Table of Contents
امریکا کو ایرانیوں کا خون بہانے کی قمیت چکانا ہوگی، یہ وہ دھمکی آمیز اور دوٹوک بیان ہے جو ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کی جانب سے حال ہی میں سامنے آیا ہے۔ یہ بیان، جو موجودہ عالمی تنازعات اور بالخصوص ایران اور امریکا کے درمیان طویل عرصے سے جاری کشیدگی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، مشرق وسطیٰ کی پیچیدہ صورتحال کو مزید گہرا کر رہا ہے۔ قالیباف نے امریکا پر ایران کے شہری علاقوں کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کرتے ہوئے واشنگٹن کو خبردار کیا ہے کہ بے گناہ ایرانیوں کے خون کا حساب ضرور لیا جائے گا اور امریکا کو اپنے جارحانہ اقدامات کی بھاری قیمت چکانی ہوگی۔
قالیباف کا سخت پیغام اور اس کا پس منظر
محمد باقر قالیباف ایران کی سیاسی اور عسکری قیادت میں ایک اہم اور بااثر شخصیت ہیں۔ وہ اس وقت ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر کے عہدے پر فائز ہیں اور ماضی میں تہران کے میئر اور اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) میں اعلیٰ عہدوں پر بھی فائز رہ چکے ہیں۔ ان کا شمار ایران کے ان رہنماؤں میں ہوتا ہے جو امریکا کے حوالے سے سخت اور غیر متزلزل موقف رکھتے ہیں۔ ان کا یہ بیان محض ایک رسمی دھمکی نہیں بلکہ ایرانی قیادت کے گہرے تحفظات اور خطے میں امریکی پالیسیوں کے خلاف بڑھتی ہوئی ناراضی کا عکاس ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا کی جانب سے ایران پر نئی پابندیاں عائد کی گئی ہیں اور خطے میں دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ قالیباف نے خاص طور پر اس بات پر زور دیا ہے کہ امریکی میدان جنگ میں ملنے والے “تھپڑوں” کا بدلہ بے گناہ شہریوں کا خون بہا کر لیتے ہیں، اور اس عادت کی انہیں قیمت چکانی پڑے گی۔ ان کا یہ بیان ایران کے اس عزم کو دہراتا ہے کہ وہ کسی بھی امریکی جارحیت کا بھرپور جواب دے گا اور اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ یہ خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے اور امریکا کو اپنی سرخ لکیریں دکھانے کی ایک کوشش بھی سمجھی جا سکتی ہے۔
امریکا-ایران کشیدگی کی حالیہ لہریں: قشم، میناب اور لامرد کے واقعات
قالیباف کے بیان کا براہ راست تعلق جزیرہ قشم، میناب اور لامرد میں مبینہ امریکی حملوں سے ہے۔ ایرانی حکام نے ان واقعات کو امریکی جارحیت اور شہری آبادی کو نشانہ بنانے کے مترادف قرار دیا ہے۔ اگرچہ ان حملوں کی تفصیلات اور امریکی ردعمل ابھی تک مکمل طور پر سامنے نہیں آیا، لیکن ایرانی قیادت کا موقف واضح ہے کہ وہ انہیں ایک نئے جرم کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ ان واقعات کو ایران کی خودمختاری پر حملہ اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
- جزیرہ قشم: قالیباف نے جزیرہ قشم میں امریکی جارحیت پر شدید ردعمل ظاہر کیا، جسے انہوں نے میناب اور لامرد کے واقعات کا تسلسل قرار دیا۔ یہ جزیرہ آبنائے ہرمز کے قریب واقع ہے اور اسٹریٹجک اہمیت کا حامل ہے۔ اس علاقے میں کوئی بھی فوجی کارروائی خطے میں کشیدگی کو ڈرامائی طور پر بڑھا سکتی ہے۔
- میناب اور لامرد: ان علاقوں میں شہری آبادی کو نشانہ بنانے کے الزامات نے ایرانی عوام میں شدید غم و غصہ پیدا کیا ہے۔ قالیباف نے کہا ہے کہ امریکا بے گناہ شہریوں کو نشانہ بناتا ہے اور اس کے اس عمل کی اسے قیمت چکانی پڑے گی۔ یہ الزامات مشرق وسطیٰ میں امریکا کی فوجی موجودگی اور اس کے اثرات پر ایک بار پھر بحث کا آغاز کر رہے ہیں۔
یہ واقعات، اگر تصدیق شدہ ہوتے ہیں، تو دونوں ممالک کے درمیان فوجی تصادم کے خطرے کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔ ایران نے ماضی میں بھی امریکی حملوں کا جواب دینے کا عزم ظاہر کیا ہے، اور اس طرح کے واقعات مستقبل میں مزید جوابی کارروائیوں کا سبب بن سکتے ہیں۔ ایرانی قیادت نے واضح کر دیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین اور اپنے شہریوں کے دفاع کے لیے پرعزم ہے۔
امریکی پابندیوں کی بڑھتی ہوئی شدت اور اس کے وسیع اثرات
محمد باقر قالیباف کا بیان صرف فوجی اقدامات کے ردعمل میں نہیں بلکہ امریکا کی جانب سے ایران پر عائد کی جانے والی سخت اقتصادی پابندیوں کے تناظر میں بھی دیکھا جانا چاہیے۔ حالیہ دنوں میں امریکی محکمہ خزانہ نے ایرانی تیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات لے جانے والے جہازوں پر نئی پابندیاں عائد کی ہیں، ساتھ ہی ایرانی خام تیل چین منتقل کرنے والے متعدد آئل ٹینکرز کو بھی بلیک لسٹ کیا گیا ہے۔ ان پابندیوں کے تحت نامزد کمپنیوں اور جہازوں کے امریکا میں موجود تمام اثاثے منجمد کر دیے گئے ہیں۔
امریکی انتظامیہ کا خیال ہے کہ ایران کو کمزور کرنے کے لیے معاشی پابندیاں فوجی حملوں کے مقابلے میں زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتی ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کی معاشی صورتحال تیزی سے بگڑ رہی ہے اور سخت اقتصادی پابندیاں بالآخر تہران کو مذاکرات کی میز پر رعایتیں دینے پر مجبور کر سکتی ہیں۔ تاہم، ان پابندیوں کے انسانی اور سماجی اثرات بھی گہرے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پابندیاں ایران میں صحت اور زندگی کے حقوق کے حصول کی راہ میں رکاوٹ ہیں، فضائی آلودگی جیسے مسائل کو مزید بڑھا رہی ہیں، اور شہریوں میں سانس کی شدید بیماریوں کا سبب بن رہی ہیں۔
ایرانی معیشت شدید بحران اور خوفناک مہنگائی کا شکار ہو چکی ہے، اور امریکا اسے عالمی تجارت کو یرغمال بنانے کی اجازت نہیں دے گا۔ ان پابندیوں کا مقصد ایران کو عالمی مالیاتی نظام سے مکمل طور پر کاٹنا ہے، جو اس کی بین الاقوامی تجارت کو بری طرح متاثر کرتا ہے۔ تاہم، ایران پابندیوں سے بچنے کے لیے بٹ کوائن سمیت ڈیجیٹل اثاثوں میں ادائیگیاں وصول کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ قالیباف کے مطابق، امریکا کی جانب سے ناکہ بندی کی کوششیں ایک احمقانہ اور غیر دانشمندانہ فیصلہ ہے جو اسے کسی صورت فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔
| تاریخ | اہم واقعہ/بیان | کردار |
|---|---|---|
| 1953 | امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کی مدد سے محمد مصدق کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا اور شاہ رضا پہلوی کو دوبارہ اقتدار میں لایا گیا۔ | امریکا، برطانیہ، شاہ ایران |
| 1979 | اسلامی انقلاب، شاہ کا فرار، آیت اللہ خمینی کی واپسی، امریکا سے سفارتی تعلقات کا خاتمہ، امریکی سفارتخانے پر قبضہ۔ | آیت اللہ خمینی، ایرانی عوام، امریکا |
| 2018 | امریکی صدر ٹرمپ کا جوہری معاہدے (JCPOA) سے دستبردار ہونا اور ایران پر پابندیوں کی دوبارہ بحالی۔ | ڈونلڈ ٹرمپ، امریکا |
| جون 2025 | امریکا کی جانب سے ایران کی اہم جوہری تنصیبات پر براہ راست فضائی حملے، ایران نے اسے ‘غیر قانونی اور مجرمانہ’ قرار دیا۔ | امریکا، ایران |
| جولائی 2026 | امریکا کی جانب سے ایرانی تیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات پر نئی پابندیاں۔ | امریکی محکمہ خزانہ |
| جولائی 2026 | باقر قالیباف کا بیان کہ “امریکا کو ایرانیوں کا خون بہانے کی قمیت چکانا ہوگی” قشم، میناب اور لامرد کے واقعات کے تناظر میں۔ | محمد باقر قالیباف |
تاریخی تناظر: دہائیوں پر محیط دشمنی کی جڑیں
امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کی جڑیں کئی دہائیوں پر محیط ہیں، جو 1950 کی دہائی سے لے کر موجودہ صورتحال تک مختلف مراحل سے گزری ہیں۔ اس دشمنی کا آغاز 1951 میں اس وقت ہوا جب محمد مصدق ایران کے وزیر اعظم مقرر ہوئے اور انہوں نے ایرانی تیل کی صنعت کو قومیانے کا اعلان کیا، جسے امریکا اور برطانیہ نے اپنے مفادات کے خلاف سمجھا۔ اس کشیدگی کا نتیجہ 1953 میں ایک فوجی بغاوت کی صورت میں نکلا، جب امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے اور برطانوی ایم آئی سکس نے ‘آپریشن ایجیکس’ کے تحت ایران میں مداخلت کی اور مصدق حکومت کا خاتمہ کر کے شاہ محمد رضا پہلوی کو دوبارہ مکمل اختیارات دلوائے۔ اس واقعے نے ایرانی قوم میں مغربی طاقتوں سے بدگمانی کی بنیاد ڈالی۔
اس کے بعد شاہ ایران کے دور میں دونوں ممالک کے درمیان فوجی اور جوہری تعاون بھی رہا، لیکن عوامی سطح پر مغربی طرز زندگی اور امریکی اثر و رسوخ کے خلاف بے چینی بڑھتی رہی، جو بالآخر 1979 کے اسلامی انقلاب کی صورت میں سامنے آئی۔ اس انقلاب نے ایران کا سیاسی منظرنامہ مکمل طور پر بدل دیا، شاہ کو ملک چھوڑنا پڑا اور آیت اللہ خمینی کی قیادت میں ایک نئی اسلامی جمہوریہ قائم ہوئی۔ اس کے بعد سے امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات منقطع ہیں، اور دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی، دہشت گردی کی سرپرستی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کیے ہیں۔
دونوں ممالک متعدد براہ راست محاذ آرائیوں، سفارتی واقعات اور مشرق وسطیٰ میں پراکسی جنگوں میں ملوث رہے ہیں، جس کی وجہ سے ان کے درمیان تعلقات کو ‘بین الاقوامی بحران’ کہا جاتا ہے۔ حالیہ برسوں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 2015 کے جوہری معاہدے (Joint Comprehensive Plan of Action – JCPOA) سے یکطرفہ دستبرداری اور ایران پر دوبارہ سخت پابندیوں کا نفاذ کشیدگی میں اضافے کا ایک اہم سبب بنا ہے۔ ان پابندیوں نے ایرانی معیشت پر گہرا اثر ڈالا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کے فقدان کو مزید بڑھا دیا ہے۔
خطے میں ایرانی اثر و رسوخ اور امریکی حکمت عملی

ایران مشرق وسطیٰ میں ایک کلیدی کردار ادا کرتا ہے اور خطے کے مختلف ممالک میں اس کا اثر و رسوخ گہرا ہے۔ لبنان میں حزب اللہ، یمن میں حوثی ملیشیا (انصار اللہ) اور عراق میں دیگر شیعہ ملیشیاؤں کی حمایت کے ذریعے ایران اپنے اسٹریٹجک مفادات کا تحفظ کرتا ہے اور امریکی اتحادیوں کے لیے چیلنج کھڑا کرتا ہے۔ امریکا اور اس کے اتحادی، خاص طور پر اسرائیل، ایران کے اس بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو اپنی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں اور اسے محدود کرنے کے لیے مختلف حکمت عملیوں کا استعمال کرتے ہیں۔
آبنائے ہرمز، جو عالمی تیل اور گیس کی تجارت کے لیے ایک اہم بحری راستہ ہے، ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کا ایک بڑا مرکز ہے۔ ایران نے ماضی میں دھمکی دی ہے کہ اگر اس کے تیل کی برآمدات روکی گئیں تو وہ آبنائے ہرمز کو بند کر دے گا۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر قالیباف نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر اسلامی جمہوریہ ایران کے کنٹرول میں ہے اور امریکی نقل و حرکت پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے امریکا کو دوٹوک تنبیہ کی کہ اگر امریکی جہاز آگے بڑھے تو انہیں نشانہ بنایا جائے گا۔ اس طرح کی دھمکیاں عالمی توانائی کی منڈیوں میں اضطراب پیدا کرتی ہیں اور فوجی تصادم کے خطرے کو بڑھاتی ہیں۔
امریکا خطے میں اپنی فوجی موجودگی کو ایرانی اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے اور اپنے اتحادیوں کے تحفظ کے لیے ضروری سمجھتا ہے۔ تاہم، ایران اسے اپنی خودمختاری کے لیے خطرہ سمجھتا ہے اور مزاحمتی قوتوں کے ذریعے امریکی مفادات کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ کشیدگی نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے مشرق وسطیٰ اور عالمی استحکام کے لیے خطرات کا باعث بن رہی ہے۔ خطے میں مختلف ممالک امریکا اور ایران کے درمیان اس کشیدگی کے ممکنہ نتائج سے پریشان ہیں اور ثالثی کی کوششیں بھی جاری ہیں۔
مذاکرات کا لامتناہی سلسلہ اور اعتماد کا فقدان
امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے باوجود، مذاکرات کے دروازے مکمل طور پر بند نہیں ہوئے ہیں۔ تاہم، ان مذاکرات کا طریقہ کار اور نتائج ہمیشہ غیر یقینی رہے ہیں۔ پاکستانی میزبانی میں اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی امن مذاکرات بھی 21 گھنٹے کی طویل بحث کے بعد کسی حتمی نتیجے کے بغیر ختم ہو گئے تھے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے ان مذاکرات کے اختتام پر اپنے ایکس اکاؤنٹ پر پیغام جاری کیا جس میں انہوں نے کہا کہ امریکا ایرانی وفد کا اعتماد حاصل کرنے میں ناکام ہوگیا ہے۔
قالیباف نے مذاکرات سے قبل ہی اس بات پر زور دیا تھا کہ ایران کے پاس نیک نیتی اور سنجیدہ ارادہ موجود ہے، تاہم گزشتہ دو جنگوں کے تجربات کی بنیاد پر مخالف فریق پر کوئی اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ بیان ایران کے اس دیرینہ موقف کی عکاسی کرتا ہے کہ امریکا اپنے وعدوں پر پورا نہیں اترتا اور اس پر اعتماد کرنا مشکل ہے۔ امریکا کی جانب سے پابندیاں عائد کرنے اور پھر مذاکرات کی پیشکش کرنے کا رویہ ایران میں مزید بدگمانی پیدا کرتا ہے۔
قالیباف نے مارچ 2026 میں بھی واضح کیا تھا کہ امریکا سے کوئی بات چیت نہیں ہوئی ہے، حالانکہ بعد میں کچھ ثالثی کی کوششیں ہوئی تھیں۔ امریکی انتظامیہ کا خیال ہے کہ پابندیوں کا دباؤ ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے اور رعایتیں دینے پر مجبور کر سکتا ہے، لیکن ایرانی قیادت اس دباؤ کے سامنے جھکنے پر تیار نہیں دکھائی دیتی۔
ایک موقع پر قالیباف نے کہا تھا کہ امریکا دھمکیوں، انتباہ اور ڈیڈ لائن کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ انہوں نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ امریکا کے ساتھ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں ہے۔ یہ پیچیدہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ دونوں فریقوں کے درمیان اعتماد کی بحالی اور کسی مستقل حل تک پہنچنے کے لیے ابھی طویل راستہ طے کرنا باقی ہے۔
مذاکرات کے عمل میں پاکستان جیسے دوست اور برادر ممالک کی کوششوں کو سراہا گیا ہے، لیکن امریکی وفد کی ہٹ دھرمی اور بے جا مطالبات کو پیش رفت روکنے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ یہ صورتحال عالمی برادری کے لیے بھی ایک چیلنج ہے کہ وہ کس طرح اس طویل کشیدگی کو کم کرنے اور خطے میں استحکام لانے میں اپنا کردار ادا کرے۔ مزید معلومات کے لیے آج نیوز کی رپورٹ ملاحظہ کی جا سکتی ہے جو باقر قالیباف کے امریکی وفد کی ‘ناکامی’ کے دعوے پر روشنی ڈالتی ہے۔
نتیجہ: ایک غیر یقینی مستقبل
امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک ایسے موڑ پر پہنچ چکی ہے جہاں فوجی تصادم کے خطرات بڑھ گئے ہیں، جبکہ اقتصادی جنگ اپنے عروج پر ہے۔ محمد باقر قالیباف کا یہ بیان کہ “امریکا کو ایرانیوں کا خون بہانے کی قمیت چکانا ہوگی” ایران کے اس غیر متزلزل عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ اپنی خودمختاری اور قومی مفادات کا ہر قیمت پر دفاع کرے گا۔ حالیہ واقعات، جن میں قشم، میناب اور لامرد کے مبینہ حملے اور امریکا کی جانب سے سخت پابندیاں شامل ہیں، دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید بگاڑ پیدا کر رہے ہیں۔
دہائیوں پر محیط یہ دشمنی، جس کی جڑیں تاریخی واقعات، نظریاتی اختلافات اور خطے میں اثر و رسوخ کی کشمکش میں پیوست ہیں، مستقبل قریب میں کسی آسان حل کی توقع پیدا نہیں کرتی۔ مذاکرات کے کئی دور ناکام ہو چکے ہیں اور دونوں فریقوں کے درمیان اعتماد کا فقدان گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ امریکا اپنی معاشی طاقت کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے، جبکہ ایران اپنی فوجی صلاحیتوں، علاقائی اتحادیوں اور آبنائے ہرمز جیسے اسٹریٹجک مقامات پر اپنے کنٹرول کو بطور دفاعی ڈھال استعمال کر رہا ہے۔
اس صورتحال کے نتائج نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے مشرق وسطیٰ اور عالمی سطح پر محسوس کیے جائیں گے۔ تیل کی عالمی قیمتوں سے لے کر علاقائی سلامتی تک، ہر شعبہ اس کشیدگی سے متاثر ہوگا۔ ایک پائیدار حل کے لیے دونوں ممالک کو حقیقی معنوں میں اعتماد سازی کے اقدامات کرنے ہوں گے اور ماضی کی تلخیوں سے سبق سیکھتے ہوئے ایک تعمیری راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ بصورت دیگر، خطے میں عدم استحکام اور تنازعات کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے، جس کی بھاری قیمت بے گناہ انسانی جانوں اور عالمی امن کو چکانی پڑے گی۔


