مقبول خبریں

ٹرمپ کا ایران پر مزید حملوں کا عندیہ، روس یوکرین جنگ ختم کرانے کے عزم کا اعادہ: عالمی امن پر نئے چیلنجز

ٹرمپ کا ایران پر مزید حملوں کا عندیہ اور روس کا یوکرین جنگ ختم کرانے کے عزم کا اعادہ اس وقت عالمی سطح پر نمایاں موضوعات ہیں، جو بین الاقوامی تعلقات اور عالمی امن و استحکام کے لیے نئے چیلنجز پیدا کر رہے ہیں۔ امریکی سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف سخت بیانات اور ممکنہ فوجی کارروائیوں کی دھمکیاں ایک ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہیں جب مشرق وسطیٰ پہلے ہی کئی دہائیوں سے کشیدگی کا شکار ہے۔ دوسری جانب، روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ ایک عالمی بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے، جس کے خاتمے کے لیے روس کی جانب سے سفارتی کوششوں کا اعادہ کیا جا رہا ہے، تاہم زمینی حقائق کچھ اور کہانی بیان کرتے ہیں۔ ان دونوں محاذوں پر بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کے عالمی سیاست، معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں، جو دنیا بھر میں بے یقینی کی کیفیت پیدا کر رہے ہیں۔ اس مضمون میں ہم ان دونوں اہم پیش رفتوں کا تفصیلی جائزہ لیں گے اور ان کے ممکنہ اثرات کا تجزیہ کریں گے۔

موجودہ کشیدگی اور ٹرمپ کے دھمکی آمیز بیانات

امریکی سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں ایران کے حوالے سے انتہائی سخت اور جارحانہ بیانات دیے ہیں، جس سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں ایک بار پھر اضافہ ہوگیا ہے۔ 8 جولائی 2026 کو، ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ایران کے ساتھ “مفاہمتی یادداشت” ختم ہو گئی ہے، اور وہ اب ایران کے ساتھ کسی بھی قسم کے معاہدے کے خواہاں نہیں ہیں۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکہ نے 7 جولائی کی رات کو ایرانی حملوں کے جواب میں ایران کے اندر فوجی کارروائیاں کی تھیں۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے ایران کو دوبارہ فوجی حملوں کی دھمکی دی اور کہا کہ امریکہ شاید اسی رات مزید سخت حملے کر سکتا ہے۔ ان کا واضح مؤقف تھا کہ ایران کو کسی بھی صورت میں جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

9 جولائی 2026 کو، ٹرمپ نے اپنی دھمکیوں میں مزید شدت لاتے ہوئے کہا کہ اگر ایران نے امریکہ یا اس کے مفادات پر حملہ کیا تو اس کا جواب 20 گنا زیادہ طاقت سے دیا جائے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ نے فوجی محاذ پر ایران کے خلاف پہلے ہی کامیابی حاصل کر لی ہے، اور ایران کے پاس اب بہت کم وسائل بچے ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق، ایران معاہدہ کرنے کے لیے بے چین ہے، لیکن انہیں ایران کی باتوں پر بھروسہ نہیں ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران نے کچھ دیر پہلے ہی امریکہ سے معاہدے کے لیے رابطہ کیا ہے، مگر انہوں نے اس بات پر بھی شک ظاہر کیا کہ آیا ایران معاہدے کی پاسداری کرے گا یا نہیں۔

امریکی حکام نے ایران پر آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کا الزام لگایا ہے، اور کہا ہے کہ یہ حالیہ حملے اسی کے ردعمل میں کیے گئے ہیں۔ امریکی نائب صدر نے بھی آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی کوشش کی صورت میں ایران کے خلاف جوابی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔ ان بیانات کے ردعمل میں، ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ ٹرمپ کے حالیہ بیانات واشنگٹن کی ایران کے حوالے سے پالیسی کی ناکامی کا اعتراف ہیں۔ ایرانی وزارت خارجہ نے یہ بھی واضح کیا کہ قطر اور پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کے باوجود امریکہ کے ساتھ ابھی تک کسی معاہدے کو حتمی شکل نہیں دی گئی ہے۔ ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس کے خلاف مزید حملے ہوئے تو وہ آبنائے ہرمز کو بند کر دے گا، جو عالمی تیل کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے۔

امریکہ-ایران تعلقات کا تاریخی پس منظر اور پیچیدگیاں

امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدہ تعلقات کی جڑیں کئی دہائیوں پرانی ہیں اور یہ تاریخ اتار چڑھاؤ سے بھرپور ہے۔ 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد سے دونوں ممالک کے تعلقات کبھی بھی خوشگوار نہیں رہے۔ اسلامی انقلاب سے قبل، شاہ ایران کو مشرق وسطیٰ میں امریکہ کا اتحادی سمجھا جاتا تھا، جس کا کام امریکی اور برطانوی مفادات کا تحفظ کرنا تھا۔ تاہم، انقلاب کے بعد ایران نے امریکہ کو “شیطانِ بزرگ” قرار دیا اور امریکی سفارت خانے پر قبضہ کر کے 52 امریکی شہریوں کو یرغمال بنا لیا گیا، جس کے بعد امریکہ نے ایران سے سفارتی تعلقات منقطع کر دیے اور ایرانی اثاثے منجمد کر دیے۔

اس کے بعد سے، دونوں ممالک براہ راست محاذ آرائیوں، سفارتی واقعات اور مشرق وسطیٰ میں پراکسی جنگوں میں ملوث رہے ہیں، جس کی وجہ سے ان کے تعلقات کو “بین الاقوامی بحران” سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ امریکہ نے اکثر ایران پر دہشت گردی کی سرپرستی کا الزام لگایا ہے۔ حالیہ کشیدگی میں، جون 2025 میں امریکہ نے ایران کی اہم جوہری تنصیبات کو براہ راست فضائی حملوں کا نشانہ بنایا، جو 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد پہلا موقع تھا جب امریکہ نے ایران کی سرزمین پر براہ راست فوجی قوت استعمال کی۔ اس حملے کو ایران نے “غیر قانونی اور مجرمانہ” قرار دیا اور خبردار کیا کہ اس کے “دیرپا نتائج” ہوں گے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے دور صدارت میں امریکہ-ایران تعلقات میں مزید بگاڑ آیا، جب امریکہ نے ایران جوہری معاہدے سے یکطرفہ طور پر علیحدگی اختیار کی اور ایران پر سخت ترین پابندیاں دوبارہ عائد کیں۔ مارچ 2026 میں ایسی اطلاعات بھی تھیں کہ ٹرمپ نے ایران پر منصوبہ بندی کیے گئے حملے منسوخ کر دیے تھے اور اعلیٰ سطحی مذاکرات کے بعد ممکنہ معاہدے کی طرف اشارہ دیا تھا۔ اس وقت، ٹرمپ نے ایک “ایرانی تحفے” کا بھی ذکر کیا تھا، جو دراصل آبنائے ہرمز سے تیل بردار جہازوں کو گزرنے کی ایران کی اجازت تھی، جس سے عالمی تیل کی ترسیل بحال ہوئی تھی۔ تاہم، یہ مفاہمت زیادہ دیر پا ثابت نہ ہو سکی اور موجودہ صورتحال پھر سے کشیدہ ہو چکی ہے۔

روس-یوکرین جنگ: امن کی امید اور میدان جنگ کی حقیقت

روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ، جو 24 فروری 2022 کو شروع ہوئی تھی، اس وقت ایک اہم موڑ پر ہے۔ روس نے حال ہی میں یوکرین کے شہر کوستیان تینیوکا پر مکمل قبضے کا دعویٰ کیا ہے، جسے صدر ولادیمیر پیوٹن نے پورے ڈونئیسک ریجن پر کنٹرول حاصل کرنے کی جانب ایک “اہم کلیدی قدم” قرار دیا ہے۔ انہوں نے یوکرین میں روسی حملوں میں مزید شدت لانے کی ہدایت کی ہے اور یوکرینی دستوں میں لڑنے والے غیر ملکی جنگجوؤں کی تعداد کا پتا لگانے پر زور دیا ہے۔ صدر پیوٹن نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اگر یوکرین روسی انفراسٹرکچر پر حملے کرے گا تو روس اپنے سیکیورٹی زون کو مزید وسعت دیتا چلا جائے گا۔

دوسری جانب، اقوام متحدہ کی رپورٹس کے مطابق، جولائی 2026 میں روسی حملوں میں شدت آئی ہے، جس سے شہری ہلاکتوں اور شہری املاک کے نقصان میں اضافہ ہوا ہے۔ خاص طور پر، کیئو میں ہونے والے حملوں میں 18 افراد ہلاک اور 90 سے زائد زخمی ہوئے ہیں، اور اسے دارالحکومت پر اب تک کا سب سے بڑا حملہ قرار دیا گیا ہے۔ اگست 2025 میں اقوام متحدہ نے خبردار کیا تھا کہ شہریوں پر بڑھتے ہوئے روسی حملے پائیدار امن معاہدے کی سفارتی کوششوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے مارچ 2025 میں جنگ بندی کی کوششوں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ روس جنگ کے خاتمے سے قبل اپنی جنگی پوزیشن کو مضبوط کرنا چاہتا ہے۔

عالمی تنازعات کے اہم پہلو (جولائی 2026)امریکہ-ایران کشیدگیروس-یوکرین جنگ
مرکزی کردارڈونلڈ ٹرمپ (امریکی سابق صدر)، ایران کی قیادتولادیمیر پیوٹن (روسی صدر)، ولادیمیر زیلنسکی (یوکرینی صدر)
حالیہ اہم بیانات/واقعاتٹرمپ کا ایران پر مزید حملوں کا عندیہ، آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں کا الزام، 20 گنا طاقت سے جواب کی دھمکی۔روس کا کوستیان تینیوکا پر قبضے کا دعویٰ، یوکرین پر حملوں میں شدت کی ہدایت، روس کا جنگ بندی کا عزم۔
اہم مطالبات/مؤقفایران کو جوہری ہتھیاروں سے روکنا، امریکی مفادات کا تحفظ، ایران سے معاہدے کی شرط پر عدم اعتماد۔سیاسی و سفارتی حل، روس کے بنیادی مؤقف (جیسے ڈونباس پر کنٹرول) کا لحاظ، یوکرین کا جنگی پوزیشن مضبوط کرنے کا الزام۔
عالمی ردعملایرانی حکام کی جانب سے ٹرمپ کے بیانات کو امریکی پالیسی کی ناکامی قرار دینا، آبنائے ہرمز بند کرنے کی ایران کی دھمکی۔اقوام متحدہ کی جانب سے سفارتی کوششوں پر زور، شہری ہلاکتوں میں اضافے پر تشویش، ٹرمپ کی جانب سے ثالثی کی پیشکش۔

سفارتی کوششیں اور عالمی طاقتوں کا کردار

ان تمام تر کشیدگی کے باوجود، دونوں تنازعات میں سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔ 5 جولائی 2026 کو، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان تقریباً 90 منٹ تک ٹیلی فونک گفتگو ہوئی، جس میں ٹرمپ نے یوکرین جنگ کے حل میں مدد کی پیشکش کی۔ روسی وزارت خارجہ کے مطابق، ماسکو نے ایک بار پھر اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ یوکرین تنازع کا حل سیاسی اور سفارتی ذرائع سے ہی نکالا جانا چاہیے، لیکن اس میں روس کے بنیادی مؤقف کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ صدر پیوٹن نے یہ بھی اشارہ دیا ہے کہ یوکرین تنازع اپنے منطقی انجام کی جانب بڑھ رہا ہے اور جنگ کے خاتمے کے امکانات پیدا ہو رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یوکرینی صدر زیلنسکی بھی دیرپا امن معاہدہ طے پانے کے بعد آمنے سامنے ملاقات کے لیے تیار ہیں۔ ٹرمپ نے 6 جولائی 2026 کو یہ دعویٰ بھی کیا کہ روس-یوکرین جنگ کے خاتمے کی جانب اہم پیش رفت ہوئی ہے اور امن معاہدہ لوگوں کی توقعات سے کہیں زیادہ قریب ہے۔

اقوام متحدہ نے بھی عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ یوکرین کی جنگ کو ختم کرانے کے لیے ہر سفارتی ذریعہ بروئے کار لائے، اور اس جنگ کو “اجتماعی انسانی ضمیر پر ایک دھبہ” قرار دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق، چار سال میں 15 ہزار سے زیادہ شہری ہلاک اور لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ دوسری جانب، ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے قطر اور پاکستان جیسے ممالک ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ تاہم، ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے ٹرمپ کے حالیہ بیانات کو امریکی پالیسی کی ناکامی کا اعتراف قرار دیا ہے۔ ان حالات میں، عالمی طاقتوں، بشمول چین اور یورپی یونین، کا کردار انتہائی اہم ہو جاتا ہے تاکہ ان تنازعات کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکے اور دیرپا امن کی راہ ہموار کی جا سکے۔ ڈان نیوز کی ایک رپورٹ امریکہ اور ایران کے تعلقات کی گہرائیوں کو سمجھنے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔

ٹرمپ کا جنگ بندی کے 'خاتمے' کا اعلان: امریکہ اور ایران کے ایک دوسرے پر نئے حملوں کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟ - BBC News اردو

عالمی معیشت پر تنازعات کے اثرات: تیل کی منڈی اور تجارت

امریکہ-ایران کشیدگی اور روس-یوکرین جنگ دونوں کے ہی عالمی معیشت پر گہرے اور منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ خاص طور پر، تیل کی عالمی منڈی ان تنازعات سے براہ راست متاثر ہوتی ہے۔ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی بندش کے خدشات نے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ کیا ہے۔ 9 جولائی 2026 کو، مشرق وسطیٰ میں شدید کشیدگی کے باعث بین الاقوامی مارکیٹوں میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ معاشی ماہرین کے مطابق، مشرق وسطیٰ کے حالات اور تیل کی سپلائی معطل ہونے کے خدشات کی وجہ سے عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ کا امکان ہے۔ مارچ 2026 میں، برینٹ کروڈ کی قیمت تقریباً 10 فیصد اضافے کے ساتھ 82 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی تھی، اور ماہرین کا کہنا ہے کہ طویل تنازع کی صورت میں تیل 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر سکتا ہے۔

آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور گیس کی سپلائی ہوتی ہے، کی بندش کی دھمکی ایران کی جانب سے ایک سنگین معاشی ہتھیار ہے۔ اگر یہ آبنائے بند ہو جاتی ہے تو عالمی توانائی بحران پیدا ہو سکتا ہے، جس کے دنیا بھر کی معیشتوں پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔ اس کے علاوہ، روس-یوکرین جنگ نے بھی عالمی سپلائی چینز کو متاثر کیا ہے اور اجناس کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے۔ روس اور یوکرین دونوں ہی گندم اور دیگر زرعی اجناس کے بڑے برآمد کنندگان ہیں، اور جنگ نے ان کی برآمدات کو شدید متاثر کیا ہے، جس سے عالمی سطح پر غذائی قلت اور مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے۔

جنگ کی وجہ سے دنیا میں افراط زر بڑھ رہا ہے، اور ترقی پذیر ممالک خاص طور پر اس سے متاثر ہو رہے ہیں۔ تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافے سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھتے ہیں، جس کا براہ راست اثر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر پڑتا ہے۔ پاکستان جیسے ممالک میں، جہاں معیشت پہلے ہی دباؤ کا شکار ہے، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور سپلائی چین میں رکاوٹیں مہنگائی کو مزید بڑھا دیتی ہیں اور عوام کو براہ راست متاثر کرتی ہیں۔ جنگیں نہ صرف انسانی جانوں کا ضیاع کرتی ہیں بلکہ طویل مدتی معاشی عدم استحکام اور بدحالی کا بھی سبب بنتی ہیں۔

مستقبل کے امکانات اور علاقائی توازن

مستقبل میں امریکہ-ایران تعلقات اور روس-یوکرین جنگ کا رخ کیا ہوگا، اس بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔ امریکہ-ایران کشیدگی کے حوالے سے، ٹرمپ کے بیانات مشرق وسطیٰ میں مزید غیر یقینی صورتحال پیدا کر رہے ہیں۔ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز بند کرنے کی دھمکی ایک سنگین صورتحال کو جنم دے سکتی ہے۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا امریکہ اور ایران کے درمیان کوئی سفارتی پیش رفت ہوگی، یا کشیدگی مزید بڑھ جائے گی۔ اس سے قبل جون 2026 میں امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت (اسلام آباد میمورنڈم آف انڈرسٹینڈنگ) پر دستخط ہوئے تھے، جس کا مقصد جنگی کشیدگی کو ختم کرنا تھا۔ تاہم، حالیہ بیانات کے بعد اس معاہدے کی حیثیت واضح نہیں ہے۔

روس-یوکرین جنگ کے حوالے سے، اگرچہ روسی صدر پیوٹن نے امن کی امید ظاہر کی ہے اور ٹرمپ نے ثالثی کی پیشکش کی ہے، لیکن زمینی حقائق اور روسی حملوں میں شدت سفارتی حل کو پیچیدہ بنا رہی ہے۔ یوکرینی صدر زیلنسکی کے خدشات کہ روس جنگ بندی سے پہلے اپنی پوزیشن مضبوط کرنا چاہتا ہے، امن کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہیں۔ اس تنازع کا عالمی سطح پر گہرا اثر پڑ رہا ہے اور عالمی طاقتیں، بالخصوص اقوام متحدہ، اس کے حل کے لیے کوشاں ہیں۔

علاقائی توازن کے لحاظ سے، مشرق وسطیٰ اور مشرقی یورپ دونوں میں کشیدگی سے نہ صرف ان علاقوں بلکہ عالمی سطح پر عدم استحکام کا خدشہ ہے۔ تیل کی عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور سپلائی چین کی رکاوٹیں عالمی معیشت کے لیے ایک مستقل خطرہ بن چکی ہیں۔ عالمی طاقتوں کو ایک مشترکہ حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے تاکہ ان تنازعات کو سفارتی طریقے سے حل کیا جا سکے اور پائیدار امن کی بنیاد رکھی جا سکے۔ اس کے بغیر، عالمی امن اور استحکام مسلسل خطرے میں رہیں گے۔

نتیجہ

امریکی سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر مزید حملوں کا عندیہ اور روس کا یوکرین جنگ ختم کرانے کے عزم کا اعادہ عالمی منظرنامے پر دو انتہائی اہم اور تشویشناک پیش رفتیں ہیں۔ ایک طرف، مشرق وسطیٰ میں امریکہ-ایران کشیدگی ایک بار پھر خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے، جس سے خطے میں مزید بدامنی اور عالمی معیشت بالخصوص تیل کی منڈی کو شدید دھچکا لگنے کا اندیشہ ہے۔ ٹرمپ کے دھمکی آمیز بیانات اور ایران کی جانب سے جوابی کارروائیوں کے اشارے ایک غیر یقینی صورتحال پیدا کر رہے ہیں۔ دوسری جانب، روس-یوکرین جنگ، باوجود سفارتی کوششوں اور روس کی جانب سے جنگ ختم کرنے کے اعادے کے، میدان جنگ میں شدت اختیار کر رہی ہے، جس کے انسانی اور معاشی اثرات انتہائی تباہ کن ہیں۔ ان دونوں تنازعات کو عالمی امن کے لیے سنگین خطرات کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ عالمی برادری، بشمول اقوام متحدہ اور دیگر بڑی طاقتیں، کو ان مسائل کے حل کے لیے مزید مؤثر اور مربوط کوششیں کرنی ہوں گی تاکہ خطوں میں استحکام اور عالمی امن کو یقینی بنایا جا سکے۔ بصورت دیگر، ان تنازعات کے طویل مدتی اثرات دنیا کے لیے مزید چیلنجز کا سبب بنیں گے۔