مقبول خبریں

ایران جنگ، ٹرمپ انتظامیہ اور عسکری قیادت کے درمیان اختلافات سامنے آ گئے 2026

ایران جنگ، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے دوران ایک ایسا موضوع رہا جس نے وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون کے درمیان گہرے اختلافات کو جنم دیا۔ ٹرمپ کے عہد صدارت میں، ایران کے خلاف سخت گیر پالیسی، اقتصادی پابندیوں اور فوجی دباؤ کی مہم نے خطے میں کشیدگی میں بے پناہ اضافہ کیا۔ تاہم، ان جارحانہ اقدامات کے ممکنہ نتائج اور حکمت عملی کے اطلاق کے حوالے سے صدر ٹرمپ اور ان کی عسکری قیادت کے درمیان شدید اختلافات سامنے آئے، جس نے امریکی خارجہ پالیسی کو ایک پیچیدہ صورتحال سے دوچار کیا۔ یہ داخلی اختلافات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ امریکہ کی ایران پالیسی محض سیاسی فیصلوں کا مجموعہ نہیں تھی بلکہ اس میں عسکری حکمت عملی اور اس کے ممکنہ مضمرات پر گہری کشمکش بھی شامل تھی۔

ٹرمپ کی “زیادہ سے زیادہ دباؤ” کی حکمت عملی کا آغاز

ڈونلڈ ٹرمپ نے 2018 میں ایران کے ساتھ طے پانے والے جوہری معاہدے (JCPOA) سے دستبرداری کا اعلان کرتے ہوئے ایران پر “زیادہ سے زیادہ دباؤ” کی حکمت عملی کا آغاز کیا۔ اس حکمت عملی کا مقصد ایران کی معیشت کو مفلوج کرنا اور اسے نئے، سخت شرائط پر مبنی معاہدے کے لیے مذاکرات پر مجبور کرنا تھا۔ ٹرمپ انتظامیہ نے ایران پر سخت ترین اقتصادی پابندیاں عائد کیں، جن میں اس کی تیل کی برآمدات کو صفر تک لانے کی کوششیں بھی شامل تھیں۔ اس پالیسی کے حامیوں کا خیال تھا کہ اقتصادی دباؤ ایران کو اپنے علاقائی اثر و رسوخ کو کم کرنے اور اپنے میزائل پروگرام پر لگام ڈالنے پر مجبور کر دے گا۔ تاہم، اس حکمت عملی کے آغاز سے ہی اس کے مؤثر ہونے اور ممکنہ نتائج پر داخلی طور پر بحث شروع ہو گئی تھی۔ امریکی انٹیلی جنس اداروں کا اندازہ تھا کہ فوجی دباؤ اور پابندیوں کے باوجود ایران کے تزویراتی رویے میں تبدیلی نہیں آئی، جس کے باعث واشنگٹن کی دباؤ پر مبنی حکمت عملی مؤثر ثابت نہیں ہو سکی۔ وال سٹریٹ جرنل جیسے باخبر ذرائع نے رپورٹ کیا کہ وائٹ ہاؤس ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید توسیع پر غور کر رہا تھا، جس کے پیش نظر امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں اضافی فوجی، طبی عملہ اور جدید ہتھیار منتقل کرنا شروع کر دیے تھے۔ رپورٹ کے مطابق امریکی اسپیشل آپریشنز فورسز خطے میں پہنچ چکی تھیں، جبکہ مشرقِ وسطیٰ کے مختلف مقامات پر لڑاکا طیارے تعینات کیے گئے تھے۔

عسکری قیادت کے تحفظات اور طویل جنگ کا خدشہ

ٹرمپ انتظامیہ کی ایران پالیسی پر امریکی عسکری قیادت نے گہرے تحفظات کا اظہار کیا۔ پینٹاگون کے اعلیٰ حکام اور فوجی مشیران نے بارہا صدر ٹرمپ کو خبردار کیا کہ ایران کے خلاف کسی بھی بڑی فوجی کارروائی کے نتیجے میں ایک طویل اور مہنگی جنگ چھڑ سکتی ہے، جس کے علاقائی اور عالمی سطح پر تباہ کن نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ ان خدشات میں امریکی فوجیوں کے جانی نقصان، خطے میں امریکی اڈوں اور اتحادی ممالک پر ممکنہ جوابی حملے، اور امریکی اسلحے کے ذخائر پر دباؤ شامل تھے۔

سینیئر فوجی قیادت نے صدر ٹرمپ کو بریفنگ دیتے ہوئے واضح کیا کہ ایران کی جانب سے چھوٹے اور سستے ڈرونز کے حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے مہنگے انٹرسیپٹر میزائلوں کا استعمال امریکی ذخائر کو تیزی سے ختم کر سکتا ہے۔ سابق امریکی وزیر دفاع اور سی آئی اے کے سربراہ لیون پینیٹا نے بھی ٹرمپ کی فوجی حکمت عملی پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ جاری جنگوں کا کوئی واضح نتیجہ نہیں نکلتا اور فوجی کارروائیاں ایران کو پیچھے ہٹنے پر مجبور نہیں کریں گی، بلکہ یہ امریکہ پر اہم اقتصادی بوجھ ڈالیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ بغیر کسی واضح مقصد کے طویل تنازعات عموماً کامیابی کے ساتھ ختم نہیں ہوتے۔ عسکری حکام کا بنیادی مؤقف یہ تھا کہ فوجی کارروائی کے بجائے سفارتی ذرائع کو ترجیح دی جانی چاہیے تاکہ تنازع مزید نہ بڑھے اور خطے کا استحکام برقرار رہے۔ یہ تحفظات صدر ٹرمپ کی فوری اور فیصلہ کن کارروائی کی خواہش کے ساتھ براہ راست متصادم تھے، جس کی وجہ سے وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون کے درمیان کشیدگی برقرار رہی۔

جان بولٹن: سخت گیر موقف اور علیحدگی

قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن ٹرمپ انتظامیہ کے ان سرفہرست حکام میں سے ایک تھے جو ایران کے خلاف انتہائی سخت گیر موقف رکھتے تھے۔ وہ طویل عرصے سے ایران میں حکومت کی تبدیلی کے حامی تھے اور فوجی کارروائی کو ایک قابل عمل آپشن سمجھتے تھے۔ ان کے ایران کے حوالے سے جارحانہ خیالات صدر ٹرمپ کے بعض محتاط فیصلوں سے متصادم تھے۔ بولٹن کا خیال تھا کہ ایران نے مذاکرات اور سفارتی چالوں کے ذریعے واشنگٹن کو اپنی مرضی کے مطابق کھیلنے پر مجبور کیا ہے اور امریکی انتظامیہ نے بعض مواقع پر ایران کے ارادوں اور حکمت عملی کا درست اندازہ نہیں لگایا۔

ٹرمپ اور بولٹن کے درمیان اختلافات کئی مواقع پر کھل کر سامنے آئے، خاص طور پر جب صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ براہ راست فوجی تصادم سے گریز کیا۔ ستمبر 2019 میں، جان بولٹن کو ان اختلافات کے باعث ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ ان کی برطرفی ایران پر امریکی پالیسی میں داخلی تقسیم کی ایک واضح علامت تھی، جہاں ایک طرف صدر ٹرمپ تھے جو “زیادہ سے زیادہ دباؤ” کے باوجود براہ راست جنگ سے گریزاں تھے، اور دوسری طرف بولٹن جیسے حکام تھے جو ایران کے خلاف فیصلہ کن فوجی کارروائی کے خواہاں تھے۔

قاسم سلیمانی کا قتل اور اس کے بعد کے حالات

جنوری 2020 میں ایرانی پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے کمانڈر میجر جنرل قاسم سلیمانی کا بغداد میں امریکی ڈرون حملے میں قتل ٹرمپ انتظامیہ کی ایران پالیسی کا ایک اہم ترین اور سب سے زیادہ متنازعہ واقعہ تھا۔ صدر ٹرمپ نے اس حملے کا حکم دیا تھا، یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ سلیمانی پانچ امریکی فوجی اڈوں پر حملوں کی تیاری کر رہے تھے اور ان کی ہلاکت نے خطے میں سلامتی کو یقینی بنایا۔ یہ واقعہ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کو انتہائی بلندی پر لے گیا اور خطے کو ایک مکمل جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا۔

اگرچہ ٹرمپ نے اس فیصلے کی ذمہ داری قبول کی، لیکن یہ قیاس آرائیاں موجود تھیں کہ اس حملے کے فیصلے پر بھی داخلی طور پر بحث اور اختلافات پائے جاتے ہوں گے۔ عسکری قیادت ممکنہ جوابی کارروائیوں اور خطے میں امریکی اہلکاروں کی حفاظت کے بارے میں فکرمند تھی۔ سلیمانی کے قتل کے بعد ایران نے عراق میں امریکی فوجی اڈوں پر جوابی میزائل حملے کیے، جس سے امریکی فوجیوں کو شدید چوٹیں آئیں، اگرچہ ہلاکتوں کی تعداد کم تھی۔ اس واقعے نے عسکری قیادت کے خدشات کو مزید تقویت بخشی کہ ایران کے خلاف کوئی بھی براہ راست فوجی اقدام بڑے پیمانے پر جوابی کارروائی کا باعث بن سکتا ہے۔

تنازع کے اہم پہلوٹرمپ انتظامیہ کا موقفعسکری قیادت کے تحفظات
ایران پر دباؤ کی نوعیتزیادہ سے زیادہ اقتصادی پابندیاں اور جارحانہ فوجی دھمکیاں۔دباؤ کی بجائے سفارتی حل پر زور، طویل جنگ سے گریز۔
فوجی کارروائی کا امکانضرورت پڑنے پر تمام آپشنز کھلے، بشمول فوجی کارروائی۔بڑے پیمانے پر جوابی حملوں اور جانی نقصان کا خدشہ۔
اسلحہ کے ذخائرامریکی فوج کی مکمل عسکری صلاحیت پر یقین۔انٹرسیپٹر میزائلوں کی کمی کا خدشہ، طویل جنگ کی صورت میں چیلنجز۔
حکمت عملی میں تسلسلمتضاد بیانات، جنگ اور مذاکرات کے درمیان تذبذب۔ایک واضح اور پائیدار حکمت عملی کی ضرورت۔
سفارتی کوششیںمذاکرات پر آمادگی کا اظہار، لیکن سخت شرائط پر۔تنازع کے حل کے لیے سفارت کاری کو اولین ترجیح۔

ٹرمپ کے متضاد بیانات اور حکمت عملی میں تذبذب

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران پالیسی کی ایک نمایاں خصوصیت ان کے متضاد بیانات اور حکمت عملی میں پایا جانے والا تذبذب تھا۔ ایک طرف وہ ایران کو مکمل تباہی کی دھمکیاں دیتے تھے، اور دوسری طرف مذاکرات کی میز پر آنے کا عندیہ بھی دیتے تھے۔ امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس نے انکشاف کیا تھا کہ صدر ٹرمپ کے متضاد بیانات اور سوشل میڈیا پوسٹس نے ان کے اپنے قریبی حلقوں میں بھی تشویش پیدا کر دی تھی۔ ان کے معاونین کے مطابق، صدر ٹرمپ کے پاس کوئی واضح حکمت عملی موجود نہیں تھی اور وہ بدلتی ہوئی صورتحال کے مطابق فیصلے کر رہے تھے، جس سے ان کے مشیر بھی پریشان تھے۔

بعض اوقات ٹرمپ کے قریبی مشیر انہیں یہ مشورہ دیتے تھے کہ امریکہ کو ایران کے خلاف اپنی کارروائی کو کامیاب قرار دے کر جنگ ختم کر دینی چاہیے اور وہاں سے دستبردار ہو جانا چاہیے۔ وائٹ ہاؤس کے ٹیک اور اے آئی مشیر ڈیوڈ سیکس نے ٹرمپ کو یہ مشورہ دیا کہ امریکہ کو فتح کا اعلان کرتے ہوئے ایران سے نکل جانا چاہیے تاکہ ایک طویل جنگ میں الجھنے سے بچا جا سکے۔ تاہم، ٹرمپ کا اپنا مؤقف تھا کہ اس جنگ کا اختتام اسی وقت ہوگا جب انہیں مناسب لگے گا۔ اس قسم کے متضاد پیغامات نے نہ صرف خطے میں امریکی اتحادیوں کو الجھن میں ڈالا بلکہ ایران کو بھی اپنی حکمت عملی وضع کرنے کے مواقع فراہم کیے۔

داخلی اختلافات کے علاقائی اور عالمی اثرات

ٹرمپ انتظامیہ اور عسکری قیادت کے درمیان ایران پالیسی پر داخلی اختلافات کے علاقائی اور عالمی سطح پر گہرے اثرات مرتب ہوئے۔ ایک غیر متزلزل اور واضح حکمت عملی کی عدم موجودگی نے ایران کو موقع دیا کہ وہ امریکی دباؤ کا مقابلہ کرے اور اپنی علاقائی سرگرمیوں کو جاری رکھے۔ سابق امریکی قومی سلامتی مشیر جان بولٹن نے تو یہاں تک کہا تھا کہ ایران نے ٹرمپ کو “وائلن کی طرح بجایا ہے”۔

یہ داخلی رٹیں نہ صرف امریکہ کی ساکھ کو متاثر کرتی تھیں بلکہ خطے میں اس کے اتحادیوں، خصوصاً سعودی عرب اور اسرائیل، کو بھی غیر یقینی کی صورتحال سے دوچار کرتی تھیں۔ جب امریکہ کے اپنے اندر ایران کے حوالے سے متفقہ موقف موجود نہ ہو تو اتحادیوں کے لیے بھی اپنی حکمت عملی کو ہم آہنگ کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ان اختلافات نے ایران کے لیے بھی یہ تاثر پیدا کیا کہ امریکی انتظامیہ کے اندر مختلف لابیاں سرگرم ہیں، اور وہ اس تقسیم کا فائدہ اٹھا کر اپنے مقاصد حاصل کر سکتا ہے۔ امریکی انٹیلی جنس اداروں کے جائزے کے مطابق، ایران بیرونی دباؤ کو صرف سکیورٹی خطرہ نہیں بلکہ قومی خودمختاری اور شناخت پر حملہ تصور کرتا ہے، جس کے نتیجے میں داخلی اختلافات پس منظر میں چلے جاتے ہیں اور قومی یکجہتی میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف خطے میں عدم استحکام کو بڑھایا بلکہ عالمی طاقتوں کے لیے بھی اس بحران کے حل میں رکاوٹیں پیدا کیں۔

بیرونی مبصرین اور تجزیہ کاروں کے مطابق، وائٹ ہاؤس کے اندر جاری یہ اختلافات اس بات کی نشاندہی کرتے تھے کہ ایران کے معاملے پر امریکی قیادت میں حکمت عملی کے حوالے سے مکمل اتفاق رائے موجود نہیں تھا۔ اس سے امریکہ کی خارجہ پالیسی کی تاثیر متاثر ہوئی اور خطے میں اس کے کردار پر سوالات اٹھے۔ اس حوالے سے مزید گہرائی سے تجزیہ کے لیے ڈان نیوز کی ایک رپورٹ دیکھی جا سکتی ہے۔

نتیجہ

ٹرمپ انتظامیہ کے دوران ایران جنگ کے معاملے پر صدر اور عسکری قیادت کے درمیان اختلافات امریکی خارجہ پالیسی کی پیچیدگیوں کو نمایاں کرتے ہیں۔ ایک طرف صدر ٹرمپ تھے جو “زیادہ سے زیادہ دباؤ” کے ذریعے ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنا چاہتے تھے، اور ضرورت پڑنے پر فوجی کارروائی کی دھمکیاں بھی دیتے تھے۔ دوسری طرف، پینٹاگون کے اعلیٰ عہدیدار اور فوجی مشیر تھے جو ایک طویل اور غیر متوقع جنگ کے خطرات، امریکی وسائل کی کمی، اور خطے میں مزید عدم استحکام کے بارے میں گہرے تحفظات رکھتے تھے۔ جان بولٹن جیسے سخت گیر مشیروں کی موجودگی اور پھر ان کی علیحدگی ان داخلی کشمکش کی واضح مثالیں ہیں۔

قاسم سلیمانی کا قتل ایک ایسا لمحہ تھا جہاں یہ اختلافات اپنے عروج پر پہنچے، لیکن اس کے بعد بھی حکمت عملی میں تذبذب برقرار رہا۔ ان داخلی رٹوں نے نہ صرف امریکی خارجہ پالیسی کے مؤثر نفاذ کو چیلنج کیا بلکہ ایران کو بھی یہ موقع فراہم کیا کہ وہ امریکی کمزوریوں کا فائدہ اٹھائے۔ بالآخر، ٹرمپ انتظامیہ کی ایران پالیسی ایک پیچیدہ وراثت چھوڑ گئی، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ محض سیاسی ارادے کافی نہیں ہوتے، بلکہ عسکری حقائق، سفارتی حکمت عملی، اور داخلی ہم آہنگی بھی کامیاب خارجہ پالیسی کے لیے کلیدی اہمیت رکھتے ہیں۔ یہ اختلافات اس بات کی بھی تصدیق کرتے ہیں کہ امریکہ کی ایران پالیسی کا مستقبل ہمیشہ ایک نازک توازن پر مبنی رہے گا، جہاں سیاسی عزائم اور عسکری حقیقت پسندی کے درمیان کشمکش جاری رہے گی۔