٹھا رہے ہیں۔
فیس بک اے آئی سرچ: عوامی ڈیٹا کے استعمال کا تجزیہ
| ڈیٹا کی قسم | اے آئی سرچ میں استعمال | پرائیویسی خدشات |
|---|---|---|
| عوامی پوسٹس | جی ہاں، براہ راست سوال و جواب میں | پرانے عوامی خیالات، مقامات، اور تصاویر کی آسانی سے دریافت، سائبر کرائم کا خطرہ۔ |
| تبصرے اور آراء | جی ہاں، تجزیہ اور خلاصہ کرنے میں | صارفین کے رجحانات، عقائد، اور سیاسی / سماجی خیالات تک رسائی میں آسانی۔ |
| گروپس اور ریلز | جی ہاں، سفارشات اور معلومات کے لیے | خاص مفادات، مشاغل، اور کمیونٹی تعلقات کی نشاندہی، ٹارگٹڈ فیشنگ کا امکان۔ |
| پرائیویٹ پیغامات | نہیں (میٹا کے مطابق) | اگرچہ میٹا نجی پیغامات کو اے آئی تربیت کے لیے استعمال نہ کرنے کا دعویٰ کرتا ہے، پھر بھی صارفین میں تشویش موجود رہتی ہے۔ |
| لوکیشن ڈیٹا | جی ہاں، لوکل سرچ کے لیے | صارفین کے مقامات اور سفر کی عادات کے بارے میں معلومات کا غلط استعمال۔ |
ماضی کے تنازعات اور سکیورٹی ماہرین کی آراء
فیس بک کے نئے اے آئی سرچ فیچر سے جڑے پرائیویسی خدشات کوئی نئی بات نہیں ہیں۔ میٹا کا پرائیویسی کے حوالے سے ایک متنازعہ ماضی رہا ہے۔ سب سے نمایاں مثال کیمبرج اینالیٹیکا سکینڈل ہے، جہاں کروڑوں فیس بک صارفین کی ذاتی معلومات کو سیاسی مقاصد کے لیے غلط استعمال کیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں 2019 میں امریکی فیڈرل ٹریڈ کمیشن (FTC) نے فیس بک پر 5 بلین ڈالر کا ریکارڈ جرمانہ عائد کیا تھا۔ یہ واقعہ صارفین کے ڈیٹا کے غلط استعمال کے بارے میں عوامی تشویش کا ایک بڑا سبب بنا۔
سکیورٹی ماہرین نے اس نئے اے آئی فیچر کے حوالے سے واضح انتباہات جاری کیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جہاں یہ فیچر معلومات تک رسائی کو بہتر بنائے گا، وہیں یہ رازداری اور سائبر سکیورٹی کے خطرات کو بھی بڑھا سکتا ہے۔ سائبر کرائم میں ملوث افراد عوامی طور پر دستیاب معلومات کو اے آئی کے ذریعے تجزیہ کرکے صارفین کو آن لائن فراڈ، دھوکہ دہی، یا دیگر سائبر حملوں کا نشانہ بنا سکتے ہیں۔ ایک پاکستانی خبر رساں ادارے نے ماہرین کے حوالے سے لکھا ہے کہ “فیس بک اپنے سرچ سسٹم میں ایک نیا اے آئی چیٹ اسسٹنٹ فیچر متعارف کرانے کی تیاری کر رہا ہے، جس کے بعد روایتی الفاظ کے بجائے براہِ راست سوالات کے ذریعے صارفین کی برسوں پرانی عوامی پوسٹس، تبصروں اور ذاتی معلومات تک چند لمحوں میں رسائی ممکن ہو جائے گی”۔ یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ماضی میں جو معلومات بہت مشکل سے ڈھونڈی جا سکتی تھی، اب وہ اے آئی کی مدد سے انتہائی آسانی سے دستیاب ہو گی۔
ماہرین کا یہ بھی مشورہ ہے کہ صارفین کو اپنی پرائیویسی سیٹنگز کا باقاعدگی سے جائزہ لینا چاہیے اور سوشل میڈیا پر حساس ذاتی معلومات شیئر کرنے سے گریز کرنا چاہیے تاکہ اے آئی سے چلنے والی سرچ ٹیکنالوجیز کے ارتقاء کے ساتھ غلط استعمال کے خطرے کو کم کیا جا سکے۔ ایک اور ماہر نے بتایا کہ “سیکیورٹی ماہرین نے صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنی پرائیویسی سیٹنگز کو فوری طور پر ‘پبلک’ سے ‘فرینڈز’ پر منتقل کریں اور فیس بک کی “Limit Past Posts” سہولت استعمال کر کے ماضی کا تمام پبلک ڈیٹا محدود کریں تاکہ ان کی آن لائن سیکیورٹی محفوظ رہ سکے”۔
ان خدشات کے پیش نظر یہ ضروری ہے کہ صارفین نہ صرف میٹا کی جانب سے فراہم کردہ ٹولز کو سمجھیں بلکہ اپنی آن لائن سرگرمیوں کے بارے میں بھی ہوشیار رہیں، کیونکہ ان کے مواد کو مختلف طریقوں سے استعمال کیا جا سکتا ہے، جس کے نتائج شاید وہ فی الحال نہیں سوچ سکتے۔ اس بارے میں مزید معلومات کے لیے، آپ ڈان نیوز کی یہ رپورٹ پڑھ سکتے ہیں جو اے آئی اور پرائیویسی سے متعلق ہے۔
دیگر اے آئی سرچ پلیٹ فارمز سے موازنہ
جہاں فیس بک اپنے پلیٹ فارم کے اندر اے آئی سرچ کو مضبوط کر رہا ہے، وہیں دیگر ٹیکنالوجی کمپنیاں بھی اپنے سرچ انجنوں میں مصنوعی ذہانت کو شامل کر رہی ہیں۔ گوگل اور مائیکروسافٹ (بنگ) نے پہلے ہی اپنے سرچ انجنوں میں اے آئی چیٹ بوٹس کو ضم کر دیا ہے جو صارفین کے سوالات کے جوابات دینے کے لیے انٹرنیٹ کے وسیع ڈیٹا کو استعمال کرتے ہیں۔ تاہم، فیس بک کے اے آئی سرچ فیچر اور دیگر پلیٹ فارمز کے درمیان ایک اہم فرق ڈیٹا کے ماخذ میں ہے۔
گوگل اور بنگ کا اے آئی سرچ بنیادی طور پر کھلے انٹرنیٹ سے معلومات اکٹھی کرتا ہے، جس میں ویب سائٹس، مضامین، اور عوامی طور پر دستیاب ڈیٹا شامل ہوتا ہے۔ اس کے برعکس، فیس بک کا اے آئی موڈ زیادہ تر میٹا کے اپنے ماحولیاتی نظام کے اندر موجود عوامی ڈیٹا پر انحصار کرتا ہے — یعنی فیس بک، انسٹاگرام، واٹس ایپ، اور میسنجر پر شیئر کی گئی عوامی پوسٹس، تبصرے اور ریلز۔ یہ فرق اہم ہے کیونکہ فیس بک کا ڈیٹا زیادہ ذاتی نوعیت کا ہو سکتا ہے، کیونکہ یہ براہ راست افراد کے سماجی تعاملات، ذاتی آراء اور تجربات پر مبنی ہوتا ہے۔
گوگل نے بھی صارفین کی پرائیویسی کی حفاظت کے لیے اقدامات کیے ہیں، جیسے کہ اپنی پرائیویسی سیٹنگز میں ‘سرچ سروسز ہسٹری’ کا نیا آپشن شامل کرنا، جہاں صارفین تصاویر، فائلیں، آڈیو اور ویڈیو ریکارڈنگز کو محفوظ کرنے کے بارے میں اپنی ترجیحات کا تعین کر سکتے ہیں، تاکہ اے آئی ماڈلز کو بہتر بنایا جا سکے۔ یہ فیچرز صارفین کو اپنے ڈیٹا پر کچھ حد تک کنٹرول فراہم کرتے ہیں۔ لیکن فیس بک کے معاملے میں، عوامی پوسٹس کو اس طرح سے استعمال کیا جانا کہ وہ ماضی کی ہر معلومات کو آسانی سے قابل رسائی بنا دے، ایک منفرد تشویش پیدا کرتا ہے، کیونکہ اس سے صارفین کے عوامی ڈیجیٹل فٹ پرنٹ کی وسعت اور اس کے غلط استعمال کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
صارفین کے لیے حفاظتی اقدامات اور تجاویز
فیس بک کے نئے اے آئی سرچ فیچر سے پیدا ہونے والے پرائیویسی خدشات کے پیش نظر، صارفین کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنی ذاتی معلومات کی حفاظت کے لیے فعال اقدامات کریں۔ ماہرین نے کئی اہم تجاویز پیش کی ہیں جو آپ کی رازداری کو برقرار رکھنے میں مدد کر سکتی ہیں:
- پوسٹس کو ‘پبلک’ سے ‘فرینڈز’ پر محدود کریں: فیس بک پر کچھ بھی پوسٹ کرتے وقت، ‘پبلک’ آپشن کے بجائے ‘فرینڈز’ یا ‘اونلی می’ (صرف میں) کا انتخاب کریں۔ اس سے آپ کا مواد صرف آپ کے منتخب کردہ حلقے تک محدود رہے گا اور اے آئی سرچ کے ذریعے عوامی طور پر دستیاب نہیں ہوگا۔
- ‘لمٹ پاسٹ پوسٹس’ فیچر کا استعمال کریں: فیس بک کی سیٹنگز میں ایک مفید ٹول ‘Limit Past Posts’ (ماضی کی پوسٹس کو محدود کریں) موجود ہے۔ یہ فیچر آپ کی تمام پرانی عوامی پوسٹس کو خودکار طور پر صرف دوستوں تک محدود کر دیتا ہے، جس سے آپ کو دستی طور پر ہر پوسٹ کی پرائیویسی سیٹنگ تبدیل کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔
- پرائیویسی سیٹنگز کا باقاعدگی سے جائزہ لیں: اپنی فیس بک اور انسٹاگرام کی پرائیویسی سیٹنگز کو وقتاً فوقتاً چیک کریں اور انہیں اپنی ضروریات کے مطابق اپ ڈیٹ کریں۔ یہ یقینی بنائے گا کہ آپ کی معلومات اسی طرح شیئر کی جا رہی ہے جس طرح آپ چاہتے ہیں۔
- حساس معلومات شیئر کرنے سے گریز کریں: سوشل میڈیا پر ایسی کوئی بھی معلومات شیئر کرنے سے پہلے اچھی طرح سوچ لیں جو آپ کی ذاتی زندگی کو متاثر کر سکتی ہے، جیسے کہ آپ کا پورا نام، تاریخ پیدائش، رہائشی پتہ، یا مالی تفصیلات۔ سائبر مجرم ان معلومات کو مختلف قسم کے فراڈ کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔
- میوز امیج (Muse Image) کے لیے آپٹ آؤٹ کریں: اگر آپ نہیں چاہتے کہ آپ کی انسٹاگرام تصاویر کو اے آئی ٹول ‘میوز امیج’ کے ذریعے نئے مواد کی تخلیق کے لیے استعمال کیا جائے، تو آپ انسٹاگرام کی سیٹنگز میں جا کر اس آپشن کو بند کر سکتے ہیں۔ اپنے انسٹاگرام پروفائل پر جائیں، مینو پر ٹیپ کریں، سیٹنگز میں ‘Sharing and Reuse’ (شیئرنگ اور دوبارہ استعمال) منتخب کریں، اور ‘Allow people to use your content on Instagram with AI features on Meta’ (میٹا پر اے آئی فیچرز کے ساتھ انسٹاگرام پر آپ کے مواد کو استعمال کرنے کی اجازت دیں) کو غیر فعال کر دیں۔
- اے آئی سے تیار کردہ مواد کی تصدیق کریں: اگر آپ اے آئی سے کوئی معلومات حاصل کرتے ہیں، خاص طور پر حساس نوعیت کی (جیسے مذہبی فتاویٰ)، تو اس کی آزادانہ ذرائع سے تصدیق ضرور کریں۔ اے آئی ماڈلز غلطیاں کر سکتے ہیں یا نامکمل معلومات فراہم کر سکتے ہیں۔
ان اقدامات پر عمل کرکے صارفین اپنی آن لائن موجودگی کو زیادہ محفوظ بنا سکتے ہیں اور فیس بک کے نئے اے آئی فیچرز کے ممکنہ پرائیویسی خطرات کو کم کر سکتے ہیں۔
میٹا کی مجموعی اے آئی حکمت عملی اور مستقبل کے چیلنجز
فیس بک کا نیا اے آئی سرچ فیچر میٹا کی وسیع تر اے آئی حکمت عملی کا صرف ایک حصہ ہے۔ میٹا نے مصنوعی ذہانت میں اپنی سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ کیا ہے، اور اس کا مقصد اپنے تمام پلیٹ فارمز پر اے آئی کو مرکزی حیثیت دینا ہے۔ ‘میٹا اے آئی’ کو ایک علیحدہ ایپ کے طور پر بھی لانچ کیا گیا ہے اور اسے واٹس ایپ، انسٹاگرام اور میسنجر میں گہرائی سے مربوط کیا جا رہا ہے۔ یہ اے آئی اسسٹنٹ روزمرہ کے سوالات کے جوابات دینے، تحقیق میں مدد کرنے، اور تخلیقی مواد بنانے جیسی مختلف سہولیات فراہم کرتا ہے۔
میٹا کی اے آئی کی طرف یہ وسیع پیمانے پر منتقلی نئے چیلنجز بھی لاتی ہے۔ کمپنی نے ایک ایسی اے آئی ڈیوائس کا پیٹنٹ بھی دائر کیا ہے جو صارف کی ہنسی، آہ بھرنے، بولنے کے انداز اور دیگر زبانی و غیر زبانی اشاروں کا تجزیہ کرکے اس کی جذباتی کیفیت کا اندازہ لگا سکے گی۔ یہ ٹیکنالوجی صارف اور اس کے مقام سے متعلق معلومات کا تجزیہ کرتے ہوئے کسی بھی وقت اس کی جذباتی کیفیت کا تعین کر سکتی ہے۔ اس قسم کی ڈیٹا اکٹھا کرنے کی صلاحیتیں رازداری کے نئے اور گہرے خدشات کو جنم دیتی ہیں، کیونکہ یہ نہ صرف صارف کی عوامی سرگرمیوں بلکہ اس کی جذباتی حالت پر بھی گہرا ڈیٹا فراہم کر سکتی ہے۔
ٹیکنالوجی کمپنیاں جدت اور صارف کی پرائیویسی کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، لیکن اے آئی کی تیز رفتار ترقی کے ساتھ یہ توازن برقرار رکھنا مشکل ہو رہا ہے۔ مستقبل میں ریگولیٹرز اور حکومتوں کو


