Table of Contents
مجھے ڈیڈلائنز دینا پسند نہیں، ایران اپنا رویہ بہتر کرے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ حالیہ بیان امریکہ اور ایران کے مابین موجود گہری کشیدگی اور تعلقات کی پیچیدگی کو اجاگر کرتا ہے۔ عالمی سطح پر ایران کے جوہری پروگرام، اس کے علاقائی اثر و رسوخ اور بحری گزرگاہوں میں اس کے اقدامات پر امریکہ کی تشویش طویل عرصے سے جاری ہے۔ صدر ٹرمپ کے اس بیان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ واشنگٹن تہران سے ایک مختلف رویے کا خواہاں ہے، جو باہمی تعلقات کی نوعیت کو بنیادی طور پر تبدیل کر سکے۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مزید خراب ہوئے ہیں، اور مذاکرات کے امکانات بھی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔ اس مضمون میں ہم امریکی صدر کے اس بیان کی گہرائی، ایران امریکہ تعلقات کی موجودہ صورتحال، جوہری پروگرام کے حوالے سے عالمی خدشات، مذاکرات کی راہ میں حائل رکاوٹیں اور مستقبل کے ممکنہ راستوں کا تفصیلی جائزہ لیں گے۔
امریکی صدر کا واضح پیغام اور ایران سے مطالبات
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ دوٹوک بیان کہ “مجھے ڈیڈلائنز دینا پسند نہیں، ایران اپنا رویہ بہتر کرے”، ان کی انتظامیہ کی ایران سے متعلق پالیسی کا خلاصہ پیش کرتا ہے۔ یہ پالیسی دباؤ، پابندیوں اور براہ راست مطالبات پر مبنی ہے، جس کا مقصد ایران کو اپنے جوہری پروگرام اور علاقائی سرگرمیوں سے باز رکھنا ہے۔ امریکی صدر نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اور یہ کہ کسی بھی معاہدے کی کامیابی ایران کے اقدامات پر منحصر ہوگی۔
صدر ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایران پر سخت اقتصادی پابندیاں عائد کی ہیں، جن کا مقصد تہران کی مالیاتی صلاحیتوں کو محدود کرنا اور اسے مذاکرات کی میز پر لانا ہے۔ ان پابندیوں کے جواب میں ایران نے بھی مزاحمتی رویہ اپنایا ہے اور اپنے جوہری پروگرام کو مزید وسعت دی ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی کہا ہے کہ امریکہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اہداف حاصل کرنے کی بہتر پوزیشن میں موجود ہے۔ تاہم، ان مذاکرات کی کامیابی کے لیے ایران سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنے “رویے” میں تبدیلی لائے، جس میں جوہری افزودگی کو محدود کرنا، بیلسٹک میزائل پروگرام پر قدغنیں لگانا، اور خطے میں اپنے پراکسی گروہوں کی حمایت سے دستبردار ہونا شامل ہے۔
حال ہی میں، امریکی حکام نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ ایران کے ساتھ کسی بھی وسیع تر معاہدے یا تعلقات میں پیش رفت کا انحصار ایک قابل قبول جوہری معاہدے پر ہوگا۔ یہ موقف اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ امریکہ ایران کے ساتھ صرف جوہری مسئلے پر بات چیت نہیں چاہتا بلکہ وہ تہران کے مجموعی رویے میں تبدیلی کا خواہشمند ہے جو خطے کے استحکام کے لیے ضروری سمجھی جاتی ہے۔ امریکی انتظامیہ کو ایران سے متعلق اپنی پالیسی پر داخلی طور پر بھی تنقید کا سامنا ہے، خاص طور پر ریپبلکن اراکین کی جانب سے، لیکن صدر ٹرمپ نے مذاکرات کو جاری رکھنے کی منظوری دی ہے جبکہ ان کے کچھ ساتھیوں نے ایران سے کسی بھی قسم کی رعایت کے لیے سخت دباؤ کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
جوہری پروگرام اور عالمی خدشات کا بڑھتا دباؤ
ایران کا جوہری پروگرام کئی دہائیوں سے عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ ایران ہمیشہ اس بات کا دعویٰ کرتا رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے، لیکن عالمی طاقتوں، خصوصاً امریکہ اور اسرائیل، کو اس بات کا خدشہ ہے کہ تہران خفیہ طور پر جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
جولائی 2026 میں آنے والی میڈیا رپورٹس کے مطابق، امریکہ نے یہ واضح کیا ہے کہ ایران کے ساتھ کسی بھی معاہدے کا دارومدار اس کے جوہری پروگرام پر پابندیاں قبول کرنے اور بین الاقوامی نگرانی کے نظام سے تعاون کرنے پر ہے۔ عالمی ادارہ برائے جوہری توانائی (IAEA) نے جون 2025 میں پہلی بار ایران کو اس کے جوہری وعدوں کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیا تھا۔ اس کے جواب میں، ایران نے ایک نیا افزودگی مرکز قائم کیا اور جدید سینٹری فیوج مشینیں نصب کر دیں، جس سے اس کے جوہری پروگرام میں تیزی آئی۔
فی الحال، ایران 60 فیصد خالص یورینیم افزودہ کر رہا ہے، جو جوہری ہتھیاروں کے درجے کے قریب ہے۔ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ یہ سرگرمیاں کسی بھی پرامن شہری مقصد سے کہیں بڑھ کر ہیں۔ تخمینوں کے مطابق، ایران ایک ہفتے میں اتنی افزودہ یورینیم پیدا کر سکتا ہے جو ایک جوہری بم کے لیے کافی ہو، اور ایک ماہ میں سات بموں کے لیے۔ اس صورتحال نے ایران کے “بریک آؤٹ ٹائم” (جوہری بم بنانے کے لیے درکار وقت) کو خطرناک حد تک کم کر دیا ہے۔ امریکہ اس صورتحال سے آگاہ ہے اور ایران کے جوہری پروگرام کی تفصیلات پر نظر رکھے ہوئے ہے، اور اس کی ترقی سے فکرمند ہے۔
امریکہ کا موقف ہے کہ نئی نیوکلیئر ڈیل کے بغیر کسی بڑے معاہدے کا امکان نہیں۔ دوسری جانب، ایران کا مؤقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے اور وہ ایسے معاہدے کو قبول نہیں کرے گا جو اس کے قانونی حقوق یا خودمختاری کو متاثر کرے۔ تہران کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ کسی بھی نئے معاہدے کے ساتھ اقتصادی پابندیوں میں مؤثر نرمی اور ضمانتیں فراہم کی جائیں۔
امریکہ-ایران کشیدگی: ایک تاریخی جائزہ
امریکہ اور ایران کے تعلقات کی تاریخ کئی دہائیوں پر محیط ہے، جو انقلاب، بد اعتمادی اور علاقائی مفادات کے تصادم سے عبارت ہے۔ 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان باقاعدہ سفارتی تعلقات ختم ہو چکے ہیں۔ اس کے بعد سے، ایران اور امریکہ کے درمیان تعلقات میں نشیب و فراز آتے رہے ہیں، لیکن بنیادی عدم اعتماد اور تناؤ ہمیشہ برقرار رہا ہے۔
2015 میں، ایران اور عالمی طاقتوں (P5+1) کے درمیان جوہری معاہدہ (Joint Comprehensive Plan of Action – JCPOA) طے پایا، جس کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنا اور اس کے بدلے میں ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی کرنا تھا۔ تاہم، 2018 میں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاہدے سے یکطرفہ طور پر دستبرداری اختیار کر لی اور ایران پر دوبارہ سخت پابندیاں عائد کر دیں۔ اس اقدام نے دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید خراب کر دیا اور خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا۔
حالیہ مہینوں میں، آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے خدشات میں اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد امریکہ نے خطے میں اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ کیا، جس میں طیارہ بردار بحری جہازوں کی تعیناتی بھی شامل ہے۔ ایران نے جواباً خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔ یہ کشیدگی کئی بار جنگ کے دہانے تک پہنچ چکی ہے، جہاں امریکی اور ایرانی افواج ایک دوسرے کے آمنے سامنے آئی ہیں۔
خطے میں تناؤ کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں بھی جاری رہی ہیں، جس میں عمان اور پاکستان جیسے ممالک ثالث کا کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ لیکن، اہم معاملات پر اختلافات بدستور موجود ہیں، خاص طور پر یورینیم افزودگی، بین الاقوامی معائنوں، پابندیوں کے خاتمے اور سیکیورٹی ضمانتوں جیسے مسائل پر۔
| پہلو | امریکہ کا موقف | ایران کا موقف |
|---|---|---|
| جوہری پروگرام | جوہری ہتھیاروں کی ممانعت، افزودگی پر پابندیاں، مکمل بین الاقوامی نگرانی | پرامن مقاصد، حقوق اور خودمختاری کو متاثر کرنے والے معاہدے نامنظور |
| پابندیاں | ایران کے رویے میں تبدیلی تک برقرار رہیں گی، نئی پابندیاں بھی عائد | تمام پابندیوں کا خاتمہ، اقتصادی ضمانتیں ضروری |
| مذاکرات | جامع معاہدے کا ہدف، ایران کی جانب سے لچک کا مطالبہ | دباؤ میں مذاکرات نامنظور، امریکہ کے غیر تعمیری رویے پر تشویش |
| علاقائی سرگرمیاں | بیلسٹک میزائل پروگرام اور پراکسی گروہوں کی حمایت پر خدشات | اپنے دفاع کا حق، خودمختاری کے معاملات |
مذاکراتی عمل کی پیچیدگیاں اور ڈیڈلائنز کا انکار
امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکراتی عمل ہمیشہ سے پیچیدگیوں کا شکار رہا ہے، جس کی بنیادی وجہ دونوں فریقوں کے درمیان گہرے عدم اعتماد اور متضاد مطالبات ہیں۔ امریکی صدر ٹرمپ کا یہ کہنا کہ “مجھے ڈیڈلائنز دینا پسند نہیں” ایک اہم اشارہ ہے کہ امریکہ ایک عجلت میں کیے گئے معاہدے کے بجائے ایک مضبوط اور پائیدار حل کا خواہاں ہے، جو ایران کے مکمل رویے میں تبدیلی پر مبنی ہو۔
تاہم، ایران نے متعدد بار امریکی ڈیڈلائنز اور دباؤ کو مسترد کیا ہے۔ ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ وہ دباؤ میں آ کر مذاکرات نہیں کریں گے اور امریکہ کی “سرنڈر” کی شرط پر لچک نہیں دکھائیں گے۔ سابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی کہا تھا کہ امریکی حکام کے غیر تعمیری اور متضاد اشارے تلخ پیغام دیتے ہیں اور مذاکرات کو متاثر کر سکتے ہیں۔
مذاکرات کے حوالے سے امریکی انتظامیہ کے اندر بھی مختلف آراء موجود ہیں۔ ایک طرف، نائب صدر جے ڈی وینس جیسے رہنما سفارتی مذاکرات جاری رکھنے کی حمایت کرتے ہیں اور ایران کی جانب سے حالیہ تجاویز میں لچک کو سراہتے ہیں۔ دوسری طرف، وزیر خارجہ مارکو روبیو اور وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ جیسے عہدیداران کا مؤقف ہے کہ ایران سے کسی بھی قسم کی رعایت صرف سخت دباؤ کے ذریعے ہی حاصل کی جا سکتی ہے، اور مذاکرات سے خاطر خواہ نتائج کی توقع کم ہے۔ اس داخلی تقسیم نے بھی مذاکراتی عمل کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
مفاہمتی یادداشتوں اور عبوری معاہدوں کے حوالے سے بھی اختلافات پائے جاتے ہیں۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے جون 2026 میں کہا تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) ایک مختصر اور عمومی نوعیت کی دستاویز ہے، جبکہ حتمی معاہدے کی تفصیلات آئندہ مذاکرات اور تکنیکی سطح کی بات چیت کے دوران طے کی جائیں گی۔ انہوں نے اس بات کی نفی کی کہ ایران کے منجمد اثاثوں کی فوری بحالی معاہدے کا حصہ ہے۔
ایران نے بھی یورینیم افزودگی کی عارضی معطلی پر غور کرنے سے انکار کر دیا ہے، یہ کہتے ہوئے کہ یہ امریکہ کے ساتھ جوہری معاہدہ طے کرنے کے لیے کوئی قابل قبول شرط نہیں ہے۔ یہ تمام عوامل دونوں ممالک کے درمیان کسی پائیدار معاہدے تک پہنچنے کی راہ میں بڑی رکاوٹیں ہیں، اور تجزیہ کاروں کے مطابق، جب تک بنیادی اختلافات حل نہیں ہوتے، مذاکراتی عمل غیر یقینی رہے گا۔
اس تناظر میں، امریکی صدر کے بیان کو ایک سفارتی حربے کے طور پر بھی دیکھا جا سکتا ہے جس کا مقصد ایران پر مزید دباؤ ڈالنا اور اسے اپنے مطالبات تسلیم کرنے پر مجبور کرنا ہے۔ تاہم، ایران کا ماضی کا ریکارڈ ظاہر کرتا ہے کہ وہ بیرونی دباؤ کے سامنے آسانی سے جھکنے والا نہیں۔ مزید معلومات کے لیے، آپ ایکسپریس نیوز کی رپورٹ پڑھ سکتے ہیں جو امریکہ کے اس موقف کو واضح کرتی ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ جوہری پروگرام کے ساتھ مشروط ہے۔
ایران کا دوٹوک مؤقف: دباؤ میں مذاکرات نامنظور
ایران کی جانب سے امریکہ کے مطالبات اور دباؤ پر ہمیشہ ایک دوٹوک اور غیر متزلزل مؤقف اختیار کیا گیا ہے۔ ایرانی حکام نے بارہا یہ واضح کیا ہے کہ وہ دباؤ یا دھمکیوں کے تحت مذاکرات نہیں کریں گے اور اپنی قومی خودمختاری اور مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ صدر مسعود پزشکیان نے سرکاری ٹی وی پر خطاب میں کہا تھا کہ ایران کو دباؤ یا دھمکیوں سے جھکایا نہیں جا سکتا۔ انہوں نے امریکہ کو مخاطب کرتے ہوئے سوال اٹھایا تھا کہ اگر جنگی مقاصد حاصل ہو چکے ہیں تو پھر مسلسل دھمکیوں کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے؟۔
ایران کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے ہے اور اسے جوہری ہتھیار بنانے کا کوئی ارادہ نہیں۔ تہران اس بات پر بھی اصرار کرتا ہے کہ کسی بھی نئے جوہری معاہدے کے لیے امریکہ کو پہلے تمام پابندیاں اٹھانا ہوں گی اور ایران کو اقتصادی ضمانتیں فراہم کرنی ہوں گی۔ ایران نے عبوری بحری معاہدے پر مکمل عمل درآمد نہ ہونے کے باعث کسی جامع معاہدے کی امیدیں کمزور پڑنے کے امریکی دعووں کو مسترد کیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات اور دھمکیوں کے جواب میں، ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے ترجمان ابراہیم رضائی نے کہا تھا کہ مخالف فریق پہلے سے طے شدہ مفاہمتی یادداشت کی تمام شقوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے باقاعدہ جنگی راستہ اختیار کر چکا ہے، اس لیے اب اس یادداشت کی عملی حیثیت باقی نہیں رہی۔ ایران نے آبنائے ہرمز کی سلامتی اور اس کی پائیدار ترقی سے متعلق اسٹریٹجک ایکشن پلان کی بھی منظوری دی ہے، جسے خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ ایران نے امریکی ڈیڈلائن کو مسترد کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کھولنے سے انکار کر دیا ہے، اور کہا ہے کہ وہ دباؤ میں مذاکرات نہیں کرے گا۔
ایرانی قیادت نے امریکہ پر تاریخی عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ وعدوں کا احترام بامعنی بات چیت کی بنیاد ہے۔ ایرانی صدر پزشکیان نے امریکی حکام کے غیر تعمیری اور متضاد اشاروں پر بھی تشویش کا اظہار کیا، جو مذاکرات کو متاثر کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے عوام جبر کے سامنے نہیں جھکیں گے اور ایران امریکہ کے دباؤ میں نہیں آئے گا۔ ایران نے اقوام متحدہ سے بھی امریکہ کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے، یہ کہتے ہوئے کہ عالمی ادارے کو ایسے اقدامات کرنے چاہئیں جن سے امریکہ اپنی ذمہ داریوں کی مکمل پاسداری کرنے پر مجبور ہو۔
یہ تمام بیانات اور اقدامات ایران کے اس عزم کی عکاسی کرتے ہیں کہ وہ اپنے اصولوں پر قائم رہے گا اور بین الاقوامی دباؤ کے باوجود اپنی خودمختاری اور مفادات کا تحفظ کرے گا۔
مستقبل کے امکانات اور علاقائی استحکام کی راہ
امریکہ اور ایران کے درمیان تعلقات کی موجودہ صورتحال خطے کے لیے ایک اہم چیلنج بنی ہوئی ہے، جہاں کشیدگی میں کمی کے بجائے اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ امریکی صدر کے حالیہ بیانات اور ایران کے سخت ردعمل نے مستقبل کے امکانات کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔ تاہم، بندوقیں میدان بدل سکتی ہیں، مگر پائیدار استحکام کا راستہ بالآخر مذاکرات، سیاسی حقیقت پسندی اور علاقائی توازن سے ہی نکلتا ہے۔
مستقبل میں، دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کی بحالی اور کسی جامع معاہدے تک پہنچنے کے لیے کئی رکاوٹوں کو دور کرنا ہوگا۔ امریکہ کا مطالبہ ہے کہ ایران اپنے جوہری پروگرام پر پابندیاں قبول کرے، بین الاقوامی نگرانی سے تعاون کرے، اور اپنے علاقائی رویے کو بہتر بنائے۔ اس کے برعکس، ایران کا مطالبہ ہے کہ تمام اقتصادی پابندیاں اٹھائی جائیں، اس کے جوہری حقوق کا احترام کیا جائے، اور اسے اقتصادی ضمانتیں فراہم کی جائیں۔
امریکی انتظامیہ کے اندر بھی ایران پالیسی پر اختلافات موجود ہیں، کچھ حکام سفارتی حل کی حمایت کرتے ہیں جبکہ دیگر سخت دباؤ کے حق میں ہیں۔ یہ داخلی تقسیم بھی کسی واضح اور مستقل پالیسی کی تشکیل میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔ ثالثی کی کوششیں، جیسا کہ پاکستان اور عمان کی جانب سے کی جاتی رہی ہیں، مستقبل میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہیں تاکہ دونوں فریقوں کو مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے اور اعتماد کی بحالی کے لیے ماحول سازگار بنایا جا سکے۔
تاہم، تجزیہ کاروں کے مطابق، جب تک یورینیم افزودگی، بین الاقوامی معائنوں، پابندیوں کے خاتمے اور سیکیورٹی ضمانتوں جیسے اہم معاملات پر اختلافات موجود رہیں گے، کسی نئی نیوکلیئر ڈیل تک پہنچنا آسان نہیں ہوگا۔ خطے کے دیگر ممالک، جیسے اسرائیل اور سعودی عرب، کے مفادات بھی اس مسئلے سے جڑے ہوئے ہیں، جو صورتحال کو مزید پیچیدہ بناتے ہیں۔ اسرائیل کی تباہی کو ایران کے جوہری عزائم کے پس پردہ کئی تزویراتی مقاصد میں سے ایک قرار دیا جاتا ہے۔
آگے کا راستہ ایک مشکل سفر ہو سکتا ہے، جس کے لیے دونوں فریقوں کی جانب سے غیر معمولی لچک، حقیقت پسندی اور سفارتی ذہانت کی ضرورت ہوگی۔ خطے میں امن و استحکام کا انحصار اس بات پر ہے کہ امریکہ اور ایران کس طرح اپنے اختلافات کو حل کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ پرامن بقائے باہمی کی راہ تلاش کرتے ہیں۔ بصورت دیگر، کشیدگی میں مزید اضافہ نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی امن اور معیشت کے لیے بھی سنگین خطرات کا باعث بن سکتا ہے۔
نتیجہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان کہ “مجھے ڈیڈلائنز دینا پسند نہیں، ایران اپنا رویہ بہتر کرے”، امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کی عکاسی کرتا ہے، جہاں امریکہ ایران سے ایک جامع رویے کی تبدیلی کا خواہاں ہے۔ ایران کے جوہری پروگرام اور اس کے علاقائی اقدامات پر امریکہ کی تشویش گہری ہے، اور وہ تہران پر اقتصادی پابندیوں اور سفارتی دباؤ کے ذریعے اپنے مطالبات منوانے کی کوشش کر رہا ہے۔ دوسری جانب، ایران دباؤ میں مذاکرات کرنے سے انکاری ہے اور اپنی قومی خودمختاری و مفادات پر کوئی سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان عدم اعتماد کی ایک طویل تاریخ موجود ہے، جو مذاکراتی عمل کو پیچیدہ بنا رہی ہے۔ مستقبل میں کسی بھی پائیدار حل کے لیے دونوں فریقوں کو ایک حقیقت پسندانہ اور لچکدار رویہ اپنانا ہوگا تاکہ خطے میں امن و استحکام کی راہ ہموار ہو سکے۔


