مقبول خبریں

امریکا کے ایران پر مسلسل 11ویں روز بھی فضائی حملے؛ ایران کا بھرپور جواب

امریکا کے ایران پر مسلسل گیارہویں روز بھی فضائی حملے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کی ایک نئی اور خطرناک لہر کی نشاندہی کرتے ہیں، جہاں دونوں فریق ایک دوسرے کے خلاف اپنی کارروائیوں میں تیزی لائے ہوئے ہیں۔ آج، 22 جولائی 2026 کو، امریکی افواج نے ایران پر مسلسل گیارہویں رات 75 منٹ تک بمباری کی، جس کے نتیجے میں ایرانی فضائی دفاعی نظام کو بھی فعال کر دیا گیا۔ یہ حملے 28 فروری 2026 کو شروع ہونے والی “2026 ایران جنگ” کا حصہ ہیں، جس نے خطے کے جیو پولیٹیکل منظر نامے کو مکمل طور پر بدل دیا ہے۔ ایران نے بھی ان حملوں کا بھرپور جواب دیا ہے اور امریکی مفادات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ مسلسل کشیدگی عالمی برادری کے لیے تشویش کا باعث بن رہی ہے اور خطے میں بڑے پیمانے پر تباہی کے خدشات بڑھا رہی ہے۔

کشیدگی کا پس منظر اور امریکی حملوں کا آغاز

امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کئی دہائیوں پرانی ہے، لیکن 2026 کا آغاز ایک نئی اور مہلک جنگ کی صورت میں ہوا جب 28 فروری 2026 کو امریکا اور اسرائیل نے ایران پر مشترکہ فضائی حملے شروع کیے۔ ان حملوں کا امریکی دفاعی حکام کی جانب سے بنیادی مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کو کم کرنا اور ایران کی فوجی صلاحیتوں کو کمزور کرنا بتایا گیا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے واضح کیا ہے کہ اس کا مقصد ایران کی ان عسکری صلاحیتوں کو کمزور کرنا ہے جو آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔ یہ حملے ایران کے جوہری پروگرام اور میزائل صلاحیتوں پر طویل عرصے سے جاری عالمی تشویش کے تناظر میں بھی دیکھے جا رہے ہیں۔

گزشتہ چند مہینوں کے دوران، کشیدگی میں بتدریج اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف سخت بیانات دیے ہیں اور دھمکی دی ہے کہ اگر ایران کے حملے میں کوئی امریکی فوجی مارا گیا تو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ اس کے علاوہ، امریکی حکام نے ایران میں توانائی کے پاور پلانٹس اور پلوں کو بھی اپنے عسکری ہدف کا حصہ بنانے کی دھمکی دی تھی۔ ان دھمکیوں سے خطے میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے، کیونکہ یہ ایسے اقدامات ہیں جو عام شہریوں کی زندگی کے لیے ضروری سمجھے جانے والے مقامات پر حملوں کی سخت ممانعت کرنے والے 1949 کے جنیوا کنونشنز کی خلاف ورزی ہوں گے۔

یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے بھی اسرائیل اور ان خلیجی ریاستوں پر جوابی کارروائیاں کیں جہاں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں۔ اس سے قبل بھی ایران نے بحرین، کویت اور اردن میں امریکی مفادات اور فوجی تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملے کیے تھے۔

گیارہویں روز کے حملے اور اہداف

جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے، 22 جولائی 2026 کی رات کو، امریکا نے ایران پر مسلسل گیارہویں رات فضائی حملے کیے، جو تقریباً 75 منٹ تک جاری رہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق، ان حملوں میں ایرانی عسکری آپریشنز سینٹرز، بحری صلاحیتوں، طیاروں کے ہینگرز، ڈرون ذخیرہ کرنے کی تنصیبات اور عسکری لاجسٹکس کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہاز رانی کو دھمکانے کی ایرانی صلاحیت کو مزید کمزور کرنا تھا۔

رپورٹس کے مطابق، ان حملوں میں ایران کے کئی شہروں کو نشانہ بنایا گیا جن میں شمال مغربی شہر تبریز اور جنوبی ایران کے علاقے سیریک شامل ہیں، جہاں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ اس کے علاوہ، حالیہ حملوں میں تبریز، چابہار، کنارک، بندر ماہشہر اور بندر امام خمینی جیسے شہروں میں بھی دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ کچھ رپورٹس میں بوشہر کے قریب (جہاں ایران کا واحد فعال شہری نیوکلیئر پلانٹ واقع ہے) بھی امریکی حملوں کا ذکر ہے۔

ان حملوں کے بعد تہران میں فضائی دفاعی نظام کو فعال کر دیا گیا تھا۔ امریکی حکام کے مطابق، گزشتہ تین مہینوں کے دوران ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے 30 سے زائد تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا ہے، جسے ان فضائی حملوں کی ایک بڑی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ مسلسل حملوں کے دوران، 16 جولائی تک امریکی حملوں میں جاں بحق افراد کی تعداد 38 ہو گئی تھی، جبکہ 400 سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے۔ تازہ ترین رپورٹس کے مطابق، سیز فائر ختم ہونے کے بعد ایران پر کیے گئے حالیہ امریکی حملوں میں 50 شہری ہلاک اور 500 زخمی ہوئے ہیں۔

ایران کا بھرپور جوابی ردعمل

ایران نے امریکا کے مسلسل حملوں پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ ملک کے خلاف کسی بھی جارحیت کا جواب مناسب وقت اور انداز میں دیا جائے گا۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکا کو یہ سمجھنا ہوگا کہ دھمکیوں اور طاقت کے استعمال کے نتائج بھی بھگتنے پڑتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایران پر حملے کیے گئے تو اس کا جواب بھی ضرور دیا جائے گا اور ایران اپنی قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔ ایرانی فوجی حکام کے مطابق، حالیہ حملوں کے نتائج ضرور سامنے آئیں گے اور مسلح افواج ہر قسم کی جارحیت کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔

ایران نے نہ صرف بیانات جاری کیے ہیں بلکہ اس نے عملی طور پر بھی جوابی کارروائیاں کی ہیں۔ ایرانی حکام کے مطابق، خلیجی خطے میں موجود متعدد امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا، جن میں اردن، کویت اور بحرین کے علاقوں میں واقع اہداف بھی شامل ہیں۔ ایرانی پاسداران انقلاب اسلامی (IRGC) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحرین میں امریکی چوکیوں پر ایئر ڈیفنس سسٹمز اور ریڈار کو نشانہ بنایا۔ کویت کے احمد الجابر بیس پر بھی ابتدائی انتباہی ریڈار، پیٹریاٹ ڈیفنس سسٹم، ایف پی ایس-117 ریڈار اور ایئر ڈیفنس سیٹلائٹ کمیونیکیشن سسٹم کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، ایرانی فوج نے زمین سے زمین پر حملہ کرنے والے میزائلوں کے ذریعے کویت کے کیمپ عارفجان میں امریکی HIMARS میزائل سسٹمز کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔

ان جوابی کارروائیوں میں ایران نے کروز میزائلوں کا استعمال کرتے ہوئے بحرین میں امریکی کمپنی ایمیزون (Amazon) کے مرکزی ڈیٹا انفراسٹرکچر کو تباہ کرنے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔ یہ سب اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ایران اس کشیدگی میں کسی بھی قسم کی پسپائی اختیار کرنے کو تیار نہیں ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بیان دیا ہے کہ اسلامی ملک “ہمہ جہت جنگ کی حالت” میں ہے، جو ایران کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے آپ ڈان نیوز کی متعلقہ رپورٹ بھی دیکھ سکتے ہیں۔

تاریخفریقکارروائیاہداف / مقاماتنتائج / دعوے
28 فروری 2026امریکا و اسرائیلمشترکہ فضائی حملےایران کے فوجی ٹھکانے2026 ایران جنگ کا آغاز
15 جولائی 2026امریکامیزائل حملےایرانشہر کے قریب فوجی اڈہ، بمپور گیریژن7 ایرانی فوجی ہلاک، متعدد زخمی
15 جولائی 2026امریکاچوتھی لہر کے فضائی حملے (7 گھنٹے)آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی فوجی تنصیبات، ساحلی علاقے، میزائل/ڈرون مراکزدرجنوں فوجی اہداف تباہ، بحری ناکہ بندی سخت
16 جولائی 2026ایرانمیزائل و ڈرون حملےبحرین، کویت، اردن میں امریکی فوجی اڈےمتعدد امریکی ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
18 جولائی 2026امریکامسلسل ساتویں رات فضائی حملےیزد، اہواز، لار، بندر عباس، سیریک، جزیرہ قشم، امیدیہ38 ہلاکتیں، 400 زخمی (16 جولائی تک)
20 جولائی 2026امریکامسلسل نویں رات فضائی حملےتبریز، چابہار، کنارک، بندر ماہشہر، بندر امام خمینی، فوجی کمانڈ سینٹرز، فضائی دفاعی نظامایک ایرانی فوجی افسر شہید، امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد ردعمل
21 جولائی 2026امریکامسلسل دسویں رات فضائی حملےایرانی کمانڈ سینٹرز، بحری تنصیبات، میزائل/ڈرون لانچنگ مقامات، فضائی دفاعی نظامایرانی فضائی دفاعی نظام فعال
21 جولائی 2026ایرانکروز میزائل حملےبحرین میں ایمیزون ڈیٹا انفراسٹرکچر، کویت اور اردن میں امریکی فوجی اہدافڈیٹا انفراسٹرکچر تباہ کرنے کا دعویٰ، ریڈار اور پیٹریاٹ سسٹمز کو نقصان
22 جولائی 2026امریکامسلسل گیارہویں رات فضائی حملے (75 منٹ)ایرانی عسکری آپریشنز سینٹرز، بحری صلاحیتیں، ہینگرز، ڈرون ذخیرہ کرنے کی تنصیبات، لاجسٹکسایرانی فضائی دفاعی نظام فعال، فوری طور پر جانی نقصان کی اطلاع نہیں

علاقائی اور عالمی ردعمل

امریکا اور ایران کے درمیان جاری اس سنگین کشیدگی نے علاقائی اور عالمی سطح پر گہری تشویش کو جنم دیا ہے۔ عالمی برادری دونوں ممالک سے کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے کی اپیل کر رہی ہے۔ اقوام متحدہ نے خاص طور پر آبنائے ہرمز میں ممکنہ ناکہ بندی پر تشویش کا اظہار کیا ہے، جو عالمی بحری جہاز رانی اور سپلائی چین کو متاثر کر سکتی ہے۔

خطے کے کئی ممالک، خاص طور پر وہ جو امریکی فوجی اڈوں کی میزبانی کرتے ہیں، اس تنازع کے ممکنہ اثرات سے پریشان ہیں۔ اردن نے پانچ ایرانی ڈرونز کو فضا میں ہی ناکارہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے اور مزید کہا کہ اس نے 3 ایرانی میزائلوں کو مار گرایا ہے۔ بحرین اور کویت میں بھی ممکنہ میزائل حملوں کے بعد سائرن بجنے کی اطلاعات ہیں۔ یہ واقعات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ یہ تنازع صرف ایران اور امریکا تک محدود نہیں بلکہ اس کے علاقائی نتائج بہت وسیع ہو سکتے ہیں۔

سفارتی محاذ پر، ثالثوں نے کشیدگی میں کمی اور مفاہمتی یادداشت کی بحالی کے لیے 10 روزہ جنگ بندی کی تجویز پیش کی ہے۔ اس تجویز میں آبنائے ہرمز کو 10 دنوں سے لے کر دو ہفتوں کے لیے کھولنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ تاہم، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے حزب اللہ سے براہ راست مذاکرات کے لیے تیار ہونے کے بیانات کے باوجود، تنازع میں کمی کے آثار نظر نہیں آ رہے۔ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں اس کشیدگی کے نتیجے میں 90 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہیں، جس سے توانائی کا عالمی بحران مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی موجودگی میں بھی اضافہ ہوا ہے، جہاں 20 سے زائد جنگی بحری جہاز اور سیکڑوں فوجی طیارے مختلف آپریشنل سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ نے بیرون ملک مقیم امریکی شہریوں کے لیے محتاط رہنے کی الرٹ جاری کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور “غیر متوقع طور پر حالات خراب ہونے کے خدشات” سے خبردار کیا ہے۔

آبنائے ہرمز کی اہمیت اور بحری ناکہ بندی

آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کے لیے ایک انتہائی اہم اور تزویراتی گزرگاہ ہے۔ یہ خلیج فارس کو بحیرہ عرب سے جوڑتی ہے اور دنیا کے تیل کا ایک بڑا حصہ اس راستے سے گزرتا ہے۔ امریکا نے اپنی فضائی کارروائیوں کا ایک اہم مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کو لاحق خطرات کا خاتمہ بتایا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا ہے کہ اس نے ایران کی ان عسکری صلاحیتوں کو کمزور کرنے کے لیے حملوں کا ایک نیا مرحلہ شروع کیا ہے جو آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کے لیے خطرہ ہیں۔

امریکا نے ایرانی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں کی طرف آنے یا وہاں سے روانہ ہونے والے بحری جہازوں پر بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کر دی ہے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ تین مہینوں کے دوران ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے 30 سے زائد تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا ہے۔ امریکی فوج کے مطابق، مئی کے آغاز سے اب تک امریکی فورسز نے تقریباً 900 تجارتی جہازوں اور کروڑوں بیرل خام تیل کی محفوظ ترسیل میں معاونت فراہم کی ہے۔

دوسری جانب، ایران سے منسلک حوثیوں نے سعودی عرب کی بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا ہے۔ اقوام متحدہ نے اس ناکہ بندی پر تشویش ظاہر کی ہے اور خبردار کیا ہے کہ باب المندب، جہاں سے عالمی بحری جہاز رانی کا تقریباً 15 فیصد حصہ گزرتا ہے، میں رکاوٹ عالمی سپلائی کو متاثر کر سکتی ہے۔ یہ صورتحال عالمی تجارت اور توانائی کی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے۔

جنگ کے انسانی اور اقتصادی اثرات

اس جنگ کے انسانی اور اقتصادی اثرات تباہ کن ہیں۔ جاری تنازع نے ہزاروں افراد کی جانیں لی ہیں اور لاکھوں کو بے گھر کر دیا ہے۔ ایرانی وزارت صحت کے ایک اہلکار کے مطابق، سیز فائر ختم ہونے کے بعد ایران پر کیے گئے حالیہ امریکی حملوں میں 50 شہری ہلاک اور 500 زخمی ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ، امریکی میزائل حملوں میں 7 ایرانی فوجی بھی ہلاک ہوئے۔ امریکی فوجیوں کی ہلاکتیں بھی اس تنازع کا حصہ ہیں، اور حالیہ دنوں میں ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد بڑھ کر 18 ہو گئی ہے۔ مارچ 2026 میں بھی، کویت کی شعیبہ بندرگاہ پر ایک ایرانی ڈرون حملے میں 6 امریکی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔

بنیادی شہری ڈھانچوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں، جن میں توانائی کے پاور پلانٹس اور پل شامل ہیں۔ جنیوا کنونشنز کے تحت ایسے مقامات پر حملوں کی سختی سے ممانعت ہے جو عام شہریوں کی زندگی کے لیے ضروری سمجھے جاتے ہیں۔ اگر ایسے اہداف کو نشانہ بنایا گیا تو انسانی بحران مزید شدت اختیار کر جائے گا۔

اقتصادی محاذ پر، آبنائے ہرمز میں بحری تجارتی سرگرمیاں بڑی حد تک معطل ہو چکی ہیں، جس سے عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ 20 جولائی کو عالمی منڈیوں میں برینٹ خام تیل کی قیمت 90 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی تھی۔ عالمی سپلائی چین متاثر ہو رہے ہیں، اور اس جنگ کے طویل المدتی اثرات عالمی معیشت پر منفی طور پر مرتب ہوں گے۔

نتیجہ

امریکا اور ایران کے درمیان مسلسل فضائی حملوں اور جوابی کارروائیوں نے مشرق وسطیٰ کو ایک خطرناک دوراہے پر لاکھڑا کیا ہے۔ گیارہویں روز بھی جاری امریکی حملے اور ایران کا بھرپور جواب اس بات کا ثبوت ہیں کہ دونوں فریق اپنے موقف پر سختی سے قائم ہیں اور تنازع میں مزید شدت کا امکان موجود ہے۔ انسانی جانوں کے ضیاع، لاکھوں کی نقل مکانی، اور عالمی معیشت پر پڑنے والے منفی اثرات کے ساتھ یہ جنگ کسی بھی فریق کے لیے سودمند ثابت نہیں ہو گی۔ عالمی برادری کی جانب سے جنگ بندی اور سفارتی حل کی کوششیں جاری ہیں، لیکن فریقین کے درمیان اعتماد کی بحالی اور مذاکرات کی کامیابی ایک کٹھن مرحلہ نظر آ رہا ہے۔ خطے کی سلامتی اور عالمی امن کے لیے یہ ناگزیر ہے کہ اس تنازع کو جلد از جلد سفارتی ذرائع سے حل کیا جائے تاکہ مزید تباہی سے بچا جا سکے۔