مقبول خبریں

ایران دباؤ کے باوجود مزاحمت کے لیے تیار، عباس عراقچی کے 5 اہم بیانات

ایران دباؤ کے باوجود مزاحمت کے لیے تیار ہے، یہ وہ دوٹوک پیغام ہے جو ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی جانب سے عالمی برادری کو تواتر کے ساتھ دیا جا رہا ہے۔ مشرق وسطیٰ کی تیزی سے بدلتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی صورتحال میں ایران ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں اسے ایک طرف بین الاقوامی پابندیوں، فوجی دباؤ اور علاقائی کشیدگی کا سامنا ہے، تو دوسری طرف وہ اپنی قومی خودمختاری، علاقائی اثر و رسوخ اور دفاعی صلاحیتوں کو برقرار رکھنے کے عزم پر قائم ہے۔ عراقچی کے بیانات ایران کی اس گہری حکمتِ عملی کی عکاسی کرتے ہیں جس کا مقصد کسی بھی صورت میں بیرونی دباؤ کے سامنے جھکنا نہیں بلکہ مزاحمت اور سفارت کاری کے امتزاج سے اپنے قومی مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔

ایران دباؤ کے باوجود مزاحمت کے لیے تیار: عباس عراقچی کا موقف

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ ایران کسی بھی دباؤ یا دھمکیوں سے مرعوب ہونے والا نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران اپنی خودمختاری اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن صلاحیت رکھتا ہے اور وہ پابندیوں کے اثرات سے نمٹنے اور اپنے مفادات کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ عراقچی کے بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آ رہے ہیں جب امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے ایران پر معاشی اور عسکری دباؤ مسلسل بڑھایا جا رہا ہے۔ انہوں نے واشنگٹن کے دھمکی آمیز اور دباؤ پر مبنی رویے کو خطے میں امن کی کوششوں میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا ہے۔

عباس عراقچی نے اس بات کو واضح کیا ہے کہ بین الاقوامی قانون اور جارحیت کی تعریف سے متعلق قرارداد کے مطابق اگر کوئی ملک اپنی سرزمین یا سہولیات کسی جارح ریاست کو کسی دوسرے ملک پر غیر قانونی حملے کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہے تو اسے بھی جارحیت تصور کیا جاتا ہے اور حملے کا نشانہ بننے والے ملک کو اپنے دفاع کا جائز حق حاصل ہوتا ہے۔ یہ موقف اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایران کسی بھی فوجی جارحیت کی صورت میں بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ایران کی یہ مزاحمت خطے اور عالمی سطح پر اہم اثرات مرتب کر رہی ہے، مخالف بیانیوں کو کمزور کر رہی ہے اور اس بات کو یقینی بنا رہی ہے کہ حالیہ تنازع کے بعد ایران مزید مضبوط اور متحد ہو کر ابھرا ہے۔

بڑھتا ہوا عالمی دباؤ اور ایران کے چیلنجز

ایران کو کئی دہائیوں سے بین الاقوامی پابندیوں کا سامنا ہے، جن کا مقصد اس کے جوہری پروگرام کو روکنا اور اس کے علاقائی اثر و رسوخ کو کم کرنا ہے۔ حالیہ برسوں میں، امریکہ کی جانب سے جوہری معاہدے سے یکطرفہ علیحدگی اور “زیادہ سے زیادہ دباؤ” کی پالیسی کے بعد یہ پابندیاں مزید سخت ہو چکی ہیں۔ ان پابندیوں نے ایرانی معیشت پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں، جس کے نتیجے میں مہنگائی میں اضافہ اور کرنسی کی قدر میں کمی واقع ہوئی ہے۔ عالمی بینک نے بھی خبردار کیا ہے کہ ایرانی معیشت کساد بازاری کے خطرے سے دوچار ہے، اور 2025 اور 2026 میں مجموعی قومی پیداوار میں کمی کا امکان ہے۔

معاشی دباؤ کے علاوہ، ایران کو فوجی اور سیکیورٹی چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔ آبنائے ہرمز میں کشیدگی، خلیج فارس میں امریکی بحری موجودگی، اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے جوہری تنصیبات پر ممکنہ حملوں کی دھمکیاں خطے کو مسلسل غیر یقینی صورتحال سے دوچار کیے ہوئے ہیں۔ امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے ایرانی جوہری پروگرام کو “تباہ” کر دیا ہے اور اس کی عسکری صلاحیتوں کو بھی بڑی حد تک کمزور کیا ہے۔ تاہم، ایران ان دعوؤں کو مسترد کرتا ہے اور اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے پر زور دیتا ہے۔

مزاحمتی معیشت: خود انحصاری کی حکمتِ عملی

ایرانی حکمرانوں نے اقتصادی پابندیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ‘مزاحمتی معیشت’ کی حکمت عملی اپنائی ہے۔ اس پالیسی کا بنیادی مقصد غیر ملکی مصنوعات پر انحصار کم کرنا اور مقامی سطح پر اشیاء کی پیداوار کو فروغ دینا ہے۔ اس حکمتِ عملی کے تحت، ملک میں اسٹیل، پیٹروکیمیکلز اور بنیادی سامانِ زندگی کی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے، جس سے اندرونی مارکیٹ کو مکمل طور پر مفلوج ہونے سے بچایا گیا ہے۔

تہران یونیورسٹی کے ایک پروفیسر کے مطابق، ایران کی 80 فیصد سے زائد بنیادی غذائی ضروریات اور زیادہ تر ادویات ملک کے اندر ہی تیار ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے اگر بیرونی دنیا سے رابطہ منقطع بھی ہو جائے تو عوام کو غذائی قحط کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ اس کے علاوہ، ایران نے روایتی بین الاقوامی بینکنگ نظام سے کٹ جانے کے بعد ایک متوازی یعنی ‘شیڈو اکانومی’ قائم کر لی ہے۔ اس نظام کے ذریعے ایران غیر رسمی تجارتی نیٹ ورکس، غیر قانونی مالیاتی راستوں اور خفیہ طریقے سے توانائی کی برآمدات کو جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ پابندیوں کے اثرات کو زائل کیا جا سکے۔

عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق، گزشتہ دو سالوں کے دوران ایران کی معیشت تیزی سے بحال ہونا شروع ہوئی ہے، جس کی بنیادی وجہ کرونا کے بعد تیل کے شعبے کی سرگرمیوں میں اضافہ اور ملکی معاشی پالیسی میں مستقل مزاجی ہے۔ عالمی مالیاتی اداروں نے بھی اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ ایران کی معیشت نے جس سطح کی ‘شاک ریزیلینس’ دکھائی ہے، وہ کئی آزاد مگر نازک معیشتوں میں نظر نہیں آئی۔

ایران کی مزاحمتی معیشت کی کامیابی کا ایک اہم جزو اس کا توانائی کا شعبہ ہے۔ ایران دنیا کے سب سے بڑے تیل اور گیس کے ذخائر رکھنے والے ممالک میں شامل ہے، جسے “توانائی کی سپر پاور” سمجھا جاتا ہے۔ ان ذخائر کا موثر استعمال اور مقامی ضروریات کی تکمیل کے لیے ان کا تحفظ مزاحمتی معیشت کا کلیدی ستون ہے۔

معاشی اشاریہ20222023 (تخمینہ)2024 (تخمینہ)2025 (تخمینہ)2026 (تخمینہ)
خام ملکی پیداوار (GDP) اضافہ3.0%2.0%N/A-1.7% (کساد بازاری کا خطرہ)-2.8% (کساد بازاری کا خطرہ)
تیل کی برآمدات میں اضافہ9% سالانہ (قدرتی گیس)N/AN/AN/AN/A
زراعت کا حصہ (GDP)6.9% (2016 est.)N/AN/AN/AN/A
صنعت کا حصہ (GDP)35.3% (2016 est.)N/AN/AN/AN/A

ایران کا جوہری پروگرام: دفاعی ضرورت یا علاقائی تشویش؟

ایران کا جوہری پروگرام کئی دہائیوں سے بین الاقوامی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ ایران بارہا اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد جیسے توانائی کی پیداوار اور طبی مسائل کے لیے ہے، اور وہ جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش نہیں کر رہا ہے۔ اس کے باوجود، بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) اور مغربی طاقتوں کو ایران کی یورینیم افزودگی کی سطح اور رفتار پر تشویش ہے۔

حال ہی میں، ایران نے اعلان کیا ہے کہ وہ اب اپنے جوہری پروگرام پر عائد عالمی پابندیوں کا پابند نہیں رہا، کیونکہ اس کے اور عالمی طاقتوں کے درمیان ہونے والا تاریخی 10 سالہ معاہدہ (JCPOA) باضابطہ طور پر ختم ہو چکا ہے۔ 2015 میں طے پانے والے اس معاہدے کے تحت ایران کی یورینیم افزودگی پر پابندیاں لگائی گئیں تھیں، جبکہ اس کے بدلے تہران پر عائد بین الاقوامی اقتصادی پابندیاں نرم کی گئی تھیں۔ تاہم، امریکہ نے 2018 میں اس معاہدے سے یکطرفہ علیحدگی اختیار کر لی تھی، جس کے بعد ایران نے بھی معاہدے کی مختلف شرائط پر بتدریج عمل روک دیا۔

موجودہ صورتحال یہ ہے کہ ایران اس وقت یورینیم کو 60 فیصد تک افزودہ کر رہا ہے، جو کہ جوہری ہتھیاروں کی سطح (90 فیصد) کے قریب ہے۔ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ یہ سرگرمیاں کسی بھی پرامن شہری مقصد سے کہیں بڑھ کر ہیں۔ تخمینوں کے مطابق، ایران ایک ہفتے میں اتنی افزودہ یورینیم پیدا کر سکتا ہے جو ایک جوہری بم کے لیے کافی ہو اور ایک ماہ میں سات بموں کے لیے۔ اس امر نے اس کے ‘بریک آؤٹ ٹائم’ کو خطرناک حد تک کم کر دیا ہے۔

ان حالات میں، امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی کارروائیوں کے نتیجے میں ایران کے جوہری پروگرام کو شدید نقصان پہنچا ہے اور تہران کی عسکری صلاحیتیں بھی بڑی حد تک کمزور ہوئی ہیں۔ ان بیانات کے باوجود، ایران اپنے جوہری پروگرام کو اپنی دفاعی صلاحیت کا ایک اہم حصہ قرار دیتا ہے اور بین الاقوامی دباؤ کے باوجود اس سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں ہے۔

علاقائی سلامتی اور ایران کا سفارتی کردار

ایران مشرق وسطیٰ میں ایک کلیدی علاقائی کھلاڑی ہے، اور اس کا کردار خطے کی سلامتی اور استحکام کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ ایران کو نظر انداز کر کے مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے کوئی بھی نیا سیکیورٹی ڈھانچہ تشکیل نہیں دیا جا سکتا۔ ان کا کہنا ہے کہ پائیدار امن، علاقائی استحکام اور معاشی ترقی کے لیے خطے کے تمام ممالک کا باہمی تعاون انتہائی ضروری ہے۔

ایران کی خارجہ پالیسی میں پاکستان جیسے برادر مسلم ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات کو بھی ایک اہم جزو قرار دیا گیا ہے۔ پاکستان میں تعینات ایران کے سفیر نے دونوں ممالک کے مابین اچھے روابط کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ تہران اور اسلام آباد کے مابین کسی بھی قسم کا کوئی اختلاف نہیں ہے، جو مختلف شعبوں میں باہمی اور گہرے روابط کے لیے بہتر ہے۔

علاقائی کشیدگی کے تناظر میں، ایران نے سعودی عرب کے ساتھ اپنے تعلقات کی بحالی پر بھی اتفاق کیا ہے، جس کی ثالثی چین نے کی تھی۔ یہ پیش رفت خطے میں تناؤ کو کم کرنے اور علاقائی تعاون کو فروغ دینے کی طرف ایک مثبت قدم ہو سکتی ہے۔ تاہم، شام کی خانہ جنگی، یمن میں تنازع، اور اسرائیل کے ساتھ مسلسل کشیدگی جیسے مسائل اب بھی علاقائی سلامتی کے لیے چیلنجز بنے ہوئے ہیں۔

ایران نے ہمیشہ خطے میں استحکام اور مذاکرات کی حمایت کی ہے، تاہم اس نے قومی سلامتی اور خودمختاری پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے بھی عباس عراقچی کو یقین دہانی کرائی ہے کہ برطانیہ ایران کے خلاف جنگ کا حصہ نہیں بنے گا اور مسائل کے حل کے لیے سفارت کاری پر یقین رکھتا ہے۔ یہ بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ عالمی طاقتیں بھی ایران کے ساتھ سفارتی روابط کو برقرار رکھنے کی اہمیت کو تسلیم کرتی ہیں۔

ایک امریکی جریدے فارن افئیرز نے اپنی تجزیاتی رپورٹ میں کہا ہے کہ شدید فوجی دباؤ کے باوجود محور مقاومت اپنی ساخت اور فعالیت کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہا ہے اور متعدد مواقع پر خود کو تیزی سے از سر نو منظم بھی کیا ہے۔ جریدے کے مطابق، ایران اور اس کے علاقائی اتحادیوں نے شدید دباؤ کے باوجود نمایاں ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا ہے۔ یہ تجزیہ ایران کی علاقائی پوزیشن اور اس کے اتحادیوں کے نیٹ ورک کی پائیداری کو اجاگر کرتا ہے۔

آبنائے ہرمز کی اہمیت اور بحری گزرگاہوں پر کشیدگی

آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی مصنوعات کی نقل و حمل کے لیے ایک انتہائی اہم بحری گزرگاہ ہے۔ عالمی توانائی کی مصنوعات کا تقریباً پانچواں حصہ اس آبنائے سے گزرتا ہے۔ اس کی جغرافیائی اہمیت کے پیش نظر، ایران نے اس آبنائے میں اپنے کردار کو علاقائی دباؤ کے ایک اہم مرکز میں تبدیل کر دیا ہے۔

امریکی حکام کی جانب سے ایران پر آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں سے لازمی میری ٹائم انشورنس کے نام پر رقوم وصول کرنے اور انہیں پاسدارانِ انقلاب کی سرگرمیوں کے لیے استعمال کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ اس کے جواب میں، امریکی محکمہ خزانہ نے ایران کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کیا ہے جس میں دو ایرانی اداروں اور متعدد آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

عباس عراقچی نے امریکی اقدامات کو کھلی جارحیت اور جنگ بندی معاہدے کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی بندرگاہوں کا محاصرہ کسی بھی طور پر معمول کی کارروائی نہیں بلکہ ایک واضح جنگی اقدام ہے، جو جاری جنگ بندی کی روح اور اصولوں سے متصادم ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت کے انتظام کے لیے عمان کے ساتھ عملی طریقۂ کار قائم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔

رپورٹس کے مطابق، ایران کا مقصد کوئی حتمی فوجی فتح حاصل کرنا نہیں، بلکہ کشیدگی کو ایک طے شدہ حد میں رکھتے ہوئے اس کا دائرہ پھیلا کر امریکی دباؤ کو ناکام بنانا ہے تاکہ کسی بڑی جنگ کے بغیر ہی امریکا سے اپنی شرائط منوائی جا سکیں۔ آج نیوز کی رپورٹ کے مطابق، ایران کا واضح پیغام ہے کہ اگر واشنگٹن نے آبنائے ہرمز پر تہران کے کردار کو قبول نہ کیا تو یہ تنازع خلیجی خطے سے باہر بھی پھیل سکتا ہے۔

مذاکرات کی شرائط اور مستقبل کے امکانات

ایران اور امریکہ کے درمیان براہ راست مذاکرات کی بحالی ایک پیچیدہ اور حساس معاملہ ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ جب تک امریکا عبوری معاہدے کی خلاف ورزیوں کا ازالہ نہیں کرتا مذاکرات ممکن نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ثالث ممالک کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے لیکن اسے براہ راست مذاکرات نہیں کہا جا سکتا۔

ایرانی قیادت کا یہ ماننا ہے کہ ماضی میں لچک دکھانے کا نتیجہ صرف واشنگٹن کے مزید دباؤ کی صورت میں نکلا ہے، اس لیے معنی خیز مذاکرات سے پہلے اپنی طاقت اور دباؤ قائم کرنا ضروری ہے۔ ایران کا مؤقف یہ ہے کہ مذاکرات بالواسطہ ہوں، گفتگو صرف جوہری پروگرام تک محدود رہے اور اس کے بدلے میں اقتصادی مراعات پر بات ہو سکتی ہے۔ تاہم، یہ واضح نہیں کہ یہ عمل کسی حتمی معاہدے پر منتج ہوگا یا خطے کو مزید کشیدگی کی طرف لے جائے گا۔

اس وقت ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معاملات عالمی سطح پر مسلسل توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ واشنگٹن اب یہ جائزہ لے رہا ہے کہ آیا ایران مستقبل میں ایسی طویل مدتی تبدیلیاں کرنے کے لیے تیار ہے جن سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری کی راہ ہموار ہو سکے۔ جے ڈی وینس نے واضح کیا کہ اگر ایران مطلوبہ تبدیلیوں پر آمادگی ظاہر نہیں کرتا تو امریکا تہران پر دباؤ برقرار رکھے گا۔

ایران کی تاریخ مزاحمت اور ثابت قدمی سے بھری پڑی ہے۔ ایرانی انقلاب کے بعد سے، ایران کو مختلف بین الاقوامی اور علاقائی چیلنجز کا سامنا رہا ہے، لیکن اس نے ہمیشہ اپنے قومی مفادات اور خودمختاری کے دفاع کا عزم ظاہر کیا ہے۔ مشرق وسطیٰ کی اس بدلتی ہوئی صورتحال میں، ایران کا یہ موقف کہ وہ دباؤ کے باوجود مزاحمت کے لیے تیار ہے، خطے اور عالمی طاقتوں کے لیے ایک اہم پیغام ہے، جو مستقبل میں علاقائی استحکام کی نوعیت کا تعین کرے گا۔

نتیجہ

موجودہ عالمی منظر نامے میں، جہاں ایک طرف بین الاقوامی دباؤ اور پابندیاں ایران کی معیشت اور سلامتی کے لیے چیلنجز پیدا کر رہی ہیں، وہیں دوسری طرف ایرانی قیادت، خصوصاً عباس عراقچی کے بیانات، ایران کے غیر متزلزل عزم اور مزاحمت کی حکمتِ عملی کو نمایاں کرتے ہیں۔ ایران نے ‘مزاحمتی معیشت’ کے ذریعے خود انحصاری کی راہ اپنائی ہے اور اپنے جوہری پروگرام کو اپنی دفاعی صلاحیت کا لازمی جزو قرار دیا ہے۔ علاقائی سطح پر، ایران نے اپنی سفارتی کوششوں کو جاری رکھا ہے اور اپنے اتحادیوں کے ساتھ روابط کو مضبوط کیا ہے۔ آبنائے ہرمز جیسے حساس خطوں میں ایران کا کردار عالمی توانائی کی منڈیوں کے لیے اہمیت کا حامل ہے۔ اگرچہ مذاکرات کی راہ اب بھی دشوار نظر آتی ہے، لیکن ایران کا یہ واضح پیغام کہ وہ دباؤ کے سامنے جھکے گا نہیں بلکہ مزاحمت کے لیے تیار ہے، مشرق وسطیٰ کی آئندہ صورتحال پر گہرے اثرات مرتب کرے گا۔ ایران کی تاریخی ثابت قدمی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ وہ اپنے قومی مفادات کا تحفظ ہر قیمت پر کرے گا اور کسی بھی بیرونی مداخلت کا بھرپور جواب دے گا۔