مقبول خبریں

امریکا نے ایران کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے پر آمادگی ظاہر کردی

امریکا نے ایران کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے پر آمادگی ظاہر کردی ہے، تاہم یہ پیشکش ایسے وقت سامنے آئی ہے جب دونوں ممالک کے درمیان فوجی کشیدگی عروج پر ہے اور ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے مذاکرات جاری رکھنے کی درخواست کی ہے، جسے واشنگٹن نے قبول کر لیا ہے۔ دوسری جانب، ایرانی حکام نے امریکی صدر کے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ تہران نے امریکا سے براہ راست مذاکرات کی کوئی درخواست نہیں کی، بلکہ قطر کی ثالثی کی کوششوں کا خیرمقدم کیا ہے۔ یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اگرچہ بظاہر سفارت کاری کا راستہ کھلا ہے، لیکن فریقین کے درمیان گہرا عدم اعتماد اور پیچیدہ مطالبات کی فہرست موجود ہے، جو کسی بھی پائیدار حل کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن سکتی ہے۔ حال ہی میں آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں پر حملوں، امریکی جوابی کارروائیوں اور ایران پر نئی پابندیوں کے نفاذ نے خطے میں تناؤ کو مزید بڑھا دیا ہے۔ اس مضمون میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کی اس پیشکش کے پس منظر، فریقین کے مؤقف، ممکنہ ایجنڈا اور عالمی برادری کے کردار کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔

مذاکرات کی پیشکش کا پس منظر: بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سفارتی تگ و دو

ایران اور امریکا کے تعلقات گزشتہ چار دہائیوں سے کشیدگی، پابندیوں اور باہمی عدم اعتماد کی علامت رہے ہیں۔ 1979 کے ایرانی انقلاب اور تہران میں امریکی سفارت خانے کے بحران کے بعد سے دونوں ممالک کے تعلقات مسلسل تناؤ کا شکار رہے ہیں۔ اقتصادی پابندیاں، پراکسی جنگیں، جوہری پروگرام، میزائل ٹیکنالوجی اور علاقائی اثرورسوخ وہ بنیادی نکات ہیں جنہوں نے دونوں ممالک کو مسلسل ایک دوسرے کے مدِمقابل رکھا ہے۔ 2015 کا جوہری معاہدہ (JCPOA) اس کشیدہ تعلق میں ایک بڑی سفارتی کامیابی سمجھا گیا تھا، جس کے تحت ایران نے اپنے جوہری پروگرام میں کمی کی تھی اور بدلے میں بین الاقوامی پابندیاں ختم کی گئی تھیں۔ تاہم، 2018 میں امریکا کی اس معاہدے سے یکطرفہ علیحدگی نے اعتماد کی بنیاد کو شدید نقصان پہنچایا، جس کے بعد ایران نے بھی مرحلہ وار اپنی جوہری سرگرمیوں میں اضافہ کیا اور افزودہ یورینیم کا ذخیرہ معاہدے کی حدود سے کئی گنا بڑھ گیا۔ امریکا نے اس کے بعد “زیادہ سے زیادہ دباؤ” کی پالیسی اپنائی اور ایران پر نئی پابندیاں عائد کیں جن کا مقصد اس کے تیل کی برآمدات اور میزائل پروگرام کو نشانہ بنانا تھا۔ آج بھی اگر دونوں ممالک کے درمیان رابطے موجود بھی ہیں تو ان میں اعتماد کی وہ فضا موجود نہیں جو کسی جامع معاہدے کے لیے ضروری ہوتی ہے۔

حالیہ ہفتوں میں صورتحال مزید خراب ہوئی ہے۔ آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں پر فائرنگ کے واقعات کے بعد کشیدگی میں اضافہ ہوا، جس کا الزام امریکا نے ایران پر عائد کیا، جبکہ ایرانی حکام نے اسے اپنے نظام میں تکنیکی خرابی قرار دیا۔ اس کے علاوہ، دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے خلاف فوجی کارروائیوں اور جوابی حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق، گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران ایران پر کوئی نئی فوجی کارروائی نہیں کی گئی، تاہم اس دوران دونوں ممالک کے درمیان تکنیکی سطح پر رابطے جاری رہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شدید کشیدگی کے باوجود سفارتی ذرائع مکمل طور پر بند نہیں ہوئے تھے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسے رابطے مستقبل میں کسی محدود جنگ بندی یا کشیدگی میں کمی کی بنیاد بن سکتے ہیں، تاہم زمینی صورتحال اب بھی انتہائی غیر یقینی ہے۔

امریکی مؤقف: جنگ بندی کا خاتمہ اور فوجی آپشنز

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن ایران کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے پر آمادہ ہے، لیکن اس کی اپنی شرائط ہیں۔ ٹرمپ نے واضح طور پر کہا ہے کہ “جنگ بندی ختم ہو گئی ہے”۔ یہ بیان گزشتہ ماہ (جون 2026 میں) ہونے والے ایک ممکنہ “امن معاہدے” یا “مفاہمتی یادداشت” کے تناظر میں اہم ہے، جس کے تحت فوجی کارروائیوں کے خاتمے، ایران پر امریکی ناکہ بندی ختم کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے جیسے نکات شامل تھے۔ اس وقت اس معاہدے کا عالمی سطح پر خیرمقدم کیا گیا تھا اور اسے علاقائی سلامتی اور استحکام کے لیے ایک اہم کامیابی قرار دیا گیا تھا۔ تاہم، امریکا نے حال ہی میں ایران پر تیل کی فروخت سے متعلق پابندیاں دوبارہ نافذ کر دی ہیں، جس کا جواز آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر مبینہ حملوں کو قرار دیا گیا ہے۔ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ ایران کو اپنے جوہری پروگرام پر سخت پابندیاں قبول کرنا ہوں گی اور متعلقہ جوہری مواد حوالے کرنے سمیت دیگر شرائط پر عمل کرنا ہوگا تاکہ معاہدہ ممکن ہو سکے۔ امریکا کا مطالبہ ہے کہ ایران عوامی سطح پر اعلان کرے کہ آئندہ تجارتی جہازوں کو نشانہ نہیں بنایا جائے گا اور آبنائے ہرمز سمیت تمام بحری راستے محفوظ اور کھلے رہیں گے۔ امریکی حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران ان مطالبات پر عمل نہیں کرتا تو اس کے نتائج تہران کے لیے سازگار نہیں ہوں گے، اور اگر سفارتی کوششیں ناکام ہوئیں تو ایران کی جوہری تنصیبات تک رسائی روکنے کے لیے فوجی آپشنز بدستور موجود ہیں۔

امریکا کی مایوسی بھی بڑھتی نظر آ رہی ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کے امکانات کے حوالے سے بڑھتی ہوئی مایوسی کا شکار ہے اور اسے خدشہ ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے لیے پُرامن سفارتی حل شاید ممکن نہ رہے۔ امریکی اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے عبوری بحری معاہدے پر مکمل عمل درآمد نہ ہونے کے باعث کسی جامع معاہدے کی امیدیں بھی کمزور پڑ گئی ہیں۔

ایرانی ردعمل: انکار، شرائط اور علاقائی دباؤ

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کو سختی سے مسترد کر دیا ہے کہ ایران نے امریکا سے مذاکرات جاری رکھنے کی درخواست کی ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ تہران نے امریکا سے مذاکرات کی کوئی درخواست نہیں کی، البتہ قطر کی ثالثی کی کوششوں کے تحت قطری حکام کے دورۂ ایران کا خیرمقدم کیا گیا ہے۔ ایران نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا مفاہمتی یادداشت کی کسی بھی شق کی خلاف ورزی کرتا ہے تو ایران بھی اسی نوعیت کا متناسب جواب دے گا۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پر بیان میں کہا کہ ایران دھمکیوں یا اشتعال انگیز بیانات کا جواب الفاظ سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے دیتا ہے، اور وہ اپنے قومی مفادات کے دفاع میں کسی دباؤ کو قبول نہیں کرے گا۔ ایران چاہتا ہے کہ اگر وہ کسی نئی مفاہمت کی طرف بڑھے تو اسے ایسی ضمانتیں ملیں جو مستقبل میں کسی امریکی حکومت کی تبدیلی کے ساتھ ختم نہ ہو جائیں۔ ایران اپنے جوہری پروگرام، خاص طور پر یورینیم افزودگی کے حق کو اپنی خودمختاری کا ناگزیر حصہ سمجھتا ہے۔ اس کے علاوہ، ایران طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل پروگرام یا حماس اور حزب اللہ جیسے مسلح گروپوں کی حمایت کے معاملوں پر بات نہیں کرنا چاہتا۔

پابندیوں کا دوبارہ نفاذ اور آبنائے ہرمز کی صورتحال

امریکا نے حال ہی میں ایرانی تیل کی فروخت پر دوبارہ پابندیاں عائد کردی ہیں، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ واشنگٹن نے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر مبینہ حملوں کا ذمہ دار ایران کو قرار دیتے ہوئے تیل کی فروخت کے لیے دی گئی عارضی رعایت محدود کر دی تھی۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق، پہلے دی گئی رعایت کی مدت میں تبدیلی کرتے ہوئے اسے مختصر کر دیا گیا، جس کے بعد ایران کی تیل برآمدات پر دوبارہ پابندیاں نافذ ہوں گی۔ دوسری جانب، ایران نے امریکی فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اسے دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ تہران اپنے قومی مفادات اور سلامتی کے تحفظ کے لیے مناسب اقدامات کرے گا، جبکہ موجودہ صورتحال کی ذمہ داری امریکا پر عائد ہوتی ہے۔ یہ فیصلہ امریکی حکومت کی بدنیتی، غیر مستقل مزاجی اور اپنے وعدوں سے مکر جانے کا ایک اور بڑا ثبوت سمجھا جا رہا ہے۔ آبنائے ہرمز، جو عالمی توانائی کی سپلائی کے لیے ایک اہم آبی گزرگاہ ہے، میں بڑھتی کشیدگی عالمی تجارت، بحری نقل و حمل اور تیل کی قیمتوں پر براہ راست اثر انداز ہو سکتی ہے۔ اسی خدشے کے باعث عالمی طاقتیں فوجی صورتحال کے ساتھ ساتھ سفارتی پیش رفت پر بھی مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔

مذاکرات کے ممکنہ ایجنڈا اور چیلنجز

اگر امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات باقاعدہ طور پر دوبارہ شروع ہوتے ہیں، تو ان کے ایجنڈے پر کئی پیچیدہ اور متنازعہ مسائل ہوں گے۔ یہ مسائل دونوں ممالک کے تعلقات کی گہرائی اور علاقائی سلامتی پر ان کے دور رس اثرات کو ظاہر کرتے ہیں۔

مسئلہامریکی مؤقف / مطالباتایرانی مؤقف / مطالبات
جوہری پروگرامایران کے جوہری پروگرام پر سخت پابندیاں، افزودہ یورینیم کی منتقلی، جوہری تنصیبات کا معائنہ۔یورینیم افزودگی کا حق، مستقبل میں کسی بھی معاہدے کی ضمانتیں، پابندیوں کا خاتمہ۔
پابندیاںمکمل اور مستقل پابندیاں برقرار رکھی جائیں گی جب تک کہ ایران امریکی شرائط پوری نہ کرے۔تمام اقتصادی پابندیاں فوری اور مکمل طور پر ہٹائی جائیں۔
علاقائی اثرورسوخبیلسٹک میزائل پروگرام میں کمی، علاقائی پراکسی گروہوں کی حمایت کا خاتمہ (حزب اللہ، حماس وغیرہ)۔ملکی دفاع کا حق، علاقائی اتحادیوں کی حمایت جاری رکھنے کا عزم، اندرونی معاملات میں عدم مداخلت۔
آبنائے ہرمزتجارتی جہازوں پر حملوں کی روک تھام، تمام بحری راستوں کی مکمل حفاظت اور آزادی۔خودمختاری کا تحفظ، خطے میں امریکی فوجی موجودگی پر تشویش۔
اعتماد سازیایران کی جانب سے ٹھوس اور قابل تصدیق اقدامات کا مطالبہ۔ماضی کے معاہدوں سے امریکی انخلا کے بعد مستقل امریکی ضمانتوں کی ضرورت۔

مذاکرات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ باہمی اعتماد کا فقدان ہے۔ 2018 میں جوہری معاہدے سے امریکا کی یکطرفہ علیحدگی نے ایران کے اندر گہری بداعتمادی کو جنم دیا، جو آج بھی ہر ممکن معاہدے پر سایہ فگن ہے۔ ایران مستقبل میں کسی بھی ممکنہ معاہدے کے لیے مضبوط ضمانتیں چاہتا ہے، جبکہ امریکا ایران کی سرگرمیوں کی کڑی نگرانی پر اصرار کرتا ہے۔ یہ تنازع محض جوہری پروگرام تک محدود نہیں بلکہ اس کے پس منظر میں عالمی طاقتوں کی رسہ کشی، مشرقِ وسطیٰ میں اثر و رسوخ کی جنگ، اور اقتصادی پابندیوں کی پیچیدہ سیاست بھی کارفرما ہے۔ ایران کے لیے یہ مسئلہ قومی وقار اور دفاعی حکمت عملی کا سوال ہے، جبکہ امریکا اسے جوہری عدم پھیلاؤ کے عالمی نظام کے تناظر میں دیکھتا ہے۔

امریکا اور ایران کے درمیان جوہری مذاکرات کا چھٹا دور اتوار کو مسقط میں ہوگا

ثالثی کے کردار اور عالمی برادری کی کوششیں

امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی بحالی کے لیے متعدد ممالک نے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی کوششیں کی ہیں۔ قطر اور پاکستان ان میں نمایاں ہیں۔ روئٹرز نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ قطری مذاکرات کار ایران میں موجود ہیں جہاں وہ ایرانی حکام سے ملاقاتیں کر رہے ہیں، اور ان کوششوں کا مقصد کشیدگی میں کمی اور وسیع تر مذاکرات کے لیے راہ ہموار کرنا ہے۔ یہ بات چیت امریکا کے ساتھ ہم آہنگی میں کی جا رہی ہے۔ ایگزیوز نے یہ بھی خبر دی تھی کہ قطر، پاکستان اور دیگر علاقائی ثالث امریکا اور ایران کے درمیان نئی کشیدگی کو کم کرنے اور جوہری معاہدے پر مذاکرات کو بحال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

پاکستان نے ماضی میں بھی علاقائی تنازعات میں پل کا کردار ادا کرنے کی کوشش کی ہے، اور حالیہ پیش رفت میں بھی یہی توقع کی جا رہی تھی کہ پاکستان ایک بار پھر سفارتی توازن قائم کرنے میں کامیاب ہوگا۔ تاہم، امریکا کے وفد کی منسوخی اور ایران کی ہچکچاہٹ نے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کو وقتی طور پر دھندلا دیا ہے۔ اس کے باوجود، پاکستان مسلسل سفارتی کوششوں کا حصہ ہے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے کوشاں ہے۔

عالمی برادری بھی اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے حالیہ کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقوں سے فوری طور پر تحمل اختیار کرنے کی اپیل کی ہے۔ ان کے ترجمان نے جون 2026 میں ہونے والے امن معاہدے کا خیرمقدم کیا تھا اور اسے تنازع کے پرامن حل کی جانب ایک نہایت اہم قدم قرار دیا تھا۔ برطانیہ، فرانس، جرمنی اور اٹلی جیسے یورپی ممالک نے بھی امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے معاہدے کا خیرمقدم کیا تھا اور اس بات کا اعادہ کیا تھا کہ وہ ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی یا ان کے خاتمے کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے تیار ہیں۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ یورپ کی جانب سے اٹھائے جانے والے کسی بھی قدم کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ ایران معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں پر واضح اور قابلِ تصدیق انداز میں عمل کرے۔ روس اور چین نے بھی فوجی جھڑپوں کے بعد سفارتی راستہ اختیار کرنے پر زور دیا ہے اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو عالمی امن کے لیے خطرناک قرار دیا ہے۔ چین نے تمام فریقوں سے تحمل کا مظاہرہ کرنے، طاقت کے استعمال سے گریز کرنے اور مذاکرات کی میز پر واپس آنے کی اپیل کی ہے۔ اس حوالے سے مزید تفصیلات ڈان نیوز کی رپورٹ پر دیکھی جا سکتی ہیں: امریکا-ایران کشیدگی: خطے کے لیے آگے کیا ہے؟

مستقبل کے امکانات اور سفارتکاری کا راستہ

امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے امکانات ہمیشہ سے امید اور خدشات کا ایک پیچیدہ امتزاج رہے ہیں۔ حالیہ پیش رفت میں جہاں امریکا نے مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی ہے، وہیں ایران نے اس دعوے کو رد کیا ہے کہ اس نے براہ راست مذاکرات کی درخواست کی ہے۔ یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ سفارت کاری کی میز پر بھی دونوں ممالک ایک دوسرے پر سیاسی برتری حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سب سے اہم چیلنج یہ ہے کہ باہمی اعتماد کو کیسے بحال کیا جائے۔ امریکا کی جانب سے 2018 میں جوہری معاہدے سے علیحدگی اور اس کے بعد “زیادہ سے زیادہ دباؤ” کی پالیسی نے ایرانی قیادت میں گہری بد اعتمادی پیدا کی ہے۔ ایران مستقبل میں ایسے کسی بھی معاہدے کے لیے ٹھوس ضمانتیں چاہتا ہے جو کسی امریکی حکومت کی تبدیلی کے ساتھ ختم نہ ہو جائے۔ دوسری جانب، امریکا ایران کے جوہری پروگرام کی مکمل شفافیت اور علاقائی سرگرمیوں میں کمی کا خواہاں ہے۔

مستقبل کے مذاکرات میں آبنائے ہرمز کی حفاظت اور تجارتی بحری جہازوں کی آزادانہ نقل و حمل ایک کلیدی نکتہ رہے گا۔ حالیہ حملوں اور امریکا کی جانب سے تیل کی پابندیوں کے دوبارہ نفاذ نے اس سمندری گزرگاہ کی اہمیت کو مزید اجاگر کیا ہے۔ امریکا ایران سے عوامی سطح پر اس بات کا اعلان چاہتا ہے کہ وہ آئندہ تجارتی جہازوں کو نشانہ نہیں بنائے گا اور بحری راستے محفوظ رہیں گے۔ ایران کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ ثالثی کے ذریعے کچھ عملی اقدامات پر رضامند ہو جائے، تاکہ خطے میں کشیدگی کم ہو اور اس پر عائد پابندیوں میں نرمی کی راہ ہموار ہو۔ تاہم، ایران اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام اور علاقائی پراکسیوں کی حمایت پر سمجھوتہ کرنے سے گریزاں نظر آتا ہے، جس سے مذاکرات مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔

عالمی برادری کا کردار مستقبل میں مزید اہم ہو جائے گا۔ روس، چین اور یورپی ممالک کی جانب سے تحمل اور سفارت کاری پر زور دونوں فریقوں کو براہ راست تصادم سے بچنے کی ترغیب دے سکتا ہے۔ ثالثی کی کوششوں کے ذریعے ایک ایسے فریم ورک کو تشکیل دینے کی ضرورت ہے جو دونوں ممالک کے بنیادی خدشات کو دور کر سکے اور انہیں ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر لا سکے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ کسی بھی بڑے معاہدے سے پہلے اعتماد سازی کے کئی مراحل طے کرنا پڑتے ہیں۔ اگر سفارتی رابطے مؤثر ثابت ہوئے تو کشیدگی کو محدود رکھنے اور ایک نئے جامع معاہدے کی بنیاد رکھنے کی نئی کوششیں سامنے آسکتی ہیں۔ اس صورتحال میں عالمی قیادت کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا تاکہ مشرق وسطیٰ کو مزید کسی جنگی صورتحال سے بچایا جا سکے۔

نتیجہ

امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات جاری رکھنے کی آمادگی، چاہے وہ براہ راست درخواست پر مبنی ہو یا ثالثی کی کوششوں کا نتیجہ، خطے میں کشیدگی کے خاتمے کی ایک نئی امید جگاتی ہے۔ تاہم، دونوں ممالک کے درمیان گہرا عدم اعتماد، متضاد مطالبات اور حال ہی میں بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیاں کسی بھی پائیدار حل کی راہ میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔ امریکا فوجی آپشنز کو برقرار رکھنے اور پابندیاں جاری رکھنے پر اصرار کر رہا ہے، جبکہ ایران اپنی خودمختاری اور قومی مفادات پر کوئی سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں ہے۔ آبنائے ہرمز کی صورتحال اور جوہری پروگرام پر اختلافات مذاکرات کے ایجنڈے کے کلیدی نکات رہیں گے۔ عالمی برادری، بالخصوص قطر اور پاکستان جیسے ثالثی کردار ادا کرنے والے ممالک، کا کام مزید مشکل ہو گیا ہے، لیکن ان کی کوششیں دونوں فریقوں کو مذاکرات کی میز پر لانے اور ممکنہ طور پر ایک نئی مفاہمت کی راہ ہموار کرنے کے لیے ناگزیر ہیں۔ مستقبل میں سفارت کاری کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ آیا دونوں فریق عملی اقدامات پر رضامند ہوتے ہیں اور ایک ایسے حل کی طرف بڑھتے ہیں جو خطے میں امن و استحکام کی ضمانت دے سکے۔