مقبول خبریں

میو اسپتال میں کروڑوں روپے کے اسٹنٹس اور بیلونز کہاں گئے؟ آڈٹ رپورٹ نے تہلکہ مچا دیا2026

میو اسپتال میں کروڑوں روپے کے اسٹنٹس اور بیلونز کے غائب ہونے کا حالیہ انکشاف ملک کے صحت کے نظام میں رائج بدعنوانی اور بدانتظامی کا ایک اور المناک باب ہے. لاہور کے اس سب سے بڑے سرکاری اسپتال کے شعبہ امراض قلب میں سامنے آنے والی آڈٹ رپورٹ نے نہ صرف انتظامیہ بلکہ عوام میں بھی شدید تشویش کی لہر دوڑا دی ہے. یہ معاملہ صرف مالی بے ضابطگیوں تک محدود نہیں، بلکہ ہزاروں دل کے مریضوں کی زندگیوں سے کھیلنے کے مترادف ہے جو علاج کے لیے سرکاری اداروں پر انحصار کرتے ہیں.

آڈٹ رپورٹ کے تہلکہ خیز انکشافات: تفصیلات کیا ہیں؟

آڈٹ رپورٹ نے میو اسپتال لاہور کے کیتھ لیب میں کروڑوں روپے مالیت کے کارڈیک اسٹنٹس اور بیلونز کے ریکارڈ میں سنگین بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی ہے. رپورٹ کے مطابق، 2 کروڑ 23 لاکھ روپے سے زائد مالیت کے طبی آلات لاپتہ پائے گئے ہیں. اس میں ایک کروڑ 13 لاکھ روپے مالیت کے 232 اسٹنٹس اور ایک کروڑ 10 لاکھ روپے مالیت کے 1059 کارڈیک بیلونز شامل ہیں جن کا ریکارڈ مریضوں کے علاج سے مطابقت نہیں رکھتا. یہ انتہائی پریشان کن بات ہے کہ ایسے جان بچانے والے آلات کا کوئی حساب کتاب موجود نہیں ہے.

آڈٹ رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ بعض پرانے مریضوں کے رجسٹریشن نمبرز اور اسٹکرز کو استعمال کرکے ریکارڈ کو ایڈجسٹ کرنے کی کوشش کی گئی. اس کا مطلب ہے کہ ریکارڈ میں مبینہ ردوبدل کیا گیا تاکہ گمشدہ سامان کی چوری کو چھپایا جا سکے. مریضوں کی فائلوں، ایم آر نمبرز اور علاج کے ریکارڈ سے ان استعمال شدہ طبی آلات کی تصدیق نہیں ہو سکی، جو اس بات کی واضح دلیل ہے کہ کچھ سنگین گڑبڑ ہوئی ہے. کیتھ لیب کے اسٹور ریکارڈ اور ڈاکٹروں کی پروسیجر رپورٹس میں واضح تضادات پائے گئے ہیں، جس پر آڈٹ رپورٹ میں فوری تحقیقات کی سفارش کی گئی ہے.

لاپتہ کروڑوں روپے کی طبی اشیاء: مریضوں پر اثرات اور سنگین سوالات

کروڑوں روپے کے اسٹنٹس اور بیلونز کا سرکاری اسپتال سے غائب ہو جانا محض مالی بے ضابطگی کا معاملہ نہیں، بلکہ یہ ہزاروں غریب اور ضرورت مند مریضوں کی زندگیوں کے ساتھ کھلواڑ ہے. دل کے مریضوں کے لیے اسٹنٹس اور بیلونز ایسے آلات ہیں جو ان کی بند شریانوں کو کھولنے اور انہیں نئی زندگی دینے میں مدد دیتے ہیں. جب یہ آلات دستیاب نہ ہوں یا چوری ہو جائیں تو مریضوں کو یا تو مہنگے نجی اسپتالوں کا رخ کرنا پڑتا ہے جہاں وہ علاج کی بھاری قیمت ادا کرنے سے قاصر ہوتے ہیں، یا پھر انہیں اپنی قسمت پر چھوڑ دیا جاتا ہے. فروری 2026 میں بھی میو اسپتال میں کارڈیک اسٹنٹ کا اسٹاک ختم ہونے کے باعث پرائمری اینجیوگرافی کی سہولت بند کر دی گئی تھی، جس سے دل کے مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا. یہ حالیہ واقعہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ سسٹم میں گہرے مسائل موجود ہیں جن کا فوری حل ضروری ہے.

اس معاملے سے کئی سنگین سوالات جنم لیتے ہیں:

  • یہ طبی سامان کہاں چلا گیا؟ کیا اسے واقعی چوری کر کے نجی اسپتالوں کو فروخت کیا گیا، جیسا کہ رپورٹ میں الزام لگایا گیا ہے؟
  • اس چوری میں کون کون سے افراد ملوث ہیں؟ کیا یہ صرف ایک فرد کا کام ہے یا ایک منظم گروہ اس کے پیچھے ہے؟
  • اسپتال کی انتظامیہ اور نگرانی کا نظام اتنا کمزور کیوں ہے کہ کروڑوں روپے کا سامان بغیر کسی رکاوٹ کے غائب ہو جاتا ہے؟
  • آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں ان بے ضابطگیوں کی نشاندہی کے بعد اب تک کیا ٹھوس کارروائی کی گئی ہے؟
طبی سامانلاپتہ تعدادتخمینی مالیت (پاکستانی روپے میں)
کارڈیک اسٹنٹس2321 کروڑ 13 لاکھ روپے
کارڈیک بیلونز10591 کروڑ 10 لاکھ روپے
مجموعی مالیت12912 کروڑ 23 لاکھ روپے سے زائد

امراض قلب کے علاج میں اسٹنٹس اور بیلونز کی کلیدی حیثیت

دل کے امراض دنیا بھر میں اموات کی ایک بڑی وجہ ہیں، اور پاکستان بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہے. کورونری دل کی بیماری (Coronary Heart Disease) میں جب دل کو خون فراہم کرنے والی شریانیں تنگ ہو جاتی ہیں، تو مریض کو سینے میں درد، سانس لینے میں دشواری اور ہارٹ اٹیک جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے. ایسے میں اینجیوپلاسٹی ایک انتہائی اہم طریقہ علاج ہے جس میں تنگ شریان کو کھولنے کے لیے بیلون کا استعمال کیا جاتا ہے اور پھر اسٹنٹس ڈال کر شریان کو دوبارہ تنگ ہونے سے روکا جاتا ہے. یہ اسٹنٹس دھاتی جالیاں ہوتی ہیں جو خون کے بہاؤ کو معمول پر لانے میں مدد دیتی ہیں.

ان آلات کی اہمیت اس بات سے واضح ہے کہ یہ مریضوں کی زندگی بچانے میں براہ راست کردار ادا کرتے ہیں. ایک اسٹنٹ کی قیمت لاکھوں روپے میں ہو سکتی ہے، اور یہ اکثر سرکاری اسپتالوں میں مفت یا سبسڈی پر فراہم کیے جاتے ہیں تاکہ غریب مریض بھی اس سہولت سے مستفید ہو سکیں. جب یہ قیمتی اور جان بچانے والے آلات غائب ہو جاتے ہیں، تو اس کا سیدھا اثر مریضوں پر پڑتا ہے جو زندگی اور موت کی کشمکش میں ہوتے ہیں. اس طرح کی بدعنوانی نہ صرف مالی نقصان کا باعث بنتی ہے بلکہ صحت کے نظام پر عوام کے اعتماد کو بھی بری طرح متاثر کرتی ہے.

انتظامیہ کا ردعمل اور اندرونی تحقیقات کا آغاز

آڈٹ رپورٹ کے انکشافات کے بعد، میو اسپتال کی انتظامیہ نے معاملے پر فوری ایکشن لیتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے. اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ایم ایس) اور چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) کی جانب سے 3 جولائی 2026 کو ایک انکوائری کمیٹی کے قیام کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا. یہ کمیٹی شعبہ امراض قلب کے سربراہ کی قیادت میں قائم کی گئی ہے اور اسے اسٹنٹس اور بیلونز کے استعمال، دستیابی اور ریکارڈ کی مکمل جانچ پڑتال کا کام سونپا گیا ہے. اسپتال انتظامیہ نے محکمہ اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن کو بھی شعبہ کارڈیالوجی کے گزشتہ پانچ برس کے ریکارڈ کا خصوصی آڈٹ کرانے اور اعلیٰ سطح کی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دینے کی سفارش کی ہے.

اس معاملے میں شعبہ کارڈیالوجی کے ایک رجسٹرار پر اسٹنٹس اور بیلونز کی گمشدگی میں مبینہ کردار ادا کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے. رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ سرکاری طبی سامان مبینہ طور پر نجی اسپتالوں کو فروخت کیا گیا. مزید برآں، رجسٹرار پر انکوائری پر اثرانداز ہونے اور کارروائی رکوانے کی کوشش کا بھی الزام ہے.

میو اسپتال کے چیف آپریٹنگ آفیسر (سی او او) ڈاکٹر عبدالمدبر ریحان نے اس حوالے سے ایک بیان میں کہا ہے کہ انہیں مبینہ کرپشن بے نقاب کرنے پر نشانہ بنایا جا رہا ہے. انہوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ بعض ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن (وائے ڈی اے) کے عہدیداروں کی جانب سے انہیں دباؤ ڈالنے اور نوکری سے نکلوانے کی دھمکیاں دی گئیں. تاہم، ڈاکٹر ریحان نے واضح کیا کہ وہ میرٹ، شفافیت اور مریضوں کے مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے اور ہر قسم کے دباؤ کا قانونی اور انتظامی سطح پر مقابلہ کریں گے. یہ بیانات اس معاملے کی پیچیدگی اور اس میں ملوث ممکنہ مافیا کی نشاندہی کرتے ہیں. تحقیقاتی کمیٹی سی سی ٹی وی فوٹیجز، اسٹاک رجسٹرز، خریداری کے ریکارڈ، اجرا اور استعمال کی تمام دستاویزات کا جائزہ لے رہی ہے، اور توقع ہے کہ حتمی ذمہ داری کا تعین تحقیقات مکمل ہونے کے بعد کیا جائے گا.

نظام میں خامیاں اور ماضی کے واقعات: کیا یہ پہلی بار ہے؟

میو اسپتال میں کروڑوں روپے کے طبی آلات کی گمشدگی کا یہ واقعہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے جو ملک کے سرکاری اسپتالوں میں بدانتظامی اور بدعنوانی کی نشاندہی کرتا ہو. بدقسمتی سے، پنجاب کے سرکاری اسپتالوں سے قیمتی ادویات اور طبی سامان کی چوری کی خبریں وقتاً فوقتاً سامنے آتی رہتی ہیں. جون 2026 میں بھی میو اسپتال سے وزیر اعلیٰ پنجاب اسٹروک پروگرام کی 15 لاکھ روپے مالیت کی ادویات چوری ہونے کا انکشاف ہوا تھا