مقبول خبریں

یمن کا بحران فوجی نہیں بلکہ سفارتی حل کا متقاضی ہے، عباس عراقچی 2026

یمن کا بحران فوجی نہیں بلکہ سفارتی حل کا متقاضی ہے، عباس عراقچی کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ بالخصوص یمن میں جاری تنازعہ نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ کے طور پر (ماضی میں) اور اب ایک کلیدی مشیر کے طور پر، عباس عراقچی نے یمن کی صورتحال کے بارے میں ایران کے دیرینہ موقف کو دہرایا ہے کہ فوجی طاقت کے استعمال سے مسائل حل نہیں ہوسکتے، بلکہ مذاکرات اور سفارت کاری ہی پائیدار امن کی واحد راہ ہے۔ یہ بحران، جو 2014 میں حوثی باغیوں کے دارالحکومت صنعاء پر قبضے سے شروع ہوا تھا، اب ایک پیچیدہ شکل اختیار کر چکا ہے جس میں کئی علاقائی اور بین الاقوامی فریق شامل ہیں۔ یہ تنازعہ لاکھوں یمنیوں کے لیے شدید مصائب کا باعث بن چکا ہے، جہاں بنیادی خدمات کا فقدان، غذائی قلت اور بیماریوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے۔ عالمی برادری کی جانب سے مسلسل جنگ بندی اور امن مذاکرات کی کوششوں کے باوجود، یمن اب بھی ایک دلدل میں پھنسا ہوا ہے جہاں سیاسی حل کی تلاش اب پہلے سے کہیں زیادہ ضروری نظر آتی ہے۔

یمن میں انسانی المیہ: اعداد و شمار کی روشنی میں

یمن کا بحران محض ایک سیاسی یا فوجی تنازعہ نہیں، بلکہ ایک وسیع انسانی المیہ ہے جس نے لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کو اجیرن کر دیا ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹس کے مطابق، یمن دنیا کے بدترین انسانی بحرانوں میں سے ایک کا سامنا کر رہا ہے، جہاں تقریباً 80 فیصد آبادی کو انسانی امداد کی ضرورت ہے۔ ایک اندازے کے مطابق، ایک کروڑ 70 لاکھ افراد شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں، جبکہ 35 لاکھ افراد کو شدید غذائی قلت کا سامنا ہے۔ اس صورتحال کی وجہ سے بچوں میں بھوک اور بیماری کے باعث ہلاکتوں کی شرح میں اضافہ ہوا ہے، اور خدشہ ہے کہ آئندہ ایک سال میں اموات اور بیماریوں میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہو سکتا ہے۔

  • بھوک اور غذائی قلت: لاکھوں یمنی بچے اور بڑے فاقہ کشی کے دہانے پر ہیں، جہاں خوراک کی فراہمی میں شدید رکاوٹیں حائل ہیں۔
  • نقل مکانی: جنگ اور عدم تحفظ کی وجہ سے لاکھوں افراد اندرون ملک بے گھر ہو چکے ہیں، جن میں سے بیشتر کو کئی مرتبہ نقل مکانی کرنی پڑی ہے۔ یہ بے گھر افراد اکثر پناہ گزین کیمپوں میں انتہائی مشکل حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔
  • صحت کا نظام: یمن کا صحت کا نظام مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے، جس کے نتیجے میں ہیضے جیسی وبائی بیماریاں پھیل چکی ہیں۔ صاف پانی اور ادویات کی شدید قلت نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
  • بنیادی خدمات کا فقدان: تعلیم، بجلی، اور صاف پانی جیسی بنیادی خدمات تک رسائی تقریباً ناممکن ہو چکی ہے، جس سے معاشرتی ڈھانچہ تباہی کے دہانے پر ہے۔

اس انسانی بحران کا براہ راست تعلق جاری فوجی کارروائیوں اور ناکہ بندی سے ہے، جو امدادی کارکنوں کی رسائی کو مشکل بناتی ہیں اور بنیادی اشیاء کی درآمد کو روکتی ہیں۔ اس صورتحال کا حل صرف سیاسی مذاکرات اور جنگ بندی کے ذریعے ہی ممکن ہے، تاکہ یمنی عوام کو درپیش مشکلات کا خاتمہ ہو سکے۔

فوجی حل کی ناکامی: ایک تلخ حقیقت

یمن میں جاری تنازعہ نے ثابت کر دیا ہے کہ فوجی طاقت کے استعمال سے پائیدار امن حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے جاری یہ جنگ، جس میں سعودی قیادت میں اتحاد اور حوثی باغی ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں، کسی واضح فاتح کے بغیر تعطل کا شکار ہے۔ ابتدائی دنوں میں یہ توقع کی جا رہی تھی کہ فوجی مداخلت کے ذریعے یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کو بحال کیا جا سکے گا، لیکن حقیقت اس کے برعکس ثابت ہوئی۔ فوجی کارروائیوں نے نہ صرف تنازعہ کو طوالت دی ہے بلکہ انسانی جانوں کے ضیاع اور انفراسٹرکچر کی تباہی میں بھی اضافہ کیا ہے۔

ایران کے سابق وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ یمن، باب المندب اور خطے کے دیگر تنازعات کا کوئی فوجی حل موجود نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال سے مسائل حل نہیں کیے جا سکتے بلکہ سیاسی مذاکرات ہی دیرپا حل فراہم کر سکتے ہیں۔ اسی طرح، پاکستان سمیت کئی ممالک نے بھی اس موقف کی تائید کی ہے کہ یمن کے مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں اور صرف سفارت کاری اور امن روڈ میپ ہی مؤثر راستہ ہے۔ فوجی مداخلت کے نتیجے میں:

  • تنازعہ مزید پیچیدہ ہو گیا ہے، جس میں نئے فریقوں کی شمولیت سے امن کی کوششیں مزید دشوار ہو گئی ہیں۔
  • شہریوں کی ہلاکتیں اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی عروج پر ہے، جس سے لاکھوں لوگ اپنی زندگی اور روزگار سے محروم ہو چکے ہیں۔
  • علاقائی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، جس کے اثرات یمن کی سرحدوں سے نکل کر بحیرہ احمر اور وسیع تر مشرق وسطیٰ تک پھیل گئے ہیں۔
  • عالمی طاقتوں کے مفادات کے ٹکراؤ نے بھی اس تنازعہ کو مزید ہوا دی ہے، جس سے امن کے امکانات مزید دھندلے پڑ گئے ہیں۔

اس حقیقت کا ادراک اب عالمی سطح پر کیا جا رہا ہے کہ یمن کا مسئلہ ہتھیاروں سے نہیں بلکہ سیاسی مذاکرات اور سفارتی کاوشوں سے ہی حل ہو سکتا ہے۔

سفارتی حل کی ضرورت: عالمی برادری کا نقطہ نظر

یمن میں جاری تباہی اور انسانی المیہ کے پیش نظر، عالمی برادری تیزی سے اس بات پر متفق ہے کہ تنازعے کا واحد قابل عمل راستہ سفارت کاری اور مذاکرات ہیں۔ اقوام متحدہ نے یمن میں امن کی بحالی کے لیے کئی کوششیں کی ہیں، جن میں جنگ بندی کے معاہدے اور امن مذاکرات کا انعقاد شامل ہے۔ اگرچہ ان کوششوں کو بعض اوقات کامیابی ملی ہے، جیسے اپریل 2022 میں ہونے والی جنگ بندی، جو امید کی ایک کرن ثابت ہوئی، لیکن اس کے باوجود پائیدار امن کے حصول میں اب بھی کئی چیلنجز درپیش ہیں۔

  • اقوام متحدہ کا کردار: اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی ہانس گرنڈبرگ نے سلامتی کونسل کو بتایا ہے کہ یمن میں جنگ کے مذاکراتی خاتمے کی راہ ہموار کرنے والے قابل اعتماد اور جامع سیاسی عمل کے بغیر استحکام کا کوئی وجود نہیں ہو گا۔ وہ تمام فریقین پر زور دیتے ہیں کہ وہ ایک وسیع البنیاد سیاسی عمل کو دوبارہ شروع کریں۔
  • علاقائی کاوشیں: سعودی عرب اور عمان جیسے ممالک کی جانب سے بھی یمن کے تنازع کو طے کرنے کے لیے متفقہ فریم ورک کے تحت سیاسی حل کی حمایت کی جا رہی ہے۔ ثالثوں کے ذریعے ایران اور امریکہ کے درمیان بھی پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔
  • عالمی رہنماؤں کا مطالبہ: امریکہ سمیت کئی ممالک نے یمن میں پائیدار امن کے لیے مذاکرات کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے اور تمام فریقین سے تعمیری اور نیک نیتی کے ساتھ شرکت کرنے کی اپیل کی ہے۔ امریکی نمائندہ لنڈا تھامس گرین فیلڈ نے یمن میں پائیدار امن کی امید کو زندہ رکھنے کے لیے جنگ بندی کی توسیع کو ایک اہم موقع قرار دیا ہے۔
  • انسانی امداد اور معاشی بحالی: سفارتی حل نہ صرف جنگ بندی کو یقینی بنائے گا بلکہ یمن کی معیشت کی بحالی اور انسانی امداد کی فراہمی میں بھی مددگار ثابت ہوگا، جو لاکھوں یمنیوں کے لیے اشد ضروری ہے۔

ان تمام کوششوں کا مقصد یمنی قیادت میں ایک سیاسی عمل کو دوبارہ شروع کرنا ہے، جس میں خواتین، سول سوسائٹی کے رہنماؤں اور دیگر پسماندہ کمیونٹیز کے اراکین کی جانب سے بامعنی تجاویز اور مشورے شامل ہوں۔

ایران کا موقف اور علاقائی امن کی کاوشیں

ایران یمن کے بحران کے فوجی حل کو مسترد کرتے ہوئے، شروع ہی سے سیاسی اور سفارتی حل کی حمایت کرتا رہا ہے۔ عباس عراقچی نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ یمن کے ساتھ ساتھ باب المندب اور خطے کے دیگر مسائل کا کوئی فوجی حل موجود نہیں ہے، اور ان مسائل کے حل کے لیے مذاکرات ہی واحد راستہ ہیں۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ تہران کسی بھی دباؤ یا دھمکی کے سامنے نہیں جھکے گا اور خطے میں پائیدار امن کے لیے سفارتی کوششوں کو ترجیح دی جانی چاہیے۔

ایران کا موقف یہ ہے کہ یمن کی موجودہ صورتحال کو براہ راست ایران سے منسوب کرنا درست نہیں، بلکہ باب المندب میں پیدا ہونے والی کشیدگی کی وجوہات خطے کے پرانے تنازعات، علاقائی اختلافات اور مختلف فریقوں کے باہمی مسائل سے جڑی ہوئی ہیں۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے تمام متعلقہ ممالک اور فریقوں کے درمیان بات چیت کا عمل آگے بڑھانا ہو گا۔

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی یمن کے بحران کے خاتمے کے لیے پیش کیے جانے والے ہر تعمیری اقدام کا خیرمقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران یمن میں امن، سلامتی اور استحکام کی بحالی کے لیے تمام نتیجہ خیز کوششوں کی حمایت کرے گا۔ انہوں نے یمن کے محاصرے کو انسانی بحران اور یمنی عوام کی معاشی مشکلات کا سبب قرار دیا اور تمام پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔

عراقچی نے ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثوں کے ذریعے جاری رابطوں کی بھی تصدیق کی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران سفارتی حل کی تلاش میں فعال ہے۔ تاہم، ایران نے بحیرہ احمر میں امریکی فوجی اڈوں کی موجودگی کو خطے میں عدم تحفظ کا باعث قرار دیا ہے۔ ان بیانات کا مقصد ایک ایسے جامع سیاسی عمل کی حمایت کرنا ہے جو یمن کے تمام فریقین کو شامل کرے اور ملک میں پائیدار امن اور ترقی کی راہ ہموار کرے، جیسا کہ ڈان نیوز کی رپورٹس میں اکثر علاقائی سفارت کاری کے حوالے سے بات کی جاتی ہے۔

فریق/ادارہیمن بحران پر موقفسفارتی حل کی حمایتاضافی تبصرہ
ایران (عباس عراقچی)کوئی فوجی حل نہیں؛ مذاکرات واحد راستہبھرپور حمایت؛ ثالثوں کے ذریعے رابطےیمن میں صورتحال کو ایران سے منسوب کرنا غلط
اقوام متحدہدنیا کا بدترین انسانی بحران؛ جامع سیاسی عمل ناگزیرامن مذاکرات اور جنگ بندی کی مستقل کوششیںتمام فریقین پر مذاکرات کی میز پر آنے پر زور
پاکستانفوجی حل نہیں، سفارت کاری مؤثر راستہسیاسی مذاکرات اور اقوام متحدہ کے امن روڈ میپ کی حمایتیمن میں انسانی بحران پر گہری تشویش
امریکہپائیدار امن کے لیے جنگ بندی اور مذاکرات ضروریسفارتی کوششوں کی حمایت؛ حوثی حملوں کی مذمتیمنی قیادت میں سیاسی عمل پر زور

امن کی راہ میں حائل رکاوٹیں اور ممکنہ حل

یمن میں امن کے حصول کی راہ میں کئی پیچیدہ رکاوٹیں حائل ہیں جو تنازعے کو مزید گھمبیر بنا رہی ہیں۔ ان رکاوٹوں میں علاقائی حریفانہ تعلقات، بیرونی مداخلتیں اور یمنی سیاست کے اندرونی اختلافات شامل ہیں۔

  • علاقائی کشیدگی: سعودی عرب اور ایران کے درمیان دیرینہ علاقائی رقابت یمن کے تنازعے کو ایک پراکسی جنگ میں تبدیل کر چکی ہے، جہاں دونوں فریق اپنے اپنے اتحادیوں کی حمایت کر رہے ہیں۔ جب تک علاقائی سطح پر کشیدگی میں کمی نہیں آتی اور ایک دوسرے کے ساتھ اعتماد سازی کی فضا قائم نہیں ہوتی، یمن میں پائیدار امن کا حصول مشکل رہے گا۔
  • یمنی اندرونی تقسیم: یمن کے اندر بھی مختلف دھڑوں اور قبائل کے درمیان گہری تقسیم موجود ہے۔ حوثی باغیوں اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے درمیان اختلافات کے ساتھ ساتھ، جنوبی عبوری کونسل (STC) جیسے دیگر فریقین کی موجودگی نے بھی صورتحال کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ایک جامع سیاسی عمل کے لیے ضروری ہے کہ ان تمام فریقین کو مذاکرات کی میز پر لایا جائے اور انہیں ایک مشترکہ حل پر راضی کیا جائے۔
  • بیرونی مداخلتیں: یمن میں مختلف ممالک کی فوجی اور سیاسی مداخلت نے تنازعے کو مزید ہوا دی ہے۔ بعض ممالک پر حوثیوں کو ہتھیار اور فوجی مشاورت فراہم کرنے کے الزامات بھی لگائے گئے ہیں۔ اس مداخلت کے خاتمے کے بغیر یمن میں ایک خودمختار اور پائیدار حکومت کا قیام ممکن نہیں۔
  • معاشی اور انسانی بحران: معاشی زوال، بنیادی ڈھانچے کی تباہی اور انسانی بحران نے بھی امن کی کوششوں کو کمزور کیا ہے۔ جب تک یمنی عوام کو بنیادی ضروریات تک رسائی حاصل نہیں ہوتی اور ان کی معاشی حالت بہتر نہیں ہوتی، وہ امن کے بجائے بقا کی جنگ لڑتے رہیں گے۔

ممکنہ حل کے طور پر، اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کو اپنا کردار مزید مؤثر بنانا ہوگا، جس میں تمام فریقین پر دباؤ ڈالنا شامل ہے کہ وہ فوری طور پر جنگ بندی کریں اور ایک جامع مذاکراتی عمل میں شامل ہوں۔ علاقائی طاقتوں کو بھی یمن کے مسئلے کو اپنے جغرافیائی سیاسی مفادات سے الگ دیکھنا ہوگا اور یمنی عوام کے حقیقی مفادات کو ترجیح دینی ہوگی۔ ایک ایسا سیاسی روڈ میپ تیار کیا جانا چاہیے جو یمن کے تمام اسٹیک ہولڈرز کو شامل کرے اور ایک نئی، متفقہ حکومت کی تشکیل کی راہ ہموار کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ، انسانی امداد کی بلاروک ٹوک رسائی اور یمن کی تعمیر نو کے لیے طویل مدتی منصوبے بھی ضروری ہیں۔

پاکستان اور یمن بحران: سفارت کاری کی حمایت

پاکستان نے یمن کے بحران پر ہمیشہ سے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور تنازعے کے سیاسی اور سفارتی حل کی بھرپور حمایت کی ہے۔ پاکستان کا موقف واضح ہے کہ یمن میں جاری تنازعہ کا کوئی فوجی حل نہیں ہے اور تمام فریقین کو مذاکرات کی میز پر واپس آنا چاہیے۔

  • سفارت کاری پر زور: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے یمن میں امن کے خلاف یکطرفہ اقدامات کی مخالفت کرتے ہوئے تمام یمنی فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ طے شدہ اصولوں کی بنیاد پر مذاکرات کے ذریعے سیاسی حل تک پہنچنے کے لیے تعمیری اور نیک نیتی کے ساتھ شرکت کریں۔ پاکستان نے اقوام متحدہ اور خصوصی ایلچی کے فعال کردار کی بھرپور حمایت کی ہے۔
  • انسانی بحران پر تشویش: پاکستان نے یمن میں انسانی بحران کو دنیا کے شدید ترین بحرانوں میں سے ایک قرار دیا ہے، جہاں لاکھوں افراد غذائی عدم تحفظ اور قلت کا شکار ہیں۔ پاکستان نے حوثیوں کی جانب سے اقوام متحدہ اور انسانی ہمدردی کے کارکنان کی گرفتاری پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے اور ان کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
  • علاقائی امن میں کردار: پاکستان خطے میں دیرپا امن و استحکام کے لیے شراکت داروں کے ساتھ کام کرنے کے لیے ہر وقت تیار ہے اور یمن کے بحران کے حل کے لیے پرامن راستے اختیار کرنے کی حمایت کرتا ہے۔ اس نے سعودی عرب اور عمان کی جانب سے یمن کے تنازع کو طے کرنے کے لیے متفقہ فریم ورک کے تحت سیاسی حل کی حمایت کی ہے۔

پاکستان کا یہ موقف اس کی خارجہ پالیسی کے اصولوں کے مطابق ہے جو تنازعات کے پرامن حل اور اقوام عالم کے باہمی احترام پر مبنی ہے۔ یمن میں امن کی بحالی کے لیے پاکستان کا کردار ہمیشہ تعمیری اور غیر جانبدارانہ رہا ہے، جس کا مقصد یمنی عوام کو مزید تباہی سے بچانا اور خطے میں استحکام لانا ہے۔

نتیجہ

یمن کا بحران ایک کثیر الجہتی، انسانی اور سیاسی مسئلہ ہے جس کا فوجی حل ناممکن ہے۔ عباس عراقچی کا یہ بیان کہ “یمن کا بحران فوجی نہیں بلکہ سفارتی حل کا متقاضی ہے” ایک ایسی حقیقت کی عکاسی کرتا ہے جسے عالمی برادری نے اب تسلیم کر لیا ہے۔ گزشتہ ایک دہائی کی فوجی کارروائیوں نے صرف تباہی، مصائب اور علاقائی عدم استحکام میں اضافہ کیا ہے، جبکہ لاکھوں یمنی بھوک، بیماری اور بے گھری کا شکار ہیں۔

پائیدار امن کے حصول کے لیے تمام متعلقہ فریقین کو فوجی کارروائیوں کو ترک کر کے مذاکرات کی میز پر آنا ہوگا۔ اقوام متحدہ کی قیادت میں جامع سیاسی عمل، جس میں یمن کے تمام دھڑوں اور سول سوسائٹی کی نمائندگی شامل ہو، ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔ علاقائی طاقتوں کو بھی اپنے مفادات سے بالا تر ہو کر یمنی عوام کے حقوق اور ان کے مستقبل کو ترجیح دینی ہوگی۔ پاکستان سمیت کئی ممالک کی جانب سے سفارتی حل کی حمایت اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی برادری یمن میں ایک پرامن اور مستحکم مستقبل دیکھنا چاہتی ہے۔ یمن میں امن، صرف ہتھیاروں کی خاموشی ہی نہیں بلکہ ایک ایسی فضا کی تشکیل ہے جہاں انصاف، تعمیر نو اور بنیادی انسانی حقوق کا احترام ممکن ہو سکے۔