مقبول خبریں

امریکا نے مزید حملے کیے تو جنگ کا رخ بدل سکتا ہے، ایرانی کمانڈر کی وارننگ 2026

امریکا نے مزید حملے کیے تو جنگ کا رخ بدل سکتا ہے، ایرانی کمانڈر کی وارننگ نے مشرق وسطیٰ کی پہلے سے ہی کشیدہ صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر اور میجر جنرل محسن رضائی نے حال ہی میں خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے آئندہ چند روز تک ایران پر حملے جاری رکھے تو تہران مکمل جارحانہ حکمتِ عملی اختیار کرتے ہوئے دشمن کے خلاف بھرپور جنگ شروع کر دے گا، جس سے جنگ کا رخ مکمل طور پر تبدیل ہو سکتا ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان فوجی کشیدگی عروج پر ہے، اور دونوں ممالک ایک دوسرے کے فوجی ٹھکانوں اور انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے دعوے کر رہے ہیں۔ اس صورتحال نے عالمی برادری کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے اور خطے میں ایک وسیع جنگ کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔

بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایرانی کمانڈر کا انتباہ

مشرق وسطیٰ ایک بار پھر اس وقت ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے، جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی نے عالمی امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ 28 فروری 2026 سے امریکہ اور اسرائیل ایران اور اس کے علاقائی اتحادیوں کے ساتھ حالتِ جنگ میں ہیں۔ یہ کشیدگی امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد شروع ہوئی، جن میں ایران کے کئی اعلیٰ حکام، بشمول سپریم لیڈر علی خامنہ ای، ہلاک ہوئے تھے۔ اسی پس منظر میں، ایران کے اعلیٰ فوجی کمانڈروں کی جانب سے امریکہ کو مسلسل انتباہات جاری کیے جا رہے ہیں۔ سب سے حالیہ اور شدید انتباہ ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر اور میجر جنرل محسن رضائی کی جانب سے آیا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا ہے کہ اگر امریکہ نے آئندہ دو سے تین روز تک ایران پر حملے جاری رکھے تو ایران بھی مکمل جارحانہ حکمتِ عملی اختیار کرتے ہوئے دشمن کے خلاف بھرپور جنگ شروع کر دے گا۔ ان کے بقول، اس صورتحال میں جنگ کا رخ مکمل طور پر تبدیل ہو سکتا ہے، اور ایران اب صرف دفاعی نہیں بلکہ جارحانہ حکمتِ عملی اپنانے کے لیے بھی تیار ہے۔ اگر حملے جاری رہے تو ایک مکمل فوجی آپریشن شروع کر دیا جائے گا۔ یہ وارننگ تہران کے اس پختہ عزم کی نشاندہی کرتی ہے کہ وہ کسی بھی بیرونی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہے۔

امریکی افواج نے حال ہی میں ایران پر فضائی حملوں کی ایک نئی لہر مکمل کی ہے، جس میں ایرانی کمانڈ سینٹرز، فضائی دفاع، میزائل اور ڈرون تنصیبات، بندر عباس سمیت متعدد مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ یہ حملے مسلسل پانچویں رات جاری رہے اور ایرانی حکام نے ان حملوں میں جانی و مالی نقصان کی تصدیق کی ہے۔ 15 جولائی 2026 تک، امریکی حملوں میں 30 سے زائد عام شہری اور 7 فوجی جاں بحق ہو چکے ہیں۔ ان امریکی کارروائیوں کے جواب میں ایران نے کویت، بحرین اور اردن میں امریکی فوجی تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ جوابی کارروائیاں ‘آنکھ کے بدلے آنکھ’ کی حکمتِ عملی کا حصہ قرار دی جا رہی ہیں۔

ایرانی کمانڈر محسن رضائی کے بیان کی تفصیلات اور اس کے مضمرات

میجر جنرل محسن رضائی نے اپنے انٹرویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے باہمی مفاہمتی یادداشت کی مکمل خلاف ورزی کی ہے، جس کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت عملی طور پر ختم ہو چکی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ نے جنگ بندی کے وقفے کو اپنی فوجی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے استعمال کیا۔ یہ دعوے اس بات کو مزید واضح کرتے ہیں کہ ایران کی قیادت امریکہ کے حالیہ اقدامات کو معاہدے کی صریحاً خلاف ورزی سمجھتی ہے۔ رضائی کے مطابق، امریکی خلاف ورزیوں میں اسرائیلی افواج کا جنوبی لبنان سے انخلا نہ کرنا، آبنائے ہرمز میں قانونی ایرانی راستے کے باوجود متبادل راستہ قائم کرنا، ایرانی سرزمین پر حملے اور ایران کے اثاثے بحال نہ کرنا شامل ہیں۔

ایرانی مسلح افواج نے بھی سرکاری میڈیا پر جاری بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے ایرانی انفراسٹرکچر کو مزید نشانہ بنایا تو ان تمام ممالک میں قائم امریکی کمپنیوں کو بھی نشانہ بنایا جائے گا جو اپنی سرزمین امریکی فوج کے استعمال کے لیے فراہم کر رہے ہیں۔ یہ ایک انتہائی سنجیدہ دھمکی ہے جو خطے میں امریکی موجودگی رکھنے والے ممالک کے لیے بھی تشویش کا باعث بن سکتی ہے۔ اس بیان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ایران اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اگر امریکہ نے حملے جاری رکھے تو جنگ کا دائرہ وسیع ہو سکتا ہے اور اس میں دیگر ممالک بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ اس صورتحال کا فوری حل تلاش کرنا عالمی برادری کی ترجیح ہونی چاہیے۔

امریکا-ایران تعلقات کا تاریخی پس منظر اور حالیہ تناؤ

امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کی ایک طویل تاریخ ہے جو کئی دہائیوں پر محیط ہے۔ 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد سے دونوں ممالک کے تعلقات میں تناؤ نمایاں رہا ہے۔ جوہری پروگرام، خطے میں ایران کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ، اور امریکہ کی جانب سے لگائی جانے والی پابندیاں تنازع کی بنیادی وجوہات ہیں۔ حالیہ کشیدگی کی ایک اہم وجہ 2026 کے اوائل میں ایران میں حکومت مخالف مظاہرین پر ایرانی سیکیورٹی فورسز کا کریک ڈاؤن تھا، جس کے بعد امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر فوجی مداخلت کا آغاز کیا۔ امریکہ نے ایران کی جوہری تنصیبات، فوجی اڈوں اور کمانڈ سینٹرز پر حملے کیے، جس میں ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی ہلاکت بھی شامل تھی۔

تنازع کے آغاز سے قبل، جنوری 2026 میں ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں جاری احتجاجی تحریک میں مداخلت کی دھمکیاں دی تھیں اور مظاہرین کی حمایت میں جلد مدد پہنچانے کی یقین دہانی کرائی تھی۔ اس کے ردعمل میں ایران نے امریکہ کو خبردار کیا تھا کہ اگر اس نے ایران میں مداخلت کی تو خطے میں قائم امریکی فوجی اڈوں پر حملے کیے جائیں گے۔ ماضی میں بھی امریکہ نے ایران میں حکومت کی تبدیلی کی کوششیں کی ہیں، لیکن امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے 16 جولائی 2026 کو کہا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع کا مستقل حل فوجی کارروائی نہیں بلکہ مذاکرات اور سفارتی معاہدہ ہے۔ تاہم، صدر ٹرمپ کا سخت لہجہ برقرار ہے، اور انہوں نے مذاکرات کی میز پر نہ آنے کی صورت میں ایران کے بجلی گھروں اور پلوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔

‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ اور اس کی خلاف ورزی کے دعوے

امریکی اور ایرانی قیادت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے 18 جون 2026 کو ایک اہم سفارتی پیشرفت ہوئی تھی، جب پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کی ثالثی میں اسلام آباد میں ایک مفاہمتی یادداشت (MOU) پر دستخط کیے گئے تھے۔ اس معاہدے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان فوجی کارروائیوں کا فوری اور مستقل خاتمہ تھا۔ ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے بھی اپنے صدر کی یقین دہانی پر اس معاہدے کی منظوری دی تھی، حالانکہ ان کے اپنے تحفظات تھے۔ اس معاہدے کے تحت ایران نے آبنائے ہرمز سے آئل ٹینکرز کو گزرنے کی اجازت دی تھی اور امریکہ نے بھی ایرانی بحریہ کی ناکہ بندی ختم کرنے کا اعلان کیا تھا، جس سے سمندری ٹریفک بحال ہو گیا تھا۔

تاہم، اس معاہدے کے چند ہی ہفتوں بعد، ایرانی حکام نے امریکہ پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرنا شروع کر دیا۔ میجر جنرل محسن رضائی نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باہمی مفاہمتی یادداشت کی مکمل خلاف ورزی کی ہے، جس کے بعد یہ یادداشت عملی طور پر ختم ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق، اسرائیل کی جانب سے جنوبی لبنان سے انخلا نہ کرنا، آبنائے ہرمز میں قانونی ایرانی راستے کے باوجود متبادل راستہ قائم کرنا، ایرانی سرزمین پر حملے اور ایران کے اثاثوں کی عدم بحالی امریکہ کی جانب سے معاہدے کی واضح خلاف ورزیاں ہیں۔ ان دعوؤں سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اگرچہ ایک سفارتی راستہ اختیار کیا گیا تھا، لیکن دونوں فریقین کے درمیان اعتماد کی کمی اور بنیادی اختلافات نے اسے زیادہ دیر قائم رہنے نہیں دیا۔ امریکی حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایران جنگ بندی کے وقفے کو اپنے زیر زمین ہتھیاروں کو نکالنے اور اپنی فوجی صلاحیتوں کو بحال کرنے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔

پہلوامریکی مؤقفایرانی مؤقف
جنگ بندی کی حیثیتایران کی خلاف ورزیوں پر ختم، مزید حملوں کا انتباہامریکی خلاف ورزیوں پر ختم، جارحانہ حکمتِ عملی اپنائی جائے گی
حالیہ حملےایرانی فوجی اہداف، فضائی دفاع اور میزائل تنصیبات کو نشانہایرانی انفراسٹرکچر، شہری آبادی پر حملے، جارحیت
جوابی کارروائیایران کو مذاکرات پر مجبور کرناکویت، بحرین، اردن میں امریکی اڈوں پر حملے
آبنائے ہرمزبین الاقوامی جہاز رانی کی آزادی یقینی بناناایران کی ‘سرخ لکیر’، مداخلت کی صورت میں بندش
طویل مدتی حلمذاکرات اور سفارتی معاہدہ (جے ڈی وینس)قومی مفادات اور خودمختاری کا تحفظ، طاقت کا بھرپور جواب

ایران کی فوجی صلاحیتیں اور جوابی حکمت عملی

ایرانی کمانڈروں کی جانب سے امریکہ کو دی جانے والی سخت وارننگز محض خالی دھمکیاں نہیں ہیں، بلکہ ایران نے اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مسلسل مضبوط کیا ہے۔ حالیہ جنگوں کے تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے، ایران نے دفاعی ٹیکنالوجی، میزائل اور ڈرون کی پیداواری صلاحیت میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ ایران کے پاس سطح سے سطح پر مار کرنے والے 3500 سے زائد میزائل ہیں، جن میں سے کچھ آدھے ٹن وزنی وار ہیڈز لے جا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، ایرانی فوج کے پاس ہزاروں کی تعداد میں ڈرونز بھی موجود ہیں جو اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

فضائی دفاع کے شعبے میں، ایران روسی ساختہ S-300 نظام اور مقامی طور پر تیار کردہ ‘صیاد’ اور ‘رعد’ دفاعی نظاموں پر انحصار کرتا ہے۔ ان نظاموں میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے زمین سے فضا میں میزائل اور طیارہ شکن صلاحیتیں شامل ہیں۔ اگرچہ ایران کی فضائیہ بین الاقوامی پابندیوں کی وجہ سے جدید ترین ہائی ٹیک فوجی سازوسامان سے محروم ہے، لیکن اس کے پاس روسی سخوئی-24، مگ 29 اور پرانے امریکی F-4 اور F-5 جیسے لڑاکا طیارے اب بھی موجود ہیں۔ ایرانی مسلح افواج نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ وہ ہر قسم کی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہیں اور ان کے پاس نئی اسٹریٹیجک ہتھیار بھی ہیں جو اب تک میدانِ جنگ میں استعمال نہیں کیے گئے۔

ایران کی جوابی حکمت عملی میں نہ صرف براہ راست فوجی حملے شامل ہیں، بلکہ خطے میں اس کے اتحادیوں کا کردار بھی اہم ہے۔ لبنان میں حزب اللہ، عراق میں پاپولر موبیلائزیشن فورسز، اور یمن میں حوثی ایران کے اہم علاقائی اتحادی ہیں۔ یہ گروپ خطے میں امریکی اور اسرائیلی مفادات کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جس سے جنگ کا دائرہ مزید وسیع ہو سکتا ہے۔ ایران نے پہلے ہی خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے اپنے فوجی حملوں کا دائرہ کار بڑھایا تو ایران پورے مشرق وسطیٰ میں وسیع پیمانے پر جوابی فوجی کارروائیاں شروع کر دے گا۔

آبنائے ہرمز کی اہمیت اور ایران کا مؤقف

آبنائے ہرمز عالمی تجارت کے لیے ایک انتہائی اہم سمندری گزرگاہ ہے، جہاں سے دنیا کی تیل کی ایک بڑی مقدار گزرتی ہے۔ ایران نے بارہا اس آبنائے کو اپنی ‘سرخ لکیر’ قرار دیا ہے اور دھمکی دی ہے کہ اگر اس پر حملہ کیا گیا یا اس میں مداخلت کی گئی تو وہ اسے بند کر سکتا ہے۔ آبنائے ہرمز میں امریکی فوجی سرگرمیاں اور تجارتی جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کرنے کے دعوے ایران کے لیے ناقابل قبول ہیں۔ امریکی حکام نے کہا ہے کہ ان کے حملوں کا مقصد ایران کی اس صلاحیت کو کمزور کرنا ہے جس کے ذریعے وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بین الاقوامی بحری جہاز رانی کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔

دوسری جانب، ایران آبنائے ہرمز میں اپنی قانونی موجودگی اور حق تسلیم کروانا چاہتا ہے۔ ایرانی حکام نے الزام عائد کیا ہے کہ امریکی فوج کی سرگرمیوں کے باعث آبنائے ہرمز کو بند کر دیا گیا ہے۔ یہ صورتحال عالمی معیشت پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز کی بندش سے تیل کی عالمی قیمتیں آسمان کو چھو سکتی ہیں اور بین الاقوامی تجارتی راستے متاثر ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو اپنی ریڈ لائن قرار دینا محض ایک عسکری انتباہ نہیں بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی واضح پیغام ہے کہ اگر جنگ مزید پھیلی تو اس کے اثرات ہر براعظم تک پہنچیں گے۔

خطے پر جنگ کے ممکنہ اثرات اور عالمی ردعمل

امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے مشرق وسطیٰ اور عالمی سطح پر سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔ اس تنازع کے فوری اثرات تیل کی عالمی منڈیوں پر مرتب ہو رہے ہیں، جہاں قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔ طویل مدتی طور پر، اس سے عالمی تجارت اور نقل و حمل کے راستے بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ 2026 کی ایران جنگ نے عالمی سفر اور تجارت کو درہم برہم کر دیا ہے، مشرق وسطیٰ سے آنے اور جانے والی پروازیں بند ہو گئی ہیں، اور جہاز رانی کے راستے آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر سے بچنے کے لیے تبدیل کیے گئے ہیں۔

عراق، افغانستان اور لیبیا کی مثالیں آج بھی دنیا کے سامنے موجود ہیں جہاں عسکری مداخلت نے استحکام کے بجائے طویل بدامنی، مہاجرین کے بحران، معاشی زوال اور انتہا پسندی کو جنم دیا۔ اگر ایران میں بھی اسی نوعیت کی حکمت عملی اختیار کی گئی تو اس کے نتائج ماضی کے تجربات سے کہیں زیادہ سنگین ہو سکتے ہیں۔ عالمی طاقتیں اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کر رہی ہیں اور سفارتی حل کی تلاش پر زور دے رہی ہیں۔ روس اور چین، جو ایران کے اسٹریٹیجک شراکت دار ہیں، نے سخت بیانات جاری کیے ہیں، لیکن براہ راست فوجی مداخلت سے گریز کیا ہے۔ تاہم، انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کیا اور طاقت کے استعمال سے گریز کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

یورپی یونین نے بھی امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور دونوں فریقین سے ایسے اقدامات سے گریز کرنے کا مطالبہ کیا ہے جو وسیع تنازع کا باعث بن سکیں۔ یورپی یونین کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سفارت کاری ناکام رہی تو یہ بحران “خطرناک جوہری پھیلاؤ” کا سبب بن سکتا ہے۔ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی دھمکی بھی عالمی سپلائی چین کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔ اس صورتحال کا تقاضا ہے کہ تمام فریقین تحمل کا مظاہرہ کریں اور تنازع کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کریں، کیونکہ فوجی تصادم کے نتائج کسی کے حق میں نہیں ہوں گے۔ ایک پائیدار امن کے لیے سفارت کاری ہی واحد راستہ ہے، جیسا کہ ایکسپریس نیوز کی رپورٹ میں بھی واضح کیا گیا ہے۔

نتیجہ

امریکا اور ایران کے درمیان موجودہ کشیدگی مشرق وسطیٰ کے لیے ایک سنگین بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ ایرانی کمانڈر میجر جنرل محسن رضائی کی جانب سے امریکہ کو مزید حملوں کی صورت میں جنگ کا رخ بدلنے کی وارننگ اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ تہران اپنے دفاع کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ جیسے سفارتی اقدامات کا ٹوٹ جانا اور فریقین کی جانب سے ایک دوسرے پر خلاف ورزیوں کے الزامات صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔ ایران کی بڑھتی ہوئی فوجی صلاحیتیں، خاص طور پر میزائل اور ڈرون ٹیکنالوجی میں، اور آبنائے ہرمز جیسے اہم آبی راستوں پر اس کا مؤقف، عالمی طاقتوں کے لیے تشویش کا باعث ہے۔

جنگ کے ممکنہ نتائج، جن میں عالمی اقتصادی عدم استحکام، علاقائی بدامنی اور وسیع تر تصادم کا خدشہ شامل ہے، تمام فریقین کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ عالمی برادری کو اس نازک صورتحال میں سفارتی کوششوں کو تیز کرنا چاہیے تاکہ جنگ کے بجائے مذاکرات کے ذریعے کوئی پائیدار حل تلاش کیا جا سکے۔ طاقت کا استعمال ماضی میں بھی خطے میں طویل مدتی امن قائم کرنے میں ناکام رہا ہے، اس لیے تحمل اور حکمت عملی ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔ دونوں ممالک کو اپنے اختلافات کو پرامن طریقے سے حل کرنے اور خطے کو مزید تباہی سے بچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔