Table of Contents
ایران کے پاس اب بھی صلاحیتیں موجود ہیں، امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ کا یہ اعتراف مشرق وسطیٰ کی پیچیدہ صورتحال میں ایک اہم پیش رفت کو ظاہر کرتا ہے۔ 22 جولائی 2026 کو سینیٹ کی ایک کمیٹی کے سامنے گواہی دیتے ہوئے، امریکی وزیر دفاع نے تسلیم کیا کہ “ہر ایرانی کشتی اور میزائل کو مکمل طور پر ختم کرنا ممکن نہیں،” اور یہ کہ ایران “بلا شبہ” فوجی صلاحیتیں برقرار رکھتا ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے فروری 2026 میں “آپریشن ایپک فیوری” اور “آپریشن رورنگ لائن” کے آغاز سے ایران پر مسلسل فضائی حملے جاری ہیں۔ اس اعتراف نے ان دعوؤں پر سوالات اٹھا دیے ہیں جن میں ایران کی فوجی قوت کو بری طرح متاثر قرار دیا جا رہا تھا۔
امریکی وزیر جنگ کا اعتراف: ایک نئی حقیقت
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے حالیہ بیانات جو 22 جولائی 2026 کو سینیٹ کی تخصیصی کمیٹی کے سامنے دیے گئے، خطے کی عسکری حرکیات پر ایک نئی روشنی ڈالتے ہیں۔ ان کا یہ اعتراف کہ ایران کے پاس اب بھی قابل ذکر صلاحیتیں موجود ہیں، ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور اس کے اتحادی کئی مہینوں سے ایران کے فوجی ڈھانچے کو کمزور کرنے کے لیے حملے کر رہے ہیں۔ اگرچہ ہیگسیتھ نے یہ دعویٰ کیا کہ امریکہ نے “ایران کو تاریخ کی بدترین صورت حال میں پہنچا دیا ہے،” لیکن ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ ایران کی مکمل عسکری صلاحیت کو ختم کرنا ناممکن ہے۔ یہ دو متضاد بیانات ایک پیچیدہ حقیقت کو ظاہر کرتے ہیں: امریکہ فوجی برتری حاصل کرنے کے باوجود ایران کی مزاحمتی قوت کو مکمل طور پر زیر کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا ہے۔
مارچ 2026 میں دیے گئے اپنے ابتدائی بیانات میں، امریکی وزیر دفاع نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکہ نے ایران کی دفاعی صنعت کو “تباہ” کر دیا ہے اور اس کی دفاعی صلاحیتوں کو “معذور” کر دیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ایران اب میزائل، راکٹ، لانچر یا ڈرون نہیں بنا سکتا اور اس کی فیکٹریاں “میدان سے مٹا دی گئی ہیں”۔ تاہم، جولائی 2026 تک سامنے آنے والی انٹیلی جنس رپورٹس اس دعوے کے برعکس ہیں۔ امریکی خفیہ حکام نے خبردار کیا ہے کہ ایران کی میزائل صلاحیتیں حملوں کے کئی مہینوں کے باوجود مسلسل بہتر ہو رہی ہیں۔ انٹیلی جنس جائزوں سے پتہ چلتا ہے کہ پیداواری سہولیات اور لانچ انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچنے کے باوجود، ایران نے اپنے میزائل کی ترقی کی صلاحیت کا ایک بڑا حصہ برقرار رکھا ہے اور اپنے ہتھیاروں کی کارکردگی اور بقا کو مسلسل بہتر بنا رہا ہے۔ یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ ایران کا فوجی ڈھانچہ توقع سے کہیں زیادہ لچکدار اور مضبوط ہے۔
ایران کی دفاعی صلاحیتوں کا ایک جامع جائزہ
ایران کی فوجی اور دفاعی صلاحیتیں ایک دہائی سے زائد عرصے سے خطے اور عالمی طاقتوں کے لیے توجہ کا مرکز رہی ہیں۔ خاص طور پر اس کے میزائل پروگرام، ڈرون ٹیکنالوجی اور علاقائی پراکسی نیٹ ورکس نے اسے ایک مضبوط عسکری کھلاڑی بنا دیا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے مسلسل حملوں کے باوجود، ایران نے اپنی عسکری استعداد کو برقرار رکھا ہے اور بعض شعبوں میں اسے مزید بہتر کیا ہے۔
میزائل پروگرام اور اس کی بڑھتی ہوئی افادیت
ایران کا بیلسٹک میزائل پروگرام اس کی دفاعی حکمت عملی کا ایک اہم ستون ہے۔ مارچ 2026 تک، ایران کے بیلسٹک میزائلوں کا ذخیرہ 1500 سے 2000 میزائلوں تک محدود ہو گیا تھا، جب کہ 2025 سے پہلے یہ تعداد 2500 سے 3000 تک تھی۔ تاہم، امریکی انٹیلی جنس حکام کا جولائی 2026 کا تازہ ترین جائزہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایران کا بیلسٹک میزائل پروگرام امریکہ اور اسرائیل کے پانچ ماہ کے شدید حملوں کے باوجود مسلسل ترقی کر رہا ہے۔ ایران نے اپنے میزائلوں کی درستگی، داغنے کی صلاحیت اور بقا کو بہتر بنایا ہے۔ نئی نسل کے ایرانی بیلسٹک میزائل اور ہائپرسونک گلائیڈ وہیکلز نے “انتہائی نفیس ٹرمینل پینترے بازی کی صلاحیتیں” دکھائی ہیں، جو میزائل دفاعی نظاموں کے لیے انہیں روکنا مشکل بناتی ہیں۔ روسی میڈیا نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے ایسے جدید میزائل استعمال کیے ہیں جو روایتی دفاعی نظام کو چکمہ دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اہداف کو زیادہ درستگی کے ساتھ نشانہ بنا سکتے ہیں۔
میزائلوں کی پیداواری صلاحیت کے حوالے سے، ایران کے صنعتی ڈھانچے میں ماہانہ کئی سو میزائل تیار کرنے کی گنجائش موجود ہے، جو اسے جنگی نقصانات کے باوجود اپنے ذخیرے کو تیزی سے بحال کرنے کے قابل بناتی ہے۔ مئی 2026 کی ایک رپورٹ کے مطابق، ایران نے اپنے میزائل ذخیرے کا تقریباً 70 فیصد حصہ برقرار رکھا ہے اور آبنائے ہرمز کے ساتھ 33 میں سے 30 میزائل تنصیبات تک آپریشنل رسائی کامیابی سے بحال کر لی ہے، جو کہ 91 فیصد بنتا ہے۔ مزید برآں، تقریباً 90 فیصد زیر زمین ذخیرہ گاہیں اور لانچ پیڈز بھی فعال ہیں۔
ڈرون ٹیکنالوجی میں ایران کی ترقی
ڈرون ٹیکنالوجی میں ایران نے حالیہ برسوں میں نمایاں ترقی کی ہے۔ یہ ڈرونز نگرانی، جاسوسی اور حملوں کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ اگرچہ 2026 کے اوائل میں امریکی اور اسرائیلی حملوں نے ایران کے ڈرون ذخیرے کو متاثر کیا، تاہم اس کی پیداواری صلاحیت اور ڈرونز کی اقسام میں جدت کا سلسلہ جاری ہے۔ ایران کے ڈرونز کو خطے میں اس کے پراکسی گروپوں کے ذریعے بھی استعمال کیا جاتا رہا ہے، جو علاقائی تنازعات میں ایک مؤثر کردار ادا کرتے ہیں۔ امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ نے مارچ 2026 میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے ڈرون کارخانوں کو “تباہ” کر دیا گیا ہے، لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس نظر آتے ہیں۔ ایران اب بھی ڈرون حملے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس کا ثبوت کویت میں امریکی فوجی اڈے پر ہونے والا ڈرون حملہ ہے جس میں امریکی فوجی ہلاک ہوئے۔
جوہری پروگرام اور عالمی تناظر
ایران کا جوہری پروگرام ہمیشہ سے عالمی طاقتوں بالخصوص امریکہ اور اسرائیل کے لیے گہری تشویش کا باعث رہا ہے۔ مارچ 2026 کے مطابق، ایران کے جوہری پروگرام کو “شدید جسمانی تنزلی” کا سامنا تھا، جس میں جون 2025 کے حملوں میں یورینیم کی افزودگی کی سہولیات کو شدید نقصان پہنچا تھا۔ تاہم، اس کے باوجود ایران نے “سائنسی مہارت، بنیادی ڈھانچہ، اور اہم ایندھن سائیکل کی سرگرمیوں کو بحال کرنے کی صلاحیت” برقرار رکھی ہے۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے اپریل 2026 میں کہا تھا کہ امریکہ ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور ضرورت پڑنے پر اسے ملک سے نکالنے کے لیے تیار ہے۔ تاہم، امریکی انٹیلی جنس چیف تلسی گبارڈ نے مارچ 2026 میں سینیٹ کمیٹی کو بتایا تھا کہ ایران گزشتہ سال کے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد اپنی جوہری افزودگی کی صلاحیت دوبارہ بحال نہیں کر رہا تھا۔ ان کے مطابق، 2025 میں “آپریشن مڈنائٹ ہیمر” نے ایران کے جوہری پروگرام کو “تباہ” کر دیا تھا اور اس کے بعد سے اسے دوبارہ شروع کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔ یہ متضاد رپورٹس جوہری پروگرام کی اصل حیثیت کے بارے میں ابہام پیدا کرتی ہیں۔ روسی وزارت خارجہ نے ایران کے دارخوین جوہری منصوبے پر امریکی حملوں کی شدید مذمت کی ہے اور اسے عالمی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ روس نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ایران سمیت تمام غیر جوہری ممالک کو پرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی استعمال کرنے کا حق حاصل ہے اور اسے بیرونی دباؤ کے ذریعے محدود نہیں کیا جا سکتا۔
علاقائی اثر و رسوخ اور پراکسی نیٹ ورکس کا کردار
ایران نے دہائیوں سے مشرق وسطیٰ میں اپنے علاقائی اثر و رسوخ کو بڑھانے کے لیے پراکسی نیٹ ورکس پر انحصار کیا ہے۔ یہ نیٹ ورکس، جنہیں “محور مزاحمت” کے نام سے جانا جاتا ہے، لبنان (حزب اللہ)، شام، عراق، یمن (حوثی تحریک) اور غزہ (حماس اور فلسطینی اسلامی جہاد) میں پھیلے ہوئے ہیں۔ ان پراکسی قوتوں کا بنیادی مقصد امریکہ اور اسرائیل کے خطے سے انخلا کو یقینی بنانا ہے۔ ان گروہوں نے ایران کی جانب سے فوجی تربیت، مالی امداد اور ہتھیاروں کی فراہمی کے ذریعے اپنی پوزیشن مضبوط کی ہے، جس سے خطے میں ایران کی تزویراتی گہرائی میں اضافہ ہوا ہے۔
حالیہ تنازعات میں، ایران کے پراکسیوں نے امریکہ اور اسرائیل کے مفادات کو نشانہ بنایا ہے۔ عراق میں امریکی اڈوں اور اسرائیل پر میزائل حملوں نے ان کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔ ان حملوں سے علاقائی سلامتی کو خطرات لاحق ہوئے ہیں اور امریکہ کو اپنے اتحادیوں کی حفاظت کے لیے اضافی اقدامات کرنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ مثال کے طور پر، جولائی 2026 کے ابتدائی ہفتوں میں عراق اور اردن میں امریکی اڈوں پر ایرانی پراکسیوں کے حملوں میں امریکی فوجی ہلاک اور زخمی ہوئے، جو ایران کی جوابی کارروائیوں کی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔

| ایرانی دفاعی صلاحیتیں (جولائی 2026 کا تخمینہ) | تفصیل |
|---|---|
| میزائل ذخیرہ | تقریباً 1500-2000 بیلسٹک میزائل دستیاب (جون 2025 میں 2500-3000 سے کم)۔ تاہم، امریکی انٹیلی جنس کے مطابق حملوں کے باوجود مسلسل بہتر ہو رہا ہے۔ |
| میزائل پیداواری صلاحیت | ماہانہ کئی سو میزائل تیار کرنے کی صلاحیت۔ |
| ڈرون ذخیرہ | ڈرون ذخیرے کا 40 فیصد باقی (جون 2026 کا تخمینہ)۔ |
| زیر زمین تنصیبات | آبنائے ہرمز کے قریب 33 میں سے 30 میزائل تنصیبات تک فعال رسائی۔ 90 فیصد زیر زمین ذخیرہ گاہیں اور لانچ پیڈز بھی فعال۔ |
| بحریہ | پاسداران انقلاب کی بحری قوت کا تقریباً 60 فیصد اب بھی موجود۔ امریکی وزیر دفاع کا دعویٰ ہے کہ بحریہ کا 90 فیصد تباہ ہو گیا ہے۔ |
| علاقائی پراکسیز | حزب اللہ، حوثی، عراقی ملیشیاؤں کی حمایت برقرار۔ |
امریکی حکمت عملی اور ایران پر دباؤ کے اثرات
امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف “آپریشن ایپک فیوری” کا آغاز فروری 2026 میں کیا گیا تھا جس کا مقصد ایران کی فوجی صلاحیتوں کو ختم کرنا تھا۔ امریکی حکام نے اس آپریشن کو “تاریخی اور زبردست فتح” قرار دیا تھا، جس میں ایران کے ریڈار اور دفاعی نظام کو تباہ کرنے اور اس کے میزائل کی تنصیبات کو ختم کرنے کا دعویٰ کیا گیا۔ تاہم، تازہ ترین رپورٹس بتاتی ہیں کہ ایران کی مزاحمت اور جوابی کارروائیوں کی صلاحیت بدستور برقرار ہے۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے آبنائے ہرمز پر امریکہ کے کنٹرول کا دعویٰ کیا ہے، یہ کہتے ہوئے کہ اس کی اجازت کے بغیر کوئی جہاز وہاں سے گزر نہیں سکتا۔ اس کے باوجود، ایران نے آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی کوششیں جاری رکھی ہیں، اور اس آبی گزرگاہ کی بندش کو ایک جوابی کارروائی کے آپشن کے طور پر دیکھتا ہے۔ امریکہ نے اس حکمت عملی کے تحت متعدد ایرانی بحری جہازوں کو بھی قبضے میں لیا ہے۔
ایک طرف امریکہ ایران کی عسکری قوت کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہا ہے، وہیں دوسری طرف سیاسی حل کے لیے بھی دروازے کھلے رکھنے کا اشارہ دے رہا ہے۔ امریکی وزیر جنگ نے اپریل 2026 میں کہا تھا کہ “ایران کے پاس اب بھی موقع ہے کہ وہ مذاکرات کی میز پر دانشمندی سے فیصلہ کرے، تاہم وقت اس کے حق میں نہیں رہا۔” اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ فوجی دباؤ کو مذاکرات کے لیے ایک آلے کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ اس تناظر میں روس اور چین بھی ایران کی کچھ سرگرمیوں میں معاونت کر رہے ہیں، جو امریکہ کے لیے ایک اضافی چیلنج ہے۔
تنازعے کے مالیاتی پہلو اور امریکی اخراجات
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور فوجی کارروائیوں کے مالیاتی پہلو بھی بہت اہم ہیں۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے 22 جولائی 2026 کو سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ ایران جنگ پر امریکہ کے 37.5 ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں۔ تاہم، ماہرین کا خیال ہے کہ اصل لاگت اس سے کہیں زیادہ ہونے کا امکان ہے، کیونکہ اس میں مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں کی مرمت اور تعمیر نو کے اخراجات شامل نہیں ہیں۔ امریکی فوج کی جانب سے عراق اور اردن میں اپنے اڈوں پر ہونے والے ایرانی حملوں کے بعد تقریباً 100 امریکی فوجی زخمی ہوئے ہیں اور متعدد ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں، جو اس تنازعے کی انسانی اور مالی قیمت کو مزید بڑھاتی ہیں۔ یہ اخراجات اور جانی نقصان امریکی کانگریس کے اندر بھی سوالات کھڑے کر رہے ہیں، جہاں قانون سازوں نے وزیر دفاع سے جنگ کی حکمت عملی کے بارے میں وضاحت طلب کی ہے۔ اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کے جوہری اہداف کو “بہت جلد” نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے، جو ممکنہ طور پر مزید بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیوں اور اخراجات کا باعث بن سکتی ہے۔
مستقبل کے امکانات اور علاقائی سلامتی
ایران کے پاس موجود صلاحیتوں کا امریکی وزیر جنگ کا اعتراف مشرق وسطیٰ میں مستقبل کی سلامتی کے منظرنامے کو مزید غیر یقینی بنا دیتا ہے۔ ایک طرف، امریکہ اور اسرائیل ایران کی عسکری صلاحیتوں کو تباہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، وہیں دوسری طرف ایران نے اپنی مزاحمت، لچک اور جوابی کارروائی کی صلاحیت کو ثابت کیا ہے۔ ایران کا میزائل پروگرام، ڈرون ٹیکنالوجی، اور پراکسی نیٹ ورکس اس کی عسکری قوت کا ایک بڑا حصہ ہیں جسے مکمل طور پر ختم کرنا ایک مشکل ہدف ہے۔
- جوہری تنازعہ: ایران کا جوہری پروگرام، اگرچہ متاثر ہوا ہے، اس میں دوبارہ بحالی کی صلاحیت موجود ہے، جو مستقبل میں عالمی طاقتوں کے ساتھ مزید تناؤ کا باعث بن سکتی ہے۔
- علاقائی پراکسی جنگیں: ایران کے پراکسی نیٹ ورکس خطے میں تنازعات کو ہوا دیتے رہیں گے، جس سے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو مسلسل خطرات کا سامنا رہے گا۔
- آبنائے ہرمز کی اہمیت: آبنائے ہرمز کی سلامتی ایک اہم عالمی تشویش رہے گی، کیونکہ ایران اسے دباؤ کے ایک حربے کے طور پر استعمال کر سکتا ہے۔
- امریکی اخراجات اور حکمت عملی: امریکہ کے لیے اس تنازعے کی مالیاتی اور انسانی قیمت میں اضافہ جاری رہے گا، جس کے نتیجے میں امریکی حکمت عملی پر مزید غور و خوض ہو سکتا ہے۔
یہ واضح ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان موجودہ صورتحال ایک اہم موڑ پر کھڑی ہے۔ جب تک کوئی پائیدار سفارتی حل تلاش نہیں کیا جاتا، خطے میں کشیدگی برقرار رہے گی اور اس کے علاقائی و عالمی سطح پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ایران کی باقی ماندہ صلاحیتوں کا اعتراف اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مکمل فتح کا دعویٰ کرنا قبل از وقت ہو گا اور ایک طویل، پیچیدہ اور مہنگے تنازعے کا امکان برقرار ہے۔
نتیجہ
امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ کا یہ اعتراف کہ “ایران کے پاس اب بھی صلاحیتیں موجود ہیں،” اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے کئی ماہ کے شدید حملوں کے باوجود ایران کی دفاعی اور عسکری صلاحیتوں کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا جا سکا ہے۔ انٹیلی جنس رپورٹس نے بھی ایران کی میزائل اور ڈرون ٹیکنالوجی میں جاری بہتری اور اس کے فوجی ڈھانچے کی لچک کو اجاگر کیا ہے۔ اگرچہ ایران کے جوہری پروگرام کو نقصان پہنچا ہے، لیکن اس کی بحالی کی صلاحیت اب بھی موجود ہے۔ آبنائے ہرمز جیسے اہم تزویراتی مقامات پر ایران کا اثر و رسوخ اور اس کے پراکسی نیٹ ورکس کا فعال رہنا، خطے کی سلامتی کے لیے مسلسل چیلنجز پیدا کر رہا ہے۔ امریکہ کے لیے اس جاری تنازعے کی بڑھتی ہوئی مالیاتی اور انسانی قیمت بھی ایک اہم تشویش ہے۔ یہ سب عوامل اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں استحکام کی بحالی کے لیے فوجی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ ایک جامع اور پائیدار سفارتی حل ناگزیر ہے۔ بصورت دیگر، یہ پیچیدہ صورتحال خطے اور عالمی سطح پر مزید عدم استحکام کا باعث بن سکتی ہے۔


