Table of Contents
ایک سال میں گردشی قرضہ 779 ارب روپے کم ہونا اور بجلی کمپنیوں کے نقصانات میں بھی گراوٹ آنا پاکستان کے توانائی کے شعبے کے لیے ایک غیر معمولی اور انتہائی خوش آئند خبر ہے۔ یہ پیشرفت نہ صرف ملکی معیشت پر مثبت اثرات مرتب کرے گی بلکہ توانائی کے شعبے میں جاری اصلاحات کی کامیابی کی بھی دلیل ہے۔ سالہا سال سے پاکستان گردشی قرضے کے بوجھ تلے دبا ہوا تھا، جس نے اقتصادی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹیں کھڑی کر رکھی تھیں۔ بجلی کی پیداوار، ترسیل اور تقسیم کے نظام میں موجود خامیوں اور انتظامی مسائل نے اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیا تھا، تاہم موجودہ حکومت کی جانب سے کیے گئے سنجیدہ اقدامات اور موثر حکمت عملی نے اس مشکل صورتحال پر قابو پانے میں نمایاں کامیابی حاصل کی ہے۔
تعارف: توانائی کے شعبے میں ایک اہم کامیابی
پاکستان کے توانائی کے شعبے میں گردشی قرضے کی کمی اور بجلی کمپنیوں کے نقصانات میں گراوٹ ایک ایسی کامیابی ہے جس کا طویل عرصے سے انتظار تھا۔ یہ مسئلہ پاکستان کی معیشت کے لیے ایک ناسور بن چکا تھا، جو نہ صرف ترقیاتی منصوبوں کو متاثر کر رہا تھا بلکہ عام صارفین پر بھی بجلی کی قیمتوں کی صورت میں اضافی بوجھ ڈال رہا تھا۔ موجودہ اعداد و شمار کے مطابق، ایک سال کے دوران گردشی قرضے میں 779 ارب روپے کی کمی آئی ہے، جو کہ ایک شاندار کامیابی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کے نقصانات میں بھی نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اصلاحاتی عمل صحیح سمت میں گامزن ہے۔ یہ کمی مالی سال 2023-24 میں ڈسکوز کے نقصانات جو کہ 591 ارب روپے تھے، سے مالی سال 2024-25 میں 397 ارب روپے تک اور پھر مالی سال 2025-26 میں مزید کم ہو کر 326 ارب روپے تک آ گئی۔ یہ اعداد و شمار حکومتی کوششوں اور پاور ڈویژن کی جانب سے اپنائی گئی حکمت عملی کی کامیابی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
گردشی قرضے کی کمی سے ملکی مالیاتی استحکام کو تقویت ملے گی اور حکومت کے لیے دیگر ترقیاتی منصوبوں پر توجہ مرکوز کرنا آسان ہو جائے گا۔ اس سے سرمایہ کاری کا ماحول بہتر ہوگا اور بیرونی سرمایہ کاروں کو بھی پاکستان کے توانائی کے شعبے میں دلچسپی لینے کی ترغیب ملے گی۔ یہ تمام عوامل بالآخر ملکی معیشت کی پائیدار ترقی میں معاون ثابت ہوں گے۔ اس مسئلے کی گہرائی کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم پہلے یہ جانیں کہ گردشی قرضہ کیا ہے اور اس کے پاکستان کی معیشت پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
گردشی قرضہ کیا ہے اور اس کے مہلک اثرات؟
گردشی قرضہ، جسے انگریزی میں “Circular Debt” کہا جاتا ہے، توانائی کے شعبے میں ایک ایسا مالیاتی بحران ہے جہاں بجلی کی پیداواری لاگت اور اس کی وصولیوں کے درمیان ایک بڑا فرق پیدا ہو جاتا ہے۔ سادہ الفاظ میں، یہ وہ خسارہ ہے جو بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں (آئی پی پیز)، ترسیل کرنے والے اداروں اور تقسیم کار کمپنیوں کے درمیان ادائیگیوں کے چکر میں پھنس جاتا ہے۔ جب بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کو ان کی پیداوار کا بروقت معاوضہ نہیں ملتا، تو وہ ایندھن فراہم کرنے والے اداروں کو ادائیگیاں کرنے سے قاصر ہو جاتی ہیں، جس سے یہ سلسلہ آگے بڑھتا چلا جاتا ہے۔ پاکستان میں بجلی کی پیداواری لاگت پوری نہ ہونے کی اہم وجوہات میں بجلی چوری، بجلی کی ترسیل کا پرانا نظام، لائن لاسز اور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کی ناقص کارکردگی شامل ہیں۔
اس کے علاوہ، آزاد پاور پروڈیوسرز (IPPs) کو کیے جانے والے کیپیسٹی پیمنٹس بھی گردشی قرضے میں ایک بڑا حصہ ڈالتے ہیں۔ یہ وہ رقم ہے جو بجلی گھروں کو ان کی زائد مگر ناقابلِ استعمال پیداوار کی مد میں ادا کی جاتی ہے۔ جب بجلی کی طلب کم ہو یا ترسیل کا نظام اسے مکمل طور پر جذب نہ کر سکے، تب بھی ان IPPs کو معاہدوں کے تحت ادائیگی کرنی پڑتی ہے، جو گردشی قرضے میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔
گردشی قرضے کے ملکی معیشت پر کئی مہلک اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اول، یہ حکومت کے مالیاتی بوجھ میں اضافہ کرتا ہے کیونکہ حکومت کو اکثر ان قرضوں کو سبسڈی یا بینکوں سے قرض لے کر ادا کرنا پڑتا ہے۔ دوم، یہ بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا باعث بنتا ہے کیونکہ نقصانات اور قرضوں کا بوجھ بالآخر صارفین پر منتقل کیا جاتا ہے، جس سے مہنگائی بڑھتی ہے اور عوام کی قوت خرید متاثر ہوتی ہے۔ سوم، یہ توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کرتا ہے، کیونکہ سرمایہ کار ایسے شعبے میں سرمایہ کاری کرنے سے گریز کرتے ہیں جہاں مالیاتی عدم استحکام موجود ہو۔ چہارم، یہ توانائی کی سپلائی میں رکاوٹوں کا سبب بن سکتا ہے کیونکہ مالی مسائل کی وجہ سے بجلی پیدا کرنے والی کمپنیاں ایندھن کی خریداری یا مرمت کا کام وقت پر نہیں کر پاتیں۔ ان تمام عوامل کا مجموعی نتیجہ معاشی سست روی اور ترقی کی راہ میں رکاوٹوں کی صورت میں سامنے آتا ہے۔
حکومت کی اصلاحاتی حکمت عملی اور اہم اقدامات
گردشی قرضے کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے حکومت پاکستان نے گزشتہ چند سالوں میں کئی ٹھوس اور مربوط اصلاحاتی اقدامات کیے ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد توانائی کے شعبے میں مالیاتی نظم و ضبط کو بہتر بنانا، کارکردگی میں اضافہ کرنا، اور گردشی قرضے کے بنیادی محرکات کو ختم کرنا ہے۔ ان اصلاحات میں چند اہم پہلو یہ ہیں:
- آئی پی پیز کے ساتھ مذاکرات: حکومت نے آزاد پاور پروڈیوسرز (IPPs) کے ساتھ معاہدوں پر نظر ثانی کی کوششیں کی ہیں تاکہ بجلی کی پیداواری لاگت کو کم کیا جا سکے۔ وزیر اعظم کی جانب سے تشکیل دی گئی ٹاسک فورس نے IPPs کے جنریشن ٹیرف کو کم کرنے کے لیے روزانہ کی بنیاد پر اجلاس کیے ہیں۔ یہ مذاکرات بنیادی طور پر آئی پی پیز کی جانب سے عائد کردہ جنریشن ٹیرف کو کم کرنے پر مرکوز ہیں، جو ملک میں بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
- قرضوں کی ری پروفائلنگ: حکومت نے چین سمیت دیگر مالیاتی اداروں کے ساتھ قرضوں کی ری پروفائلنگ کے لیے بات چیت کی ہے۔ اس عمل میں موجودہ قرضوں کی ادائیگی کی شرائط میں توسیع اور سستے قرضوں کا حصول شامل ہے تاکہ فوری مالی بوجھ کو کم کیا جا سکے۔
- بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری: آپریشنل کارکردگی اور خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے کے لیے کئی بجلی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی نجکاری کے منصوبے بھی زیر غور ہیں۔ نجکاری سے انتظامیہ میں شفافیت آنے اور نقصانات میں کمی آنے کی توقع ہے۔
- بینکوں کے ساتھ تاریخی معاہدہ: جون 2025 میں، حکومت نے 18 بینکوں کے کنسورشیم کے ساتھ 1275 ارب روپے کے قرض کے ایک تاریخی معاہدے پر دستخط کیے۔ اس معاہدے کا مقصد پرانے، مہنگے قرضوں کی جگہ نئے پیکیج کو کم شرح سود پر حاصل کرنا ہے، جس سے گردشی قرضے پر دباؤ نمایاں حد تک کم ہو جائے گا۔ نئی فنانسنگ کے لیے شرح منافع 3 ماہ کا کائبور مائنس 0.9 فیصد مقرر کی گئی ہے، اور اہم بات یہ ہے کہ صارفین پر کوئی نیا سرچارج عائد نہیں کیا جائے گا۔ تاہم، یہ بھی رپورٹ کیا گیا ہے کہ ڈیٹ سروس سرچارج کی مد میں ماہانہ 10 فیصد آئندہ 6 سال بجلی صارفین سے وصول کیا جائے گا۔
- بجلی چوری کے خلاف مہم اور اوور بلنگ کا خاتمہ: حکومت نے بجلی چوری کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی ہے اور اوور بلنگ کے خاتمے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔ ان اقدامات سے وصولیوں میں بہتری آئی ہے اور نظام میں شفافیت کو فروغ ملا ہے۔ لیسکو نے مالی سال 2024-25 سے لائن لاسز میں مسلسل کمی، تقریباً سو فیصد ریکوری اور بجلی کی خریداری کے واجبات کی بروقت ادائیگی کے ذریعے مالی استحکام حاصل کیا ہے۔
- سستی بجلی کے حصول کے منصوبے: حکومت سستی بجلی کی پیداوار کے منصوبوں پر بھی کام کر رہی ہے، خاص طور پر پن بجلی کے منصوبوں پر تاکہ مہنگے درآمدی ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے، جو گردشی قرضے کے بڑھنے کی ایک بڑی وجہ ہے۔
ان تمام اقدامات کا مقصد توانائی کے شعبے کو مالی طور پر پائیدار بنانا اور ملک کو گردشی قرضے کے مستقل بحران سے نجات دلانا ہے۔ یہ ایک جامع حکمت عملی ہے جو مالیاتی، انتظامی اور تکنیکی پہلوؤں پر مشتمل ہے۔
بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی کارکردگی میں نمایاں بہتری
بجلی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی کارکردگی میں بہتری گردشی قرضے میں کمی کا ایک اہم ستون ہے۔ ماضی میں، ڈسکوز کو بجلی چوری، ناقص وصولیوں، اور ترسیل و تقسیم کے دوران ہونے والے نقصانات (لائن لاسز) کی وجہ سے بڑے مالیاتی خسارے کا سامنا تھا۔ تاہم، موجودہ اصلاحاتی عمل کے تحت ان کی کارکردگی میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔
- نقصانات میں کمی: پاور ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، جولائی تا اپریل (9 ماہ کے دوران) بجلی کمپنیوں کے مجموعی نقصانات میں 66 ارب روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کمی میں نااہلیوں کے باعث ہونے والے نقصانات میں 12 ارب روپے کی کمی اور ریکوریز میں بہتری کی وجہ سے 54 ارب روپے کی بہتری شامل ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ انتظامی سطح پر موثر اقدامات کیے گئے ہیں اور وصولیوں کے نظام کو بہتر بنایا گیا ہے۔
- لائن لاسز میں گراوٹ: لیسکو (Lahore Electric Supply Company) نے اپنی کارکردگی میں نمایاں بہتری کا مظاہرہ کیا ہے اور مالی سال 2024-25 سے کمپنی نے لائن لاسز میں مسلسل کمی ریکارڈ کی ہے۔ لائن لاسز کا کم ہونا براہ راست گردشی قرضے میں کمی کا باعث بنتا ہے کیونکہ اس کا مطلب ہے کہ کم بجلی ضائع ہو رہی ہے اور زیادہ بجلی صارفین تک پہنچ رہی ہے جس کی وصولی ممکن ہے۔
- وصولیوں کی شرح میں بہتری: ڈسکوز کی وصولیوں کی شرح میں بہتری آئی ہے، جس میں تقریباً 100 فیصد ریکوری کے دعوے بھی سامنے آئے ہیں۔ یہ بجلی چوری کے خلاف مہم، اوور بلنگ کے خاتمے اور بلوں کی بروقت ادائیگی کو یقینی بنانے کے حکومتی اقدامات کا نتیجہ ہے۔
- بہتر گورننس اور شفافیت: حکومت نے بجلی کے شعبے میں بہتر گورننس، مالیاتی نظم و ضبط اور پائیداری کے فروغ کا عزم برقرار رکھا ہے۔ ترجمان پاور ڈویژن کے مطابق، یہ کامیابی وزارت توانائی (پاور ڈویژن) کی رہنمائی، بورڈ آف ڈائریکٹرز کی موثر نگرانی اور چیف ایگزیکٹو آفیسرز کی قیادت میں کیے گئے اصلاحاتی اقدامات کا نتیجہ ہے، جن میں اوور بلنگ، بجلی چوری کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اور گورننس میں بہتری شامل ہے۔
ان مثبت پیشرفتوں کے باوجود، نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کی رپورٹس میں اب بھی کچھ ڈسکوز کی ناقص کارکردگی پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ نیپرا کی 2024-25 کی کارکردگی رپورٹ کے مطابق، کچھ کمپنیوں نے قومی خزانے کو ترسیل، تقسیم اور کم وصولیوں کی مد میں 472 ارب روپے کا نقصان پہنچایا۔ یہ نشاندہی کرتا ہے کہ اگرچہ مجموعی طور پر بہتری آئی ہے، لیکن کچھ کمپنیوں کو اب بھی اپنی کارکردگی کو نمایاں طور پر بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ مجموعی طور پر، ڈسکوز کی کارکردگی میں بہتری نے گردشی قرضے کو کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے اور یہ سلسلہ مستقبل میں بھی جاری رہنا چاہیے۔
گردشی قرضے اور نقصانات کے تازہ ترین اعداد و شمار اور تجزیہ
گردشی قرضے اور بجلی کمپنیوں کے نقصانات میں کمی کے اعداد و شمار توانائی کے شعبے میں ہونے والی مثبت تبدیلیوں کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار نہ صرف حکومتی پالیسیوں کی افادیت کو ظاہر کرتے ہیں بلکہ مستقبل کے لیے ایک امید افزا تصویر بھی پیش کرتے ہیں۔
- گردشی قرضے میں کمی: ایک سال کے دوران گردشی قرضے میں 779 ارب روپے کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے بھی تقریباً 800 ارب روپے کی کمی کا ذکر کیا تھا۔ یہ کمی اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت کی جانب سے کیے گئے اصلاحاتی اقدامات، جن میں بینکوں کے ساتھ قرضوں کی ری پروفائلنگ اور وصولیوں میں بہتری شامل ہے، کارگر ثابت ہو رہے ہیں۔
- ڈسکوز کے نقصانات میں گراوٹ: بجلی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کے نقصانات میں بھی مسلسل کمی دیکھی گئی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق:
- مالی سال 2023-24 میں ڈسکوز کے نقصانات: 591 ارب روپے
- مالی سال 2024-25 میں ڈسکوز کے نقصانات: 397 ارب روپے (591 ارب سے 397 ارب روپے تک کی کمی)
- مالی سال 2025-26 میں ڈسکوز کے نقصانات: 326 ارب روپے (397 ارب سے 326 ارب روپے تک مزید کمی)
- لیسکو کی نمایاں کارکردگی: لیسکو نے خصوصی طور پر مالی سال 2023-24 میں اپنے گردشی قرضے کو 339 ارب روپے سے کم کر کے مالی سال 2025-26 میں 203 ارب روپے تک لانے میں کامیابی حاصل کی، جو صرف دو سالوں میں 136 ارب روپے کی تاریخی کمی ہے۔ یہ کامیابی وزارت توانائی (پاور ڈویژن) کی رہنمائی اور لیسکو کی انتظامیہ کی موثر حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔
ان اعداد و شمار کا تجزیہ ظاہر کرتا ہے کہ گردشی قرضے کا مسئلہ، جو کبھی ناقابل حل نظر آتا تھا، اب قابو میں آنے لگا ہے۔ یہ کمی حکومتی عزم اور تمام متعلقہ اداروں کے مابین بہتر ہم آہنگی کا نتیجہ ہے۔ تاہم، یہ بھی اہم ہے کہ کچھ رپورٹس میں ڈسکوز کی جانب سے قومی خزانے کو پہنچائے جانے والے نقصانات کا بھی ذکر ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔
مندرجہ ذیل جدول گردشی قرضے اور بجلی کمپنیوں کے نقصانات میں حالیہ کمی کو ظاہر کرتا ہے:

| مالی سال | ڈسکوز کے نقصانات (ارب روپے) | گردشی قرضے میں کمی کا رجحان |
|---|---|---|
| 2023-24 | 591 | – |
| 2024-25 | 397 | گردشی قرضے میں کل 779 ارب روپے کی کمی |
| 2025-26 | 326 | نقصانات میں مسلسل گراوٹ |
معیشت پر مثبت اثرات اور پائیدار حل کی جانب پیشرفت
گردشی قرضے میں کمی اور بجلی کمپنیوں کے نقصانات میں گراوٹ کے پاکستان کی معیشت پر گہرے اور مثبت اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ یہ پیشرفت نہ صرف حکومتی مالیاتی بوجھ کو کم کرتی ہے بلکہ ملک میں سرمایہ کاری کے ماحول کو بھی بہتر بناتی ہے۔
- مالیاتی استحکام: گردشی قرضے میں کمی سے حکومت پر سبسڈی اور قرضوں کی ادائیگی کا بوجھ کم ہوتا ہے۔ یہ وسائل جو پہلے گردشی قرضے کو حل کرنے میں استعمال ہوتے تھے، اب انہیں صحت، تعلیم، اور دیگر ترقیاتی شعبوں میں لگایا جا سکتا ہے۔ اس سے ملک کا مالیاتی استحکام بہتر ہوتا ہے اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ بھی پاکستان کی ساکھ میں اضافہ ہوتا ہے۔
- بجلی کی قیمتوں میں استحکام: نقصانات میں کمی اور بہتر وصولیوں سے بجلی کی پیداواری لاگت پر دباؤ کم ہوتا ہے۔ اگرچہ گردشی قرضے کو کم کرنے کے لیے ڈیٹ سروس سرچارج جیسے اقدامات بھی کیے گئے ہیں، لیکن طویل مدت میں پائیدار حل سے بجلی کی قیمتوں میں استحکام آنے کی امید ہے۔ اس سے عام صارفین کو ریلیف ملے گا اور صنعتی شعبے کو بھی مسابقتی ماحول ملے گا۔
- سرمایہ کاری میں اضافہ: توانائی کے شعبے میں مالیاتی نظم و ضبط اور بہتر کارکردگی ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے کشش کا باعث بنتی ہے۔ جب ایک شعبہ مالیاتی طور پر مستحکم ہوتا ہے، تو سرمایہ کار اس میں سرمایہ کاری کرنے میں زیادہ پراعتماد محسوس کرتے ہیں۔ یہ نہ صرف بجلی کی پیداوار اور ترسیل کے انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے میں مدد کرے گا بلکہ نئے روزگار کے مواقع بھی پیدا کرے گا۔ خیبرپختونخوا حکومت نے بھی انرجی سیکٹر میں سرمایہ کاری کیلئے روڈ شوز کا فیصلہ کیا ہے۔
- توانائی کی حفاظت: گردشی قرضے کی وجہ سے ایندھن کی سپلائی اور بجلی کی پیداوار متاثر ہوتی تھی۔ اس مسئلے کے حل سے ملک میں توانائی کی حفاظت کو تقویت ملے گی اور بجلی کی بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے گا، جو صنعتی اور زرعی شعبوں کی ترقی کے لیے نہایت ضروری ہے۔
- آئی ایم ایف پروگرام میں کامیابی: گردشی قرضے میں کمی عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے پروگرام کی شرائط میں سے ایک اہم شرط ہے۔ اس میں کامیابی پاکستان کو مزید مالی امداد حاصل کرنے اور بین الاقوامی سطح پر اعتماد بحال کرنے میں مدد دے گی۔ حکومت نے قرضوں کا حجم اور شرح کم کرنے کیلئے ایک حکمت عملی بھی تیار کر رکھی ہے۔
مجموعی طور پر، گردشی قرضے میں کمی ایک پائیدار حل کی جانب ایک اہم قدم ہے جو پاکستان کی معیشت کو طویل مدتی فوائد فراہم کرے گا۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ درست پالیسیوں اور مضبوط عزم کے ساتھ مشکل ترین معاشی چیلنجز پر بھی قابو پایا جا سکتا ہے۔ پاکستان کے توانائی کے شعبے کی مزید گہرائی میں معلومات اور معاشی اصلاحات سے متعلق مزید رپورٹس کے لیے، ڈان نیوز کی معاشی رپورٹس کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔
مستقبل کے چیلنجز اور پائیدار ترقی کے اہداف
اگرچہ گردشی قرضے میں نمایاں کمی اور بجلی کمپنیوں کے نقصانات میں گراوٹ ایک بڑی کامیابی ہے، تاہم مستقبل میں بھی کئی چیلنجز موجود ہیں جن سے نمٹنا ضروری ہے۔ ان چیلنجز پر قابو پا کر ہی توانائی کے شعبے میں پائیدار ترقی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔
- گیس سیکٹر کا گردشی قرضہ: بجلی کے شعبے کی طرح گیس کے شعبے میں بھی گردشی قرضہ ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے، جس کا حجم تقریباً 1700 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔ آئی ایم ایف اور حکومت کے درمیان اس مسئلے پر اتفاق رائے ضروری ہے تاکہ توانائی کے تمام شعبوں میں مالیاتی استحکام لایا جا سکے۔ گیس کے شعبے میں بھی ناقص وصولیوں، لائن لاسز اور غیر موثر انتظامیہ جیسے مسائل موجود ہیں۔
- پائیدار اصلاحات کا تسلسل: گردشی قرضے کا مسئلہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے چلا آ رہا ہے، اور ماضی میں بھی عارضی حل تلاش کیے گئے ہیں جو بعد میں ناکام ثابت ہوئے۔ اس لیے ضروری ہے کہ موجودہ اصلاحاتی عمل کو تسلسل کے ساتھ جاری رکھا جائے اور مرض کی جڑ پر توجہ دی جائے۔ وقتی مالی انتظامات دیرپا نتائج نہیں دے سکتے اگر بنیادی وجوہات کا تدارک نہ کیا جائے۔
- بجلی چوری اور لائن لاسز کا مکمل خاتمہ: بجلی چوری اور لائن لاسز اب بھی ایک بڑا مسئلہ ہیں، اگرچہ ان میں کمی آئی ہے۔ ان کے مکمل خاتمے کے لیے ٹیکنالوجی کا بہتر استعمال، موثر نفاذ اور عوامی آگاہی کی ضرورت ہے۔ ڈسکوز کو اپنی ترسیل اور تقسیم کے نقصانات کے اہداف کو حاصل کرنے میں مزید جدوجہد کرنی ہوگی۔
- آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں کی مستقل نوعیت: IPPs کے ساتھ کیے گئے مہنگے معاہدے گردشی قرضے کے مستقل اضافے کی ایک بڑی وجہ ہیں۔ حکومت کو ان معاہدوں پر مزید مذاکرات اور طویل مدتی حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے تاکہ بجلی کی پیداواری لاگت کو مزید کم کیا جا سکے۔
- انفراسٹرکچر کی اپ گریڈیشن: بجلی کی ترسیل اور تقسیم کے پرانے اور ناکارہ نظام کو جدید بنانا ضروری ہے تاکہ لائن لاسز کو کم کیا جا سکے اور بجلی کی فراہمی کو موثر بنایا جا سکے۔ اس کے لیے بھاری سرمایہ کاری کی ضرورت ہے جو حکومت کو منصوبہ بندی کے ساتھ کرنا ہوگی۔
- صارفین پر بوجھ کا انتظام: گردشی قرضے کو کم کرنے کے لیے بعض اوقات صارفین پر اضافی سرچارجز عائد کیے جاتے ہیں۔ یہ ضروری ہے کہ ایسے اقدامات کو اس طرح سے منظم کیا جائے کہ عام صارفین پر غیر ضروری مالی بوجھ نہ پڑے اور وہ بجلی کے بلوں کی ادائیگی کی سکت رکھتے ہوں۔
لیسکو نے مالی سال 2026-27 سے 2028-29 کے لیے ایک جامع منصوبہ تیار کیا ہے، جس کے تحت گردشی قرضے کو 150 ارب روپے سے کم سطح پر لانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ یہ ایک مثبت قدم ہے اور دیگر ڈسکوز کو بھی اسی طرح کے اہداف مقرر کرنے اور حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ تمام اقدامات پاکستان کے توانائی کے شعبے کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے اور ملکی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
نتیجہ
ایک سال کے دوران گردشی قرضے میں 779 ارب روپے کی کمی اور بجلی کمپنیوں کے نقصانات میں نمایاں گراوٹ پاکستان کے توانائی کے شعبے کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ کامیابی حکومتی عزم، بہتر پالیسی سازی، اور تمام متعلقہ اداروں کی مربوط کوششوں کا نتیجہ ہے۔ اس پیشرفت نے نہ صرف ملکی معیشت پر مثبت اثرات مرتب کیے ہیں بلکہ توانائی کے شعبے میں پائیدار اصلاحات کے لیے ایک مضبوط بنیاد بھی فراہم کی ہے۔ مالیاتی نظم و ضبط میں بہتری، وصولیوں کی شرح میں اضافہ، اور بجلی چوری کے خلاف موثر اقدامات نے اس کامیابی میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
تاہم، اس کامیابی کو مستحکم رکھنے اور مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مسلسل کوششوں اور ہوشیار منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ گیس سیکٹر کے گردشی قرضے کا حل، آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں پر مزید نظر ثانی، انفراسٹرکچر کی اپ گریڈیشن، اور بجلی چوری کے خلاف جاری مہم کا تسلسل ناگزیر ہے۔ اگر حکومت اور متعلقہ ادارے اسی عزم اور حکمت عملی کے ساتھ کام کرتے رہیں تو پاکستان کا توانائی کا شعبہ مکمل طور پر خود مختار اور مالیاتی طور پر پائیدار بن سکتا ہے، جس کے نتیجے میں ملک کی مجموعی اقتصادی ترقی کو نمایاں فروغ ملے گا۔ یہ ایک روشن مستقبل کی جانب ایک اہم قدم ہے جہاں بجلی کی بلاتعطل اور سستی فراہمی ممکن ہو سکے گی اور معیشت مضبوط بنیادوں پر استوار ہوگی۔


