مقبول خبریں

ایران کا اردن میں امریکی فوجی اڈے پر حملہ، 3 ایف 35 طیارے تباہ کرنے کا دعویٰ

ایران کا اردن میں امریکی فوجی اڈے پر حملہ اور 3 ایف 35 طیارے تباہ کرنے کا دعویٰ مشرق وسطیٰ کی پہلے سے کشیدہ صورتحال میں ایک نیا سنگین موڑ اختیار کر گیا ہے، جس نے علاقائی استحکام کے بارے میں تشویش کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ ایرانی پاسداران انقلاب (IRGC) نے 30 جولائی 2026 کو ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ اس نے اردن کے ال ازرق ایئربیس کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے اور اس حملے کے نتیجے میں وہاں موجود امریکی فضائیہ کے تین جدید ایف 35 لڑاکا طیارے مکمل طور پر تباہ ہو گئے جبکہ تین دیگر کو شدید نقصان پہنچا۔ ایرانی حکام کے مطابق، یہ حملہ ایران کے جزیرہ قشم پر امریکی حملے کے جواب میں کیا گیا تھا، جس میں مبینہ طور پر کئی افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ تاہم، امریکی اور اردنی حکام نے فوری طور پر ان ایرانی دعوؤں کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ حملے میں کوئی امریکی طیارہ تباہ یا نقصان زدہ نہیں ہوا، اور نہ ہی کوئی جانی نقصان ہوا ہے۔ اس کے علاوہ، اردن کی فوج نے بھی یہ دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایران سے داغے گئے پانچ میزائلوں کو کامیابی سے فضا میں ہی روک لیا۔

ایران کا دعویٰ: ال ازرق ایئربیس پر حملہ اور ایف 35 طیاروں کی تباہی

ایرانی پاسداران انقلاب (IRGC) نے جمعرات، 30 جولائی 2026 کو ایک دھماکہ خیز دعویٰ کیا کہ اس نے اردن میں امریکی افواج کے زیر استعمال ال ازرق ایئربیس پر بیلسٹک میزائلوں سے حملہ کیا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق، پاسداران انقلاب نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ایرواسپیس فورس نے ال ازرق ایئربیس پر موجود امریکی ایف 35 لڑاکا طیاروں کے پارکنگ ریمپ اور دیکھ بھال کے ہینگر کو کئی بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا۔ اس دعوے کے مطابق، حملے کے نتیجے میں تین F-35 طیارے مکمل طور پر تباہ ہو گئے جبکہ مزید تین کو شدید نقصان پہنچا۔ پاسداران انقلاب نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ حملے میں کئی امریکی افسران، تکنیکی اور دیکھ بھال کے اہلکار بھی ہلاک ہوئے۔

ایرانی پاسداران انقلاب نے اس کارروائی کو ایران کے جزیرہ قشم پر امریکی فضائی حملوں کا ردعمل قرار دیا۔ ایرانی میڈیا نے قشم پر ہونے والے امریکی حملے میں ایک ہی خاندان کے تین افراد (میاں، بیوی اور ان کا بچہ) کی ہلاکت اور دو دیگر بچوں کے زخمی ہونے کی اطلاع دی تھی۔ پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں اردن کے عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ امریکی افواج خطے میں عدم استحکام کا باعث ہیں اور ان کی موجودگی کے خاتمے تک مزاحمت جاری رہے گی۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ مشرق وسطیٰ معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے والی فوج کے لیے جگہ نہیں ہے، اور خطہ امریکی فوج کی موجودگی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

امریکا اور اردن کا ردعمل: دعوؤں کی تردید اور میزائلوں کا دفاع

ایران کے دعوؤں کے فوراً بعد، امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے ان دعوؤں کی سختی سے تردید کی۔ سینٹکام نے ایک بیان میں کہا کہ ایران کی جانب سے حالیہ حملوں کی کوششوں میں کوئی امریکی جنگی طیارہ تباہ نہیں ہوا اور نہ ہی اسے کوئی نقصان پہنچا ہے۔ امریکی فوج کے مطابق، ایران کی جانب سے داغے گئے تمام میزائل اور ڈرونز یا تو فضا میں ہی ناکارہ بنا دیے گئے یا وہ اپنے ہدف تک پہنچنے میں ناکام رہے۔ سینٹکام نے یہ بھی تردید کی کہ آبنائے ہرمز سے امریکی ناکہ بندی کے دوران کمرشل آئل ٹینکر نورا کو کوئی نقصان پہنچا ہے۔

دوسری جانب، اردن کی مسلح افواج نے بھی ایرانی دعوؤں کی تصدیق نہیں کی۔ اردنی فوج کے ترجمان نے اعلان کیا کہ جمعرات کی صبح فضائی دفاعی نظام نے ایران سے آنے والے پانچ میزائلوں کو نشانہ بنایا جو اردن کی سرزمین کو ہدف بنا رہے تھے۔ ترجمان کے مطابق، ان میزائلوں کا سراغ لگا کر انہیں روکا گیا اور دفاعی منصوبوں کے مطابق مار گرایا گیا۔ اردنی حکام نے تصدیق کی کہ میزائلوں کو روکنے کی کارروائی مؤثر اور پیشہ ورانہ انداز میں انجام دی گئی، جس کے نتیجے میں ملک کو نشانہ بنانے کی کوشش ناکام بنا دی گئی، اور حملے کے نتیجے میں کوئی جانی یا مادی نقصان نہیں ہوا۔ اس واقعے کی آزاد ذرائع سے بھی تصدیق نہیں ہو سکی ہے کہ آیا امریکی طیاروں کو واقعی نقصان پہنچا ہے یا نہیں۔

خطے میں بڑھتی کشیدگی اور اس کا پس منظر

ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی ایک طویل عرصے سے مشرق وسطیٰ کا ایک اہم مسئلہ رہی ہے، اور حالیہ برسوں میں اس میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان براہ راست اور بالواسطہ تصادم کی ایک تاریخ ہے، جس میں آبنائے ہرمز میں سمندری واقعات، عراق اور شام میں امریکی افواج پر پراکسی حملے، اور ایک دوسرے کے خلاف سائبر حملے شامل ہیں۔ اردن، جو امریکا کا ایک اہم علاقائی اتحادی ہے، اپنی سرحدوں پر امریکی فوجی اڈوں کی میزبانی کرتا ہے، جن میں ال ازرق میں واقع موفق سالٹی ایئربیس بھی شامل ہے۔ یہ اڈہ امریکی فضائیہ کے 332ویں ایئر ایکسپیڈیشنری ونگ کا ایک اہم مرکز ہے اور خطے میں امریکی آپریشنز کے لیے کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔

گزشتہ چند دنوں میں خطے میں کشیدگی خاص طور پر بڑھ چکی ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے اعلان کیا تھا کہ امریکی افواج نے ایران کے خلاف “شدید حملوں” کی ایک لہر شروع کی ہے، جسے ایران نے امریکی حملے قرار دیا تھا۔ یہ حملے مشرق وسطیٰ میں امریکی افواج پر ایرانی کوششوں کے ردعمل میں کیے گئے تھے۔ اردن پر ایرانی میزائل حملے کے حوالے سے یہ چوتھا مسلسل دن تھا، اس سے قبل بھی اردن نے بدھ کو پانچ میزائل، منگل کو ایک ڈرون اور پیر کو دو ڈرون مار گرانے کا دعویٰ کیا تھا۔ جولائی 2026 کے آغاز میں بھی ایران نے اس اڈے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ال ازرق ایئربیس ایرانی افواج کا ایک ممکنہ ہدف رہا ہے۔

دعویٰ/تصدیقایران (پاسداران انقلاب)امریکا (سینٹکام)اردن (مسلح افواج)
ال ازرق ایئربیس پر حملہدعویٰحملے کی کوششوں کا اعتراف، نقصان کی تردیدمیزائلوں کے روکنے کی تصدیق، اڈے پر حملے کی تردید
3 ایف 35 طیاروں کی تباہیدعویٰسختی سے تردیدکوئی تصدیق نہیں، نقصان سے انکار
امریکی اہلکاروں کی ہلاکتدعویٰکوئی تصدیق نہیںکوئی تصدیق نہیں، جانی نقصان سے انکار
میزائلوں کا دفاعکوئی تبصرہ نہیںمیزائلوں کے ناکارہ بنائے جانے کا دعویٰ5 میزائلوں کے روکنے کی تصدیق
حملے کی وجہقشم جزیرے پر امریکی حملہایرانی حملوں کی کوششوں کا جوابکوئی تبصرہ نہیں

قشم جزیرے پر امریکی حملے کا ردعمل

ایران کے پاسداران انقلاب نے اردن میں امریکی اڈے پر حملے کو قشم جزیرے پر امریکی فضائی حملے کا براہ راست ردعمل قرار دیا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق، اس امریکی حملے میں قشم جزیرے پر دو رہائشی گھروں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے تین افراد، جن میں ایک میاں، بیوی اور ان کا بچہ شامل تھا، جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، جبکہ دو دیگر بچے زخمی ہوئے۔ اس واقعے نے ایران میں شدید غم و غصہ پیدا کیا اور حکام نے امریکی کارروائی کے خلاف سخت ردعمل کا اعلان کیا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے اگرچہ ایران میں حملوں کی بات کی تھی لیکن قشم جزیرے پر مخصوص حملے کی تفصیلات نہیں بتائیں، بلکہ یہ کہا تھا کہ وہ “مشرق وسطیٰ میں امریکی افواج پر ایرانی حملوں کی کوششوں کے جواب میں ایران کے خلاف حملے” کر رہا ہے۔ ایرانی دعوے کے مطابق، یہ حملہ نہ صرف قشم جزیرے پر ہونے والی ہلاکتوں کا بدلہ تھا بلکہ خطے میں امریکی فوجی موجودگی کے خلاف ایران کی طویل مدتی پالیسی کا بھی حصہ ہے، جسے ایران عدم استحکام کا باعث سمجھتا ہے۔ اس طرح کے جوابی حملوں کا سلسلہ خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھاوا دے رہا ہے، جہاں ہر فریق دوسرے پر جارحیت کا الزام عائد کرتا ہے اور اس کے جواب میں کارروائی کرتا ہے۔

فوجی تجزیہ کاروں کے خدشات اور علاقائی اثرات

اگر ایرانی دعویٰ درست ہوتا کہ اس نے اردن میں امریکی اڈے پر 3 ایف 35 طیارے تباہ کر دیے ہیں تو یہ امریکا کے لیے ایک بہت بڑا فوجی اور مالی نقصان ہوتا۔ ایف 35 لائٹننگ II اسٹیلتھ لڑاکا طیارہ دنیا کے جدید ترین اور مہنگے ترین جنگی طیاروں میں سے ایک ہے، جس کی فی یونٹ لاگت 100 ملین ڈالر سے زیادہ ہے۔ اس لحاظ سے تین طیاروں کی تباہی کا مطلب 300 ملین ڈالر سے زائد کا نقصان ہوتا، جو کہ امریکی فضائیہ کے لیے ایک سنگین دھچکا ہوتا۔ تاہم، امریکی تردید اور اردن کے میزائل دفاع کی کامیابی کا دعویٰ ان خدشات کو کسی حد تک کم کرتا ہے۔

فوجی تجزیہ کار اس طرح کے متضاد دعوؤں اور جوابی کارروائیوں کے بڑھتے ہوئے سلسلے پر گہری تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ ایسی صورتحال میں غلط فہمی یا غلط اندازے کے نتیجے میں وسیع پیمانے پر علاقائی تصادم کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس سے نہ صرف ایران اور امریکا کے درمیان بلکہ خطے کے دیگر ممالک کے درمیان بھی عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی کئی پراکسی جنگوں اور تنازعات کا گڑھ ہے، اور کوئی بھی بڑا تصادم تیل کی عالمی منڈیوں کو بری طرح متاثر کر سکتا ہے اور لاکھوں لوگوں کی زندگیاں خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ اس صورتحال میں فریقین کے درمیان براہ راست بات چیت اور کشیدگی میں کمی کی اشد ضرورت ہے تاکہ مزید سنگین نتائج سے بچا جا سکے۔

علاوہ ازیں، ایران کے کویت میں علی السالم ایئربیس پر بھی حملے کے دعوے نے کویت کی سلامتی کے حوالے سے بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا تھا کہ اس حملے میں دو ڈرون ہینگرز اور امریکی فوجی طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کے لیے ایک ایندھن کا ٹینک تباہ ہو گیا۔ تاہم، کویت اور امریکی حکام نے اس حملے کی اور نقصانات کی حد کی تصدیق نہیں کی۔ یہ دعوے خطے میں امریکی فوجی اڈوں کی وسیع خطرے کی عکاسی کرتے ہیں اور مستقبل میں مزید حملوں کا امکان بڑھاتے ہیں۔

عالمی ردعمل اور سفارتی کوششیں

ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر عالمی برادری نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ خلیج تعاون کونسل (GCC) نے اردن اور کویت پر ایران کے حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔ جی سی سی کے سیکرٹری جنرل جسیم محمد البداوی نے ان حملوں کو ملکی خودمختاری اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ خطرناک کشیدگی خطے کی سلامتی اور استحکام کے لیے بدترین خطرات کا باعث ہے۔ سعودی وزارت خارجہ نے بھی اردن پر ایرانی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے خطے میں امن و استحکام کے تحفظ کے لیے سنجیدہ اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

پاکستان کی وزارت خارجہ نے بھی اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور ان کے تصادم کو حل کرنے کے لیے مذاکرات جاری ہیں، خاص طور پر آبنائے ہرمز کے حوالے سے۔ یہ سفارتی کوششیں انتہائی اہم ہیں کیونکہ دونوں فریقوں کے درمیان براہ راست فوجی تصادم سے بچنے کے لیے رابطے اور بات چیت ضروری ہے۔ عالمی طاقتیں بھی اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ثالثی کی کوششیں کر سکتی ہیں۔ تاہم، اب تک دونوں فریقوں کی جانب سے سخت بیانات اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے، جس سے سفارتی حل تک پہنچنا مشکل دکھائی دے رہا ہے۔ مثال کے طور پر، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اردن میں امریکی فوجی اڈے پر ایرانی حملے کا جواب دینے کی دھمکی دی تھی۔ یہ تمام عوامل صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔ مزید تفصیلات کے لیے ایکسپریس اردو پر امریکی تردید کی رپورٹ ملاحظہ کی جا سکتی ہے جو اس متضاد صورتحال پر مزید روشنی ڈالتی ہے۔

مستقبل کے امکانات: ایک خطرناک صورتحال

موجودہ صورتحال انتہائی غیر مستحکم ہے اور مستقبل کے امکانات تشویشناک ہیں۔ ایران اور امریکا دونوں ہی اپنے موقف پر سختی سے قائم ہیں اور اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے اقدامات کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔ امریکی حملوں کا مقصد ایران کی جانب سے خطے میں پراکسی گروہوں کی حمایت اور امریکی افواج پر حملوں کو روکنا ہے، جبکہ ایران اپنے دفاع اور خطے سے امریکی فوجی موجودگی کے خاتمے کو اپنا ہدف قرار دیتا ہے۔

اگر کشیدگی میں کمی نہ آئی تو اس کے کئی خطرناک نتائج ہو سکتے ہیں۔ ان میں وسیع پیمانے پر علاقائی جنگ، تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ، اور بین الاقوامی تجارت میں خلل شامل ہیں۔ دونوں فریقوں کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو صورتحال کو مزید خراب کر سکیں۔ مذاکرات اور سفارتی حل ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے، لیکن جب تک دونوں فریق ایک دوسرے کے دعوؤں اور اقدامات کو یکسر مسترد کرتے رہیں گے، اس وقت تک پرامن حل مشکل نظر آتا ہے۔ عالمی برادری کو اس معاملے میں مزید فعال کردار ادا کرنا ہو گا تاکہ خطے کو ایک بڑے تصادم سے بچایا جا سکے۔

نتیجہ

ایران کا اردن میں امریکی فوجی اڈے پر حملہ کرنے اور تین F-35 طیاروں کو تباہ کرنے کا دعویٰ مشرق وسطیٰ کی پیچیدہ جغرافیائی سیاسی صورتحال میں ایک نیا اور تشویشناک اضافہ ہے۔ جہاں ایک طرف ایران کے پاسداران انقلاب اس حملے کو جزیرہ قشم پر امریکی کارروائی کا جوابی اقدام قرار دیتے ہوئے اس کے سنگین نتائج کا دعویٰ کر رہے ہیں، وہیں دوسری طرف امریکا اور اردن دونوں ہی ان دعوؤں کی سختی سے تردید کر رہے ہیں اور میزائلوں کے کامیاب دفاع کا اعلان کر رہے ہیں۔ اس صورتحال میں، حقائق کی آزادانہ تصدیق نہ ہونے کے باعث، عالمی مبصرین کے لیے یہ جاننا مشکل ہو گیا ہے کہ حقیقت کیا ہے۔ اس طرح کے متضاد دعوے نہ صرف غلط معلومات کی جنگ کو ہوا دیتے ہیں بلکہ خطے میں پہلے سے موجود تناؤ کو بھی مزید بڑھاوا دیتے ہیں، جس سے غلط فہمیوں اور غیر ارادی تصادم کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ آنے والے دنوں میں فریقین کے بیانات اور زمینی حقائق کا مزید تجزیہ ہی اس صورتحال کی مکمل تصویر واضح کر سکے گا۔