مقبول خبریں

جنگ سے ایران کی گیس پیداوار کو شدید دھچکا، 23 کروڑ مکعب میٹر صلاحیت متاثر

جنگ سے ایران کی گیس پیداوار کو شدید دھچکا لگا ہے، جس کے نتیجے میں ملک کی یومیہ 23 کروڑ مکعب میٹر (230 ملین مکعب میٹر) گیس پیدا کرنے کی صلاحیت متاثر ہوئی ہے۔ یہ تشویشناک صورتحال حالیہ جنگی تنازعات کا براہ راست نتیجہ ہے جس نے ایران کے توانائی کے شعبے کو نمایاں طور پر نقصان پہنچایا ہے۔ ایرانی حکومت نے اس نقصان کی تصدیق کی ہے اور اسے امریکی و اسرائیلی حملوں سے منسوب کیا ہے، جس کے بعد توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی بحالی اور مرمت کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اس غیر متوقع کمی کے ایران کی ملکی معیشت، علاقائی توانائی کی سپلائی اور عالمی گیس منڈی پر وسیع اور گہرے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔

جنگ کے تباہ کن اثرات اور گیس کی پیداوار میں کمی

ایران کی قدرتی گیس کی پیداوار کو حالیہ جنگ کے دوران شدید نقصان پہنچا ہے، جس کے باعث یومیہ تقریباً 23 کروڑ مکعب میٹر گیس پیدا کرنے کی صلاحیت متاثر ہوئی ہے۔ ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے ایک پریس کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے تصدیق کی کہ جنگ کے نتیجے میں توانائی کے شعبے کو نمایاں نقصان پہنچا، جس کا براہ راست اثر قدرتی گیس کی پیداوار پر پڑا۔ انہوں نے بتایا کہ گیس پیدا کرنے کی مجموعی صلاحیت میں یہ کمی ملک کے توانائی کے شعبے کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران 28 فروری سے شروع ہونے والی اس حالیہ جنگ کے دوران ہونے والے نقصانات کا معاوضہ طلب کر چکا ہے۔ ایرانی حکام کے ابتدائی اندازوں کے مطابق، اس جنگ کے نتیجے میں ایران کو براہ راست اور بالواسطہ طور پر تقریباً 270 ارب ڈالر کا نقصان پہنچا ہے۔ معاشی اور توانائی کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر گیس کی پیداوار میں یہ کمی طویل عرصے تک برقرار رہی تو اس کے اثرات نہ صرف ایران کی معیشت پر پڑیں گے بلکہ خطے میں توانائی کی سپلائی اور عالمی گیس مارکیٹ پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ اس صورتحال نے ایران کو نہ صرف اپنی اندرونی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے مشکلات میں ڈالا ہے بلکہ اس کی برآمدی صلاحیت بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے، جو اس کی معیشت کے لیے ایک اہم ستون ہے۔

توانائی کا بنیادی ڈھانچہ: جنگ کا براہ راست نشانہ

جنگ کے دوران توانائی کا بنیادی ڈھانچہ ہمیشہ ایک اہم ہدف رہا ہے، اور حالیہ تنازع میں ایران کا گیس کا شعبہ اس کی واضح مثال ہے۔ فوجی حملوں نے گیس نکالنے والی تنصیبات، پروسیسنگ پلانٹس، پائپ لائنز اور دیگر اہم انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اس طرح کے حملے نہ صرف فوری طور پر پیداوار میں کمی کا باعث بنتے ہیں بلکہ مستقبل میں گیس کی ترسیل کی صلاحیت کو بھی طویل مدت کے لیے متاثر کرتے ہیں۔ بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والا نقصان صرف مالی نوعیت کا نہیں ہوتا بلکہ اس سے تکنیکی پیچیدگیاں بھی جنم لیتی ہیں، جن کی مرمت اور بحالی میں وقت اور مہارت دونوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

خطے میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں نے عالمی سطح پر تشویش کو جنم دیا ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی ادارے ایسی کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کر چکے ہیں، کیونکہ ایسے حملے عالمی توانائی کی صورتحال کو مزید غیر مستحکم کرتے ہیں۔ انفراسٹرکچر کی تباہی سے گیس کی اندرونی ترسیل متاثر ہوتی ہے، جس سے صنعتی اور گھریلو صارفین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

جنوبی پارس گیس فیلڈ کی اہمیت اور نقصانات

ایران کی گیس پیداوار میں جنوبی پارس گیس فیلڈ کلیدی حیثیت رکھتی ہے، جسے دنیا کے سب سے بڑے قدرتی گیس کے ذخیروں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ یہ گیس فیلڈ خلیج فارس میں واقع ہے اور ایران کا ایک بڑا حصہ قطر کے ساتھ مشترکہ ملکیت ہے۔ جنوبی پارس ایران کی تقریباً 70 سے 75 فیصد گیس پیداوار فراہم کرتی ہے، اور اس کا زیادہ تر حصہ ملک کے اندر ہی استعمال ہوتا ہے۔ یہ فیلڈ ایران کی گھریلو قدرتی گیس کی ضروریات کا تقریباً 70 فیصد پورا کرتی ہے۔

حالیہ تنازعات کے دوران، جنوبی پارس گیس فیلڈ کی تنصیبات کو اسرائیلی حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے، جس کے نتیجے میں گیس کی پیداوار معطل ہوگئی تھی۔ ان حملوں کے بعد 25 ہزار ملین مکعب فٹ سے زائد ایرانی گیس کی پیداوار متاثر ہوئی تھی۔ اس طرح کے حملے نہ صرف ایران کے لیے بلکہ عالمی توانائی کی فراہمی کے لیے بھی سنگین خطرات پیدا کرتے ہیں، کیونکہ جنوبی پارس عالمی توانائی کی فراہمی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ان حملوں نے عالمی توانائی کی سپلائی میں غیر معمولی تعطل پیدا کر دیا ہے۔

اشاریہتفصیلاعداد و شمارماخذ / سال
عالمی گیس ذخائر میں درجہایران کے پاس دنیا کے قدرتی گیس کے دوسرے سب سے بڑے ثابت شدہ ذخائر ہیںتقریباً 33.5 ٹریلین مکعب میٹرویکیپیڈیا، IRNA
جنگ سے متاثرہ پیداواری صلاحیتیومیہ گیس پیداواری صلاحیت میں کمی230 ملین مکعب میٹرایکسپریس نیوز، سماء نیوز
مجموعی اقتصادی نقصان (تخمینہ)جنگ کے براہ راست اور بالواسطہ اثرات270 ارب ڈالرایکسپریس نیوز
جنوبی پارس کا حصہایران کی گیس کی مجموعی پیداوار میں جنوبی پارس کا حصہ70-75 فیصدOpinion، Inquilab.com
گیس کی برآمدات (اضافہ)رواں ایرانی سال کے سات مہینوں میں گیس کی برآمدات میں قدر کے لحاظ سے اضافہ139 فیصدIRNA

ایران کی معیشت پر جنگ کے گہرے اثرات

گیس کی پیداوار میں کمی سے ایران کی معیشت پر گہرے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ قدرتی گیس نہ صرف صنعتوں کو توانائی فراہم کرتی ہے بلکہ گھریلو استعمال کے لیے بھی انتہائی اہم ہے، خاص طور پر سردیوں کے مہینوں میں۔ پیداوار میں کمی سے ملکی توانائی کی ضروریات پوری کرنا مشکل ہو جائے گا، جس سے بجلی کی قلت، صنعتی پیداوار میں کمی اور مہنگائی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ ایران کی معیشت کا تقریباً 60 فیصد مرکزی منصوبہ بندی کے تحت ہے اور یہ ہائیڈروکاربن، زرعی اور سروس سیکٹرز پر مشتمل ہے۔ گیس کی پیداوار میں یہ کمی اس کی معیشت کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔

ملکی سطح پر، حکومت نے عوام کو جنگ کے بوجھ سے بچانے کے لیے غیر معمولی اقدامات بھی کیے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق، جنگ سے متاثرہ اور شدید معاشی بحران کا شکار ایرانی عوام کے لیے ملک بھر کے تمام سی این جی اسٹیشنز مالکان نے گاڑیوں کے لیے مفت گیس کی فراہمی کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ اقدام “ایران ایک دل، ایک آواز” مہم کے تحت شروع کیا گیا ہے، جس میں ایک ہزار سے زائد اسٹیشنز عوام کو مفت گیس فراہم کر رہے ہیں۔ یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ جنگ نے کس قدر معاشی دباؤ پیدا کیا ہے اور حکومت اور عوام دونوں کو اس سے نمٹنے کے لیے کس طرح کی مشکلات کا سامنا ہے۔

علاقائی اور عالمی توانائی منڈی پر جنگ کے اثرات

ایران میں گیس کی پیداوار میں کمی کے اثرات صرف ملکی سطح تک محدود نہیں بلکہ اس نے علاقائی اور عالمی توانائی منڈی کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے۔ خلیج فارس کی آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کے تیل اور گیس کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا ہے، جنگ کے دوران بڑی حد تک جہاز رانی کے لیے بند ہو چکی ہے۔ اس رکاوٹ نے عالمی سطح پر توانائی کے بحران کو جنم دیا ہے، جس کے نتیجے میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے اور عالمی منڈیاں ہل کر رہ گئی ہیں۔

جنگ سے عالمی ایل این جی (Liquid Natural Gas) مارکیٹ کا توازن بھی متاثر ہوا ہے، جہاں قیمتوں میں اضافہ، قطر کے اہم برآمدی ڈھانچے کو نقصان اور نئی سپلائی میں ممکنہ تاخیر نے ایشیائی خریداروں، بشمول پاکستان، کی متوقع طلب پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ قطر، جو دنیا کے سب سے بڑے ایل این جی برآمد کنندگان میں سے ایک ہے، کے راس لافان انڈسٹریل سٹی میں قائم ایل این جی پلانٹ کو ایرانی حملے سے بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے، جس سے عالمی سپلائی میں مزید کمی آئی ہے۔ اس بحران کے نتیجے میں ایشیا میں مقامی توانائی کے متبادل کو فروغ مل سکتا ہے، جس سے ایل این جی کی مستقل طلب میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق، آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی رکاوٹ اس بنیادی حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ توانائی کا تحفظ اب صرف رسد کی ترسیل محفوظ بنانے تک محدود نہیں رہا بلکہ اس میں استحکام اور متبادل ذرائع کی تلاش بھی شامل ہو گئی ہے۔ یہ صورتحال ترقی پذیر ممالک کے لیے خاص طور پر تشویشناک ہے جو مائع گیس، خوراک اور کھاد کی درآمدات پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ مزید معلومات کے لیے، آپ ایکسپریس نیوز کی متعلقہ رپورٹ پڑھ سکتے ہیں۔

ایران کا ردعمل اور بحالی کے چیلنجز

ایران کی حکومت توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی بحالی اور متاثرہ تنصیبات کی مرمت کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے تاکہ گیس کی پیداوار کو دوبارہ معمول پر لایا جا سکے۔ تاہم، جنگ کے باعث ہونے والے نقصانات کی وسعت اور بین الاقوامی پابندیوں کی وجہ سے بحالی کا عمل ایک مشکل اور وقت طلب کام ہو سکتا ہے۔ توانائی کے ماہرین کے مطابق، بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نو اور پیداواری صلاحیت کو سابقہ سطح پر لانے کے لیے بھاری سرمایہ کاری اور جدید ٹیکنالوجی کی ضرورت ہوگی۔

ان چیلنجز کے باوجود، ایران نے میدان جنگ کا توازن تبدیل کرنے اور اپنی توانائی میں پیشرفت دکھانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ایران اپنی توانائی کی سکیورٹی اور پیداواری خود مختاری کو برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے، چاہے اس کے لیے کتنی ہی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔ بحالی کے عمل میں تکنیکی ماہرین کی تربیت، اندرونی وسائل کا زیادہ سے زیادہ استعمال، اور ممکنہ طور پر علاقائی شراکت داریوں پر بھی توجہ دی جائے گی تاکہ توانائی کے شعبے کو مزید لچکدار بنایا جا سکے۔

مستقبل کے امکانات اور توانائی کی سلامتی

جنگ کے بعد ایران کی گیس کی پیداوار میں کمی نے مستقبل میں توانائی کی سلامتی کے حوالے سے اہم سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ایک ایسے ملک کے لیے جس کے پاس دنیا کے دوسرے بڑے قدرتی گیس کے ذخائر ہیں، پیداواری صلاحیت میں اس قدر کمی آنا نہ صرف اس کی معیشت بلکہ عالمی توانائی کی منڈی کے لیے بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ طویل مدتی منصوبوں اور پالیسیوں پر نظرثانی کی ضرورت ہوگی تاکہ ایسی صورتحال سے نمٹا جا سکے اور ملک کی توانائی کی ضروریات کو پائیدار طریقے سے پورا کیا جا سکے۔

قابل تجدید توانائی کے ذرائع پر توجہ دینا بھی اس بحران کا ایک ممکنہ حل ہو سکتا ہے۔ اقوام متحدہ نے مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے تناظر میں قابل تجدید توانائی کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے، کیونکہ معدنی ایندھن پر انحصار عالمی سلامتی کو غیر مستحکم کر رہا ہے۔ ایران کے پاس شمسی اور ہوا کی توانائی کے وافر وسائل موجود ہیں جنہیں بروئے کار لا کر توانائی کے شعبے کو متنوع بنایا جا سکتا ہے۔

نتیجہ

ایران کی گیس پیداوار کو جنگ کے نتیجے میں لگنے والا شدید دھچکا، جس سے 23 کروڑ مکعب میٹر کی یومیہ صلاحیت متاثر ہوئی ہے، ایک سنگین بحران ہے جس کے اثرات کئی جہتوں میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔ یہ نہ صرف ایران کی اندرونی معیشت اور عوام کی روزمرہ زندگی کو متاثر کر رہا ہے بلکہ عالمی توانائی کی منڈیوں میں بھی عدم استحکام پیدا کر رہا ہے۔ توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی بحالی اور تعمیر نو ایک طویل اور مہنگا عمل ہوگا، جس کے لیے ایران کو داخلی اور خارجی سطح پر بے پناہ چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اس صورتحال نے توانائی کے تحفظ کی اہمیت اور جیواشم ایندھن پر انحصار کم کرنے کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے۔ مستقبل میں ایران کو اپنی توانائی کی حکمت عملیوں پر نظرثانی کرنی ہوگی، جس میں قابل تجدید توانائی کے ذرائع کو فروغ دینا اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی حفاظت کو یقینی بنانا شامل ہے، تاکہ وہ ایسی غیر متوقع صورتحال سے نمٹنے کے لیے زیادہ لچکدار ہو سکے اور عالمی توانائی کی فراہمی میں اپنا کردار مؤثر طریقے سے جاری رکھ سکے۔