مقبول خبریں

امریکا نے افغان طالبان رجیم کو دہشتگردی کے خلاف جنگ میں مکمل ناکام قرار دے دیا 2026

امریکا نے افغان طالبان رجیم کو دہشتگردی کے خلاف جنگ میں مکمل ناکام قرار دے دیا ہے، ایک ایسے وقت میں جب افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی سرگرمیاں عروج پر ہیں اور خطے کے امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ امریکی وزارت خارجہ نے دوٹوک انداز میں کہا ہے کہ طالبان دوحہ معاہدے کے تحت انسدادِ دہشت گردی کے اپنے وعدوں پر عمل درآمد میں مسلسل ناکام رہے ہیں، جس کے نتیجے میں افغانستان ایک بار پھر انتہا پسند دہشت گرد تنظیموں کی محفوظ پناہ گاہ اور علاقائی حملوں کے لیے لانچنگ پیڈ بن چکا ہے۔ یہ بیان محض امریکی خدشات کا عکاس نہیں بلکہ عالمی برادری، بشمول روس اور اقوام متحدہ، کے بڑھتے ہوئے تحفظات کی بھی تائید کرتا ہے، جو طویل عرصے سے افغان سرزمین سے جنم لینے والی دہشت گردی کے خطرات پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ افغانستان کی موجودہ صورتحال نے نہ صرف پڑوسی ممالک بلکہ پوری دنیا کو ایک نئے سیکیورٹی بحران سے دوچار کر دیا ہے۔

عالمی برادری کے بڑھتے ہوئے تحفظات:امریکا

امریکی محکمہ خارجہ کا یہ موقف کہ افغان طالبان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مکمل طور پر ناکام رہے ہیں، اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عالمی سطح پر افغانستان کی سیکیورٹی صورتحال پر تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے۔ امریکی وزارت خارجہ نے وائس آف امریکہ کو موصول ہونے والی ایک سرکاری ای میل میں واضح کیا ہے کہ طالبان کی ناکامی نے خطے میں تشدد کو مزید ہوا دی ہے، جس سے علاقائی امن اور استحکام شدید متاثر ہوا ہے۔ اس بیان کے ساتھ ہی روس اور اقوام متحدہ نے بھی افغانستان میں داعش خراسان، القاعدہ اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے حال ہی میں خبردار کیا تھا کہ داعش خراسان افغانستان کو اپنا مرکز بنا کر وسطی ایشیا تک اپنے اثر و رسوخ کو وسعت دینے کی کوشش کر رہی ہے۔ روسی وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر پیوٹر ایلیچیف نے انسدادِ دہشت گردی سے متعلق 19ویں اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ افغانستان میں اس وقت 20 سے زائد دہشت گرد تنظیموں کے تقریباً 23,000 جنگجو سرگرم ہیں، اور طالبان اپنے امن کے دعوؤں کے باوجود ان خطرات پر قابو پانے میں ناکام رہے ہیں۔ یہ اعداد و شمار افغانستان کی زمینی حقیقت اور طالبان کے حکمرانی کے دعوؤں کے درمیان موجود وسیع خلیج کو واضح کرتے ہیں۔

طالبان کے دعوے اور زمینی حقائق کا تضاد:امریکا

طالبان نے اگست 2021 میں کابل پر قبضے کے بعد یہ دعوے کیے تھے کہ وہ افغانستان کو کسی بھی ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ تاہم، عالمی رپورٹس اور زمینی حقائق ان دعوؤں کی نفی کرتے ہیں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی 4 فروری 2026 کی رپورٹ کے مطابق، افغان سرزمین پر مختلف دہشت گرد گروہوں کو اب بھی سازگار ماحول میسر ہے۔ اس رپورٹ میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی موجودگی پر خاص تشویش کا اظہار کیا گیا ہے، جسے طالبان کے بعض عناصر کی مکمل حمایت حاصل ہے۔

ماڈرن ڈپلومیسی جیسے بین الاقوامی امور کے ماہر جریدوں نے بھی افغان طالبان کے دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ گٹھ جوڑ کو بے نقاب کیا ہے، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ طالبان رجیم دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی کے بجائے خطے کو غیر مستحکم کرنے والوں کی پشت پناہی میں مصروف ہے۔ روسی اور امریکی خفیہ اداروں کی رپورٹس میں بھی داعش خراسان، القاعدہ اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کے ہزاروں کارندوں کی افغانستان میں موجودگی کا انکشاف ہو چکا ہے، جنہیں نہ صرف محفوظ پناہ گاہیں میسر ہیں بلکہ طالبان رجیم کی جانب سے فنڈنگ اور اسلحہ بارود بھی فراہم کیا جا رہا ہے۔

علاقائی امن و استحکام پر اثرات:امریکا

افغان سرزمین سے دہشت گردی کی بڑھتی ہوئی لہر نے پڑوسی ممالک بالخصوص پاکستان کے لیے سنگین سیکیورٹی چیلنجز کھڑے کر دیے ہیں۔ پاکستان کو افغان سرزمین سے ہونے والے دہشت گرد حملوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، اور متعدد حملوں میں افغان شہریوں کے ملوث ہونے کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس سے خطاب میں واضح کیا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، بی ایل اے اور ای ٹی آئی ایم سمیت دیگر دہشت گرد تنظیمیں افغان سرزمین سے سرگرم ہیں اور افغان طالبان کی سرپرستی میں کارروائیاں کر رہی ہیں۔

یہ صورتحال صرف پاکستان تک محدود نہیں بلکہ وسطی ایشیائی ریاستوں کو بھی داعش خراسان کی جانب سے بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا ہے۔ بین الاقوامی ماہرین کا کہنا ہے کہ طالبان رجیم کی جانب سے دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی اور محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنا خطے میں دہشت گردی کی نئی لہر کا بنیادی سبب بن رہا ہے۔ یورپی یونین نے بھی افغانستان میں سرگرم دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی کو علاقائی اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے حقِ دفاع کی حمایت کی ہے۔ جِل برٹران، یورپی یونین کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان، نے کہا ہے کہ جب پاکستان کو سرحد پار دہشت گردی اور پرتشدد کارروائیوں کا سامنا ہو تو اس سے خاموش رہنے کی توقع نہیں کی جا سکتی۔

تنظیم کا نامموجودگی کا مقامسرگرمی کی نوعیتعالمی تحفظات
داعش خراسانافغانستان (بنیادی مرکز)، وسطی ایشیا تک توسیععلاقائی حملوں کی منصوبہ بندی، نیٹ ورکس کی تشکیلروس، اقوام متحدہ، امریکا، یورپی یونین
القاعدہافغانستان کے کئی صوبےتنظیم نو، تربیتی سرگرمیاں، سٹریٹجک رہنمائیامریکا، اقوام متحدہ
تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)افغان سرزمین (محفوظ پناہ گاہیں)پاکستان میں سرحد پار حملے، دہشت گردیپاکستان، اقوام متحدہ، یورپی یونین
جماعت انصاراللہتاجکستان کے ساتھ سرحدی علاقےسرحدی حملے، علاقائی عدم استحکامروس، اقوام متحدہ
ای ٹی آئی ایم (مشرقی ترکستان اسلامی تحریک)افغانستانعلاقائی ممالک میں مداخلتچین، روس، پاکستان

دوحہ معاہدہ اور اس کی خلاف ورزی:امریکا

29 فروری 2020 کو امریکہ اور طالبان کے درمیان دوحہ میں ایک تاریخی معاہدے پر دستخط ہوئے تھے جس کا بنیادی مقصد افغانستان میں پائیدار امن قائم کرنا اور یہ یقینی بنانا تھا کہ افغان سرزمین کو کسی بھی ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا۔ اس معاہدے کے تحت طالبان نے انسدادِ دہشت گردی کے متعدد وعدے کیے تھے، جن میں القاعدہ اور دیگر دہشت گرد گروہوں سے تعلقات منقطع کرنا اور انہیں افغانستان میں پناہ گاہیں فراہم نہ کرنا شامل تھا۔ تاہم، امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق، طالبان ان وعدوں کو پورا کرنے میں مسلسل ناکام رہے ہیں۔

دوحہ معاہدے کے چار سال گزر جانے کے باوجود، افغانستان کی موجودہ صورتحال اس معاہدے کے بالکل برعکس ہے۔ طالبان حکومت نے نہ صرف اپنے وعدوں سے روگردانی کی ہے بلکہ افغانستان ایک بار پھر دہشت گردوں کی آماجگاہ بن چکا ہے۔ یہ صورتحال اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ طالبان کی جانب سے عالمی برادری کو دیے گئے یقین دہانیاں محض کاغذی تھیں اور زمینی سطح پر دہشت گرد گروہوں کو کھلی چھوٹ دی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی طاقتیں، جن میں ایکسپریس نیوز کی رپورٹ کے مطابق امریکا بھی شامل ہے، طالبان کی اس عہد شکنی پر شدید تحفظات کا اظہار کر رہی ہیں۔

پاکستان کے تحفظات اور دفاع کا حق:امریکا

پاکستان نے طویل عرصے سے افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی پر گہرے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان کا موقف ہے کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دیگر دہشت گرد تنظیمیں افغانستان میں محفوظ پناہ گاہوں سے کارروائیاں کر رہی ہیں اور سرحد پار حملوں میں ملوث ہیں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں افغانستان کی صورتحال پر ہونے والے اجلاس میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے واضح کیا کہ پاکستان کو درپیش سیکیورٹی خطرات میں اضافہ ہوا ہے اور ملک میں دہشت گردی کے متعدد واقعات میں سرحد پار عناصر کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئے ہیں۔

پاکستان نے بارہا افغان طالبان سے ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کی حوالگی کا مطالبہ کیا ہے اور ان کے خلاف کارروائی کا اصرار کیا ہے، لیکن افغان طالبان نے اس مسئلے کو پاکستان کا اندرونی معاملہ قرار دے کر مسلسل نظر انداز کیا ہے۔ پاکستان نے اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھا ہے۔ یورپی یونین کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان نے بھی دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے حقِ دفاع کی حمایت کا اظہار کیا ہے، جو پاکستان کے موقف کو عالمی سطح پر تقویت دیتا ہے۔

مستقبل کے چیلنجز اور عالمی حکمت عملی:امریکا

امریکا کی جانب سے افغان طالبان رجیم کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مکمل ناکام قرار دینے کے بعد، عالمی برادری کے لیے افغانستان کی سیکیورٹی صورتحال سے نمٹنا ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ افغانستان اب بھی دہشت گردی کا سب سے بڑا مرکز ہے، اور القاعدہ اور داعش خراسان جیسے گروہوں کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ روس، یورپ، ترکی، ایران، وسطی ایشیا اور پاکستان میں دہشت گردی کی کئی کڑیاں افغانستان میں داعش خراسان سے ملتی ہیں، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس مسئلے کا حل صرف افغان طالبان کی اندرونی حکمت عملی سے ممکن نہیں، بلکہ ایک مربوط عالمی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔

اقوام متحدہ اور امن پسند ممالک کو سلامتی کونسل میں افغان سرزمین سے دہشت گردوں کے صفایا کے لیے عملی اقدامات کا مطالبہ کرنا چاہیے تاکہ افغانستان سے دہشت گردوں کا خاتمہ ہو اور خطے میں پائیدار امن کی راہ ہموار ہو سکے۔ اس کے علاوہ، افغان معیشت کی بدحالی، انسانی حقوق کی پامالیاں، اور خواتین و لڑکیوں کے حقوق کی صورتحال بھی عالمی برادری کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ جب تک ان بنیادی مسائل کو حل نہیں کیا جاتا، افغانستان عالمی امن کے لیے ایک مستقل خطرہ بنا رہے گا۔

نتیجہ:امریکا

امریکا کا افغان طالبان رجیم کو دہشتگردی کے خلاف جنگ میں مکمل ناکام قرار دینا ایک اہم پیش رفت ہے جو افغانستان کی اندرونی سیکیورٹی صورتحال اور عالمی امن پر اس کے گہرے اثرات کو اجاگر کرتی ہے۔ طالبان دوحہ معاہدے کے تحت کیے گئے انسدادِ دہشت گردی کے وعدوں پر عمل درآمد میں بری طرح ناکام رہے ہیں، جس کے نتیجے میں افغانستان ایک بار پھر دہشت گرد تنظیموں کی محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے۔ عالمی برادری، بشمول روس، اقوام متحدہ اور یورپی یونین، نے افغانستان میں داعش خراسان، القاعدہ اور تحریک طالبان پاکستان جیسی تنظیموں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان کو افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی کے نتیجے میں سنگین سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے، اور عالمی سطح پر اس کے حقِ دفاع کی حمایت کی جا رہی ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایک جامع اور مربوط عالمی حکمت عملی کی ضرورت ہے جو طالبان کو ان کی ذمہ داریاں پوری کرنے پر مجبور کرے، تاکہ نہ صرف افغانستان بلکہ پورے خطے اور عالمی امن کو پائیدار بنایا جا سکے۔