مقبول خبریں

اگر باب المندب بھی بند ہوا تو دنیا کہاں جائے گی؟

اگر باب المندب بھی بند ہوا تو دنیا کہاں جائے گی؟ یہ سوال آج عالمی اقتصادی اور سیاسی حلقوں میں تشویش کا باعث بن چکا ہے۔ یمن اور افریقہ کے درمیان واقع یہ تنگ سمندری گزرگاہ، جس کا عربی میں مطلب “آنسوؤں کا دروازہ” ہے، بحیرہ احمر کو خلیج عدن اور بحر ہند سے ملاتی ہے۔ یہ گزرگاہ نہر سویز کے ذریعے یورپ، ایشیا اور افریقہ کے درمیان بحری تجارت کا ایک کلیدی راستہ ہے۔ عالمی تجارت کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے، خاص طور پر خام تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے اس کی اہمیت ناقابل تردید ہے۔ حالیہ عالمی صورتحال، خصوصاً مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں جاری تنازعات کے بعد، باب المندب کی ممکنہ بندش کے سنگین نتائج کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ ماہرین کا انتباہ ہے کہ اگر یہ اہم گزرگاہ بند ہو جاتی ہے تو عالمی معیشت کو ایک بڑے بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا محسوس کرے گی۔

باب المندب: عالمی تجارت کی شہ رگ

باب المندب کی جغرافیائی اہمیت بے پناہ ہے۔ یہ آبنائے یمن کے ایشیائی ساحل اور افریقی ممالک جبوتی اور اریٹیریا کے درمیان واقع ہے۔ اس کی چوڑائی تقریباً 30 کلومیٹر (20 میل) ہے، اور اس کے بیچ میں واقع پیرم کا جزیرہ اسے دو حصوں میں تقسیم کرتا ہے۔ مشرقی حصہ، جسے باب اسکندر کہا جاتا ہے، 2 میل چوڑا اور 30 میٹر گہرا ہے، جبکہ مغربی حصہ 16 میل چوڑا اور 310 میٹر گہرا ہے۔ 1869 میں نہر سویز کے کھلنے کے بعد باب المندب کی اہمیت مزید بڑھ گئی، کیونکہ یہ یورپ اور ایشیا کے درمیان مختصر ترین بحری راستہ فراہم کرتا ہے۔

یہ آبنائے دنیا کی مصروف ترین آبی گزرگاہوں میں سے ایک ہے۔ تخمینوں کے مطابق، عالمی سمندری تجارت کا تقریباً 10 سے 12 فیصد حصہ سالانہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔ اس میں مشرق وسطیٰ سے یورپ، ایشیا اور امریکہ کو بھیجے جانے والے خام تیل، مائع قدرتی گیس (LNG) اور دیگر تجارتی سامان کی ایک بڑی مقدار شامل ہے۔ 2023 میں، اس گزرگاہ سے روزانہ تقریباً 9.3 ملین بیرل تیل منتقل ہوا تھا۔ اگر اس آبنائے میں کوئی رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو عالمی سپلائی چین فوری طور پر متاثر ہو سکتی ہے، جس کے دور رس منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

اقتصادی بحران کے مہلک اثرات

باب المندب کی بندش کے اقتصادی نتائج انتہائی تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کا انتباہ ہے کہ ایسی صورتحال میں عالمی توانائی کی سپلائی بری طرح متاثر ہوگی، جس سے تیل اور گیس کی قلت میں اضافہ، صنعتی پیداوار میں رکاوٹ، اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں اضافہ اور دنیا بھر میں ایندھن کی فراہمی کا بحران شدت اختیار کر سکتا ہے۔

  • تیل کی قیمتوں میں اضافہ: اگر باب المندب کو بند کر دیا جاتا ہے، تو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 200 ڈالر فی بیرل کی تاریخی ترین سطح تک پہنچ سکتی ہیں۔ یہ صورتحال عالمی معیشت کو ہولناک بحران میں دھکیل دے گی۔ حالیہ دنوں میں، باب المندب میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے خدشات کے پیش نظر برینٹ خام تیل کی قیمت 95 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہے۔
  • سپلائی چین میں خلل: چونکہ باب المندب ایک اہم تجارتی گزرگاہ ہے، اس کی بندش سے ایشیا سے یورپ جانے والی مصنوعات کی ترسیل بری طرح متاثر ہوگی۔ بحری جہازوں کو طویل اور مہنگے متبادل راستے اختیار کرنے پڑیں گے، جس سے سامان کی ترسیل میں تاخیر اور لاگت میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ اس کا براہ راست اثر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر پڑے گا اور مہنگائی میں اضافہ ہوگا۔
  • صنعتی اور کاروباری نقصانات: عالمی سپلائی چین میں خلل اور توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں دنیا بھر کی صنعتوں کو شدید نقصان پہنچائیں گی۔ مینوفیکچرنگ کی لاگت میں اضافہ ہوگا، جس سے پیداوار میں کمی آ سکتی ہے اور کئی کاروباروں کو بندش کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
  • عالمی معاشی سست روی یا کساد بازاری: باب المندب کی بندش، خاص طور پر اگر آبنائے ہرمز بھی متاثر ہو، تو عالمی معیشت کو کئی دہائیوں کے بدترین بحرانوں میں سے ایک کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ بعض تجزیوں کے مطابق، دونوں آبناؤں کی بیک وقت بندش عالمی تیل اور گیس کی فراہمی کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ متاثر کر سکتی ہے۔

عالمی تجارت کے لیے متبادل راستے

اگر باب المندب کو بند کر دیا جاتا ہے، تو عالمی تجارت کو بحری راستوں کے حوالے سے ایک سنگین چیلنج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس صورتحال میں بحری جہازوں کے لیے سب سے بڑا اور فی الحال واحد قابل عمل متبادل راستہ افریقہ کے گرد، یعنی کیپ آف گڈ ہوپ (Cape of Good Hope) سے ہو کر گزرنا ہوگا۔

  • کیپ آف گڈ ہوپ کا راستہ: اس راستے کو اختیار کرنے سے ایشیا اور یورپ کے درمیان سفر کا دورانیہ 2 سے 3 ہفتے بڑھ جائے گا۔ اس اضافی وقت کا مطلب ایندھن کا زیادہ استعمال، عملے کے اخراجات میں اضافہ، اور انشورنس پریمیم میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ مجموعی طور پر، بحری نقل و حمل کے اخراجات میں بہت زیادہ اضافہ ہو جائے گا، جس کا بوجھ بالآخر صارفین پر پڑے گا۔ یہ راستہ نہ صرف طویل ہے بلکہ اس پر سکیورٹی کے خدشات بھی بڑھ سکتے ہیں، کیونکہ زیادہ سمندری علاقوں میں قزاقی اور دیگر خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے۔
  • آرکٹک روٹس (Arctic Routes): اگرچہ آرکٹک کے راستے (شمالی سمندری راستے) بعض عالمی چوک پوائنٹس کے متبادل کے طور پر زیر بحث آتے ہیں اور روس ان میں سرمایہ کاری کر رہا ہے، لیکن باب المندب کی بندش کے تناظر میں ان کی فوری اور وسیع پیمانے پر عملیت پسندی محدود ہے۔ یہ راستے موسمی حالات اور بھاری آئس بریکرز کی ضرورت کی وجہ سے ہر وقت قابل استعمال نہیں ہوتے۔ مزید برآں، یہ راستے یورپ اور ایشیا کے درمیان براہ راست ربط فراہم نہیں کرتے جس طرح نہر سویز اور باب المندب کرتے ہیں۔ ان راستوں کو ترقی دینے میں کافی وقت اور سرمایہ کاری درکار ہوگی، لہذا یہ فوری حل فراہم نہیں کر سکتے۔

واضح رہے کہ عالمی تجارت کا 80 فیصد سے زیادہ حصہ سمندری راستوں سے ہوتا ہے، اور ایسے کلیدی چوک پوائنٹس (chokepoints) کا بند ہونا عالمی معیشت کی “شہ رگ” کو کاٹنے کے مترادف ہے۔ متبادل راستوں کی تلاش اور ان پر انحصار کرنا نہ صرف وقت اور وسائل کا ضیاع ہے بلکہ عالمی تجارت کی لچک کو بھی کمزور کرتا ہے۔

اہم سمندری راستے اور ان کی عالمی اہمیتعالمی تجارت میں حصہ (اندازاً)اہمیتممکنہ بندش کے اثرات
آبنائے ہرمزعالمی تیل کا 20-30%، ایل این جی کا 20%، مجموعی تجارت کا 20%خلیج فارس سے تیل اور گیس کی عالمی ترسیل کا واحد راستہتیل اور گیس کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ، عالمی معیشت پر شدید دباؤ، صنعتی پیداوار میں کمی
آبنائے باب المندبعالمی تجارت کا 10-12%، عالمی تیل کا 7%بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے ملاتا ہے، نہر سویز کے لیے کلیدی راستہتیل کی قیمتیں $200 تک، سپلائی چین میں 2-3 ہفتے کی تاخیر، عالمی مہنگائی
نہر سویزعالمی سمندری تجارت کا 12%ایشیا اور یورپ کے درمیان مختصر ترین راستہبحری جہازوں کو کیپ آف گڈ ہوپ سے گزرنا پڑتا ہے، لاگت اور وقت میں بے پناہ اضافہ
آبنائے ملاکادنیا کے شپنگ فلیٹ کا نصف سے زائدبحر الکاہل اور بحر ہند کو ملاتا ہے، چین کی تجارت کے لیے انتہائی اہمایشیا کی معیشت پر شدید منفی اثرات، متبادل راستوں سے 20% اخراجات میں اضافہ

خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور فوجی تنازعات

حالیہ عرصے میں، باب المندب میں کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیوں اور حملوں کے بعد۔ یہ صورتحال مشرق وسطیٰ میں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری وسیع تر تنازعے کا حصہ ہے، جس کے اثرات اب اہم بحری گزرگاہوں تک پہنچ چکے ہیں۔

  • حوثیوں کا کردار: یمن کے ایران نواز حوثی گروپ نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ یہ یمن پر عائد کی گئی ناانصافی اور جابرانہ ناکہ بندی کا جواب ہے۔ حوثی حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر صورتحال مزید بگڑتی ہے تو وہ باب المندب کو مکمل طور پر بند کر سکتے ہیں، اور ان کا کہنا ہے کہ “کوئی طاقت اسے دوبارہ نہیں کھول سکے گی”۔ ایران نے بھی حوثیوں کو باب المندب کو بند کرنے کے لیے تیار رہنے کا پیغام دیا ہے، خاص طور پر اگر امریکہ ایرانی توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے جاری رکھتا ہے۔
  • امریکی اور ایرانی کشیدگی: امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کارروائیاں اور آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملے نے باب المندب کے لیے بھی خطرات بڑھا دیے ہیں۔ امریکہ نے بحیرہ احمر میں جہازوں کی حفاظت کے لیے ایک کثیر القومی بحری ٹاسک فورس بھی تشکیل دی ہے، لیکن اس کے باوجود سکیورٹی خدشات برقرار ہیں۔
  • علاقائی اثرات: باب المندب کی بندش سے نہ صرف عالمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی بڑھ سکتی ہے بلکہ یہ علاقائی ممالک کے لیے بھی شدید مشکلات پیدا کرے گی۔ سعودی عرب، جس نے آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے بعد اپنی تیل برآمدات کا بڑا حصہ بحیرہ احمر کی بندرگاہ ینبع منتقل کر دیا تھا، اسے خاص طور پر متاثر کرے گا۔ ینبع سے یورپی ممالک کو جانے والے جہاز نہر سویز کے ذریعے شمال کی طرف اور ایشیا جانے والے جہاز باب المندب سے گزرتے ہیں۔

تیل کی عالمی منڈی پر دباؤ

باب المندب کی بندش کے عالمی تیل منڈی پر گہرے اور فوری اثرات مرتب ہوں گے۔ اس وقت عالمی توانائی کی تقریباً 7 فیصد ترسیل باب المندب اور بحیرہ احمر کے راستے ہو رہی ہے۔ اگر حوثی بحری جہازوں یا بندرگاہوں کو نشانہ بناتے ہیں تو عالمی تیل کی قیمتوں اور سپلائی چین پر شدید اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہ سمجھی جاتی ہے، جہاں سے عالمی خام تیل کا تقریباً ایک تہائی اور مائع قدرتی گیس کا لگ بھگ پانچواں حصہ گزرتا ہے۔ سعودی عرب، عراق، متحدہ عرب امارات، کویت، قطر اور ایران اپنی تیل و گیس کی بڑی برآمدات اسی راستے سے عالمی منڈیوں تک پہنچاتے ہیں۔ اگر آبنائے ہرمز کے ساتھ ساتھ باب المندب بھی بند ہو جاتا ہے، تو مشرق وسطیٰ کے دونوں بڑے تیل برآمدی راستے بیک وقت متاثر ہو جائیں گے۔ یہ صورتحال عالمی تیل کی سپلائی میں 15 سے 17 فیصد تک کمی کا سبب بن سکتی ہے، جو 1973 کے تیل بحران کے بعد سے بے مثال ہوگی۔

ماضی میں غزہ جنگ کے دوران حوثیوں کے حملوں کے باعث کئی بین الاقوامی شپنگ کمپنیوں نے اپنے جہاز افریقہ کے گرد طویل راستے سے گزارنا شروع کر دیے تھے، جس سے نقل و حمل کی لاگت اور سفر کا دورانیہ نمایاں طور پر بڑھ گیا تھا۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ حتیٰ کہ جزوی رکاوٹیں بھی عالمی تجارت پر کتنا بڑا اثر ڈال سکتی ہیں۔ اگر باب المندب میں مکمل بندش نافذ ہوتی ہے، تو عالمی توانائی کی سپلائی کے لیے تقریباً کوئی قابل عمل متبادل راستہ باقی نہیں رہے گا، جو دنیا کو ایک بڑے معاشی بحران کی طرف دھکیل دے گا۔ یہ صرف تیل کی کمی کا مسئلہ نہیں ہوگا، بلکہ اس سے جڑی کئی صنعتیں، جیسے پیٹروکیمیکل اور مینوفیکچرنگ، بھی بری طرح متاثر ہوں گی۔

بین الاقوامی ردعمل اور سیکورٹی چیلنجز

باب المندب میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور اس کے عالمی اثرات نے بین الاقوامی برادری کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ کئی ممالک اور بین الاقوامی تنظیمیں اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے مختلف حکمت عملیوں پر غور کر رہی ہیں۔ امریکہ سمیت کئی مغربی ممالک نے بحیرہ احمر میں اپنی بحری افواج کی موجودگی بڑھا دی ہے تاکہ تجارتی جہازوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔ کمبائنڈ میری ٹائم فورسز (Combined Maritime Forces) جیسی بین الاقوامی بحری شراکت داریاں، جس میں 46 ممالک شامل ہیں، بھی اس علاقے میں سکیورٹی مشنز انجام دے رہی ہیں۔

تاہم، حوثیوں کی جانب سے میزائل اور ڈرونز کی تعیناتی اور ایران کی مبینہ حمایت نے اس علاقے کو ایک پیچیدہ سکیورٹی چیلنج بنا دیا ہے۔ یہ صرف ایک سمندری راستہ نہیں بلکہ ایک تزویراتی (strategic) نقطہ ہے جہاں علاقائی اور عالمی طاقتوں کے مفادات آپس میں ٹکراتے ہیں۔ باب المندب کی بندش سے نہ صرف فوجی مداخلت کا خطرہ بڑھ جائے گا بلکہ عالمی سطح پر سفارتی اور اقتصادی دباؤ میں بھی اضافہ ہوگا۔ کسی بھی فوجی کارروائی کے نتائج مزید تباہ کن ہو سکتے ہیں، جس سے خطے میں پہلے سے موجود عدم استحکام مزید بڑھ جائے گا۔ عالمی ادارے اور ممالک اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ سفارتی حل اور مذاکرات کے ذریعے اس مسئلے کو حل کیا جائے تاکہ عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی کو محفوظ رکھا جا سکے، لیکن موجودہ کشیدگی کو دیکھتے ہوئے فوری حل مشکل نظر آتا ہے۔ اس بحران کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ غیر ریاستی عناصر (non-state actors) کی طرف سے اہم بحری گزرگاہوں کو نشانہ بنانا عالمی سلامتی کے لیے ایک نیا خطرہ بن چکا ہے۔ اس حوالے سے امت نیوز کی رپورٹ میں ماہرین نے باب المندب کی بندش سے عالمی تجارت پر شدید دھچکا لگنے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

نتیجہ: ایک نئے عالمی نظام کی ضرورت

اگر باب المندب بھی بند ہوا تو دنیا ایک ایسے بحران کی لپیٹ میں آ جائے گی جس کے اثرات کئی دہائیوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ یہ صرف تیل کی قیمتوں میں اضافے یا سپلائی چین میں خلل کا معاملہ نہیں ہوگا، بلکہ اس سے عالمی معیشت، سیاست اور سلامتی کے ڈھانچے پر گہرے اور دیرپا اثرات مرتب ہوں گے۔ یہ صورتحال ایک بار پھر اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ عالمی تجارت اور توانائی کی فراہمی کس حد تک چند جغرافیائی چوک پوائنٹس پر منحصر ہے۔

باب المندب کی ممکنہ بندش عالمی برادری کے لیے ایک بیداری کی گھنٹی ہے۔ یہ وقت کا تقاضا ہے کہ عالمی طاقتیں اور علاقائی فریقین کشیدگی کو کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے کی کوشش کریں۔ موجودہ صورتحال عالمی نظام کی کمزوریوں کو اجاگر کرتی ہے اور یہ ظاہر کرتی ہے کہ کس طرح ایک علاقائی تنازع عالمی تباہی کا باعث بن سکتا ہے۔ اگر عالمی قیادت فوری اور مؤثر اقدامات نہیں کرتی تو انسانیت کو ایک ایسے نئے عالمی نظام کا سامنا کرنا پڑے گا جہاں اقتصادی عدم استحکام، مہنگائی، اور تنازعات معمول بن جائیں گے۔ اس لیے، باہمی افہام و تفہیم، احترام اور عالمی قوانین کی پاسداری ہی اس عالمی بحران سے بچنے کا واحد راستہ ہے۔