مقبول خبریں

کیا گوشت کھانے والی خواتین طویل عمر پاتی ہیں؟ تحقیق میں اہم انکشاف

کیا گوشت کھانے والی خواتین طویل عمر پاتی ہیں؟ یہ سوال غذائیت اور صحت کے حلقوں میں ہمیشہ سے بحث کا موضوع رہا ہے۔ طویل العمری اور خوراک کے تعلق پر سائنسی تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے، اور ہر نئی تحقیق کچھ منفرد اور بعض اوقات حیران کن انکشافات سامنے لاتی ہے۔ جہاں ایک طرف سبزی پر مبنی غذاؤں کے حامی طویل اور صحت مند زندگی کے لیے گوشت سے پرہیز کی تلقین کرتے ہیں، وہیں دوسری طرف گوشت کے حامی اس کے لازمی غذائی اجزاء پر زور دیتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں، اس بحث میں ایک نیا موڑ اس وقت آیا جب ایک اہم بین الاقوامی تحقیق نے خواتین کی طویل العمری پر گوشت کے استعمال کے حوالے سے غیر متوقع نتائج پیش کیے۔ اس مقالے میں ہم اس تحقیق کے اہم انکشافات، اس کے مضمرات، اور گوشت کے استعمال کے صحت پر مجموعی اثرات کا ایک جامع جائزہ لیں گے، خاص طور پر خواتین کی صحت کے تناظر میں۔

حالیہ چینی تحقیق: ایک نیا نقطہ نظر

مئی 2026 میں شائع ہونے والی ایک اہم طبی تحقیق نے دنیا بھر کے ماہرین کو حیران کر دیا ہے۔ چین کے تین بڑے اداروں، بشمول فوڈان یونیورسٹی، چائنیز سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن، اور شنگھائی جیاؤ ٹونگ یونیورسٹی کے ماہرین نے مشترکہ طور پر یہ تحقیق انجام دی۔ اس تحقیق کا مرکز 80 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد اور ان کی طویل العمری کے درمیان تعلق کو سمجھنا تھا۔ نتائج کے مطابق، 80 سال یا اس سے زائد عمر کی وہ خواتین جو گوشت کھاتی تھیں، ان کے 100 برس کی عمر تک پہنچنے کے امکانات سبزی خور خواتین کے مقابلے میں زیادہ پائے گئے۔ یہ ایک غیر معمولی انکشاف تھا، کیونکہ عام طور پر جدید تحقیقات سبزی پر مبنی غذاؤں کو طویل العمری سے جوڑتی رہی ہیں، جبکہ سرخ گوشت کو مختلف بیماریوں کے خطرے سے منسلک کیا جاتا رہا ہے۔

اس تحقیق کے نتائج نے، جو “چائنیز لونگیٹیوڈنل ہیلتھی لونگیویٹی سروے” (CLHLS) کے وسیع ڈیٹا پر مبنی تھے، ایک نئے زاویے سے خوراک اور طویل العمری کے تعلق کو اجاگر کیا۔ اس مطالعے میں 1,459 صد سالہ (Centenarians) افراد کا موازنہ 3,744 ایسے افراد سے کیا گیا جو اپنی عمر کی 80 اور 90 کی دہائی میں تھے۔ خاص بات یہ تھی کہ مردوں میں گوشت خوری اور طویل العمری کے درمیان ایسا کوئی واضح تعلق دیکھنے میں نہیں آیا جیسا کہ خواتین میں مشاہدہ کیا گیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ غذائی ضروریات اور ان کے اثرات جنس کے لحاظ سے مختلف ہو سکتے ہیں۔

تحقیق کے اہم پہلو اور باریکیاں

چینی تحقیق کے نتائج بلاشبہ دلچسپ ہیں، لیکن ان کی باریکیوں کو سمجھنا ضروری ہے۔ ماہرین نے مزید بتایا کہ گوشت کے استعمال کا یہ مثبت اثر صرف ان خواتین میں دیکھا گیا جن کا وزن معمول سے کم تھا۔ نتائج کے مطابق، کم وزن رکھنے والی گوشت خور خواتین میں 100 سال تک زندہ رہنے کے امکانات 44 فیصد زیادہ تھے، جبکہ نارمل یا زیادہ وزن والی خواتین میں گوشت کھانے یا نہ کھانے سے کوئی خاص فرق سامنے نہیں آیا۔ اس سے یہ اہم نکتہ سامنے آتا ہے کہ بڑھتی عمر میں، خاص طور پر کم وزن والے افراد کے لیے، گوشت سے حاصل ہونے والی اضافی کیلوریز اور پروٹین جسمانی کمزوری سے بچنے اور پٹھوں کی طاقت برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

تحقیق نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ وہ خواتین جو مکمل سبزی خور تھیں لیکن اپنی غذا میں مچھلی، انڈے یا دودھ جیسی پروٹین سے بھرپور اشیا شامل رکھتی تھیں، ان کی متوقع عمر بھی گوشت کھانے والی خواتین کے قریب دیکھی گئی۔ یہ مشاہدہ اس خیال کو تقویت دیتا ہے کہ اصل اہمیت متوازن غذا اور مناسب پروٹین کی ہے، نہ کہ صرف گوشت یا سبزی خوری کی سختی سے پابندی۔ عمر بڑھنے کے ساتھ جسمانی کمزوری، پٹھوں کی طاقت میں کمی اور وزن گرنے جیسے مسائل عام ہو جاتے ہیں، اور ان سے نمٹنے کے لیے بزرگ افراد کو اپنی غذا میں مناسب پروٹین اور کیلوریز شامل رکھنی چاہئیں۔ پٹھوں کے ماس کو محفوظ رکھنا صحت مند بڑھاپے کے لیے انتہائی ضروری سمجھا جاتا ہے، اور پروٹین اس میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔

مرد زیادہ گوشت کھاتے ہیں یا خواتین، نئی تحقیق کیا کہتی ہے؟ - WE News

خواتین کی صحت کے لیے گوشت کے غذائی فوائد

گوشت، اپنی مختلف اقسام میں، انسانی جسم کے لیے ضروری کئی غذائی اجزاء کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ خواتین کے لیے، کچھ وٹامنز اور معدنیات کی اہمیت خاص طور پر زیادہ ہوتی ہے، اور گوشت ان کی فراہمی میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

  • پروٹین: گوشت بہترین معیار کی پروٹین فراہم کرتا ہے، جو پٹھوں کی نشوونما اور مرمت، ہارمونز کی پیداوار، اور مجموعی جسمانی افعال کے لیے ضروری ہے۔ خواتین کو اپنی عمر کے ہر مرحلے میں، خاص طور پر بڑھاپے میں پٹھوں کے نقصان سے بچنے کے لیے، پروٹین کی مناسب مقدار کی ضرورت ہوتی ہے۔
  • آئرن: خواتین میں آئرن کی کمی (انیمیا) ایک عام مسئلہ ہے، خاص طور پر حیض، حمل اور دودھ پلانے کے دوران۔ سرخ گوشت، جیسے بیف اور مٹن، ہیم آئرن کا بہترین ذریعہ ہے، جو جسم میں آسانی سے جذب ہو جاتا ہے اور خون میں آکسیجن کی گردش کو بہتر بناتا ہے۔
  • وٹامن B12: یہ وٹامن اعصابی نظام کے صحیح کام کاج، خون کے سرخ خلیات کی تشکیل، اور DNA کی ترکیب کے لیے انتہائی اہم ہے۔ وٹامن B12 بنیادی طور پر جانوروں کی مصنوعات میں پایا جاتا ہے، اور سبزی خور خواتین کو اس کی کمی کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔
  • زنک: زنک مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے، زخم بھرنے اور خلیوں کی نشوونما کے لیے ضروری ہے۔ گوشت زنک کا ایک اچھا ذریعہ ہے۔
  • دیگر وٹامنز اور معدنیات: گوشت فاسفورس، سیلینیم اور وٹامن B6 جیسے کئی دیگر ضروری غذائی اجزاء بھی فراہم کرتا ہے، جو جسمانی صحت کے لیے فائدہ مند ہیں۔

خواتین کی صحت کے لیے گوشت کے اہم غذائی اجزاء اور ان کے فوائد

غذائی جزواہم ذرائع (گوشت میں)خواتین کے لیے فوائد
پروٹینمرغی، مچھلی، بیف، مٹنپٹھوں کی مضبوطی، ہارمونل توازن، مرمت خلیات، بڑھاپے میں جسمانی کمزوری سے بچاؤ
آئرنسرخ گوشت (بیف، مٹن)، جگرخون کی کمی (انیمیا) سے بچاؤ، آکسیجن کی جسم میں منتقلی، توانائی کی سطح
وٹامن B12تمام اقسام کا گوشت، مچھلی، پولٹریاعصابی نظام کی صحت، خون کے سرخ خلیات کی تشکیل، ذہنی کارکردگی
زنکسرخ گوشت، چکنقوت مدافعت میں اضافہ، زخموں کا بھرنا، تولیدی صحت

سرخ گوشت اور ممکنہ صحت کے خطرات

جہاں حالیہ چینی تحقیق نے بزرگ خواتین کے لیے گوشت کے مثبت پہلوؤں کو اجاگر کیا ہے، وہیں یہ بھی حقیقت ہے کہ کئی دیگر تحقیقات نے سرخ گوشت، خاص طور پر پراسیس شدہ سرخ گوشت کے زیادہ استعمال کو صحت کے مختلف مسائل سے جوڑا ہے۔ ہارورڈ یونیورسٹی کی کئی دہائیوں پر محیط تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ سرخ گوشت کا باقاعدہ استعمال، خاص طور پر پراسیس شدہ گوشت جیسے ساسیجز، بیکن، اور کولڈ کٹس، قبل از وقت موت کے خطرے میں نمایاں اضافہ کر سکتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق، سرخ گوشت کی ہر اضافی یومیہ سرونگ سے موت کے خطرے میں 13 فیصد اضافہ ہوتا ہے، جبکہ اگر یہ پراسیس شدہ گوشت ہو تو یہ اثر 20 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔

ان تحقیقات میں بتایا گیا ہے کہ سرخ گوشت کے زیادہ استعمال سے دل کی بیماریاں، ٹائپ 2 ذیابیطس، اور بعض اقسام کے کینسر، خاص طور پر کولوریکٹل کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ سرخ گوشت میں سیر شدہ چکنائی اور کولیسٹرول کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، جو دل کی صحت کے لیے مضر ہو سکتی ہے۔ اسی طرح، پراسیس شدہ گوشت میں سوڈیم اور نائٹریٹس کی زیادہ مقدار بھی صحت پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔

دماغی صحت کے حوالے سے بھی کچھ تحقیقات نے سرخ گوشت، بالخصوص پراسیس شدہ گوشت کے زیادہ استعمال کو ذہنی کارکردگی کے متاثر ہونے اور یادداشت کی خرابی یا ڈیمنشیا میں مبتلا ہونے کے خطرے سے جوڑا ہے۔ تاہم، ان تحقیقات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس خطرے کو صحت مند خوراک، مثلاً خشک میوہ جات، مچھلی اور پولٹری کو متبادل کے طور پر استعمال کر کے کم کیا جا سکتا ہے۔

متوازن غذا: طویل اور صحت مند زندگی کا راز

خوراک کے حوالے سے ہونے والی متعدد اور بظاہر متضاد تحقیقات کے باوجود، ایک بات پر تقریباً تمام ماہرین متفق ہیں کہ طویل اور صحت مند زندگی کا راز کسی ایک خوراک میں نہیں بلکہ متوازن اور متنوع غذا میں پوشیدہ ہے۔ ایک متوازن غذا وہ ہے جو جسم کو درکار تمام ضروری اجزاء مناسب مقدار اور تناسب میں فراہم کرے۔

  • پودوں پر مبنی غذاؤں پر زور: پھل، سبزیاں، اناج، دالیں اور گری دار میوے اینٹی آکسیڈنٹس، وٹامنز، معدنیات اور فائبر سے بھرپور ہوتے ہیں جو بیماریوں سے بچاؤ اور عمومی صحت کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ پودوں پر مبنی پروٹین کے ذرائع جیسے پھلیاں، دالیں، اور گری دار میوے سرخ گوشت کا ایک صحت مند متبادل ثابت ہو سکتے ہیں۔
  • دبلے پتلے گوشت اور مچھلی: وائٹ میٹ جیسے مرغی اور مچھلی، پروٹین اور دیگر ضروری غذائی اجزاء کا صحت مند ذریعہ ہیں جن میں چکنائی کی مقدار کم ہوتی ہے۔ مچھلی، خاص طور پر فیٹی فش جیسے سالمن، اومیگا 3 فیٹی ایسڈز سے بھرپور ہوتی ہے جو دل اور دماغ کی صحت کے لیے فائدہ مند ہیں۔
  • اعتدال اور تنوع: کسی بھی ایک خوراک پر حد سے زیادہ انحصار کرنے کے بجائے، مختلف اقسام کی غذاؤں کا اعتدال میں استعمال کرنا چاہیے۔ یہ نہ صرف تمام غذائی ضروریات کو پورا کرتا ہے بلکہ ممکنہ نقصانات کو بھی کم کرتا ہے۔
  • عمر کے لحاظ سے غذائی ضروریات: خواتین کی غذائی ضروریات عمر کے مختلف مراحل میں تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔ ٹین ایج، حمل، دودھ پلانے، اور بڑھاپے میں کیلشیم، آئرن اور پروٹین کی ضرورت بڑھ جاتی ہے۔ خاص طور پر بڑھاپے میں، جب بھوک میں کمی اور جسمانی کمزوری جیسے مسائل عام ہو جاتے ہیں، تو غذائیت سے بھرپور غذاؤں، بشمول پروٹین، کا مناسب استعمال صحت کو برقرار رکھنے کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ اس حوالے سے مزید معلومات کے لیے آپ ڈان نیوز کی رپورٹ ملاحظہ کر سکتے ہیں، جس میں درمیانی عمر میں اچھی غذا کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

طرزِ زندگی اور دیگر عوامل کا کردار

صرف خوراک ہی نہیں، بلکہ مجموعی طرزِ زندگی کے عوامل بھی طویل اور صحت مند زندگی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ درج ذیل عادات طویل العمری کے لیے ضروری ہیں:

  • باقاعدہ جسمانی سرگرمی: روزانہ ورزش یا جسمانی سرگرمی نہ صرف وزن کو کنٹرول میں رکھتی ہے بلکہ دل کی صحت، پٹھوں کی مضبوطی، اور ذہنی تندرستی کو بھی بہتر بناتی ہے۔
  • صحت مند وزن: جسمانی وزن کو معمول کے مطابق رکھنا کئی بیماریوں کے خطرے کو کم کرتا ہے۔ چینی تحقیق نے بھی اس بات کو اجاگر کیا کہ گوشت خوری کا مثبت اثر کم وزن والی خواتین میں زیادہ نمایاں تھا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ہر فرد کی غذائی ضروریات اس کے موجودہ وزن اور صحت کی حالت کے مطابق مختلف ہو سکتی ہیں۔
  • سگریٹ نوشی سے پرہیز اور شراب کا اعتدال میں استعمال: یہ دونوں عادات کئی جان لیوا بیماریوں کا باعث بن سکتی ہیں اور متوقع عمر کو کم کرتی ہیں۔
  • ذہنی سکون اور سماجی تعلقات: ذہنی دباؤ سے بچنا اور مضبوط سماجی تعلقات برقرار رکھنا بھی صحت اور طویل العمری کے لیے فائدہ مند ہے۔

نتیجہ: ایک جامع نقطہ نظر

گوشت کھانے والی خواتین کی طویل العمری کے بارے میں کی جانے والی تحقیق اور اس کے انکشافات ایک پیچیدہ تصویر پیش کرتے ہیں۔ حالیہ چینی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ خاص طور پر 80 سال سے زائد عمر کی کم وزن والی خواتین کے لیے گوشت کا استعمال 100 سال تک زندہ رہنے کے امکانات کو بڑھا سکتا ہے۔ یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بڑھاپے میں، جسمانی کمزوری اور پٹھوں کے نقصان سے بچنے کے لیے پروٹین اور کیلوریز سے بھرپور غذاؤں کی ضرورت بڑھ جاتی ہے۔ تاہم، اسی تحقیق نے یہ بھی واضح کیا کہ سبزی خور خواتین جو مچھلی، انڈے یا ڈیری مصنوعات استعمال کرتی تھیں، ان کی عمر بھی گوشت کھانے والی خواتین کے برابر تھی، جس سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ اصل اہمیت متوازن اور کافی غذائیت حاصل کرنے کی ہے۔

دوسری جانب، نوجوان اور درمیانی عمر میں سرخ اور پراسیس شدہ گوشت کا زیادہ استعمال صحت کے کئی خطرات، جیسے دل کی بیماریاں اور کینسر، سے منسلک کیا گیا ہے۔ لہٰذا، ایک صحت مند اور طویل زندگی کے لیے بہترین طریقہ یہ ہے کہ ایک متوازن غذا اپنائی جائے جس میں پھل، سبزیاں، اناج، دالیں، اور دبلے پتلے پروٹین کے ذرائع شامل ہوں۔ سرخ گوشت کا استعمال اعتدال میں کیا جائے، اور پراسیس شدہ گوشت سے حتی الامکان پرہیز کیا جائے۔ خواتین کو اپنی عمر اور زندگی کے مختلف مراحل کے مطابق اپنی غذائی ضروریات کا خیال رکھنا چاہیے، اور ضروری غذائی اجزاء جیسے آئرن، کیلشیم، اور وٹامن B12 کی مناسب مقدار کو یقینی بنانا چاہیے۔

مختصراً، یہ کہنا کہ “گوشت کھانے والی خواتین طویل عمر پاتی ہیں” ایک حد تک سچ ہو سکتا ہے، خاص طور پر مخصوص حالات میں جیسے کہ بڑھاپے میں کم وزن والی خواتین۔ لیکن یہ ایک مکمل تصویر نہیں ہے۔ طویل العمری ایک پیچیدہ عمل ہے جس پر غذا کے ساتھ ساتھ طرزِ زندگی، جینیات، اور ماحولیاتی عوامل کا بھی اثر ہوتا ہے۔ لہٰذا، کسی بھی ایک خوراک کو طویل العمری کا واحد راز سمجھنے کے بجائے، ایک جامع اور متوازن نقطہ نظر اپنانا ہی بہترین حکمت عملی ہے۔