ایران کو آبنائے ہرمز پر قبضہ نہیں کرنے دیں گے، یہ وہ دو ٹوک موقف ہے جو امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے حالیہ بیانات میں دہرایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ آبنائے ہرمز کو کسی ایک ملک کی ملکیت کے طور پر قبول نہیں کرے گا اور یہ آبی گزرگاہ بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے کھلی رہے گی۔ خلیج فارس اور خلیج عمان کے درمیان واقع یہ آبنائے دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں سے ایک ہے، جس کی جغرافیائی اور تزویراتی اہمیت ناقابل تردید ہے۔ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی، خاص طور پر امریکہ اور ایران کے درمیان تناؤ، نے اس آبی گزرگاہ کو ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ ایران کی جانب سے آبنائے کو بند کرنے کی دھمکیوں اور حالیہ فوجی کارروائیوں نے عالمی تیل کی منڈیوں میں شدید بے چینی پیدا کر دی ہے، جس کے دور رس اقتصادی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ یہ مضمون آبنائے ہرمز کی اہمیت، امریکہ کے موقف، ایران کے ردعمل، حالیہ کشیدگی کی تفصیلات، عالمی معیشت پر اس کے اثرات اور مستقبل کے ممکنہ منظرناموں کا جامع جائزہ پیش کرے گا۔
آبنائے ہرمز: عالمی تجارت کی شہ رگ
آبنائے ہرمز خلیج فارس کو بحر عمان اور بحیرہ عرب سے ملانے والا ایک تنگ سمندری راستہ ہے، جو دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس کی چوڑائی مختلف مقامات پر تقریباً 33 کلومیٹر سے 97 کلومیٹر تک ہے۔ اس کے شمال میں ایران جبکہ جنوب میں متحدہ عرب امارات اور عمان کے ساحل واقع ہیں۔ اس آبی گزرگاہ کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ روزانہ دنیا بھر میں تیل کی کل رسد کا تقریباً 20 سے 30 فیصد حصہ اسی آبنائے سے گزرتا ہے۔ سعودی عرب، ایران، عراق، کویت، قطر اور متحدہ عرب امارات جیسے دنیا کے بڑے تیل برآمد کرنے والے ممالک کا تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) عالمی منڈیوں تک اسی راستے سے پہنچتا ہے۔
صرف تیل ہی نہیں، بلکہ عالمی ایل این جی کی تجارت کا تقریباً 20 سے 30 فیصد بھی اسی آبنائے سے گزرتا ہے۔ امریکہ کے توانائی کے ادارے ای آئی اے کے مطابق، اس بحری راہداری سے ہر سال 600 ارب ڈالر کا سامان گزرتا ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش کی صورت میں عالمی معیشت پر تباہ کن اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، خاص طور پر تیل کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس کی تزویراتی اہمیت کی وجہ سے یہ راستہ صرف جغرافیائی نہیں بلکہ سیاسی اور عسکری اعتبار سے بھی نہایت حساس سمجھا جاتا ہے۔
امریکی موقف: آزادانہ جہاز رانی کا تحفظ
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے واضح کیا ہے کہ امریکہ آبنائے ہرمز کو کسی ایک ملک کی ملکیت کے طور پر قبول نہیں کرے گا۔ بحرین میں خلیج تعاون کونسل کے وزرائے خارجہ سے گفتگو کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ امریکہ خطے میں ایسا پائیدار امن چاہتا ہے جو اس کی اور اس کے اتحادیوں کی سکیورٹی اور خوشحالی کو نقصان نہ پہنچاتا ہو۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی پانیوں میں کوئی ملک ٹول یا فیس عائد نہیں کر سکتا، اور امریکہ آبنائے ہرمز پر کسی قسم کا ٹیکس یا ٹول قبول نہیں کرے گا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا موقف بھی اس حوالے سے بالکل واضح رہا ہے کہ آبنائے ہرمز کھلی ہے اور ایران ہو یا نہ ہو، کھلی رہے گی۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکہ اب سے آبنائے ہرمز کا محافظ کہلائے گا، تاہم انصاف کے تقاضے کے تحت اس آبی گزرگاہ سے گزرنے والے ہر کارگو پر 20 فیصد معاوضہ وصول کیا جائے گا۔ اس بیان پر کئی حلقوں میں تشویش بھی پائی گئی تھی اور بعد ازاں صدر ٹرمپ نے اس ’فیس‘ کے آئیڈیا کو ’اچھا نہیں‘ قرار دیا۔ امریکی بحریہ آبنائے ہرمز اور خطے میں بین الاقوامی بحری آمدورفت کو محفوظ اور آزاد رکھنے کے لیے اپنی موجودگی برقرار رکھتی ہے، اور اس کا مقصد تجارتی جہازوں کی بلا تعطل نقل و حمل کو یقینی بنانا ہے۔
ایران کا جوابی ردعمل اور دھمکیاں
امریکی دباؤ اور پابندیوں کے جواب میں ایران نے متعدد بار آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی دھمکیاں دی ہیں اور بعض اوقات اس پر عمل بھی کیا ہے۔ ایران کا موقف ہے کہ اگر اس کی تیل برآمدات کو روکا گیا یا اس کی خودمختاری کو چیلنج کیا گیا تو وہ آبنائے ہرمز کو بطور ایک تزویراتی ہتھیار استعمال کر سکتا ہے۔ حالیہ کشیدگی کے دوران، ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز اس وقت تک بند رہے گی جب تک امریکہ اپنی “جارحانہ کارروائیاں” بند نہیں کرتا۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کا انتظام بین الاقوامی قوانین کے مطابق ایران اور عمان کی مشترکہ ذمہ داری ہے، اور امریکہ کو اس میں مداخلت کا کوئی حق نہیں ہے۔ ایرانی مسلح افواج کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال ماضی جیسی نہیں رہے گی اور امریکہ خطے کی سلامتی کو غیر مستحکم کرنے میں مرکزی کردار ادا کر رہا ہے۔ ایران نے یہ بھی دھمکی دی ہے کہ اگر اس کی توانائی برآمدات کو روکا گیا تو خطے میں امریکی مفادات اور اتحادیوں کے لیے استعمال ہونے والے دیگر تیل اور گیس کے برآمدی راستے بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔
ایران کا دعویٰ ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو اس کے ساتھ رابطہ اور ہم آہنگی کرنا ہو گی، جبکہ امریکہ اس موقف کو مسترد کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی آبی گزرگاہ قرار دیتا ہے۔ ایرانی فوج کے ترجمان نے مزید کہا ہے کہ آبنائے ہرمز جنگ، دشمنی یا امریکی جارحیت کے ذریعے کبھی نہیں کھولی جائے گی۔ ان کا زور ہے کہ اس آبی گزرگاہ کو بحال کرنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ امریکہ ایران کے حقوق کا احترام کرے اور طے پانے والے مفاہمتی معاہدے پر عمل درآمد یقینی بنائے۔
تازہ ترین کشیدگی اور فوجی کارروائیاں
گزشتہ چند ہفتوں سے امریکہ اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز کے معاملے پر کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اس کشیدگی کا آغاز ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز بند کرنے کے اعلان کے بعد ہوا، جس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کرنے کا اعلان کیا۔ امریکی فوج (سینٹ کام) نے ایران کے خلاف حملوں کا ایک اور سلسلہ شروع کیا، جس کا مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے لیے استعمال ہونے والی ایرانی صلاحیتوں کو کمزور کرنا تھا۔ امریکی لڑاکا طیاروں، ڈرونز اور بحری جنگی جہازوں نے ایران کے میزائل اور ڈرون مراکز، بحری صلاحیتوں اور ساحلی دفاعی نظاموں پر انتہائی درست نشانے والے ہتھیار استعمال کیے۔ ان حملوں میں ایرانی فوج کے فضائی دفاعی نظام، ساحلی ریڈار مراکز، میزائل اور ڈرون صلاحیتوں کے مراکز، جبکہ چھوٹی فوجی کشتیاں بھی نشانہ بنائی گئیں۔ اطلاعات کے مطابق، امریکی بحریہ نے ایرانی تجارتی جہازوں کو بھی نشانہ بنایا ہے جس سے آگ بھڑک اٹھی اور جانی نقصان کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔
جواب میں ایرانی پاسداران انقلاب نے خطے میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے اور دعویٰ کیا کہ اس نے قطر میں واقع امریکی العدید فضائی اڈے پر بیلسٹک میزائل حملے کر کے لڑاکا طیاروں کے سینٹر اور کمانڈ اینڈ کنٹرول مرکز کو تباہ کر دیا۔ بحرین اور کویت میں امریکی فوجی تنصیبات، عمان میں ریڈار نظام اور اردن کے پرنس حسن ایئر بیس پر ایندھن کے ذخائر اور اسلحہ ڈپوؤں کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا۔ ان حملوں کے بعد خلیجی ممالک، جو امریکہ کے اتحادی ہیں لیکن ایران کے جغرافیائی ہمسائے بھی ہیں، ایک مشکل صورتحال سے دوچار ہو گئے ہیں۔ خلیجی ممالک نے ایرانی حملوں کی مذمت کی ہے، جبکہ قطر اور عمان امریکہ کے ساتھ ایران کا تنازع ختم کرانے کے لیے سفارتی کوششوں میں مصروف ہیں۔
| پہلو | ایران کا موقف | امریکہ کا موقف |
|---|---|---|
| آبنائے ہرمز کی حیثیت | خود مختاری کا حصہ، انتظام کا حق۔ | بین الاقوامی آبی گزرگاہ، آزاد جہاز رانی کا حق۔ |
| بندش کا اختیار | دشمنانہ کارروائیوں کے جواب میں بند کرنے کا حق۔ | کسی صورت بندش قبول نہیں، ہر قیمت پر کھلا رکھا جائے گا۔ |
| ٹول/فیس | مذاکرات کے تحت عارضی اجازت یا مخصوص شرائط پر فیس کا مطالبہ۔ | عالمی پانیوں میں ٹول یا فیس قبول نہیں، ناجائز بھتہ خوری۔ |
| عسکری موجودگی | امریکی فوجی موجودگی خطے کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔ | خطے میں اپنے اور اتحادیوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے موجودگی۔ |
| مذاکرات کی شرط | پہلے جارحیت ختم کی جائے اور معاہدے پر عمل ہو۔ | آبنائے کی آزادی یقینی ہو، جوہری اور میزائل پروگرام محدود ہوں۔ |
عالمی معیشت پر اثرات اور تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ
آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی کے عالمی معیشت پر فوری اور سنگین اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ سب سے نمایاں اثر عالمی منڈی میں خام تیل اور ایل این جی کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔ جب بھی اس آبی گزرگاہ کی بندش کی دھمکیاں دی گئیں یا فوجی کارروائیاں ہوئیں، تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ مثال کے طور پر، حالیہ کشیدگی کے باعث امریکی اور برطانوی خام تیل کی قیمتیں ایک ہی روز میں 7 فیصد سے زائد بڑھ گئیں، جہاں امریکی خام تیل 75 ڈالر فی بیرل جبکہ برطانوی خام تیل (برینٹ) کی قیمت 79 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ مزید برآں، ایران پر امریکی حملوں کے بعد برینٹ خام تیل کی قیمت 85.28 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 80.02 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔ گولڈمین سیکس جیسے مالیاتی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر خلیجی ممالک سے تیل کی برآمدات محدود رہیں تو رواں سال کی چوتھی سہ ماہی میں برینٹ خام تیل کی قیمت 110 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔
ایشیا کے کئی ممالک، جیسے چین، جاپان اور جنوبی کوریا، اپنی تیل کی ضروریات کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے درآمد کرتے ہیں۔ چین اپنی ضرورت کا آدھا تیل، جاپان 95 فیصد اور جنوبی کوریا 71 فیصد تیل آبنائے ہرمز سے حاصل کرتے ہیں۔ اس لیے آبنائے کی بندش ان ممالک کی معیشتوں کے لیے بھی شدید نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ تیل اور گیس کی ترسیل میں رکاوٹیں عالمی سپلائی چینز کو متاثر کریں گی، جس سے نہ صرف توانائی کی لاگت بڑھے گی بلکہ مہنگائی میں بھی اضافہ ہوگا۔ عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش کی محض دھمکی ہی عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں کو ہلا کر رکھ سکتی ہے۔ یہ راستہ عالمی توانائی کے لیے ایک لائف لائن کی حیثیت رکھتا ہے، اور اس میں کوئی بھی رکاوٹ عالمی معیشت پر گہرے منفی اثرات مرتب کرے گی۔ مزید تفصیلات کے لیے ایکسپریس نیوز کی یہ رپورٹ اہمیت کی حامل ہے۔
بین الاقوامی قانون اور علاقائی ردعمل
بین الاقوامی قانون کے تحت آبنائے ہرمز کو ایک بین الاقوامی آبی گزرگاہ سمجھا جاتا ہے، جہاں تمام بحری جہازوں کو راستے سے گزرنے کے حقوق حاصل ہیں۔ اقوام متحدہ کے سمندری قانون سے متعلق 1982 کے کنونشن کے مطابق، گو کہ ایران اور عمان کو اپنے ساحلوں سے سمندری پانیوں تک علاقائی حقوق حاصل ہیں، مگر ہرمز ایک “بین الاقوامی آبنائے” ہے کیونکہ یہ خلیج فارس سے کھلے سمندر تک پہنچنے کا واحد ذریعہ ہے۔ عمان نے حالیہ کشیدگی کے تناظر میں تمام متعلقہ فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی قانون اور عالمی بحری اصولوں کی مکمل پاسداری کریں۔ عمانی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز میں محفوظ، آزاد اور بلا رکاوٹ بحری آمدورفت کو یقینی بنانے کے لیے عالمی قوانین اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کا احترام ناگزیر ہے۔ اس نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی بحالی کے لیے غیرجانبدار اور شفاف تعاون جاری رکھنے کا بھی اعادہ کیا ہے۔
خطے کے دیگر ممالک بھی اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ خلیجی ممالک، جو امریکہ کے اہم اتحادی ہیں لیکن ایران کے جغرافیائی ہمسائے بھی، دونوں ممالک کے درمیان براہ راست تصادم سے گریز کرنا چاہتے ہیں۔ قطر اور عمان جیسے ممالک امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں میں مصروف ہیں۔ سعودی عرب نے بھی ایران سے فوجی کشیدگی فوری روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ امریکہ کی مشرق وسطیٰ میں وسیع فوجی موجودگی، جس میں تقریباً 50 ہزار امریکی فوجی بحرین، قطر، کویت، اردن، عراق، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سمیت متعدد ممالک میں تعینات ہیں، خلیجی ممالک کے لیے ایک دوہری حقیقت بن چکی ہے۔ ایک طرف امریکی فوجی اڈے انہیں ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کے خلاف تحفظ فراہم کرتے ہیں، لیکن دوسری طرف وہ انہی حملوں کا ممکنہ ہدف بھی بنے ہوئے ہیں۔
مستقبل کے امکانات اور سفارتی کوششیں
امریکہ اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز پر جاری کشیدگی کے مستقبل کے امکانات پیچیدہ اور غیر یقینی ہیں۔ ایک طرف امریکہ کا واضح موقف ہے کہ آبنائے ہرمز بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے کھلی رہے گی اور وہ کسی بھی قیمت پر ایران کو اس پر مکمل کنٹرول حاصل نہیں کرنے دے گا۔ دوسری طرف، ایران اپنی خودمختاری اور اسٹریٹجک مفادات کے دفاع میں آبنائے کو ایک اہم کارڈ کے طور پر دیکھتا ہے اور امریکی جارحیت کے خاتمے تک اس کی بندش کا اعلان کر چکا ہے۔ اس صورتحال میں سفارتی کوششیں انتہائی اہمیت اختیار کر گئی ہیں۔
ماضی میں پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کی ہے تاکہ جنگ کا مستقل حل نکالا جا سکے۔ امریکی حکام نے بھی کہا ہے کہ امریکہ ایران کے ساتھ مسائل کے حل کے لیے پرعزم ہے۔ تاہم، تہران میں طاقت کی اندرونی کشمکش نے کسی معاہدے تک پہنچنے اور اسے برقرار رکھنے کو مشکل بنا دیا ہے۔ امریکہ یہ مطالبہ کر رہا ہے کہ ایران عوامی سطح پر بیان جاری کرے کہ آبنائے ہرمز کھلا ہے اور بحری جہازوں پر مزید حملے نہیں کیے جائیں گے۔ ایرانی حکام کے مطابق، اگرچہ امریکہ نے معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز سے متعلق ایران کے انتظامات کو قبول کیا تھا، تاہم بعد میں اس نے “دھوکے” کے ذریعے نیا راستہ قائم کرنے کی کوشش کی۔ اس کا مطلب ہے کہ دونوں فریقوں کے درمیان اعتماد کی شدید کمی ہے اور ایک پائیدار حل کے لیے طویل اور مشکل مذاکرات کی ضرورت ہوگی۔
ایرانی مسلح افواج کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے امریکہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی بنیادی ڈھانچے کو مزید نشانہ بنایا گیا تو اس کے نتائج صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا خطہ اس کے اثرات سے دوچار ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکی کارروائیاں جاری رہیں تو تنازع مزید شدت اختیار کر کے پورے مشرق وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ اس صورتحال میں عالمی برادری کو ایک پائیدار اور حقیقی امن کی کوششوں میں اپنا کردار ادا کرنا ہو گا تاکہ خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکے اور آبنائے ہرمز کی عالمی حیثیت برقرار رہے۔
نتیجہ
آبنائے ہرمز کا معاملہ امریکہ اور ایران کے درمیان محض ایک جغرافیائی تنازع نہیں بلکہ عالمی توانائی کی سلامتی، علاقائی استحکام اور بین الاقوامی قانون کے احترام کا مسئلہ ہے۔ امریکی وزیر خارجہ کا یہ عزم کہ ایران کو آبنائے ہرمز پر قبضہ نہیں کرنے دیا جائے گا، امریکہ کی عالمی تجارت اور اپنے اتحادیوں کے مفادات کے تحفظ کی حکمت عملی کا عکاس ہے۔ ایران کی جانب سے اپنی خودمختاری کے دفاع اور امریکی پابندیوں کے جواب میں آبنائے کو بند کرنے کی دھمکیاں خطے میں تناؤ میں مسلسل اضافے کا باعث بن رہی ہیں۔ حالیہ فوجی جھڑپوں اور بحری ناکہ بندی نے عالمی تیل کی منڈیوں میں بے چینی پیدا کر دی ہے، جس کے دور رس اقتصادی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
بین الاقوامی قانون آبنائے ہرمز کو ایک آزاد آبی گزرگاہ تسلیم کرتا ہے، اور عمان سمیت دیگر علاقائی ممالک اس کی پاسداری پر زور دے رہے ہیں۔ ایک پائیدار حل کے لیے سفارت کاری اور بات چیت ناگزیر ہے، لیکن دونوں فریقوں کے درمیان اعتماد کی بحالی ایک بڑا چیلنج ہے۔ جب تک امریکہ اور ایران آبنائے ہرمز کی حیثیت اور اس کے انتظام کے حوالے سے کسی متفقہ میکانزم پر نہیں پہنچتے، اس اہم آبی گزرگاہ پر کشیدگی برقرار رہنے کا امکان ہے۔ عالمی برادری کو اس بحران کے پرامن حل کے لیے مزید فعال کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ عالمی معیشت اور علاقائی امن کو مزید خطرات سے بچایا جا سکے۔


