مقبول خبریں

ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی؟ امریکا نے یورپی اڈوں سے جنگی طیارے مشرق وسطیٰ روانہ کر دیے 2026

ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی کی افواہیں ایک بار پھر عروج پر ہیں، اور اس بار صورتحال میں شدت اس وقت آئی جب امریکا نے یورپی اڈوں سے اپنے جدید جنگی طیارے مشرق وسطیٰ روانہ کر دیے۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، یورپ میں تعینات جدید ایف-16 اور ایف-35 اسٹیلتھ لڑاکا طیارے سمیت اضافی فوجی اثاثے خطے میں منتقل کیے جا رہے ہیں، جس سے ایران اور امریکا کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے نازک موڑ پر ہوئی ہے جب دونوں ممالک کے درمیان مسلسل چھٹی رات امریکی فضائی حملے ہوئے ہیں اور ایران کی جانب سے جوابی کارروائیوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف علاقائی امن و استحکام کو خطرے میں ڈال دیا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی گہری تشویش پیدا کر دی ہے۔

بڑھتی کشیدگی کی وجوہات

ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کی جڑیں گہری ہیں اور اس کی کئی بنیادی وجوہات ہیں۔ سب سے اہم وجہ ایران کا جوہری پروگرام ہے، جس پر عالمی طاقتوں اور خصوصاً امریکا کو گہرے تحفظات ہیں۔ ایران نے 2015 کے جوہری معاہدے (JCPOA) سے امریکا کی یکطرفہ علیحدگی کے بعد یورینیم کی افزودگی میں تیزی لائی ہے، اور اب یہ 60 فیصد کی سطح تک پہنچ چکی ہے، جو کہ جوہری بم کے لیے درکار حد کے قریب ہے۔ عالمی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) نے بھی ایران پر اپنی جوہری تنصیبات کے معائنہ میں عدم تعاون کا الزام لگایا ہے، جس سے اس کے پروگرام کے پرامن مقاصد پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

اس کے علاوہ، مشرق وسطیٰ میں ایران کی علاقائی مداخلتیں، جیسے کہ مختلف پراکسی گروہوں کی حمایت، بھی امریکا اور اس کے اتحادیوں کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔ عراق، شام، یمن اور لبنان میں جاری تنازعات میں ایرانی کردار کو خطے میں عدم استحکام کی ایک بڑی وجہ سمجھا جاتا ہے۔

تیسری اہم وجہ آبنائے ہرمز کی سلامتی ہے۔ یہ دنیا کی سب سے اہم بحری گزرگاہ ہے جہاں سے عالمی تیل کی تجارت کا ایک تہائی حصہ گزرتا ہے۔ امریکا آبنائے میں آزاد جہاز رانی کو یقینی بنانے کا عزم رکھتا ہے، جبکہ ایران نے ماضی میں اسے بند کرنے کی دھمکیاں دی ہیں اور حال ہی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کی دوبارہ ناکہ بندی کا اعلان کرتے ہوئے اسے ”امریکا کا محافظ” قرار دیا ہے۔ اس سے آبنائے میں بحری تصادم کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔ حالیہ دنوں میں امریکی فوج نے ایرانی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں کے خلاف بحری ناکہ بندی دوبارہ سخت کر دی ہے، جس کا مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے لیے استعمال ہونے والی ایرانی صلاحیتوں کو کمزور کرنا ہے۔

امریکی جنگی طیاروں کی تعیناتی: تفصیلات اور اہداف

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، امریکا نے جرمنی اور برطانیہ جیسے یورپی اتحادیوں کے اڈوں پر تعینات اپنے جدید جنگی طیارے، جن میں ایف-16 لڑاکا طیارے اور جدید ایف-35 اسٹیلتھ جنگی طیارے شامل ہیں، مشرق وسطیٰ منتقل کرنا شروع کر دیے ہیں۔ ان طیاروں کے علاوہ، بی-52 اسٹریٹجک بمبار طیارے اور فضائی ایندھن فراہم کرنے والے درجنوں ری فیولنگ طیارے بھی خطے میں بھیجے گئے ہیں۔ اس فوجی نقل و حرکت کا بنیادی مقصد خطے میں امریکی فضائی موجودگی کو مضبوط کرنا، اپنے اتحادیوں کا دفاع کرنا، اور ایران کی جانب سے کسی بھی جارحیت کی صورت میں جوابی کارروائی کے لیے تیار رہنا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق، اس تعیناتی کا ہدف تہران پر دباؤ بڑھانا ہے تاکہ اسے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی پر حملے روکنے کے لیے مجبور کیا جا سکے، اور یہ انٹیلی جنس اور کمانڈ اینڈ کنٹرول کی صلاحیتوں کو بھی بہتر بنائے گا۔ یہ اقدامات ایسے وقت میں کیے جا رہے ہیں جب واشنگٹن ایران کے اندرونی حصوں میں زیادہ حساس اہداف کو شامل کرنے کے لیے فضائی حملوں کا دائرہ بھی وسیع کر چکا ہے۔ یہ تمام تر اقدامات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ امریکا بڑے پیمانے پر کشیدگی کے منظرنامے کے لیے آمادگی ظاہر کر رہا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اثاثے: ایک جائزہ

امریکا نے گزشتہ دو دہائیوں میں مشرق وسطیٰ میں اپنی عسکری موجودگی کو جس تسلسل اور قوت سے پھیلایا ہے، وہ کسی بھی ممکنہ جنگ یا ہنگامی صورتحال میں اس کی فیصلہ کن مداخلت کی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔ خطے میں امریکا کے متعدد کلیدی فضائی، بحری اور زمینی اڈے موجود ہیں۔

  • قطر: دوحہ کے باہر واقع العدید ایئر بیس امریکی سینٹرل کمانڈ کا فارورڈ ہیڈکوارٹر ہے اور مشرق وسطیٰ کا سب سے بڑا امریکی اڈہ ہے جہاں تقریباً 10 ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں۔ یہ فضائی ایندھن فراہمی، انٹیلی جنس اور کمانڈ اینڈ کنٹرول کا مرکز ہے۔
  • بحرین: امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کا ہیڈکوارٹر بحرین میں ہے، جو خلیج، بحیرۂ احمر، بحیرۂ عرب اور بحر ہند کے کچھ حصوں کی نگرانی کرتا ہے۔
  • کویت: کیمپ عارفجان اور علی السلیم ایئر بیس عراق کی سرحد کے قریب واقع ہیں اور امریکی آرمی کے سینٹرل اور فضائیہ کے لیے اہم ہیں۔ یہاں ایف-15 اور ایف-16 جیسے جدید لڑاکا طیارے بھی تعینات ہیں۔
  • متحدہ عرب امارات: ابوظبی کے جنوب میں الظفرا ایئر بیس امریکی فضائیہ کا ایک اہم مرکز ہے جو اسلامک اسٹیٹ کے خلاف مشن اور جاسوسی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
  • سعودی عرب: سعودی عرب میں بھی ہزاروں امریکی فوجی اور فضائی دفاعی نظام موجود ہیں۔
  • عراق: عین الاسد ایئر بیس پر امریکی فوجی موجود ہیں جو عراقی سیکیورٹی فورسز کی مدد اور نیٹو مشن میں حصہ لیتے ہیں۔
  • اردن: اردن، جو امریکا کا ایک اہم اتحادی ہے، وہاں بھی سیکڑوں امریکی ٹرینر موجود ہیں اور سال بھر مشقیں کی جاتی ہیں۔
  • شام: شام میں تقریباً 900 امریکی فوجی العمر آئل فیلڈ اور الشدادی جیسے چھوٹے اڈوں میں موجود ہیں۔

یہ تنصیبات نہ صرف دفاعی حصار فراہم کرتی ہیں بلکہ جارحانہ کارروائیوں کے لیے بھی مکمل طور پر تیار ہیں۔ حالیہ برسوں میں، امریکا نے اسٹریٹجک بمبار طیارے اور بحری جنگی جہاز بھی مشرق وسطیٰ میں تعینات کیے ہیں۔

امریکی فوجی اڈہ/اثاثہملکاہم کردار/تعیناتی
العدید ایئر بیسقطرامریکی سینٹرل کمانڈ کا ہیڈکوارٹر، فضائی ایندھن فراہمی، انٹیلی جنس، کمانڈ اینڈ کنٹرول
امریکی بحریہ کا پانچواں بیڑا (Fifth Fleet)بحرینخلیج، بحیرۂ احمر، بحیرۂ عرب اور بحر ہند کے کچھ حصوں کی نگرانی
علی السلیم ایئر بیس اور کیمپ عارفجانکویتامریکی آرمی سینٹرل کا فارورڈ ہیڈکوارٹر، لڑاکا طیاروں کی تعیناتی (F-15, F-16)
الظفرا ایئر بیسمتحدہ عرب اماراتاسلامک اسٹیٹ کے خلاف مشن، جاسوسی کی تعیناتیاں
عین الاسد ایئر بیسعراقعراقی سیکیورٹی فورسز کی مدد، نیٹو مشن میں شرکت
جبل علی بندرگاہدبئی، متحدہ عرب اماراتامریکی بحریہ کی سب سے بڑی بندرگاہ جو بحری جہازوں کی میزبانی کرتی ہے

آبنائے ہرمز کی تزویراتی اہمیت اور امریکی عزم

آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے تنگ سمندری راہداریوں میں سے ایک ہے اور اس کی تزویراتی اہمیت بے پناہ ہے۔ یہ خلیج فارس کو بحر عرب اور پھر کھلے سمندر سے جوڑتی ہے، اور دنیا بھر میں سمندری راستے سے خریدے جانے والے خام تیل کا تقریباً ایک تہائی حصہ روزانہ یہاں سے گزرتا ہے۔ اس گزرگاہ پر کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی توانائی کی رسد، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر فوری اور سنگین اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

امریکا نے واضح کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں آزاد جہاز رانی اور تجارتی سامان کی آزادانہ نقل و حمل کو یقینی بنانے کا عزم رکھتا ہے۔ حالیہ دنوں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کی دوبارہ ناکہ بندی کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا کو اب ”اسٹریٹ آف ہرمز کے محافظ” کے نام سے جانا جائے گا اور اس حیثیت سے وہ آبنائے ہرمز میں سلامتی اور تحفظ کی فراہمی کی ذمہ داری نبھائیں گے۔ امریکی فوج نے بھی ایران کے خلاف حملوں کا ایک نیا مرحلہ شروع کر دیا ہے جس کا مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے لیے استعمال ہونے والی ایرانی صلاحیتوں کو مزید کمزور کرنا ہے۔

دوسری جانب، ایرانی فوج نے خبردار کیا ہے کہ وہ امریکا کو آبنائے ہرمز میں مداخلت کرنے نہیں دے گی، اور کسی بھی ملک کا امریکا کے ساتھ تعاون ایران کی سالمیت کے خلاف جنگ کے مترادف سمجھا جائے گا۔ ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ وہ خطے کے پانیوں میں امریکی فوج کی نقل و حرکت اور ان کے فوجی سازوسامان پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے۔ ان بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ آبنائے ہرمز ایک بار پھر دونوں ممالک کے درمیان براہ راست تصادم کا ایک اہم نقطہ بن چکی ہے، جس کے عالمی سطح پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ عالمی میڈیا کے مطابق، امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ معاملے کا معاہدے کے ذریعے حل چاہتے ہیں لیکن اس کے لیے تہران کی آمادگی ضروری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اگر ایران نے تعاون نہ کیا تو بھی آبنائے ہرمز میں جہاز رانی جاری رہے گی اور امریکا بحری آمدورفت کے تسلسل کو ہر صورت یقینی بنائے گا۔

ایران کا جوہری پروگرام اور عالمی خدشات

ایران کا جوہری پروگرام کئی دہائیوں سے بین الاقوامی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ 1950 کی دہائی میں امریکا کے تعاون سے شروع ہونے والا یہ پروگرام 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد معطل ہو گیا تھا، لیکن 1980 کی دہائی میں ایران عراق جنگ کے دوران اسے خفیہ طور پر دوبارہ شروع کیا گیا۔ 2002 میں نطنز اور اراک کے غیر علانیہ افزودگی مراکز بے نقاب ہوئے، جس کے بعد سے یہ عالمی طاقتوں کے لیے تشویش کا باعث بن گیا۔

2015 میں ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان ہونے والا تاریخی جوہری معاہدہ (JCPOA) اس پروگرام پر پابندیاں عائد کرنے کے لیے کیا گیا تھا، لیکن امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 2018 میں اس معاہدے سے یکطرفہ علیحدگی کے بعد یہ معاہدہ کمزور پڑ گیا۔ امریکا کی علیحدگی اور دوبارہ پابندیوں کے نفاذ کے بعد ایران نے بھی اپنے وعدوں سے بتدریج انحراف کرتے ہوئے یورینیم کی افزودگی میں تیزی لائی ہے۔

جون 2025 میں عالمی ادارہ برائے جوہری توانائی (IAEA) نے بیس سال بعد پہلی بار ایران کو جوہری وعدوں کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیا۔ ایران اس وقت 60 فیصد خالص یورینیم افزودہ کر رہا ہے جو ہتھیاروں کے درجے کے قریب ہے۔ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ یہ سرگرمیاں کسی بھی پرامن شہری مقصد سے کہیں بڑھ کر ہیں، اور تخمینوں کے مطابق ایران ایک ہفتے میں اتنی افزودہ یورینیم پیدا کر سکتا ہے جو ایک جوہری بم کے لیے کافی ہو اور ایک ماہ میں سات بموں کے لیے۔ ان خدشات نے خطے میں فوجی کارروائی کے امکانات کو بڑھا دیا ہے، خصوصاً جب بعض امریکی عہدیداروں نے ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے ممکنہ نفاذ پر غور کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

ایران کا رد عمل اور جوابی اقدامات

امریکی جارحیت اور خطے میں بڑھتی ہوئی فوجی موجودگی پر ایران کا رد عمل انتہائی سخت اور واضح رہا ہے۔ ایرانی پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ ایرانی بحریہ خطے کے پانیوں میں امریکی فوج کی نقل و حرکت اور ان کے فوجی سازوسامان پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے۔ ایران نے واضح الفاظ میں یہ دھمکی دی ہے کہ اگر امریکا نے فوجی حملہ کیا تو خطے میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا جائے گا۔ ایران کی جانب سے خلیج میں امریکی اہداف پر حملے بھی کیے گئے ہیں، جس کے نتیجے میں قطر کے فضائی دفاعی نظام نے ایک ایرانی میزائل کو فضا ہی میں تباہ کیا۔

ایران کی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے امریکی حملوں میں جنوبی ایران میں شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی مذمت کی ہے، جس میں ایک سکول، بچوں کے ہسپتال اور رہائشی علاقے شامل تھے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایرانی قوم کو شکست نہیں دی جا سکتی اور بے گناہ شہریوں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔ ایرانی فوج نے آبنائے ہرمز میں امریکا کو مداخلت نہ کرنے دینے کا بھی انتباہ جاری کیا ہے اور کہا ہے کہ کسی بھی ملک کا امریکا کے ساتھ تعاون ایران کی سالمیت کے خلاف جنگ سمجھا جائے گا۔ ان اقدامات اور بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران امریکی دباؤ کے سامنے جھکنے کو تیار نہیں ہے اور اس کے حالیہ اقدامات ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ معروف عرب تجزیہ کاروں کے مطابق، ایران اس وقت نفسیاتی جنگ کا حصہ ہے اور جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی امریکا کو شکست دے چکا ہے۔

سفارتی کوششیں اور علاقائی اثرات

ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی برادری کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ اقوام متحدہ نے بارہا تمام فریقین سے تحمل اور مکالمے کے ذریعے وسیع تر علاقائی تنازع کو روکنے کی اپیل کی ہے۔ چین اور پاکستان سمیت دیگر ممالک نے بھی فوری جنگ بندی اور سفارتی مذاکرات کی اپیل کی ہے۔ ثالث ممالک نے 10 روزہ جنگ بندی کی تجویز بھی پیش کی ہے تاکہ کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔ امریکا کے وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکا نے کشیدگی کے باوجود سفارتی حل کا آپشن مکمل طور پر مسترد نہیں کیا ہے، اور معاملات کو حل کرنے کے لیے مذاکرات کی میز پر واپسی کے دروازے تاحال کھلے ہیں۔ تاہم، ایرانی سرکاری میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ ایران نے امن کی حالیہ امریکی تجویز کے جواب میں اپنے ایٹمی پروگرام پر بحث کو مسترد کر دیا ہے اور آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی کی سیکیورٹی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

اس تنازع کے سب سے زیادہ مشکل صورتحال خلیجی عرب ریاستوں کی ہے۔ سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، کویت، بحرین اور عمان اس تنازع کے خاموش مگر سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک ہیں۔ ان کی سلامتی امریکی دفاعی نظام سے وابستہ ہے مگر ان کا جغرافیہ ایران کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ یہ ممالک امریکا کو ناراض کرنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتے اور ایران کے ساتھ مستقل تصادم بھی ان کے مفاد میں نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی خارجہ پالیسی میں گزشتہ چند برسوں میں بہت احتیاط پائی جاتی ہے۔ مشرق وسطیٰ کے ممالک کو بخوبی اندازہ ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی مستقل شکل اختیار کر گئی تو اس کا سب سے پہلا اور سب سے بڑا معاشی بوجھ انھی کی بندرگاہوں، تیل کی برآمدات، سرمایہ کاری، بحری تجارت، سیاحت اور معاشی ڈھانچے پر پڑے گا۔ اس ضمن میں ایکسپریس اردو کی رپورٹ صورتحال کی نزاکت کو واضح کرتی ہے۔

روس نے بھی ایران کے دارخوین جوہری پاور پلانٹ پر مبینہ امریکی حملے پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) سے اس واقعے کا جائزہ لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زخارووا نے کہا کہ جوہری تنصیبات پر حملے بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہیں اور ان کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی جانی چاہیے۔ یہ عالمی ردعمل ظاہر کرتا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی ممکنہ فوجی کارروائی کے علاقائی اور عالمی سطح پر سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔

نتیجہ

ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی کی بڑھتی ہوئی باتیں اور امریکا کی جانب سے یورپی اڈوں سے جنگی طیاروں کی مشرق وسطیٰ میں تعیناتی ایک انتہائی خطرناک صورتحال کی نشاندہی کر رہی ہے۔ ایران کے جوہری پروگرام پر عالمی خدشات، آبنائے ہرمز کی تزویراتی اہمیت اور خطے میں پراکسی جنگوں نے کشیدگی کو عروج پر پہنچا دیا ہے۔ امریکا اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایران پر دباؤ بڑھا رہا ہے، جبکہ ایران بھی اپنے دفاع کا بھرپور عزم رکھتا ہے اور جوابی کارروائیوں کی دھمکی دے رہا ہے۔ سفارتی سطح پر کوششیں جاری ہیں لیکن بظاہر کوئی ٹھوس پیش رفت نظر نہیں آ رہی۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی کئی تنازعات کا شکار ہے، اور ایران و امریکا کے درمیان براہ راست تصادم کے سنگین ترین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں، جس سے پورے خطے اور عالمی معیشت پر تباہ کن اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔ یہ وقت تحمل، حکمت عملی اور سفارتی حل کی تلاش کا متقاضی ہے تاکہ ایک ممکنہ تباہ کن جنگ کو ٹالا جا سکے۔