مقبول خبریں

اسٹیٹ بینک کا آئندہ ڈیڑھ ماہ تک شرح سود 11.50 فی صد برقرار رکھنے کا فیصلہ: معاشی استحکام کی نئی راہیں

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اپنی مانیٹری پالیسی کمیٹی (MPC) کے حالیہ اجلاس میں آئندہ ڈیڑھ ماہ کے لیے پالیسی ریٹ کو 11.50 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک اندرونی اور بیرونی دونوں محاذوں پر متعدد معاشی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، جن میں مہنگائی کا دباؤ، عالمی منڈی میں اشیاء کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، اور معاشی نمو کے اہداف شامل ہیں۔ گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد کی زیر صدارت 27 جولائی 2026 کو ہونے والے اس اجلاس میں ملکی معاشی صورتحال، مہنگائی کے رجحان، اور مالیاتی پالیسی کے مختلف پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ یہ فیصلہ معیشت کو استحکام کی راہ پر گامزن رکھنے اور قلیل مدتی مہنگائی کے دباؤ کو قابو کرنے کی اسٹیٹ بینک کی حکمت عملی کا عکاس ہے۔

شرح سود برقرار رکھنے کے پس پردہ محرکات

اسٹیٹ بینک کے شرح سود کو 11.50 فیصد پر برقرار رکھنے کے فیصلے کے پیچھے کئی اہم محرکات کارفرما ہیں۔ ان میں سب سے اہم مہنگائی کا دباؤ ہے جو کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران عالمی عوامل کی وجہ سے دوبارہ سر اٹھانے لگا تھا۔ مالی سال 2026 کے ابتدائی چھ ماہ (جولائی تا فروری) کے دوران اوسط مہنگائی 5.5 فیصد رہی تھی، جو اسٹیٹ بینک کے مقررہ ہدف کے نچلی سطح کے مطابق تھی۔ تاہم، مارچ کے آغاز میں مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور اس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات، اشیائے خورونوش، اور شپنگ لاگت میں اضافے نے مہنگائی پر دوبارہ دباؤ ڈالا۔ اس کے نتیجے میں مئی 2026 میں افراط زر کی شرح 11.7 فیصد اور جون میں 11.1 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ اگرچہ قلیل مدتی بنیادوں پر مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے، لیکن طویل مدتی رجحان میں بہتری کی توقع ہے۔ گورنر اسٹیٹ بینک نے اپنی پریس کانفرنس میں یہ اشارہ دیا کہ جولائی میں مہنگائی میں کمی متوقع ہے جبکہ ستمبر کے بعد اس میں مزید نمایاں کمی آنے کی امید ہے۔ رواں مالی سال اوسط افراط زر تقریباً 7 فیصد رہنے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ، پاکستان کے اندرونی معاشی اشاریے بہتر ہو رہے ہیں، جو اس فیصلے کو تقویت دیتے ہیں کہ شرح سود کو برقرار رکھنے سے معیشت کو مزید استحکام ملے گا۔ مرکزی بینک کا یہ فیصلہ مہنگائی کے خدشات کو دور کرنے اور معیشت میں استحکام کو فروغ دینے کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش ہے، تاکہ معیشت کو پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکے اور قرضوں کی لاگت میں غیر ضروری اتار چڑھاؤ سے بچا جا سکے.

مہنگائی کا تناظر اور اسٹیٹ بینک کا ہدف

مہنگائی پاکستان کی معیشت کے لیے ایک دیرینہ چیلنج رہی ہے، اور اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کا بنیادی ہدف قیمتوں میں استحکام کو یقینی بنانا ہے۔ حالیہ فیصلہ اسی مقصد کے حصول کی ایک کڑی ہے۔ مانیٹری پالیسی کمیٹی نے مہنگائی کی موجودہ صورتحال اور اس کے مستقبل کے رجحانات کا گہرائی سے جائزہ لیا۔ اگرچہ مالی سال 2026 کے ابتدائی مہینوں میں افراط زر میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی، لیکن عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی اجناس کی قیمتوں، خصوصاً پیٹرولیم اور خوراک کی اشیاء کی قیمتوں نے دوبارہ مہنگائی پر دباؤ ڈالا۔

مئی 2026 میں مہنگائی کی شرح 11.7 فیصد اور جون میں 11.1 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ یہ اعدادوشمار اسٹیٹ بینک کے لیے تشویش کا باعث تھے، تاہم، کمیٹی کا یہ ماننا ہے کہ یہ اضافہ قلیل مدتی نوعیت کا ہے اور ستمبر کے بعد مہنگائی میں دوبارہ کمی آنا شروع ہو جائے گی۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق، رواں مالی سال (مالی سال 2027) اوسط افراط زر تقریباً 7 فیصد رہنے کا امکان ہے۔ اس ہدف کے حصول کے لیے شرح سود کو موجودہ سطح پر برقرار رکھنا ضروری سمجھا گیا ہے تاکہ مہنگائی کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے اور لوگوں کی قوت خرید کو مزید متاثر ہونے سے بچایا جا سکے، جبکہ معاشی سرگرمیوں کے لیے بھی ایک مستحکم ماحول فراہم کیا جا سکے۔

بیرونی کھاتوں اور زرمبادلہ کے ذخائر کی صورتحال

پاکستان کی معیشت کا بیرونی شعبہ شرح سود کے فیصلوں پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔ اسٹیٹ بینک کے حالیہ فیصلے میں بیرونی کھاتوں کی بہتر ہوتی ہوئی صورتحال کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے۔ گزشتہ مالی سال 2026 میں پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ نمایاں طور پر کم ہو کر صرف 139 ملین ڈالر رہا، جو کہ معاشی استحکام کی جانب ایک مثبت قدم ہے۔ رواں مالی سال (مالی سال 2027) کے لیے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ مجموعی قومی پیداوار (GDP) کے صفر سے ایک فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے۔

یہ بہتری متعدد عوامل کی وجہ سے ممکن ہوئی ہے، جن میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر (Remittances) کا مسلسل اضافہ شامل ہے۔ مالی سال 2026 میں ترسیلات زر 41.6 ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح پر پہنچیں، اور رواں مالی سال 2027 میں ان کے 44 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔ اس کے علاوہ، برآمدات میں بھی بتدریج اضافے کی توقع ہے، خاص طور پر حکومت کے معاون اقدامات اور آئی ٹی شعبے کی بہتری کے باعث۔ گورنر اسٹیٹ بینک نے دسمبر 2026 تک زرمبادلہ کے ذخائر کے 20 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کی پیشگوئی کی ہے، جو بیرونی استحکام کے لیے انتہائی اہم ہے۔

تاہم، یہ بھی حقیقت ہے کہ مالی سال 2027 میں پاکستان کو بیرونی قرضوں اور واجبات کی مد میں تقریباً 21.5 ارب ڈالر کی ادائیگیاں کرنی ہیں۔ ان ادائیگیوں کا انتظام اور روپے کی قدر کو مستحکم رکھنا اسٹیٹ بینک کے لیے ایک چیلنج رہے گا۔ شرح سود کو برقرار رکھنے سے ایک جانب بیرونی سرمایہ کاری کو راغب کرنے میں مدد مل سکتی ہے اور دوسری جانب روپے کی قدر میں استحکام برقرار رکھنے میں بھی مدد ملے گی۔

معاشی اشاریہمالی سال 2026 کی کارکردگی (تخمینہ شدہ)مالی سال 2027 کی توقعات
شرح سود11.50% (برقرار)11.50% (قلیل مدتی برقرار)
اوسط افراط زرجولائی-فروری: 5.5%، مئی: 11.7%، جون: 11.1%تقریباً 7%
جی ڈی پی گروتھ3.7%بہتری کی توقع
کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ$139 ملین0-1% آف جی ڈی پی
ترسیلات زر$41.6 ارب$44 ارب سے تجاوز کی توقع
زرمبادلہ کے ذخائربہتری کی جانبدسمبر 2026 تک $20 ارب سے زائد

معاشی نمو اور کاروباری شعبے پر اثرات

شرح سود کو برقرار رکھنے کے فیصلے کے ملکی معیشت اور خاص طور پر کاروباری شعبے پر ملے جلے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ایک جانب، شرح سود میں کمی نہ ہونے سے کاروباری لاگت بلند رہ سکتی ہے، جس سے نئی سرمایہ کاری اور صنعتی توسیع کی رفتار متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI) نے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے، ان کے مطابق بلند شرح سود صنعتی پیداوار، سرمایہ کاری اور برآمدات کو متاثر کر سکتی ہے۔ وہ نجی شعبے کی حوصلہ افزائی اور کاروباری لاگت میں کمی کے لیے شرح سود کو سنگل ڈیجٹ میں لانے کی وکالت کرتے ہیں۔

دوسری جانب، اسٹیٹ بینک کا یہ فیصلہ معیشت میں استحکام پیدا کرنے اور مہنگائی کو کنٹرول میں رکھنے کی کوشش ہے، جو طویل مدت میں کاروباری اداروں کے لیے زیادہ سازگار ماحول فراہم کرے گا۔ جب مہنگائی قابو میں ہو گی، تو کاروباری منصوبے زیادہ قابل پیشگوئی ہوں گے اور سرمایہ کاری کے فیصلے زیادہ آسانی سے کیے جا سکیں گے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق، مالی سال 2026 میں پاکستان کی جی ڈی پی گروتھ 3.7 فیصد رہی۔ رواں مالی سال کے لیے معاشی نمو میں مزید بہتری کی توقع ہے، خاص طور پر زرعی شعبے کی بہتر کارکردگی اور حکومتی ترقیاتی اقدامات کے باعث۔

اسٹیٹ بینک چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (SMEs) کو 2028 تک 1500 ارب روپے کے قرضے فراہم کرنے کا ہدف بھی مقرر کر چکا ہے۔ اس کے علاوہ، حکومتی تعمیراتی اسکیم کے تحت رواں سال ایک لاکھ گھروں کی تعمیر کا منصوبہ بھی جاری ہے، جو کہ معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں مدد دے گا۔ ان اقدامات سے شرح سود کے استحکام کے ساتھ ساتھ معاشی نمو کو بھی سہارا ملے گا۔

عالمی عوامل اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی کا کردار

اسٹیٹ بینک کے مانیٹری پالیسی کے فیصلوں پر عالمی عوامل اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی کا گہرا اثر ہوتا ہے۔ حالیہ فیصلے میں بھی مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے خدشات کو ایک اہم عنصر کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ براہ راست ملکی درآمدی بل، افراط زر اور روپے کی قدر کو متاثر کرتا ہے۔ پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے، اس لیے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ملکی معیشت پر شدید دباؤ ڈالتا ہے۔

اسی طرح، عالمی سپلائی چینز میں رکاوٹیں اور اشیائے خوراک کی قیمتوں میں اضافہ بھی پاکستان میں مہنگائی کا باعث بنتا ہے۔ اسٹیٹ بینک نے تسلیم کیا ہے کہ عالمی حالات اور جغرافیائی سیاسی صورتحال افراط زر پر گہرا اثر ڈال رہی ہے۔ اس لیے، شرح سود کو برقرار رکھنے کا فیصلہ ایک محتاط انداز کی عکاسی کرتا ہے جس کا مقصد اندرونی استحکام کو بیرونی جھٹکوں سے بچانا ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کے ساتھ جاری پروگرام کے اہداف کو حاصل کرنے کے لیے بھی ایک مضبوط اور محتاط مالیاتی پالیسی ضروری ہے، اور اسٹیٹ بینک اس پر عمل پیرا ہے۔ عالمی رسک فیکٹر میں کمی اور بیرونی مالی صورتحال میں بہتری سے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کا امکان ہے۔

اسٹیٹ بینک کے گورنر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عالمی حالات کے باوجود ترسیلات زر اور روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس کے ذریعے آنے والے فنڈز جیسے ذرائع سے بیرونی آمد بہتر رہے گی۔ یہ صورتحال بیرونی دباؤ کو برداشت کرنے کی صلاحیت کو بڑھاتی ہے۔
اسٹیت بینک کی جانب سے مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاسوں اور فیصلوں میں مزید شفافیت لانے کا عزم بھی ظاہر کیا گیا ہے، جس کے تحت اب مانیٹری پالیسی سال میں چار بار پریس کانفرنس کے ذریعے جاری کی جائے گی۔

مستقبل کے چیلنجز اور حکمت عملی

اسٹیٹ بینک کا شرح سود کو برقرار رکھنے کا فیصلہ قلیل مدتی استحکام کی عکاسی کرتا ہے، لیکن مستقبل کے لیے کئی چیلنجز اب بھی درپیش ہیں۔ مہنگائی پر قابو پانا سب سے اہم ہدف ہے، اور اس کے لیے صرف شرح سود کو برقرار رکھنا کافی نہیں ہوگا۔ حکومت کو مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنا ہوگا، غیر ضروری اخراجات میں کمی لانی ہوگی، اور ٹیکس کے دائرہ کار کو بڑھانا ہوگا تاکہ آمدنی اور اخراجات کے درمیان توازن قائم کیا جا سکے۔

علاوہ ازیں، برآمدات میں پائیدار اضافہ حاصل کرنا اور درآمدی بل کو مؤثر طریقے سے منظم کرنا بھی بہت ضروری ہے۔ پاکستان کو اپنی برآمدات میں تنوع لانے اور عالمی منڈیوں میں اپنی مسابقت کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ آئی ٹی سیکٹر اور فوڈ سیکٹر کی کارکردگی میں بہتری سے برآمدات میں بتدریج اضافے کی توقع ہے۔

بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں کا انتظام ایک اور بڑا چیلنج ہے۔ اسٹیٹ بینک اور حکومت کو دوست ممالک اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ قریبی رابطہ رکھنا ہوگا تاکہ قرضوں کو رول اوور کیا جا سکے اور نئے فنانسنگ ذرائع حاصل کیے جا سکیں۔ گورنر اسٹیٹ بینک نے واضح کیا ہے کہ FY27 میں 21.5 ارب ڈالر کے بیرونی قرضے اور واجبات ادا کرنے ہیں، جن میں سے 11 ارب ڈالر دوست ممالک سے رول اوور ہونے کی توقع ہے۔ یہ حکمت عملی قرضوں کے بوجھ کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔

موجودہ شرح سود کا چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار پر کیا اثر پڑے گا، اس پر بھی نظر رکھنا ضروری ہے۔ اگرچہ اسٹیٹ بینک نے SMEs کے لیے قرضوں کا ہدف مقرر کیا ہے، لیکن بلند شرح سود قرضوں کی مانگ کو متاثر کر سکتی ہے۔ اس لیے، نجی شعبے کی ترقی کے لیے مزید مراعات اور سہولیات فراہم کرنا ضروری ہوگا تاکہ معاشی نمو کے اہداف حاصل کیے جا سکیں۔ حکومت کی جانب سے تعمیراتی شعبے میں ایک لاکھ گھروں کی تعمیر کا منصوبہ بھی معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک جامع اور مربوط معاشی حکمت عملی کی ضرورت ہے جو مالیاتی اور مالیاتی پالیسیوں کو ہم آہنگ کر سکے۔ ایکسپریس نیوز کی رپورٹ کے مطابق، اسٹیٹ بینک کی یہ پالیسی پاکستان کی معاشی خود مختاری کو برقرار رکھتے ہوئے بیرونی دباؤ کا مقابلہ کرنے میں معاون ثابت ہوگی۔

نتیجہ

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا آئندہ ڈیڑھ ماہ تک شرح سود 11.50 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ ایک محتاط اور سوچا سمجھا اقدام ہے، جس کا مقصد قلیل مدتی مہنگائی کے دباؤ کو قابو میں رکھنا اور ملکی معیشت میں پائیدار استحکام کو فروغ دینا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب ملک اندرونی معاشی اشاریوں میں بہتری دیکھ رہا ہے لیکن عالمی جغرافیائی سیاسی صورتحال اور اجناس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باعث مہنگائی کے نئے چیلنجز سامنے آ رہے ہیں۔

اگرچہ اس فیصلے پر کاروباری حلقوں کی جانب سے کچھ تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے، لیکن اسٹیٹ بینک کا یہ ماننا ہے کہ طویل مدت میں قیمتوں میں استحکام اور بیرونی کھاتوں میں بہتری ہی معاشی ترقی کی حقیقی بنیاد فراہم کرے گی۔ ترسیلات زر میں ریکارڈ اضافہ، کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں نمایاں کمی، اور زرمبادلہ کے ذخائر میں متوقع بہتری جیسے مثبت اشاریے اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان کی معیشت درست سمت میں گامزن ہے، تاہم عالمی عوامل کی نگرانی اور ایک جامع معاشی حکمت عملی پر مستقل عمل درآمد مستقبل میں بھی کامیابی کی کلید ہو گی۔ یہ فیصلہ پاکستان کی معیشت کو مزید لچکدار اور مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔