مقبول خبریں

سونے کی قیمت میں مسلسل کمی کا رجحان برقرار

سونے کی قیمت میں مسلسل کمی کا رجحان عالمی اور مقامی دونوں منڈیوں میں سرمایہ کاروں اور عام صارفین کے لیے تشویش کا باعث بن رہا ہے۔ جولائی 2026 کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، ایک مختصر وقفے کے بعد سونے کی قیمتوں میں ایک بار پھر بڑی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس نے روایتی طور پر سونے کو ایک محفوظ سرمایہ کاری سمجھنے والوں کو حیران کر دیا ہے۔ یہ گراوٹ صرف پاکستان تک محدود نہیں بلکہ عالمی مارکیٹ بھی اس سے متاثر ہو رہی ہے، جہاں فی اونس سونے کی قیمت میں نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے۔ اس صورتحال نے معاشی ماہرین اور تجزیہ کاروں کو اس کے بنیادی اسباب اور مستقبل کے اثرات کا گہرائی سے جائزہ لینے پر مجبور کر دیا ہے۔

یہ مضمون سونے کی قیمت میں مسلسل کمی کے رجحان کا جامع تجزیہ پیش کرے گا، جس میں عالمی معاشی عوامل، امریکی ڈالر کی مضبوطی، مرکزی بینکوں کی مالیاتی پالیسیاں، اور مقامی مارکیٹ پر ان کے اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔ ہم یہ بھی دیکھیں گے کہ سرمایہ کاروں کا رویہ کس طرح بدل رہا ہے اور مستقبل میں سونے کی قیمتیں کس رخ اختیار کر سکتی ہیں۔

عالمی معاشی عوامل اور سونے کی قیمتوں پر ان کا اثر

سونے کی قیمتیں کئی عالمی معاشی عوامل سے براہ راست متاثر ہوتی ہیں۔ حالیہ عرصے میں عالمی سطح پر افراط زر کے خدشات اور بڑھتی ہوئی شرح سود نے سونے کی چمک کو مدھم کر دیا ہے۔ جب عالمی معیشت مستحکم دکھائی دیتی ہے یا شرح سود میں اضافے کا امکان ہوتا ہے، تو سرمایہ کار سونے جیسی غیر منافع بخش اثاثوں سے نکل کر زیادہ منافع بخش سرمایہ کاریوں کی طرف راغب ہوتے ہیں۔

  • تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور افراط زر: خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ عالمی سطح پر مہنگائی کے خدشات کو بڑھا دیتا ہے۔ جب تیل مہنگا ہوتا ہے تو اشیاء کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں، جس سے مرکزی بینکوں پر شرح سود بڑھانے یا انہیں بلند رکھنے کا دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ شرح سود میں اضافے سے سونا کم پرکشش ہو جاتا ہے کیونکہ یہ خود کوئی سود یا منافع فراہم نہیں کرتا۔ جولائی 2026 میں بھی تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے عالمی مارکیٹ میں سونے پر دباؤ ڈالا ہے۔
  • معاشی غیر یقینی صورتحال کا بدلتا منظر: روایتی طور پر، معاشی غیر یقینی صورتحال اور جغرافیائی سیاسی تناؤ سونے کو ایک محفوظ پناہ گاہ کے طور پر مضبوط کرتا ہے۔ تاہم، حالیہ دنوں میں امریکا-ایران جنگی صورتحال کے باوجود سونے کی قیمتوں میں غیر معمولی کمی دیکھی گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بار سرمایہ کار جنگ کے معاشی اثرات، جیسے مہنگائی اور شرح سود پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں، بجائے اس کے کہ صرف تناؤ کی وجہ سے سونے کی طرف رجوع کریں۔
  • عالمی ترقی کی رفتار: جب عالمی معیشت اچھی کارکردگی دکھاتی ہے، تو سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھتا ہے اور وہ اسٹاک مارکیٹ یا دیگر خطرے سے بھرپور لیکن زیادہ منافع بخش اثاثوں میں سرمایہ کاری کو ترجیح دیتے ہیں، جس سے سونے کی طلب میں کمی آتی ہے۔

مضبوط امریکی ڈالر اور سونے کی قیمت میں گراوٹ

امریکی ڈالر کی قدر اور سونے کی قیمت کے درمیان ایک مضبوط لیکن معکوس تعلق پایا جاتا ہے۔ جب امریکی ڈالر مضبوط ہوتا ہے تو سونے کی قیمت میں کمی واقع ہوتی ہے اور اس کے برعکس۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ سونا عالمی منڈی میں امریکی ڈالر میں خریدا اور فروخت کیا جاتا ہے۔

  • ڈالر کی بڑھتی ہوئی قدر: حالیہ عرصے میں امریکی ڈالر کی قدر میں اضافہ سونے کی قیمت میں کمی کی ایک بڑی وجہ رہا ہے۔ جب ڈالر مضبوط ہوتا ہے تو ان سرمایہ کاروں کے لیے سونا خریدنا مہنگا ہو جاتا ہے جو دیگر کرنسیوں کے حامل ہیں۔ یہ طلب میں کمی کا باعث بنتا ہے اور نتیجتاً قیمتیں گر جاتی ہیں۔
  • فیڈرل ریزرو کی پالیسیاں: امریکی فیڈرل ریزرو (مرکزی بینک) کی مالیاتی پالیسیاں ڈالر کی قدر پر گہرا اثر ڈالتی ہیں۔ جب فیڈرل ریزرو شرح سود میں اضافہ کرتا ہے یا اس کے برقرار رہنے کی توقع ہوتی ہے تو امریکی بانڈز اور دیگر ڈالر پر مبنی اثاثے زیادہ پرکشش ہو جاتے ہیں، جس سے ڈالر مضبوط ہوتا ہے۔ مارچ 2026 میں بھی امریکی ڈالر تین ماہ سے زائد کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا تھا جس کے باعث سونے کی قیمتوں میں نمایاں کمی ہوئی۔ ماہرین کا خیال ہے کہ فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود کو طویل عرصے تک بلند رکھنے کا امکان سونے پر دباؤ کا باعث بن رہا ہے۔
  • سرمایہ کاروں کی ترجیحات: مضبوط ڈالر کی موجودگی میں، سرمایہ کار اپنے سرمائے کو ڈالر پر مبنی اثاثوں میں منتقل کرتے ہیں جہاں انہیں بہتر منافع کی امید ہوتی ہے، جس سے سونے جیسی محفوظ سرمایہ کاری سے ان کی دلچسپی کم ہو جاتی ہے۔
سونے کی قیمت میں مسلسل کمی کا رجحان برقرار

مرکزی بینکوں کی مالیاتی پالیسیاں اور سونے کا مستقبل

مرکزی بینکوں کی مالیاتی پالیسیاں، خاص طور پر شرح سود کا تعین، سونے کی قیمتوں پر براہ راست اور گہرا اثر ڈالتی ہیں۔ سونا ایک غیر پیداواری اثاثہ ہے یعنی یہ اسٹاک یا بانڈز کی طرح کوئی سود یا منافع ادا نہیں کرتا۔

  • شرح سود میں اضافہ: جب مرکزی بینک، خاص طور پر امریکی فیڈرل ریزرو، شرح سود میں اضافہ کرتا ہے تو حکومتی بانڈز اور دیگر سود دینے والے اثاثے زیادہ پرکشش ہو جاتے ہیں۔ سرمایہ کار سونے جیسے غیر منافع بخش اثاثوں سے نکل کر ایسے اثاثوں میں سرمایہ کاری کرتے ہیں جو انہیں سود کی صورت میں آمدنی فراہم کرتے ہیں۔ اس سے سونے کی طلب کم ہوتی ہے اور قیمتیں گرتی ہیں۔ جون 2026 میں سٹیٹ بینک آف پاکستان نے شرح سود کو 11.50 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا، جو مقامی مارکیٹ میں سونے پر بالواسطہ دباؤ کا باعث بن سکتا ہے۔
  • مہنگائی پر قابو پانے کی کوششیں: دنیا بھر کے مرکزی بینک مہنگائی پر قابو پانے کے لیے سخت مالیاتی پالیسیاں اپنا رہے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ شرح سود کو بلند رکھا جا سکتا ہے یا مزید اضافہ کیا جا سکتا ہے تاکہ معیشت میں پیسے کی گردش کو کم کیا جا سکے اور قیمتوں کو مستحکم کیا جا سکے۔ یہ پالیسیاں سونے کے لیے منفی ثابت ہوتی ہیں۔
  • فیڈرل ریزرو کی توقعات: سرمایہ کار عالمی سطح پر امریکی فیڈرل ریزرو کے آئندہ اجلاسوں اور ان کے فیصلوں پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ جولائی 2026 کے وسط میں جاری ہونے والی رپورٹس کے مطابق، امریکی فیڈرل ریزرو کے حکام مہنگائی پر قابو پانے کے لیے مزید اعداد و شمار کا انتظار کر رہے ہیں، اور شرح سود کو بلند رکھنے کا امکان بڑھ گیا ہے، جس نے سونے کی قیمتوں پر دباؤ ڈالا ہے۔
  • مرکزی بینکوں کی سونے کی خریداری: اگرچہ حالیہ عرصے میں سونے کی قیمتوں میں کمی کا رجحان ہے، لیکن بعض مرکزی بینکوں نے اپنے ذخائر میں سونے کی خریداری میں اضافہ کیا ہے۔ یہ ایک طویل مدتی حکمت عملی کا حصہ ہو سکتا ہے تاکہ ڈالر پر انحصار کم کیا جا سکے اور اپنے مالیاتی ذخائر کو متنوع بنایا جا سکے۔ تاہم، یہ خریداری قلیل مدتی مندی کے رجحان کو مکمل طور پر روک نہیں پا رہی۔

مقامی مارکیٹ پر عالمی رجحانات کا اثر: پاکستانی تناظر

پاکستان میں سونے کی قیمتیں عالمی مارکیٹ کے رجحانات، امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر اور مقامی طلب و رسد کے عوامل سے گہرا تعلق رکھتی ہیں۔ عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں تبدیلی کا براہ راست اثر مقامی قیمتوں پر پڑتا ہے۔

آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن (APSJGA) کے مطابق، جولائی 2026 میں پاکستان اور عالمی منڈی دونوں میں سونے کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ 13 جولائی 2026 کو، 24 کیرٹ فی تولہ سونا 3800 روپے سستا ہو کر 429,736 روپے کا ہو گیا، جبکہ 10 گرام سونے کی قیمت 3258 روپے کم ہو کر 368,429 روپے ہو گئی۔ اگلے ہی روز، 14 جولائی 2026 کو، 24 کیرٹ فی تولہ سونے کی قیمت میں مزید 5600 روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی اور یہ 424,136 روپے پر آ گیا، جبکہ 10 گرام سونے کی قیمت 4801 روپے کم ہو کر 363,628 روپے ہو گئی۔ تاہم، 15 جولائی 2026 کو معمولی اضافہ بھی دیکھا گیا، جہاں فی تولہ قیمت میں 900 روپے کا اضافہ ہوا اور یہ 4 لاکھ 25 ہزار 36 روپے کا ہو گیا۔

یہ اتار چڑھاؤ مقامی خریداروں اور سرمایہ کاروں کے لیے ایک پیچیدہ صورتحال پیدا کر رہا ہے۔ سونا خریدنا روایتی طور پر پاکستان میں ایک محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے، خاص طور پر افراط زر اور معاشی عدم استحکام کے اوقات میں۔ تاہم، موجودہ کمی کے رجحان نے اس تصور کو چیلنج کیا ہے۔

پاکستان میں حالیہ دنوں میں سونے کی قیمتوں کا موازنہ (24 قیراط فی تولہ)

تاریخقیمت فی تولہ (PKR)10 گرام (PKR)عالمی قیمت فی اونس (USD)
جولائی 10, 2026433,200340,459 (تقریباً 22K)4128.92 (معمولی اضافہ)
جولائی 11, 2026433,536 (اضافے کے بعد)371,687 (اضافے کے بعد)4111 (اضافے کے بعد)
جولائی 12, 2026433,500340,685 (تقریباً 22K)
جولائی 13, 2026429,736 (3800 روپے کمی)368,429 (3258 روپے کمی)4073 (38 ڈالر کمی)
جولائی 14, 2026424,136 (5600 روپے کمی)363,628 (4801 روپے کمی)4017 (56 ڈالر کمی)
جولائی 15, 2026425,036 (900 روپے اضافہ)4026 (9 ڈالر اضافہ)
جولائی 16, 2026428,000 (Hamariweb.com کے مطابق)36152.32 (24K فی گرام)

صرافہ ڈیلرز کا کہنا ہے کہ حالیہ کمی کے بعد خریداروں کی دلچسپی میں اضافہ متوقع ہے، خصوصاً وہ افراد جو شادیوں یا سرمایہ کاری کے لیے سونا خریدنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ تاہم، مسلسل تبدیلیوں کے باعث مستند ڈیلرز سے تازہ نرخ معلوم کرنا ضروری ہے۔

سرمایہ کاروں کا بدلتا رویہ اور محفوظ سرمایہ کاری کا تصور

سونے کو صدیوں سے “محفوظ پناہ گاہ” (Safe-haven) کی سرمایہ کاری سمجھا جاتا رہا ہے، خاص طور پر معاشی بحرانوں، افراط زر یا سیاسی عدم استحکام کے دوران۔ سرمایہ کار ایسے اوقات میں سونے کی طرف رجوع کرتے تھے کیونکہ اس کی قدر مستحکم سمجھی جاتی تھی۔ تاہم، حالیہ رجحانات نے اس تصور کو تبدیل کر دیا ہے۔

  • منافع سمیٹنا (Profit-taking): جب سونے کی قیمتیں تاریخی بلندیوں پر پہنچ جاتی ہیں، تو بہت سے سرمایہ کار منافع کمانے کے لیے اپنا سونا فروخت کر دیتے ہیں۔ اکتوبر 2025 میں سونے کی قیمت میں نمایاں کمی اس وقت دیکھی گئی جب ایک دن قبل یہ اپنی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچا تھا۔ یہ منافع سمیٹنے کا رجحان مزید قیمتوں میں کمی کا باعث بنتا ہے۔
  • مضبوط ڈالر اور بہتر سرمایہ کاری کے مواقع: مضبوط امریکی ڈالر اور مرکزی بینکوں کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے امکانات نے سرمایہ کاروں کو سونے سے ہٹ کر ایسے اثاثوں کی طرف راغب کیا ہے جو بہتر منافع فراہم کر سکتے ہیں۔ بانڈز یا دیگر سود دینے والے اثاثے، موجودہ حالات میں زیادہ پرکشش لگتے ہیں۔
  • معاشی استحکام کی امیدیں: اگر عالمی معاشی صورتحال میں بہتری کی امید پیدا ہوتی ہے، جیسا کہ امریکا اور چین کے درمیان تجارتی مذاکرات پر بڑھتی امیدوں کے نتیجے میں دیکھا گیا تھا، تو سرمایہ کار سونے جیسی محفوظ سرمایہ کاری سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہیں اور اسٹاک مارکیٹ جیسے خطرے سے بھرپور لیکن زیادہ منافع بخش اثاثوں میں منتقل ہو جاتے ہیں۔
  • سرمایہ کاری کا متنوع انداز: جدید سرمایہ کار اب صرف سونے پر انحصار کرنے کے بجائے اپنے پورٹ فولیو کو متنوع بنا رہے ہیں۔ اس میں اسٹاک، بانڈز، رئیل اسٹیٹ اور دیگر کموڈٹیز شامل ہیں۔ سونے کی قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ نے سرمایہ کاروں کو مزید محتاط کر دیا ہے۔

مستقبل کی پیش گوئیاں: کیا یہ رجحان برقرار رہے گا؟

سونے کی قیمتوں کے مستقبل کے بارے میں پیش گوئیاں مختلف عوامل پر منحصر ہیں، جن میں عالمی معاشی اشاریے، امریکی مالیاتی پالیسیاں، جغرافیائی سیاسی صورتحال اور طلب و رسد کی حرکیات شامل ہیں۔ ماہرین اور مالیاتی ادارے ان عوامل کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں تاکہ آئندہ رجحانات کا تعین کیا جا سکے۔

  • امریکی مالیاتی پالیسی کا کردار: امریکی فیڈرل ریزرو کی آئندہ شرح سود سے متعلق پالیسیاں سونے کی قیمتوں کے مستقبل کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ اگر فیڈرل ریزرو مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لیے شرح سود کو مزید بلند رکھتا ہے یا لمبے عرصے تک بلند رکھتا ہے تو ڈالر مضبوط رہے گا اور سونے پر دباؤ برقرار رہے گا۔ تاہم، اگر مہنگائی میں کمی آتی ہے اور فیڈرل ریزرو شرح سود میں کمی کا اشارہ دیتا ہے تو اس سے سونے کی قیمتوں میں بہتری آ سکتی ہے۔
  • عالمی معاشی حالات: عالمی معیشت کی رفتار بھی سونے کی قیمتوں پر اثر انداز ہوگی۔ اگر عالمی ترقی سست روی کا شکار ہوتی ہے اور کساد بازاری کے خدشات بڑھتے ہیں تو سرمایہ کار ایک بار پھر سونے کو محفوظ سرمایہ کاری سمجھ کر اس کی طرف رجوع کر سکتے ہیں۔
  • جغرافیائی سیاسی کشیدگی: مشرق وسطیٰ یا دنیا کے کسی بھی حصے میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی، جیسا کہ امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ تناؤ، خام تیل کی قیمتوں میں اضافے اور عالمی معیشت پر غیر یقینی کے اثرات کے ذریعے سونے کی قیمتوں کو متاثر کر سکتی ہے۔ تاہم، موجودہ صورتحال میں یہ رجحان اس طرح کام نہیں کر رہا جیسا کہ ماضی میں دیکھا گیا تھا۔
  • طلب و رسد: عالمی سطح پر سونے کی طلب (زیورات، سرمایہ کاری، مرکزی بینکوں کی خریداری) اور رسد (کان کنی، ری سائیکلنگ) بھی قیمتوں کو متاثر کرتی ہے۔ اگر طلب میں اضافہ ہوتا ہے اور رسد محدود رہتی ہے تو قیمتیں بڑھ سکتی ہیں۔

مالیاتی اداروں کی توقعات کے مطابق، سال 2026 میں سونے کی قیمتیں 4,500 سے 5,300 ڈالر فی اونس تک پہنچ سکتی ہیں، اور پاکستان میں عالمی اثرات کے باعث یہ 550,000 روپے فی تولہ تک جا سکتی ہیں۔ تاہم، یہ پیش گوئیاں عالمی مارکیٹ کے متغیرات اور پالیسی فیصلوں سے مشروط ہیں۔ مقامی صرافہ بازار میں سونے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا بنیادی سبب عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت، امریکی ڈالر کی قدر، بین الاقوامی معاشی صورتحال اور سرمایہ کاروں کے رجحانات ہوتے ہیں۔ اس حوالے سے مزید تفصیلات اور تازہ ترین صورتحال کے لیے ایکسپریس نیوز پر سونے کے نرخوں کی روزانہ کی بنیاد پر اپڈیٹس دیکھی جا سکتی ہیں۔

سونے کی قیمت میں مسلسل دوسرے روز بھی کمی

نتیجہ

سونے کی قیمت میں مسلسل کمی کا رجحان ایک پیچیدہ عالمی معاشی منظر نامے کی عکاسی کرتا ہے۔ جہاں ایک طرف امریکی ڈالر کی مضبوطی، بلند شرح سود کی توقعات، اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث افراط زر کے خدشات سونے پر دباؤ ڈال رہے ہیں، وہیں دوسری طرف سرمایہ کاروں کا بدلتا ہوا رویہ اور منافع سمیٹنے کا رجحان بھی اس کمی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ عالمی اور مقامی منڈیوں میں سونے کی قیمتوں میں آنے والی یہ تبدیلیاں ایک بار پھر اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ معاشی اشاریے اور مرکزی بینکوں کی پالیسیاں قیمتی دھاتوں کی قیمتوں پر کس قدر اثر انداز ہوتی ہیں۔ اگرچہ سونا اپنی تاریخی حیثیت کے مطابق آج بھی ایک محفوظ اثاثہ سمجھا جاتا ہے، تاہم اس کی قدر کا تعین اب صرف جغرافیائی سیاسی کشیدگی سے نہیں بلکہ ڈالر کی مضبوطی، مہنگائی اور شرح سود جیسے وسیع تر عوامل سے ہو رہا ہے۔ مستقبل میں سونے کی قیمتوں کا انحصار عالمی معاشی استحکام، مرکزی بینکوں کی مزید مالیاتی پالیسیوں، اور عالمی جغرافیائی سیاسی صورتحال پر ہوگا۔ سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ کسی بھی فیصلے سے قبل مقامی اور عالمی مارکیٹ کے تازہ ترین رجحانات اور مستند ذرائع سے معلومات حاصل کریں۔