مقبول خبریں

جناح اسپتال نے کینسر کے علاج میں اہم سنگ میل عبور کرلیا

جناح اسپتال نے کینسر کے علاج میں اہم سنگ میل عبور کرلیا ہے، جو پاکستان میں صحت کے شعبے کے لیے ایک قابل فخر لمحہ ہے۔ کراچی میں واقع جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (JPMC) طویل عرصے سے ملک کے سب سے بڑے اور قدیم ترین سرکاری اسپتالوں میں سے ایک کے طور پر خدمات انجام دے رہا ہے۔ یہ ہسپتال نہ صرف تدریسی مقاصد کے لیے اہم ہے بلکہ کینسر کے مریضوں کے لیے جدید ترین اور مفت علاج کی سہولیات فراہم کرنے میں بھی پیش پیش ہے۔ حال ہی میں حاصل ہونے والی کامیابیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان عالمی معیار کی کینسر کی دیکھ بھال کی جانب تیزی سے گامزن ہے۔

تعارف: کینسر کے علاج میں ایک نئی امید

کینسر دنیا بھر میں صحت کا ایک سنگین چیلنج ہے، اور پاکستان میں بھی اس کے مریضوں کی تعداد میں سالانہ اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ایسے حالات میں، جناح اسپتال جیسے سرکاری اداروں کا کینسر کے جدید علاج میں اہم کامیابیاں حاصل کرنا لاکھوں مریضوں کے لیے امید کی کرن ہے۔ جناح اسپتال کا آنکالوجی یونٹ، جو ایک وقف شدہ سہولت ہے، جدید آلات اور تجربہ کار آنکالوجسٹس، سرجنز اور معاون عملے سے لیس ہے۔ یہ ہسپتال ان غریب اور نادار مریضوں کو معیاری علاج فراہم کرتا ہے جو نجی اسپتالوں کے مہنگے علاج کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ اسپتال کی حالیہ کامیابیاں نہ صرف طبی ٹیکنالوجی میں ترقی کی عکاسی کرتی ہیں بلکہ پاکستان کے صحت کے شعبے کے لیے ایک نئی سمت متعین کرتی ہیں۔

سائبر نائف اور ٹومو تھراپی: جدید ٹیکنالوجی کا سنگ بنیاد

جناح اسپتال نے کینسر کے علاج میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں نمایاں پیشرفت کی ہے۔ ہسپتال میں سائبر نائف روبوٹک سرجری یونٹس اور ٹومو تھراپی سسٹمز کی تنصیب ایک اہم سنگ میل ہے۔ پیشنٹس ایڈ فاؤنڈیشن کے تعاون سے، جناح اسپتال پاکستان کا واحد ہسپتال بن گیا ہے جو یہ جدید ترین سہولیات مفت فراہم کرتا ہے۔

  • سائبر نائف (CyberKnife): جناح اسپتال 2012 میں سائبر نائف یونٹ نصب کرنے والا پہلا ہسپتال بنا، اور 2019 میں دوسرا یونٹ بھی نصب کیا گیا۔ یہ روبوٹک ریڈیو سرجری سسٹم کینسر کے ٹیومرز کو انتہائی درستگی کے ساتھ نشانہ بناتا ہے، جس سے ارد گرد کے صحت مند بافتوں کو نقصان پہنچنے کا امکان کم ہو جاتا ہے۔ یہ دنیا کا واحد مرکز ہے جہاں سائبر نائف کے ذریعے علاج مکمل طور پر مفت فراہم کیا جاتا ہے۔ سائبر نائف کے ذریعے اسٹیج 1 اور اسٹیج 2 کے کینسر کا علاج فوری اور تقریباً 99 فیصد کامیابی کی شرح کے ساتھ ممکن ہے۔
  • ٹومو تھراپی (Tomotherapy): 2020 میں جناح اسپتال نے ٹومو تھراپی کی جدید ٹیکنالوجی متعارف کرائی۔ ٹومو تھراپی ایک ایسا طریقہ علاج ہے جو کینسر کے ابتدائی مراحل (اسٹیج 1) سے لے کر ایڈوانسڈ اسٹیج (اسٹیج 4) تک کی بیماریوں کا مؤثر طریقے سے علاج کرتا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی ریڈی ایشن کو مزید مؤثر اور محفوظ بناتی ہے۔ حال ہی میں، پیشنٹس ایڈ نے JPMC کے ریڈی ایشن آنکالوجی ڈیپارٹمنٹ میں دوسرا ریڈیکسیکٹ ایکس 9 ٹومو تھراپی یونٹ بھی نصب کیا، جس سے JPMC دنیا کے ان دس مراکز میں شامل ہو گیا جہاں دو سائبر نائف اور دو ٹومو تھراپی سسٹمز موجود ہیں۔

پیشنٹس ایڈ فاؤنڈیشن کا کردار اور بین الاقوامی اعتراف

پیشنٹس ایڈ فاؤنڈیشن نے جناح اسپتال کو عالمی معیار کی کینسر کی دیکھ بھال کی سہولیات فراہم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ اس غیر منافع بخش تنظیم کے تعاون سے، JPMC کو جدید ترین آلات سے لیس کیا گیا ہے، جس سے ملک بھر کے نادار مریضوں کو مفت علاج کی سہولیات میسر آ رہی ہیں۔ پیشنٹس ایڈ کی یہ کوشش اس عزم کی عکاسی کرتی ہے کہ کوئی بھی مالی یا جغرافیائی رکاوٹوں کی وجہ سے علاج سے محروم نہ ہو۔ یہ تنظیم پاکستان میں صحت کی دیکھ بھال کو سب کے لیے قابل رسائی بنانے کے مشن پر کام کر رہی ہے، قطع نظر ان کی نسل، مذہب یا سماجی حیثیت کے۔

JPMC میں ریڈیکسیکٹ ایکس 9 ٹومو تھراپی کی تنصیب، اور متعدد سائبر نائف سسٹمز کی دستیابی، پاکستان میں کینسر کی دیکھ بھال اور صحت کی رسائی کے لیے نئے معیارات قائم کر رہی ہے۔ یہ ادارے اس بات کی مثال ہیں کہ کس طرح جدید ٹیکنالوجی اور فلاحی جذبہ مل کر کینسر کے علاج کو عام آدمی کی پہنچ میں لا سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں مزید تفصیلات پیشنٹس ایڈ فاؤنڈیشن کی رپورٹ میں دیکھی جا سکتی ہیں۔

ہڈیوں اور پٹھوں کے کینسر میں نمایاں کامیابیاں

کینسر کے علاج میں جناح اسپتال کی کامیابیاں صرف ریڈی ایشن آنکالوجی تک محدود نہیں ہیں۔ ہسپتال نے ہڈیوں اور پٹھوں کے کینسر کے علاج میں بھی اہم سنگ میل عبور کیے ہیں۔ 2025 میں، جناح اسپتال کی تاریخ میں پہلی بار ایک 26 سالہ نوجوان کو مصنوعی گھٹنا لگا کر کینسر کا کامیاب آپریشن کیا گیا، جس سے اسے ایک نئی زندگی ملی۔ یہ آپریشن جناح اسپتال کے آرتھوپیڈک اور آنکولوجی شعبوں کی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

ہسپتال کے شعبہ آرتھوپیڈک اور آنکولوجی میں ہڈیوں اور پٹھوں کے کینسر کے مریضوں کو جدید اور معیاری طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ ڈاکٹرز کے مطابق، ہڈیوں یا پٹھوں کے کینسر کی بروقت تشخیص اور علاج سے نہ صرف مریض کی جان بچائی جا سکتی ہے بلکہ متاثرہ عضو کو بھی محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔ یہ کامیابیاں اس بات کا اشارہ ہیں کہ جناح اسپتال کینسر کے مختلف اقسام کے علاج میں اپنی صلاحیتوں کو مسلسل بڑھا رہا ہے۔

کینسر کے علاج میں اہم خدماتتفصیلاہمیت
سائبر نائف ریڈیو سرجریکینسر کے ٹیومرز کو درستگی سے ہدف بنانا، پاکستان میں مفت علاج کا واحد مرکز۔اسٹیج 1 اور 2 کینسر کے لیے 99% کامیابی کی شرح، کم سے کم ضمنی اثرات۔
ٹومو تھراپیاسٹیج 1 سے 4 تک کے کینسر کا مؤثر علاج، جدید ترین ریڈی ایشن ٹیکنالوجی۔JPMC دنیا کے ان دس مراکز میں شامل جہاں دو ٹومو تھراپی سسٹمز موجود ہیں۔
مصنوعی گھٹنا ٹرانسپلانٹ سرجریہڈیوں کے کینسر کے مریضوں کے لیے پیچیدہ سرجریوں کی کامیابی۔مریضوں کی زندگی کا معیار بہتر بنانے اور متاثرہ اعضاء کو بچانے میں مددگار۔
مفت علاج کی سہولیاتکینسر کی تشخیص اور علاج غریب اور نادار مریضوں کے لیے مفت۔کینسر کے مہنگے علاج کو عام آدمی کی پہنچ میں لانا۔

چیلنجز اور مستقبل کی راہیں

پاکستان میں کینسر کے علاج کی سہولیات کے حوالے سے کچھ چیلنجز اب بھی موجود ہیں۔ کراچی میں سرکاری سطح پر کم آمدنی والے مریضوں کے لیے کینسر کی تشخیص یا علاج کی وقف شدہ سہولیات کی کمی ہے۔ جناح اور سول ہسپتال جیسے اداروں میں مریضوں کا بوجھ بہت زیادہ ہے، جس کی وجہ سے بعض اوقات مریضوں کو نجی علاج کی طرف رجوع کرنا پڑتا ہے۔ خون کے کینسر کے علاج کی سہولیات ناکافی ہیں، اور جناح اسپتال کے آنکالوجی شعبے میں ادویات کی کمی کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

تاہم، جناح اسپتال ان چیلنجز کے باوجود مسلسل بہتری کی جانب گامزن ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کی تنصیب اور فلاحی تنظیموں کے ساتھ شراکت داری ان مسائل سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہو رہی ہے۔ عوام میں کینسر کی بروقت تشخیص اور علاج کی اہمیت کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا بھی ضروری ہے، کیونکہ لاپروائی کے باعث اکثر مریض تیسرے مرحلے میں اسپتال پہنچتے ہیں، جس سے علاج مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے۔ حکومت اور نجی شعبے کے درمیان تعاون کو مزید فروغ دے کر ان چیلنجز پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

مریضوں پر مثبت اثرات اور مفت علاج کی فراہمی

جناح اسپتال کی یہ کامیابیاں لاکھوں مریضوں کے لیے براہ راست فائدہ مند ہیں۔ کینسر کا علاج ایک طویل اور مہنگا عمل ہوتا ہے، اور مالی مشکلات اکثر مریضوں کو مناسب علاج سے محروم کر دیتی ہیں۔ ایسے میں جناح اسپتال کا جدید ترین علاج مفت فراہم کرنا ایک انقلابی قدم ہے۔ سائبر نائف اور ٹومو تھراپی جیسی مشینیں، جن کے ذریعے دنیا کے دیگر حصوں میں لاکھوں روپے وصول کیے جاتے ہیں، یہاں بالکل مفت دستیاب ہیں۔ یہ سہولت نہ صرف کراچی بلکہ اندرون سندھ اور بلوچستان سے آنے والے مریضوں کے لیے بھی ایک بڑا سہارا ہے۔

مفت علاج کی دستیابی غریب طبقے کے مریضوں کو مایوسی اور قرضوں سے بچاتی ہے اور انہیں زندگی کی امید فراہم کرتی ہے۔ اس کے علاوہ، اسپتال میں ہڈیوں کے کینسر کے کامیاب آپریشن جیسی پیشرفتیں مریضوں کو اپنی معمول کی زندگی دوبارہ شروع کرنے میں مدد دیتی ہیں۔

مستقبل کے عزائم اور مزید بہتری کے امکانات

جناح اسپتال کینسر کے علاج کے میدان میں مزید پیشرفت کے لیے پرعزم ہے۔ اسپتال کا مقصد نہ صرف موجودہ سہولیات کو برقرار رکھنا ہے بلکہ انہیں مزید وسعت دینا بھی ہے۔ پاکستان میں ہر سال کینسر کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کے لیے مزید جدید علاج کے مراکز کی ضرورت ہے۔ اگرچہ ملک بھر میں کینسر کے علاج کی سہولیات محدود ہیں، جناح اسپتال جیسے ادارے اس کمی کو پورا کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

مستقبل میں، جناح اسپتال تحقیق اور ترقی پر مزید توجہ دے سکتا ہے، تاکہ کینسر کے علاج میں نئی تکنیکوں اور طریقوں کو اپنایا جا سکے۔ عوامی آگاہی مہمات کو تیز کرنا بھی ضروری ہے تاکہ جلد تشخیص اور بہتر علاج کے فوائد سے زیادہ سے زیادہ لوگ مستفید ہو سکیں۔ حکومتی اور نجی فلاحی اداروں کی مسلسل حمایت کے ساتھ، جناح اسپتال پاکستان میں کینسر کی دیکھ بھال کا ایک مثالی مرکز بننے کی راہ پر گامزن ہے، جہاں ہر مریض کو بہترین اور قابل رسائی علاج مل سکے۔

نتیجہ

جناح اسپتال نے کینسر کے علاج میں جدید ٹیکنالوجی جیسے سائبر نائف اور ٹومو تھراپی کو مفت فراہم کرکے اور ہڈیوں کے کینسر کے پیچیدہ آپریشنز میں کامیابی حاصل کرکے واقعی ایک اہم سنگ میل عبور کیا ہے۔ ان کامیابیوں نے نہ صرف ہزاروں مریضوں کی زندگیوں میں امید کی کرن روشن کی ہے بلکہ پاکستان کے صحت کے شعبے کو عالمی سطح پر نمایاں کیا ہے۔ اگرچہ ابھی بھی چیلنجز موجود ہیں، لیکن جناح اسپتال کی لگن اور فلاحی اداروں کی معاونت کے ساتھ، یہ ادارہ پاکستان میں کینسر کے خلاف جنگ میں ایک مضبوط ستون کے طور پر ابھر رہا ہے۔ یہ پیشرفت اس بات کی شاہد ہے کہ درست عزم اور تعاون سے مہلک بیماریوں کے خلاف جنگ میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی جا سکتی ہیں۔