مقبول خبریں

آپریشن سندور کی ناکامی پر بھارتی حکومت کا بیانیہ اپنے ہی شہریوں نے زمین بوس کردیا2026

فہرست

آپریشن سندور کی ناکامی پر بھارتی حکومت کا بیانیہ، جو کہ ایک حساس فوجی کارروائی کے گرد گھڑا گیا تھا، اپنے ہی شہریوں کی جانب سے شدید تنقید اور مسترد کیے جانے کے بعد زمین بوس ہو گیا ہے۔ یہ ایک ایسا واقعہ ہے جس نے نہ صرف بھارتی حکومت کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا بلکہ آزادیِ اظہار اور شفافیت کے مطالبات کو بھی تقویت بخشی۔ مئی 2025 میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور پاکستان کے اندر مبینہ دہشت گرد ٹھکانوں پر کیے جانے والے اس فوجی آپریشن کو بھارتی حکومت نے ایک بڑی کامیابی کے طور پر پیش کیا تھا، لیکن اس کے نتائج اور ہلاکتوں سے متعلق حقیقت کو چھپانے کی کوششوں نے بعد ازاں عوامی غصے کو جنم دیا۔

آپریشن سندور: ایک متنازع فوجی کارروائی کا پس منظر

مئی 2025 میں، بھارت نے پاکستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں مبینہ دہشت گرد بنیادی ڈھانچے کے خلاف ایک فوجی کارروائی کا آغاز کیا جسے “آپریشن سندور” کا نام دیا گیا۔ اس آپریشن کا مقصد 22 اپریل 2025 کو پہلگام، جموں و کشمیر میں ہونے والے دہشت گرد حملے کا بدلہ لینا تھا جس میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ بھارتی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا کہ یہ کارروائی جیش محمد اور لشکر طیبہ جیسے دہشت گرد گروہوں کے رہنماؤں کو نشانہ بنانے کے لیے کی گئی تھی اور اس بات پر زور دیا گیا کہ پاکستانی فوجی تنصیبات کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔ ابتدائی طور پر، بھارتی حکومت نے اس آپریشن کو انتہائی کامیاب قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ اس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ تاہم، یہ سرکاری بیانیہ بہت جلد عوامی شک و شبہات کی زد میں آ گیا، خاص طور پر اس وقت جب حقیقت آہستہ آہستہ سامنے آنا شروع ہوئی۔ اس آپریشن نے دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ کیا اور عالمی سطح پر بھی توجہ حاصل کی۔

پہلگام حملہ اور “سندور” کا نام: جذبات کا سیاسی استعمال

آپریشن سندور کا پس منظر اپریل 2025 میں جموں و کشمیر کے پہلگام میں ہونے والا ایک ہولناک دہشت گرد حملہ تھا، جس میں 26 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، جن میں 25 بھارتی اور ایک نیپالی شہری شامل تھا۔ بھارت نے اس حملے کے لیے پاکستان پر الزام عائد کیا، جسے اسلام آباد نے مسترد کر دیا۔ اس حملے کے بعد، بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں کو سزا دینے کا عزم کیا۔ “آپریشن سندور” کا نام خود وزیر اعظم مودی نے دیا تھا، جس کا مقصد پہلگام حملے میں اپنے شوہروں کو کھونے والی خواتین کو خراج تحسین پیش کرنا تھا۔ “سندور” ایک روایتی ہندو رسم ہے جو شادی شدہ خواتین اپنی پیشانی پر لگاتی ہیں اور یہ ان کے شوہر کی زندگی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اس نام کا انتخاب بظاہر قومی جذبات کو ابھارنے اور آپریشن کو ایک گہرا جذباتی اور سیاسی پہلو دینے کے لیے کیا گیا تھا، تاکہ حملے کی بنیاد پر عوامی حمایت حاصل کی جا سکے اور قوم کو ایک متحدہ مقصد کے تحت اکٹھا کیا جا سکے۔

کارروائی کا آغاز اور بھارتی حکومت کے ابتدائی دعوے

7 مئی 2025 کو، بھارت نے 80 سے زائد طیاروں کی مدد سے پاکستان کے مختلف علاقوں بشمول مظفرآباد، کوٹلی، باغ، مریدکے اور بہاولپور میں مبینہ دہشت گرد ٹھکانوں پر میزائل حملے کیے۔ بھارتی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا کہ ان حملوں میں جیش محمد اور لشکر طیبہ کے نو ٹھکانوں کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا اور انہیں تباہ کر دیا گیا۔ بھارتی حکام نے یہ بھی زور دیا کہ ان حملوں کا مقصد دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنا تھا اور پاکستانی فوجی تنصیبات کو دانستہ طور پر نشانہ نہیں بنایا گیا۔ ابتدائی دنوں میں، بھارتی حکومت نے اس آپریشن کو ایک غیر معمولی کامیابی کے طور پر پیش کیا اور ہر قسم کے جانی نقصان سے انکار کیا۔ سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارمز پر حکومتی بیانیے کو تقویت دینے کے لیے مسلسل پروپیگنڈا کیا جاتا رہا، اور کسی بھی مخالف آواز یا متضاد معلومات کو سختی سے دبایا گیا۔ بھارتی میڈیا نے بھی حکومتی موقف کو بھرپور کوریج دی، جس میں آپریشن کی کامیابی اور پاکستان کو پہنچنے والے نقصانات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا۔

دیر سے سامنے آنے والی حقیقت: ہلاکتوں کا اعتراف

آپریشن سندور کے تقریباً ایک سال بعد، جون 2026 میں، بھارتی حکومت کو اپنے ہی ابتدائی دعوؤں سے پیچھے ہٹنا پڑا۔ نیشنل وار میموریل کی ویب سائٹ پر چھ بھارتی فوجی اہلکاروں کے نام جاری کیے گئے جن کے بارے میں کہا گیا کہ وہ “آپریشن سندور” کے دوران ہلاک ہوئے تھے۔ ان ہلاک ہونے والوں میں صوبیدار میجر پون کمار، رائفل مین سنیل کمار، لانس نائیک دنیش کمار، ایوی ایشن ٹیکنیشن مود مرلی نائیک، حولدار سنیل کمار سنگھ اور سارجنٹ سریندر کمار شامل تھے۔ یہ اعتراف اس وقت سامنے آیا جب حکومت نے پہلے یہ دعویٰ کیا تھا کہ آپریشن میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ اس دیرینہ اعتراف نے بھارتی حکومت کے سرکاری بیانیے کو زمین بوس کر دیا اور عوامی سطح پر سخت ردعمل کو جنم دیا۔ ناقدین نے سوال اٹھایا کہ اگر کوئی ہلاکت نہیں ہوئی تھی تو ان ناموں کو ایک سال تک کیوں چھپایا گیا؟ اس انکشاف نے حکومتی شفافیت پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے اور اسے اپنے ہی شہریوں کے سامنے بے نقاب کر دیا۔ یہ واقعہ اس بات کا واضح ثبوت تھا کہ حکومت نے معلومات کو دبا کر اپنے بیانیے کو برقرار رکھنے کی کوشش کی تھی، لیکن بالآخر اسے حقیقت کا سامنا کرنا پڑا۔

عوامی ردعمل، اپوزیشن کی تنقید اور میڈیا کا کردار

بھارتی حکومت کی جانب سے فوجی ہلاکتوں کے دیرینہ اعتراف نے فوری طور پر ملک بھر میں عوامی غصے اور اپوزیشن کی شدید تنقید کو جنم دیا۔ سوشل میڈیا پر شہریوں نے سوالات کی بھرمار کر دی کہ کیوں انہیں ایک سال تک اندھیرے میں رکھا گیا؟ اپوزیشن رہنماؤں نے حکومت کو اس “جھوٹ” پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور شفافیت کا مطالبہ کیا۔ اس دوران، بھارتی فیکٹ چیکنگ یونٹس نے بھی بہت سی غلط معلومات اور افواہوں کا پردہ چاک کیا جو آپریشن کے گرد گردش کر رہی تھیں۔ حکومتی فیکٹ چیک یونٹ نے اس وقت دعویٰ کیا کہ مختلف جعلی ویڈیوز، پرانی تصاویر اور من گھڑت کہانیاں گردش کر رہی تھیں جنہیں پاکستانی حمایت یافتہ اکاؤنٹس کی جانب سے پھیلایا جا رہا تھا۔ تاہم، حکومت کے اپنے ہی اعتراف نے ان فیکٹ چیکنگ کی کوششوں کو کمزور کر دیا، کیونکہ اب یہ واضح تھا کہ خود حکومت نے بھی حقیقت کو مکمل طور پر پیش نہیں کیا تھا۔ اس سے شہریوں کا حکومتی معلومات پر اعتماد متزلزل ہوا اور میڈیا کے ایک بڑے حصے پر بھی سوالات اٹھے، جس پر حکومتی پروپیگنڈے کو فروغ دینے کا الزام لگایا گیا۔

واقعہتاریخبھارتی حکومت کا ابتدائی بیانیہسامنے آنے والی حقیقت / عوامی ردعمل
پہلگام دہشت گرد حملہ22 اپریل 2025پاکستان پر الزام، بدلے کا اعلان26 افراد کی ہلاکت، جس میں 25 بھارتی اور ایک نیپالی شہری شامل تھے۔
آپریشن سندور کا آغاز7 مئی 2025دہشت گرد ٹھکانوں پر کامیاب حملے، کوئی جانی نقصان نہیں۔پاکستان کی جانب سے ردعمل، طیاروں کو مار گرانے کے دعوے۔
سوشل میڈیا پر misinformationمئی 2025فیکٹ چیک یونٹ کے ذریعے تردید۔جعلی ویڈیوز، تصاویر اور افواہیں گردش میں، حکومت کی جانب سے حقائق چھپانے کا الزام۔
ہلاک شدہ فوجیوں کے ناموں کا اعترافجون 2026ابتدائی طور پر کوئی جانی نقصان نہیں۔چھ فوجیوں کی ہلاکت کا اعتراف، عوامی غصہ اور شفافیت کے مطالبات۔
دہلی میں عوامی مظاہرےجولائی 2026حکومت کی جانب سے بیانیے کا دفاعمودی کے پوسٹر پھاڑے گئے، پاکستانی مؤقف کی تائید، ناکامی کا اعتراف۔

زمین بوس ہوتا بیانیہ: بھارتی شہریوں کے مظاہرے اور انکار

جون 2026 میں فوجی ہلاکتوں کے اعتراف کے بعد، جولائی 2026 میں نئی دہلی میں بھارتی شہریوں نے بھرپور مظاہرے کیے۔ ان مظاہروں میں شریک افراد نے بھارتی حکومت کے اس بیانیے کو مکمل طور پر مسترد کر دیا جس میں آپریشن سندور کو ایک کامیاب کارروائی کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ مظاہرین نے وزیر اعظم مودی کے پوسٹر پھاڑے اور ان کی تصاویر پر چپلیں برسائیں، جو کہ حکومتی پالیسیوں اور خاص طور پر آپریشن سندور میں شفافیت کی کمی پر ان کے شدید غصے کا اظہار تھا۔ حیران کن طور پر، ان مظاہرین نے پاکستان کے اس مؤقف کی تائید کی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ بھارتی حکومت آپریشن سندور میں اپنی شکست اور ناکامی کو چھپانے کے لیے فوجیوں کی ہلاکتوں کو دبا رہی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق، مظاہرین نے پولیس اہلکاروں کو مخاطب کر کے کہا کہ “آپ حکومت کا ساتھ دیتے ہو، لیکن یہی حکومت تمہاری موت کے بعد تمہاری شناخت تک چھپا دیتی ہے”۔ یہ احتجاج اس بات کا واضح ثبوت تھا کہ بھارتی عوام اب حکومتی پروپیگنڈے کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں اور وہ سچائی اور شفافیت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان مظاہروں نے نہ صرف حکومتی بیانیے کو کمزور کیا بلکہ عالمی سطح پر بھی بھارت میں آزادیِ اظہار اور حکومتی ذمہ داری کے سوالات کو اجاگر کیا ایکسپریس نیوز کی رپورٹ کے مطابق۔

آپریشن سندور کی ناکامی کے وسیع تر مضمرات

آپریشن سندور کی ناکامی اور اس پر بھارتی حکومت کے بیانیے کا اپنے ہی شہریوں کے ہاتھوں زمین بوس ہو جانا کئی گہرے مضمرات کا حامل ہے۔ سب سے پہلے، اس نے بھارتی حکومت کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ جب حکومت معلومات کو دبا کر ایک خاص بیانیہ پیش کرنے کی کوشش کرتی ہے اور بعد میں حقیقت اس کے برعکس ثابت ہوتی ہے، تو عوام کا اعتماد متزلزل ہوتا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف موجودہ حکومت کے لیے بلکہ مستقبل میں بھی کسی بھی حکومتی دعوے پر شکوک و شبہات کو جنم دے گی۔ دوسرا، اس نے بھارتی فوج کے مورال اور عوامی تصور پر بھی منفی اثر ڈالا۔ جب فوجیوں کی قربانیوں کو چھپایا جاتا ہے، تو اس سے فوج میں ناراضگی پیدا ہو سکتی ہے اور عوام کی جانب سے بھی شہداء کے احترام پر سوالات اٹھ سکتے ہیں۔

تیسرا، اس واقعے نے بھارت اور پاکستان کے تعلقات میں کشیدگی کو مزید بڑھاوا دیا ہے۔ پاکستان کی جانب سے ہمیشہ سے یہ دعویٰ کیا جاتا رہا ہے کہ بھارت اپنی فوجی کارروائیوں میں نقصانات کو چھپاتا ہے، اور آپریشن سندور میں ہلاکتوں کا اعتراف اس دعوے کی تصدیق کرتا ہے۔ چوتھا، یہ واقعہ داخلی سیاست میں اپوزیشن کے لیے ایک مضبوط بیانیہ فراہم کرتا ہے کہ حکومت شفاف نہیں ہے اور حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرتی ہے۔ آخر میں، یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ موجودہ ڈیجیٹل دور میں جہاں معلومات تیزی سے پھیلتی ہیں، حکومتوں کے لیے حقائق کو چھپانا اور ایک مصنوعی بیانیہ قائم رکھنا انتہائی مشکل ہو گیا ہے۔ شہریوں کی بیداری اور سوشل میڈیا کی طاقت اب حکومتی پروپیگنڈے کو چیلنج کرنے میں ایک کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔

نتیجہ

آپریشن سندور کی ناکامی پر بھارتی حکومت کے بیانیے کو اپنے ہی شہریوں نے جس طرح زمین بوس کیا، وہ جمہوری معاشروں میں شفافیت، آزادیِ اظہار اور احتساب کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ مئی 2025 کے اس فوجی آپریشن کے گرد گھڑے گئے کامیابی کے دعوے اور جانی نقصان سے انکار کا سرکاری موقف، جون 2026 میں فوجی ہلاکتوں کے اعتراف کے بعد منہدم ہو گیا۔ اس دیرینہ انکشاف نے عوامی غصے، اپوزیشن کی شدید تنقید، اور دہلی میں ہونے والے مظاہروں کی شکل اختیار کی، جہاں شہریوں نے حکومتی پروپیگنڈے کو مسترد کرتے ہوئے سچائی کا مطالبہ کیا۔ یہ واقعہ بھارتی حکومت کے لیے ایک اہم سبق ہے کہ محض پروپیگنڈے اور معلومات کو چھپا کر ایک بیانیہ قائم نہیں رکھا جا سکتا۔ ایک بیدار اور باخبر شہری معاشرہ ہمیشہ حقائق کا مطالبہ کرے گا اور اپنے حکمرانوں کو ان کے اعمال کے لیے جوابدہ ٹھہرائے گا۔ آپریشن سندور کی کہانی بھارت میں حکومتی بیانیہ سازی اور عوامی اعتماد کے درمیان بڑھتے ہوئے خلا کی ایک واضح مثال بن کر سامنے آئی ہے، اور یہ ظاہر کرتی ہے کہ حقیقی جمہوریت کی بنیاد سچائی اور شفافیت پر ہی قائم ہو سکتی ہے۔