مقبول خبریں

رجب بٹ پھر قانون کی زد میں؛ ایک اور مقدمہ سامنے آگیا

رجب بٹ، جو کہ ایک معروف یوٹیوبر اور ٹک ٹاکر ہیں، ایک بار پھر قانون کی زد میں آگئے ہیں۔ لاہور کے تھانہ نواب ٹاؤن میں ان کے خلاف ایک اور مقدمہ درج کیا گیا ہے، جس میں مبینہ طور پر تشدد، بدتمیزی، اور فائرنگ کے الزامات شامل ہیں۔ یہ واقعہ 25 جولائی 2026 کو لاہور کے ایک نجی کیفے میں پیش آیا، جہاں عائشہ شرافت نامی خاتون نے رجب بٹ اور ان کے ساتھیوں پر حملہ کرانے کا الزام عائد کیا ہے۔ یہ مقدمہ رجب بٹ کی قانونی مشکلات کی ایک طویل فہرست میں تازہ ترین اضافہ ہے، جو اکثر متنازعہ بیانات اور طرز عمل کی وجہ سے خبروں کی زینت بنے رہتے ہیں۔ ان کے خلاف درج ہونے والے پچھلے مقدمات میں جنگلی جانور رکھنے، توہین مذہب، زیادتی، اور آن لائن جوئے کی ترغیب جیسے سنگین الزامات شامل ہیں۔ موجودہ کیس میں پولیس نے ایف آئی آر درج کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، جس کے بعد ایک بار پھر رجب بٹ کی قانونی حیثیت اور ان کے مستقبل کے کیریئر پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

نئے مقدمے کی تفصیلات: لاہور کے کیفے میں پیش آنے والا واقعہ

لاہور کے تھانہ نواب ٹاؤن میں 26 اور 27 جولائی 2026 کو درج کیے گئے نئے مقدمے کی تفصیلات کے مطابق، مدعیہ عائشہ شرافت (جو عائشہ جٹ کے نام سے بھی جانی جاتی ہیں) نے پولیس کو بتایا کہ وہ 25 جولائی کی صبح تقریباً 4 بجے اپنی دو دوستوں کے ہمراہ ایک مقامی کیفے میں کھانا کھانے گئی تھیں۔ ایف آئی آر کے متن کے مطابق، اس دوران دو لڑکوں اور دو لڑکیوں نے ان کی دوست کے ساتھ بدتمیزی شروع کر دی۔ جب مدعیہ نے بیچ بچاؤ کرانے کی کوشش کی تو ملزمان نے ان پر تشدد کیا، تھپڑ مارے اور مبینہ طور پر اسلحہ بھی نکال لیا۔ ایف آئی آر میں الزام لگایا گیا ہے کہ میر شفیع نامی ایک ملزم نے موقع پر فائرنگ بھی کی۔ خاتون نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ تمام کارروائی یوٹیوبر رجب بٹ کی ایما پر کی گئی تھی اور رجب بٹ خود بھی موقع پر موجود تھے اور انہوں نے جھگڑے کے دوران مدعیہ اور ان کی دوست پر حملے میں حصہ لیا۔

اس مقدمے میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 354 (خاتون پر حملہ یا مجرمانہ طاقت کا استعمال)، 506 (بی) (مجرمانہ دھمکی)، اور 337-ایچ (2) (لاپرواہی یا غفلت سے زخمی کرنا) شامل کی گئی ہیں۔ پولیس نے ایف آئی آر درج کرنے کے بعد واقعے کی تفصیلی تحقیقات شروع کر دی ہیں، تاکہ حقائق کا پتہ چلایا جا سکے اور ذمہ داران کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔ یہ معاملہ سوشل میڈیا پر بھی زیر بحث ہے اور عوام میں اس پر شدید ردعمل پایا جا رہا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ رجب بٹ ماضی میں بھی اسی نوعیت کے الزامات کا سامنا کر چکے ہیں۔

ماضی کے تنازعات کی بازگشت: رجب بٹ کے خلاف پچھلے مقدمات

رجب بٹ کے خلاف درج ہونے والے نئے مقدمے نے ان کے ماضی کے قانونی تنازعات کو ایک بار پھر سرخیوں میں لا دیا ہے۔ ان کے خلاف پہلے بھی کئی سنگین نوعیت کے مقدمات درج ہو چکے ہیں جو ان کے کیریئر پر سوالیہ نشان لگاتے ہیں۔ یہ مقدمات مختلف نوعیت کے تھے لیکن سب نے انہیں قانون کی گرفت میں لانے کا سبب بنایا۔

شیر کا بچہ رکھنے کا معاملہ اور غیر معمولی سزا

جنوری 2025 میں رجب بٹ کو غیر قانونی طور پر شیر کا بچہ رکھنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ محکمہ وائلڈ لائف کے ہمراہ پولیس نے ان کے گھر پر چھاپہ مار کر شیر کا بچہ تحفے میں لینے پر انہیں حراست میں لیا۔ مقامی عدالت نے اس جرم کا اعتراف کرنے کے بعد انہیں ایک منفرد سزا سنائی۔ عدالت نے انہیں دو سال قید یا جرمانے کی بجائے ایک سال کے لیے کمیونٹی سروس کرنے اور ہر مہینے کے پہلے ہفتے جانوروں کے حقوق سے متعلق ایک پانچ منٹ کی ویڈیو اپ لوڈ کرنے کا حکم دیا۔ رجب بٹ نے عدالت میں اعتراف کیا تھا کہ انہوں نے ایک غلط مثال قائم کی اور شیر کا تحفہ قبول کر کے غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔

توہین مذہب کے سنگین الزامات

رجب بٹ کو توہین مذہب کے سنگین الزامات کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے۔ مارچ 2025 میں تھانہ نشتر کالونی لاہور میں ان کے خلاف مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے اور دفعہ 295C اور 295A کی مبینہ توہین کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ ایف آئی آر کے متن کے مطابق، انہوں نے اپنی ایک ویڈیو میں مذہبی معاملے پر نامناسب الفاظ استعمال کیے اور مبینہ طور پر یہ بھی کہا کہ وہ “295” کے نام سے اپنا پرفیوم لانچ کرنے جا رہے ہیں۔ اس سے قبل جولائی 2025 میں بھی ایک شہری نے رجب بٹ کے خلاف توہین مذہب کے الزامات عائد کرتے ہوئے سیشن کورٹ لاہور میں درخواست دائر کی تھی۔ ان الزامات نے عوامی سطح پر شدید غم و غصے کو جنم دیا تھا اور ان کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اس قسم کے معاملات کی حساسیت کے پیش نظر، پاکستان میں مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے الزامات انتہائی سنگین سمجھے جاتے ہیں اور ان کے قانونی مضمرات بھی بہت گہرے ہوتے ہیں۔ اس سلسلے میں مزید معلومات کے لیے، ڈان نیوز کی یہ رپورٹ دیکھی جا سکتی ہے جس میں رجب بٹ پر توہین مذہب کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کرنے کی درخواست کا ذکر کیا گیا ہے۔

زیادتی اور بلیک میلنگ کے دعوے

جون 2025 میں رجب بٹ پر زیادتی اور بلیک میلنگ کے سنگین الزامات عائد کیے گئے تھے۔ لاہور پولیس نے سوشل میڈیا ایکٹوسٹ عائشہ شرافت کی درخواست پر رجب بٹ اور ان کے ساتھیوں کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔ ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ سوشل میڈیا پر دوستی کے بعد نشہ آور چیز پلا کر زیادتی کی گئی اور نازیبا ویڈیو بنا کر بلیک میل بھی کیا گیا۔ رجب بٹ نے ان الزامات کو شہرت حاصل کرنے کا ایک حربہ قرار دیتے ہوئے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ردعمل کا اظہار کیا تھا۔ بعد ازاں، انہیں ایڈیشنل سیشن جج سلمان گھمن نے 21 جون تک عبوری ضمانت دے دی تھی۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ موجودہ مقدمے کی مدعیہ کا نام بھی عائشہ شرافت ہے، جو ماضی کے ان الزامات سے گہرے روابط کی نشاندہی کرتا ہے۔

مقدمے کی نوعیتدرج ہونے کا تخمینی سالاہم الزاماتحالت/نتیجہ (اگر معلوم ہو)
غیر قانونی شیر کا بچہ رکھناجنوری 2025لائسنس کے بغیر جنگلی جانور رکھناکمیونٹی سروس، جانوروں کے حقوق پر وی لاگ بنانے کا حکم
توہین مذہبمارچ/جولائی 2025مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانا، نامناسب الفاظ کا استعمالدرخواستیں/مقدمات زیر تفتیش
زیادتی و بلیک میلنگجون 2025نشہ آور چیز پلا کر زیادتی، نازیبا ویڈیو سے بلیک میلعبوری ضمانت منظور
جوئے کی ترغیبستمبر 2025غیر رجسٹرڈ بیٹنگ ایپس کی تشہیر، مالی فراڈمقدمہ درج، تحقیقات جاری
کیفے میں تشدد اور فائرنگجولائی 2026تشدد، بدتمیزی، اسلحہ لہرانا، فائرنگ کا الزاممقدمہ درج، تحقیقات جاری

آن لائن جوئے کی ترغیب کا مقدمہ

ستمبر 2025 میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) نے رجب بٹ کے خلاف آن لائن جوئے اور سٹے بازی والی ایپس کی تشہیر کے الزام میں مقدمہ درج کیا تھا۔ ایف آئی آر کے مطابق، رجب بٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ویڈیوز اور اشتہارات کے ذریعے عوام کو غیر رجسٹرڈ ایپس میں سرمایہ کاری کی ترغیب دی تھی، جس کے باعث متعدد افراد کی محنت کی کمائی ضائع ہوئی۔ ایف آئی آر میں انہیں ایک مشہور بیٹنگ ایپ ‘بینومو’ کا برانڈ ایمبیسیڈر بھی قرار دیا گیا تھا جو کسی ادارے کے ساتھ رجسٹرڈ نہیں تھی۔ NCCIA نے انہیں متعدد بار نوٹس بھیجے تھے، لیکن انکوائری میں پیش نہ ہونے پر قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی۔

رجب بٹ کا ردعمل اور عوامی تاثر

رجب بٹ کے خلاف ہر نئے مقدمے کے بعد عوامی اور سوشل میڈیا پر شدید ردعمل دیکھنے میں آتا ہے۔ جہاں ان کے مداح ان کی حمایت میں نظر آتے ہیں، وہیں ناقدین ان کے طرز عمل اور متنازعہ بیانات کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ ماضی میں زیادتی اور بلیک میلنگ کے الزامات پر رجب بٹ نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک سٹوری شیئر کرتے ہوئے خاتون کی جانب سے مقدمہ درج کروانے کو شہرت حاصل کرنے کا حربہ قرار دیا تھا۔ انہوں نے براہ راست نام لیے بغیر کہا تھا کہ “پُتری، جہاں تک زور لگانا ہے لگا لو، میں تمہارا نام اپنے منہ سے کبھی نہیں لوں گا”۔

ان کے بار بار قانون کی زد میں آنے سے ان کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا ہے، اور بہت سے لوگ اب انہیں ایک ایسے شخص کے طور پر دیکھتے ہیں جو محض سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے متنازعہ ہتھکنڈے استعمال کرتا ہے۔ سوشل میڈیا پر مباحثوں میں اکثر ان کے رویے کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیا جاتا ہے اور نوجوان نسل پر ان کے منفی اثرات پر تشویش کا اظہار کیا جاتا ہے۔ ان کی متضاد قانونی صورتحال اور عوامی بیانات نے ان کے ارد گرد ایک ایسا ہالہ بنا دیا ہے جس سے باہر نکلنا ان کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ جولائی 2025 میں، قانونی کارروائیوں کے بعد رجب بٹ نے پاکستان چھوڑ کر بیرون ملک منتقل ہونے اور عارضی طور پر وی لاگنگ سے وقفے کا اعلان بھی کیا تھا۔ تاہم، موجودہ مقدمہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ان کی قانونی مشکلات کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔

قانونی مضمرات اور تحقیقات کا دائرہ

رجب بٹ کے خلاف نئے مقدمے کے اندراج کے بعد ان پر قانونی دباؤ میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ لاہور کے تھانہ نواب ٹاؤن میں درج ایف آئی آر میں شامل دفعات سنگین نوعیت کی ہیں اور اگر الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو انہیں سخت قانونی نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ پولیس نے واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، جس میں سی سی ٹی وی فوٹیج، گواہوں کے بیانات، اور دیگر شواہد کو اکٹھا کیا جائے گا تاکہ اصل حقائق تک پہنچا جا سکے۔ تحقیقاتی ٹیم اس بات کا بھی جائزہ لے گی کہ آیا اس واقعے میں رجب بٹ کا براہ راست ملوث ہونا ثابت ہوتا ہے یا ان کے ساتھیوں نے ان کی ایما پر یہ کارروائی کی۔

ماضی میں بھی ان کے خلاف مختلف نوعیت کے مقدمات درج ہوئے ہیں، جن میں کچھ میں انہیں سزائیں بھی سنائی گئیں اور کچھ میں وہ ضمانت پر رہا ہوئے۔ تاہم، ہر نیا مقدمہ ان کی قانونی پیچیدگیوں میں اضافہ کرتا ہے اور ان کے مستقبل کے لیے غیر یقینی کی صورتحال پیدا کرتا ہے۔ خاص طور پر ایسے میں جب وہ ماضی میں بھی قانونی وجوہات کی بنا پر ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے تھے۔ عدالتوں میں پیشیاں، قانونی اخراجات اور عوامی بدنامی، یہ سب ان کے لیے ایک بڑا بوجھ ثابت ہو رہے ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ نیا مقدمہ ان کے میڈیا کیریئر پر منفی اثرات مرتب کرے اور انہیں مزید تنقید کا نشانہ بننا پڑے۔ پاکستانی قانون کے تحت ایسے معاملات میں شواہد کی اہمیت کلیدی ہوتی ہے، اور تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی مقدمے کا رخ واضح ہو سکے گا۔

نتیجہ

رجب بٹ کے خلاف لاہور میں درج ہونے والا تازہ ترین مقدمہ ان کی متنازعہ شخصیت اور قانونی پیچیدگیوں کی عکاسی کرتا ہے۔ ایک یوٹیوبر اور ٹک ٹاکر کے طور پر انہیں شہرت تو حاصل ہوئی ہے، لیکن متواتر قانونی مسائل نے ان کے کیریئر اور عوامی تاثر کو شدید متاثر کیا ہے۔ شیر کا بچہ رکھنے سے لے کر توہین مذہب، زیادتی اور اب تشدد و فائرنگ کے الزامات تک، رجب بٹ کی قانونی مشکلات کا دائرہ وسیع ہوتا جا رہا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف ان کے ذاتی مستقبل کے لیے سوالات کھڑے کرتی ہے بلکہ سوشل میڈیا کی دنیا میں شہرت حاصل کرنے والے افراد کے لیے بھی ایک سبق آموز مثال پیش کرتی ہے۔ قانون کی بالادستی اور ذمہ دارانہ طرز عمل کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے، یہ واقعہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ عوامی شخصیات کو اپنے الفاظ اور اعمال میں انتہائی احتیاط سے کام لینا چاہیے۔ پولیس کی تحقیقات مکمل ہونے اور عدالتی کارروائی کے بعد ہی اس نئے مقدمے کا حتمی فیصلہ سامنے آئے گا، لیکن بلاشبہ رجب بٹ ایک بار پھر ایک بڑے قانونی چیلنج کا سامنا کر رہے ہیں۔