مقبول خبریں

مائیکل جیکسن کی زندگی پر بننے والی فلم نے دنیا بھر میں تہلکہ مچادیا

مائیکل جیکسن کی زندگی پر بننے والی فلم ‘مائیکل’ نے ریلیز کے بعد سے دنیا بھر میں تہلکہ مچادیا ہے، اور یہ کوئی معمولی بات نہیں۔ ‘کنگ آف پاپ’ کے نام سے مشہور اس لیجنڈری فنکار کی زندگی ہمیشہ سے ہی لوگوں کی دلچسپی کا مرکز رہی ہے، اور ان کی کہانی کو بڑے پردے پر دیکھنا مداحوں کے لیے ایک خواب کی تعبیر سے کم نہیں۔ اس فلم نے عالمی باکس آفس پر تاریخی کامیابی حاصل کی ہے، ایک ارب ڈالر سے زائد کا کاروبار کرکے اس نے بایوگرافیکل فلموں کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کیا ہے۔ یہ نہ صرف مائیکل جیکسن کی لازوال مقبولیت کا ثبوت ہے بلکہ فلمی صنعت کے لیے بھی ایک اہم سنگ میل ہے۔

فلم ‘مائیکل’ کی تیاری اور ابتدائی ردعمل

مائیکل جیکسن پر مبنی فلم ‘مائیکل’ کا اعلان کافی عرصے سے مداحوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا تھا۔ اس فلم کو ڈائریکٹر انٹوان فوکوا نے ہدایت دی ہے اور اسے گراہم کنگ نے پروڈیوس کیا ہے۔ فلم کی تیاری کے دوران ہی یہ بات واضح ہو گئی تھی کہ یہ ایک مہنگا اور بڑا پروجیکٹ ہے، جس میں کئی بڑے ہالی ووڈ اسٹوڈیوز نے ابتدا میں سرمایہ کاری سے گریز کیا تھا۔ تاہم، لائنس گیٹ اسٹوڈیو نے یونیورسل پکچرز اور کینو فلمز کے اشتراک سے اس بایوپک کو حقیقت کا روپ دیا۔ اپریل 2026 میں دنیا بھر کے سینما گھروں میں ریلیز ہونے کے بعد، فلم نے فوری طور پر باکس آفس پر اپنی دھاک بٹھا دی۔

ابتدائی ردعمل میں، فلم نے پہلے ہفتے کے اختتام پر شمالی امریکہ میں 97 ملین ڈالر اور عالمی سطح پر 217 ملین ڈالر کا بزنس کیا، جو کسی بھی میوزیکل بایوپک کے لیے سب سے بڑی اوپننگ قرار دی گئی۔ یہ کامیابی صرف مالی لحاظ سے ہی نہیں تھی بلکہ اس نے ثابت کیا کہ مائیکل جیکسن کا جادو آج بھی برقرار ہے۔ فلم کی ریلیز سے قبل ہی، ٹریلر نے عالمی سطح پر زبردست توجہ حاصل کر لی تھی، جس سے شائقین میں جوش و خروش کی لہر دوڑ گئی تھی۔ یہ فلم مائیکل جیکسن کے انتقال کے کئی برس بعد ان کے خاندان کے متعدد افراد کے تعاون سے تیار کی گئی ہے، جس نے اس کی صداقت اور گہرائی کو مزید بڑھا دیا ہے۔

مرکزی کردار اور فلم کے اہم پہلو

فلم ‘مائیکل’ میں سب سے بڑا چیلنج مائیکل جیکسن کے کردار کو پیش کرنا تھا۔ اس حساس کردار کے لیے مائیکل جیکسن کے حقیقی بھتیجے، جعفر جیکسن، کا انتخاب کیا گیا، جو اس فلم کے ذریعے اداکاری کے میدان میں قدم رکھ رہے ہیں۔ جعفر جیکسن میں اپنے چچا کے کردار کو زندہ کرنے کی فطری صلاحیت نے سب کو متاثر کیا، اور ان کی آواز، رقص، اور ‘مون واک’ نے مداحوں کو مائیکل جیکسن کے اصلی روپ سے قریب تر محسوس کرایا۔

فلم کی کہانی مائیکل جیکسن کی ابتدائی زندگی، جیکسن فائیو کے ساتھ ان کے سفر، اور پھر ایک عالمی سپر اسٹار ‘کنگ آف پاپ’ بننے تک کے مراحل کو دکھاتی ہے۔ اس میں ان کے بچپن، خاندانی پس منظر، موسیقی کے کیریئر، اور شہرت کے دباؤ جیسے اہم پہلوؤں کو نمایاں کیا گیا ہے۔ فلم کا فوکس خاص طور پر ان کے 1980 کی دہائی کے “Bad Tour” تک رکھا گیا ہے، اور بعد کی زندگی کے پہلوؤں کو کم دکھایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، فلم کی دیگر نمایاں کاسٹ میں کولمین ڈومنگو بطور جو جیکسن، نیا لانگ بطور کیتھرین جیکسن، اور جیسیکا سولا بطور لا ٹویا جیکسن شامل ہیں، جنہوں نے جیکسن خاندان کی کہانی کو بڑے پردے پر پیش کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ کم عمر مائیکل جیکسن کا کردار جولیانو کرو ویلدی نے نبھایا ہے۔

مائیکل جیکسن کی وراثت اور تنازعات کی عکاسی

مائیکل جیکسن کی زندگی جتنی شاندار تھی، اتنی ہی تنازعات کا شکار بھی رہی۔ فلم ‘مائیکل’ نے اس پیچیدہ شخصیت کو “دیانت دارانہ انداز میں، اس کی غیر معمولی صلاحیتوں اور پیچیدہ شخصیت دونوں کے ساتھ” پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ فلم میں ان کی عالمی شہرت کے ساتھ ساتھ ان کے پیشہ ورانہ سفر کے دوران پیش آنے والے چیلنجز اور مشکلات کو بھی دکھایا گیا ہے۔ تاہم، سرکاری وضاحت کے مطابق، فلم کی کہانی 1988 پر اختتام پذیر ہوتی ہے اور اس میں مائیکل جیکسن کے بعد کے برسوں میں سامنے آنے والے الزامات کو فلم کا حصہ نہیں بنایا گیا۔ یہ فیصلہ فلم کے بنانے والوں کی جانب سے ایک خاص حکمت عملی کا حصہ تھا تاکہ کنگ آف پاپ کی موسیقی اور ان کے فن کو نمایاں کیا جا سکے، بجائے اس کے کہ ان کی زندگی کے متنازعہ پہلوؤں پر توجہ مرکوز کی جائے۔

مائیکل جیکسن نے اپنے کیریئر کا آغاز بہت کم عمری میں اپنے خاندانی گروپ ‘جیکسن 5’ کے ساتھ بطور چائلڈ اسٹار کیا تھا، اور پھر ایک کے بعد ایک ہٹ سولو البم دے کر موسیقی کی دنیا میں پاپ گلوکاری اور پاپ ڈانس کو نئی جہت دی۔ ان کا شہرہ آفاق البم ‘تھرلر’ 1982 میں ریلیز ہوا اور یہ دنیا میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والا البم قرار دیا جاتا ہے، جس کی 65 ملین کاپیاں فروخت ہو چکی ہیں۔ اس البم کے نو گانوں میں سے سات میوزک چارٹس پر جگہ بنانے میں کامیاب رہے، اور اس نے پاپ میوزک کی تشہیر کی نئی تاریخ رقم کی۔ مائیکل جیکسن کی زندگی کو سمجھنے کے لیے ان کے فنی سفر کے مختلف ادوار کا جائزہ لینا ضروری ہے:

دوراہم واقعاتموسیقی کا اثر
بچپن اور جیکسن فائیو (1960 کی دہائی کے آخر – 1970 کی دہائی کے اوائل)بطور چائلڈ اسٹار شہرت، جیکسن فائیو کے ساتھ ہٹ گانے۔موٹاؤن ساؤنڈ اور فیملی پاپ گروپ کی بنیاد۔
سولو کیریئر کا آغاز اور ‘آف دی وال’ (1970 کی دہائی کے آخر)پہلا سولو البم، عالمی سطح پر پہچان۔ڈسکو اور آر اینڈ بی کے عناصر کا امتزاج۔
‘تھرلر’ کا دور (1980 کی دہائی)‘تھرلر’ کی ریکارڈ توڑ فروخت، ‘مون واک’ کی مقبولیت، موسیقی کی ویڈیوز میں انقلاب۔پاپ میوزک کا عروج، عالمی ثقافت پر گہرا اثر۔
‘بیڈ’ اور عالمی دورے (1980 کی دہائی کے آخر) مزید کامیاب البمز، دنیا کے سب سے بڑے فنکار کے طور پر حیثیت۔لائیو پرفارمنس کا معیار بلند کیا، موسیقی میں جدت۔

فلم کا مقصد مائیکل جیکسن کی غیر معمولی صلاحیتوں اور ان کے فنکارانہ وژن کو خراج تحسین پیش کرنا ہے۔

دنیا بھر میں سنسنی اور باکس آفس پر تاریخی اثرات

فلم ‘مائیکل’ نے ریلیز کے بعد سے دنیا بھر میں سنسنی مچا دی ہے۔ صرف 12 ہفتوں میں، فلم نے عالمی باکس آفس پر 1.001 ارب ڈالر سے زائد کا کاروبار کرکے ایک نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔ اس غیر معمولی کامیابی کے ساتھ، ‘مائیکل’ دنیا کی پہلی بایوگرافیکل فلم بن گئی ہے جس نے عالمی سطح پر ایک ارب ڈالر کا ہندسہ عبور کیا ہے۔ اس نے اس سے قبل سب سے زیادہ کمائی کرنے والی بایوپکس جیسے ‘اوپن ہائیمر’ (977 ملین ڈالر) اور ‘بوہیمین ریپسوڈی’ (911 ملین ڈالر) کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

یہاں تک کہ لائنس گیٹ اسٹوڈیو کی تاریخ میں بھی ‘مائیکل’ سب سے زیادہ کمائی کرنے والی فلم بن گئی ہے، اور یہ اسٹوڈیو کی پہلی پروڈکشن ہے جس نے ایک ارب ڈالر کی حد عبور کی۔ فلم نے اپریل 2026 میں ریلیز ہونے کے بعد ہی ریکارڈ توڑنا شروع کر دیے تھے۔ افتتاحی ہفتے کے دوران، فلم نے شمالی امریکہ میں 97 ملین ڈالر اور عالمی سطح پر 217 ملین ڈالر کا بزنس کیا، جو کسی بھی میوزیکل بایوپک کے لیے سب سے بڑی اوپننگ قرار دی جا رہی ہے۔ یہ کامیابی مائیکل جیکسن کی دیرپا میراث اور ان کے موسیقی کے اثر کو ثابت کرتی ہے۔ فلم کی اس غیر معمولی کارکردگی کے بعد، لائنس گیٹ مائیکل جیکسن کی زندگی کے مزید پہلوؤں پر مبنی ایک اور فلم بنانے کے امکان پر بھی غور کر رہا ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے آپ ایکسپریس نیوز کی رپورٹ دیکھ سکتے ہیں۔

مداحوں اور ناقدین کا نقطہ نظر

فلم ‘مائیکل’ کو ناقدین کی جانب سے ملا جلا ردعمل ملا ہے۔ کچھ ناقدین نے فلم کی بصری شاندار ی، موسیقی سے بھرپور انداز، اور جعفر جیکسن کی اداکاری کو سراہا ہے، جبکہ دیگر نے فلم کی کہانی اور خاص طور پر مائیکل جیکسن کی زندگی کے متنازعہ پہلوؤں کو شامل نہ کرنے کے فیصلے پر سوالات اٹھائے ہیں۔ معروف ویب سائٹ ‘روٹن ٹومیٹوز’ پر اسے ناقدین کی جانب سے 40 فیصد ریٹنگ ملی ہے۔

تاہم، شائقین نے فلم کو بھرپور پذیرائی دی ہے۔ اسے 97 فیصد آڈیئنس اسکور حاصل ہوا ہے، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ عام عوام اور مائیکل جیکسن کے مداحوں نے اس فلم کو کتنا پسند کیا ہے۔ مداحوں نے جعفر جیکسن کی مائیکل جیکسن کے طور پر اداکاری کو خاص طور پر سراہا ہے، اور بہت سے لوگوں نے اسے ‘کنگ آف پاپ’ کے چاہنے والوں کے لیے محبت کا بہترین خراج تحسین قرار دیا ہے۔ یہ فلم نہ صرف مائیکل جیکسن کی موسیقی سے ہٹ کر ان کی زندگی کی کہانی بیان کرتی ہے بلکہ ناظرین کو ان کے ابتدائی سولو کیریئر اور اسٹیج سے ہٹ کر ذاتی زندگی کے کچھ یادگار لمحات بھی دکھاتی ہے۔

فلم کی کامیابی اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ مائیکل جیکسن کی شخصیت اور ان کے فن کا اثر آج بھی دنیا بھر کے لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے۔ یہ فلم ان کی میراث کو نئی نسل تک پہنچانے میں بھی ایک اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

نتیجہ

مائیکل جیکسن کی زندگی پر بننے والی فلم ‘مائیکل’ نے بلاشبہ عالمی سطح پر تہلکہ مچایا ہے۔ اس نے نہ صرف باکس آفس پر ایک ارب ڈالر سے زائد کی کمائی کرکے تاریخی ریکارڈ قائم کیے بلکہ یہ دنیا کی سب سے زیادہ کمائی کرنے والی بایوگرافیکل فلم بھی بن گئی ہے۔ جعفر جیکسن کی شاندار اداکاری اور ہدایت کار انٹوان فوکوا کی بصیرت نے اس فلم کو ایک ایسا فن پارہ بنا دیا ہے جس نے مائیکل جیکسن کی فنکارانہ عظمت اور ان کے زندگی کے سفر کو نئے سرے سے اجاگر کیا ہے۔ اگرچہ ناقدین کے ملے جلے ردعمل کے باوجود، شائقین کی بے پناہ محبت اور پذیرائی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ‘کنگ آف پاپ’ کا جادو آج بھی برقرار ہے اور ان کی میراث نسلوں تک زندہ رہے گی۔ یہ فلم صرف ایک سوانحی دستاویز نہیں بلکہ مائیکل جیکسن کی لازوال شہرت اور ان کی موسیقی کے عالمی اثر کا ایک روشن ثبوت ہے۔