عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ ایک ایسا رجحان ہے جس نے حالیہ برسوں میں عالمی معیشت کو گہرے طور پر متاثر کیا ہے۔ ان اتار چڑھاؤ کے نتیجے میں کئی مواقع پر خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی بھی دیکھنے میں آئی ہے، جس نے تیل درآمد کرنے والے ممالک کو عارضی راحت فراہم کی جبکہ تیل برآمد کرنے والے ممالک کے لیے چیلنجز پیدا کیے۔ خام تیل کی قیمتوں میں یہ غیر معمولی تبدیلیاں کئی پیچیدہ عوامل کا نتیجہ ہوتی ہیں جن میں عالمی رسد و طلب، جیو پولیٹیکل کشیدگی، اوپیک+ جیسے تیل پیدا کرنے والے ممالک کی پالیسیاں، اور عالمی معیشت کی مجموعی صورتحال شامل ہیں۔
حالیہ مہینوں میں، خاص طور پر جون 2026 کے اوائل میں، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔ اس کمی کی بنیادی وجہ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں ممکنہ کمی اور امن معاہدے کی امیدیں تھیں، جس سے آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل میں بہتری کی توقع پیدا ہوئی۔ اس کے علاوہ، اوپیک پلس (OPEC+) ممالک کی جانب سے تیل کی پیداوار میں اضافے کے فیصلوں نے بھی عالمی رسد کو بہتر بنانے میں کردار ادا کیا، جس کے باعث قیمتوں پر دباؤ میں کمی آئی۔ تاہم، جولائی 2026 میں امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا رجحان پیدا کر دیا ہے، جو عالمی مارکیٹ کی مسلسل غیر یقینی صورتحال کو ظاہر کرتا ہے۔ اس مضمون میں ہم ان عوامل کا تفصیلی جائزہ لیں گے جو خام تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی کمی کا باعث بنتے ہیں، ان کے عالمی اور علاقائی اثرات کا تجزیہ کریں گے، اور مستقبل کے ممکنہ رجحانات پر روشنی ڈالیں گے۔
عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ: ایک جامع جائزہ
خام تیل عالمی معیشت کا ایک بنیادی ستون ہے اور اس کی قیمتیں دنیا بھر کی صنعتوں، نقل و حمل، اور روزمرہ زندگی پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہیں۔ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں مسلسل اتار چڑھاؤ کا شکار رہتی ہیں، اور یہ اتار چڑھاؤ اکثر غیر متوقع اور ڈرامائی ہوتے ہیں۔ ان تبدیلیوں کے پیچھے ایک پیچیدہ میکانزم کام کرتا ہے جس میں رسد (Supply) اور طلب (Demand) کے بنیادی اصولوں سے لے کر جیو پولیٹیکل واقعات، قدرتی آفات، اور مالیاتی منڈیوں میں قیاس آرائیاں شامل ہیں۔
ایک طرف، تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم (اوپیک) اور اس کے اتحادیوں (اوپیک+) کی پیداواری پالیسیاں عالمی رسد کو متاثر کرتی ہیں۔ جب اوپیک+ پیداوار میں کمی کا فیصلہ کرتا ہے تو قیمتیں بڑھنے کا رجحان ہوتا ہے، اور جب پیداوار بڑھائی جاتی ہے تو قیمتیں گر سکتی ہیں۔ دوسری طرف، عالمی معیشت کی صحت طلب پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔ معاشی ترقی کی صورت میں طلب بڑھتی ہے، جبکہ معاشی سست روی یا بحران کی صورت میں طلب کم ہو جاتی ہے۔ مثال کے طور پر، چین جیسی بڑی معیشتوں کی تیل کی خریداری کے فیصلے بھی عالمی قیمتوں پر فیصلہ کن اثر ڈال سکتے ہیں۔
جیو پولیٹیکل عوامل، خاص طور پر مشرق وسطیٰ اور تیل پیدا کرنے والے دیگر اہم علاقوں میں، خام تیل کی قیمتوں میں سب سے بڑے غیر متوقع اتار چڑھاؤ کا سبب بنتے ہیں۔ خطے میں تنازعات، جنگیں، یا آبنائے ہرمز جیسی اہم بحری گزرگاہوں کی بندش کے خدشات تیل کی سپلائی میں خلل ڈال سکتے ہیں، جس سے قیمتیں تیزی سے بڑھ جاتی ہیں۔ اس کے برعکس، جب ان کشیدگیوں میں کمی آتی ہے یا امن کے امکانات بڑھتے ہیں، تو قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آتی ہے۔ حالیہ مہینوں میں، امریکہ اور ایران کے درمیان تعلقات میں بہتری اور پھر دوبارہ کشیدگی نے خام تیل کی قیمتوں میں تیزی سے تبدیلیاں لائی ہیں۔ یہ مسلسل غیر یقینی صورتحال سرمایہ کاروں اور پالیسی سازوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔
قیمتوں میں نمایاں کمی کی بنیادی وجوہات
حالیہ عرصے میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کئی اہم وجوہات کا مجموعہ تھی۔ یہ وجوہات عالمی رسد اور طلب کے توازن کو متاثر کرتی ہیں اور اکثر جیو پولیٹیکل اور معاشی عوامل سے جڑی ہوتی ہیں۔
جیو پولیٹیکل کشیدگی میں کمی
خام تیل کی قیمتوں میں کمی کی سب سے اہم وجوہات میں سے ایک جیو پولیٹیکل کشیدگی میں کمی ہے۔ جون 2026 میں امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہونے کی اطلاعات نے عالمی منڈی میں ایک مثبت رجحان پیدا کیا۔ ان رپورٹس کے مطابق، اس معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز کی بندش ختم ہونے کا امکان تھا، جو عالمی تجارت خصوصاً تیل کی ترسیل کے لیے ایک انتہائی اہم بحری گزرگاہ ہے۔ آبنائے ہرمز سے دنیا بھر میں سپلائی ہونے والے خام تیل کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا ہے۔ جب اس راستے کی حفاظت اور ترسیل کی یقین دہانی ہوتی ہے تو سپلائی میں خلل کے خدشات کم ہو جاتے ہیں، جس سے خام تیل کی قیمتوں پر نیچے کا دباؤ پڑتا ہے۔ جنگ بندی اور سفارتی رابطوں میں پیش رفت کے بعد مارکیٹ میں خطرات کا پریمیم کم ہونا شروع ہو گیا تھا، جس سے قیمتیں اپنی پرانی حالت میں بحال ہونے کی امید پیدا ہوئی۔
اوپیک+ کی پیداواری پالیسیاں اور رسد میں اضافہ
تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک اور اس کے اتحادیوں (اوپیک+) کے پیداواری فیصلے بھی خام تیل کی قیمتوں پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔ جولائی 2026 کے اوائل میں، اوپیک پلس نے عالمی منڈی میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے اگست سے تیل کی پیداوار میں معمولی اضافے کا فیصلہ کیا۔ یہ فیصلہ مسلسل پانچویں ماہ کیا گیا تھا اور اس کا مقصد طلب اور رسد کے درمیان توازن برقرار رکھنا تھا۔ سعودی عرب، روس، عراق، کویت، قازقستان، الجزائر اور عمان جیسے رکن ممالک نے مجموعی طور پر یومیہ ایک لاکھ 88 ہزار بیرل اضافی خام تیل پیدا کرنے پر اتفاق کیا۔ پیداوار میں اس اضافے سے عالمی منڈی میں تیل کی فراہمی بڑھنے کی توقع پیدا ہوئی، جس نے قیمتوں پر دباؤ ڈالا اور انہیں کم کرنے میں مدد کی۔
عالمی معاشی سست روی اور طلب میں کمی کے خدشات
عالمی معیشت کی سست روی اور توانائی کی طلب میں کمی کے خدشات بھی خام تیل کی قیمتوں میں کمی کا باعث بنتے ہیں۔ جب عالمی معاشی سرگرمیاں سست پڑتی ہیں، تو صنعتی پیداوار، نقل و حمل، اور دیگر شعبوں میں تیل کا استعمال کم ہو جاتا ہے۔ اس سے طلب میں کمی آتی ہے، اور رسد کے مقابلے میں طلب کم ہونے سے قیمتوں پر نیچے کا دباؤ پڑتا ہے۔ اگرچہ حالیہ کمی میں جیو پولیٹیکل عوامل زیادہ نمایاں تھے، لیکن عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی مہنگائی اور مرکزی بینکوں کی سخت مالیاتی پالیسیاں (شرح سود میں اضافہ) بھی معاشی سست روی کا باعث بن سکتی ہیں، جو بالآخر تیل کی طلب کو متاثر کرتی ہیں۔
خام تیل کی قیمتوں میں کمی کے عالمی معیشت پر اثرات
خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے عالمی معیشت پر دور رس اثرات مرتب ہوتے ہیں، جو تیل برآمد کرنے والے اور درآمد کرنے والے دونوں طرح کے ممالک کے لیے مختلف نوعیت کے نتائج کا باعث بنتے ہیں۔
تیل برآمد کرنے والے ممالک پر اثرات: وہ ممالک جو اپنی آمدنی کا بڑا حصہ تیل کی برآمدات سے حاصل کرتے ہیں، جیسے سعودی عرب، روس، اور دیگر اوپیک ممالک، خام تیل کی قیمتوں میں کمی سے شدید متاثر ہوتے ہیں۔ ان کی حکومتی آمدنی میں کمی آتی ہے، جس کے نتیجے میں بجٹ خسارے بڑھ سکتے ہیں، عوامی منصوبوں میں کٹوتی ہو سکتی ہے، اور کرنسی کی قدر میں کمی آ سکتی ہے۔ یہ صورتحال ان ممالک کی معاشی ترقی کو سست کر سکتی ہے اور سماجی بے چینی کو بھی بڑھا سکتی ہے۔
تیل درآمد کرنے والے ممالک پر اثرات: اس کے برعکس، تیل درآمد کرنے والے ممالک کے لیے، جن میں پاکستان جیسے ممالک شامل ہیں، خام تیل کی قیمتوں میں کمی ایک خوشخبری ہوتی ہے۔ کم قیمتوں کا مطلب ہے درآمدی بل میں کمی، جو ملک کے بیرونی کھاتوں (Current Account) کے خسارے کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔ اس سے ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ کم ہوتا ہے اور روپے کی قدر کو استحکام مل سکتا ہے۔
علاوہ ازیں، کم تیل کی قیمتیں مہنگائی کو کنٹرول کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ نقل و حمل کے اخراجات کم ہوتے ہیں، جو اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر مثبت اثر ڈالتا ہے۔ صنعتی پیداوار کے لیے توانائی سستی ہونے سے پیداواری لاگت کم ہوتی ہے اور کاروباری سرگرمیاں بڑھ سکتی ہیں۔ تاہم، یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کئی ممالک میں حکومتیں تیل سستا ہونے کے باوجود ٹیکسوں اور لیوی کو برقرار رکھتی ہیں، جس سے عوام کو مکمل فائدہ منتقل نہیں ہو پاتا۔
پاکستان پر خام تیل کی قیمتوں میں کمی کا اثر
پاکستان ایک بڑا تیل درآمد کرنے والا ملک ہے، اور عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا اس کی معیشت پر براہ راست اور گہرا اثر پڑتا ہے۔ جب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی آتی ہے تو پاکستان کو کئی فوائد حاصل ہوتے ہیں، جبکہ قیمتوں میں اضافہ ملکی معیشت کے لیے بڑے چیلنجز پیدا کرتا ہے۔
جون 2026 میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کے بعد، پاکستان میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کی توقعات بڑھ گئی تھیں۔ ماہرینِ توانائی کا اندازہ تھا کہ اگر برینٹ خام تیل کی قیمت 79 سے 80 ڈالر فی بیرل کے قریب برقرار رہتی ہے اور روپے کی قدر میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آتی تو پیٹرول کی قیمت میں 30 سے 40 روپے فی لیٹر تک اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 35 سے 50 روپے فی لیٹر تک کمی کی گنجائش موجود تھی۔
حکومت نے عالمی منڈی میں قیمتوں میں کمی کے بعد پیٹرول کی قیمت میں 74 روپے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 67.30 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کیا تھا، جس سے عوام کو خاطر خواہ ریلیف ملا۔ خام تیل کی قیمتوں میں کمی سے پاکستان کے درآمدی بل میں کمی آتی ہے، جس سے قیمتی زرمبادلہ کی بچت ہوتی ہے اور بیرونی کھاتوں کے خسارے کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔ یہ ملکی معیشت کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہوتی ہے، کیونکہ اس سے مالیاتی استحکام آتا ہے اور روپے کی قدر کو بھی سہارا ملتا ہے۔
تاہم، ماہرینِ معاشیات کا یہ بھی کہنا ہے کہ مقامی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین صرف خام تیل کی عالمی قیمت کی بنیاد پر نہیں کیا جاتا، بلکہ اس میں پیٹرولیم لیوی، ٹیکسز، درآمدی لاگت، شرحِ مبادلہ اور دیگر عوامل بھی شامل ہوتے ہیں۔ حکومت آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے تحت پیٹرولیم مصنوعات پر وصول کی جانے والی لیوی اور ٹیکسز کو برقرار رکھنے پر مجبور ہوتی ہے، جس کی وجہ سے عالمی منڈی میں کمی کا مکمل فائدہ صارفین تک منتقل نہیں ہو پاتا۔
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے بعد پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے ممکنہ اثرات پر مزید تفصیلات کے لیے آپ ڈان نیوز کی رپورٹ دیکھ سکتے ہیں۔
| تاریخ (2026) | واقعہ/عوامل | برینٹ خام تیل (تقریباً فی بیرل) | ڈبلیو ٹی آئی خام تیل (تقریباً فی بیرل) | اثر |
|---|---|---|---|---|
| جون کے اوائل | امریکہ-ایران امن معاہدے کی امیدیں | 90.85 ڈالر (کمی) | 87.59 ڈالر (کمی) | قیمتوں میں نمایاں کمی، 7 ہفتوں کی کم ترین سطح پر |
| جون 13 | ایران-امریکا معاہدے کے قریب | 87.33 ڈالر (کمی) | 84.88 ڈالر (کمی) | قیمتیں 4 ماہ کی کم ترین سطح پر |
| جون 16-18 | امن معاہدہ، پیداوار میں اضافہ | 79-80 ڈالر | 74-75 ڈالر | قیمتیں مزید کم ہوئیں، پیٹرول سستا ہونے کا امکان |
| جون 24 | ایران-امریکا کشیدگی میں کمی | 73 ڈالر | 70 ڈالر | خام تیل سستا، پاکستان میں معمولی کمی کی توقع |
| جولائی 06 | اوپیک پلس پیداوار میں اضافہ | 71.10 – 71.88 ڈالر (کمی) | 67.89 – 68.58 ڈالر (کمی) | قیمتوں میں مزید کمی، رسد میں بہتری کی توقع |
| جولائی 13-15 | امریکہ-ایران کشیدگی میں اضافہ | 85.49 – 87.49 ڈالر (اضافہ) | 79.88 – 80.40 ڈالر (اضافہ) | قیمتوں میں نمایاں اضافہ، ایک ماہ کی بلند ترین سطح پر |
تاریخی تناظر میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ
خام تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ کوئی نیا رجحان نہیں ہے۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ عالمی واقعات نے بارہا تیل کی قیمتوں کو ڈرامائی انداز میں متاثر کیا ہے۔ ماضی میں کئی ایسے ادوار آئے ہیں جب تیل کی قیمتوں میں تیزی سے کمی واقع ہوئی، جس کے پیچھے مختلف عوامل کارفرما تھے۔
مثال کے طور پر، 1980 کی دہائی کے وسط میں، اوپیک ممالک کے درمیان پیداواری پالیسیوں پر اختلافات اور غیر اوپیک ممالک کی جانب سے تیل کی پیداوار میں اضافے کے نتیجے میں عالمی منڈی میں رسد بڑھ گئی تھی، جس سے تیل کی قیمتیں بہت کم ہو گئی تھیں۔ اسی طرح، 1997-98 کے ایشیائی مالیاتی بحران اور 2008 کے عالمی مالیاتی بحران کے دوران، عالمی معیشت میں سست روی کے باعث تیل کی طلب میں نمایاں کمی آئی، جس سے قیمتوں میں زبردست گراوٹ دیکھنے میں ملی۔
حالیہ تاریخ میں، 2020 میں کووڈ-19 وبائی مرض کے پھیلاؤ نے بھی تیل کی قیمتوں کو تاریخی نچلی سطح پر پہنچا دیا تھا۔ عالمی لاک ڈاؤنز، سفری پابندیوں اور معاشی سرگرمیوں میں اچانک کمی کے باعث تیل کی طلب میں غیر معمولی کمی واقع ہوئی، جس کے نتیجے میں کئی مقامات پر تیل کی قیمتیں منفی میں چلی گئی تھیں۔ اس کے بعد، معاشی بحالی کے ساتھ ہی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ دیکھا گیا، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کس طرح عالمی واقعات اور معاشی رجحانات تیل کی منڈی پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ یہ تمام تاریخی مثالیں اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ خام تیل کی قیمتیں محض رسد اور طلب کے میکانزم سے زیادہ جیو پولیٹیکل، معاشی اور سماجی عوامل کے اثرات کو ظاہر کرتی ہیں۔
مستقبل کے ممکنہ رجحانات اور چیلنجز
خام تیل کی عالمی مارکیٹ انتہائی غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے، اور مستقبل کے رجحانات کا تعین کئی پیچیدہ اور باہم مربوط عوامل پر منحصر ہے۔ حالیہ عرصے میں، جہاں ایک طرف جیو پولیٹیکل کشیدگی میں کمی کے باعث قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی، وہیں دوسری طرف تازہ کشیدگی نے قیمتوں میں دوبارہ اضافہ کر دیا ہے، جو اس بازار کی متحرک نوعیت کو اجاگر کرتا ہے۔
مستقبل میں تیل کی قیمتوں کو متاثر کرنے والے کلیدی عوامل میں جیو پولیٹیکل صورتحال سرفہرست ہے۔ مشرق وسطیٰ میں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی، بحری راستوں کی حفاظت اور تیل کی سپلائی سے متعلق خدشات قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ کا باعث بن سکتے ہیں۔ اگر کشیدگی مزید بڑھتی ہے اور تیل کی سپلائی متاثر ہوتی ہے تو قیمتیں ایک بار پھر 90 ڈالر یا 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر جا سکتی ہیں۔
اوپیک+ کا کردار بھی مستقبل میں اہم رہے گا۔ تیل پیدا کرنے والے ممالک کا یہ اتحاد پیداوار میں اضافے یا کمی کے فیصلوں کے ذریعے عالمی رسد پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اگر اوپیک+ عالمی طلب میں کمی کے خدشات کے پیش نظر پیداوار میں کمی کا فیصلہ کرتا ہے تو قیمتیں بڑھ سکتی ہیں، اور اگر طلب میں اضافے کے لیے پیداوار بڑھائی جاتی ہے تو قیمتیں مستحکم رہ سکتی ہیں یا کم ہو سکتی ہیں۔
عالمی معاشی نمو، خاص طور پر چین جیسی بڑی معیشتوں کی تیل کی طلب، بھی مستقبل کی قیمتوں پر اثر انداز ہوگی۔ اگر عالمی معیشت مستحکم ترقی کرتی ہے تو طلب میں اضافہ ہوگا، جبکہ سست روی کی صورت میں طلب کم ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ، توانائی کے متبادل ذرائع کی ترقی اور ماحولیاتی پالیسیاں بھی طویل مدت میں تیل کی طلب کو متاثر کریں گی۔ شمسی، ہوا اور دیگر قابل تجدید توانائی کے ذرائع کی جانب عالمی رجحان آہستہ آہستہ خام تیل پر انحصار کم کرے گا، جو مستقبل میں اس کی قیمتوں پر دباؤ ڈال سکتا ہے۔ تاہم، قریبی مدت میں، جیو پولیٹیکل اور پیداواری فیصلے سب سے زیادہ اہمیت کے حامل رہیں گے۔
نتیجہ
عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ ایک مسلسل حقیقت ہے جو عالمی معیشت اور افراد کی زندگیوں کو براہ راست متاثر کرتا ہے۔ حالیہ مہینوں میں، جہاں ایک طرف امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ امن معاہدے اور اوپیک+ کی جانب سے پیداوار میں اضافے جیسے عوامل نے قیمتوں میں نمایاں کمی کا باعث بنے، وہیں دوسری طرف تازہ جیو پولیٹیکل کشیدگی نے ان قیمتوں میں دوبارہ اضافہ کر دیا ہے۔ یہ اتار چڑھاؤ تیل برآمد کرنے والے ممالک کے لیے معاشی چیلنجز پیدا کرتے ہیں جبکہ پاکستان جیسے درآمدی ممالک کو عارضی راحت فراہم کرتے ہوئے درآمدی بل کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
تیل کی قیمتوں کا مستقبل جیو پولیٹیکل استحکام، اوپیک+ کی پالیسیوں اور عالمی معیشت کی رفتار پر منحصر ہے۔ جب تک عالمی سطح پر رسد و طلب میں توازن برقرار نہیں ہوتا اور اہم تیل پیدا کرنے والے علاقوں میں امن قائم نہیں ہوتا، یہ غیر معمولی اتار چڑھاؤ جاری رہنے کا امکان ہے۔ پالیسی سازوں کو ان تبدیلیوں کے لیے تیار رہنا ہوگا اور ایسے میکانزم تیار کرنے ہوں گے جو ان غیر متوقع جھٹکوں کو جذب کر سکیں تاکہ عالمی معیشت کا استحکام برقرار رہے۔


