Table of Contents
کراچی کے طلبا نے حال ہی میں ایک ایسی حیرت انگیز ایجاد پیش کی ہے جو ملک میں ٹیکنالوجی کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ یہ ایجاد، ایک جدید موبائل ایپلیکیشن کی شکل میں، بڑی اور پیچیدہ عمارتوں کے اندر راستہ تلاش کرنے کے دیرینہ مسئلے کو حل کرتی ہے۔ انسٹیٹیوٹ آف بزنس مینجمنٹ (IoBM) کے باصلاحیت طلباء نے ایک Augmented Reality (AR) پر مبنی ایپ “پاتھ ورس اے آر” (PathVerse AR) تیار کی ہے جو صارفین کو عمارتوں کے اندر ان کی مطلوبہ منزل تک قدم بہ قدم رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی، جو خاص طور پر ان جگہوں کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے جہاں GPS سگنلز مؤثر طریقے سے کام نہیں کرتے، ایک نئے دور کا آغاز ہے جہاں انڈور نیویگیشن ایک آسان اور ہموار تجربہ بن جائے گی۔ پاکستان میں اس نوعیت کی ایجادات نوجوانوں کی تخلیقی صلاحیتوں اور تکنیکی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ یہ ایپ نہ صرف وقت اور توانائی بچانے میں معاون ثابت ہوگی بلکہ خاص طور پر نئے آنے والے افراد، سیاحوں اور ہنگامی خدمات کے اہلکاروں کے لیے بھی انتہائی کارآمد ثابت ہو سکتی ہے۔
عمارتوں میں راستہ تلاش کرنے کا دیرینہ مسئلہ
جدید شہروں میں بلند و بالا عمارتیں، شاپنگ مالز، ہسپتال، یونیورسٹیاں اور دفاتر کی کثیر المنزلہ عمارتیں زندگی کا ایک لازمی حصہ بن چکی ہیں۔ ان بڑی اور پیچیدہ ساختوں میں راستہ تلاش کرنا اکثر ایک چیلنج بن جاتا ہے، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو پہلی بار ان جگہوں پر آتے ہیں۔ عمارتوں کے اندر، روایتی GPS سسٹم اکثر کام نہیں کرتے کیونکہ سیٹلائٹ سگنلز دیواروں اور چھتوں سے مسدود ہو جاتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں، لوگ اکثر الجھن کا شکار ہو جاتے ہیں، اپنی منزل تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا کرتے ہیں، اور بعض اوقات تو گم بھی ہو جاتے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق، بڑی عمارتوں میں راستہ تلاش کرنے میں ناکامی کی وجہ سے نہ صرف وقت ضائع ہوتا ہے بلکہ یہ ذہنی دباؤ اور پریشانی کا باعث بھی بنتی ہے۔ ہسپتالوں میں مریضوں اور ان کے لواحقین کو کسی خاص وارڈ یا ڈاکٹر کے کمرے تک پہنچنے میں مشکل پیش آتی ہے، یونیورسٹیوں میں نئے طلباء کو اپنی کلاس رومز یا مختلف شعبہ جات تلاش کرنے میں دشواری ہوتی ہے، اور شاپنگ مالز میں لوگ اپنی مطلوبہ دکان تک پہنچنے کے لیے کئی منزلوں کی سیر کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ یہ مسئلہ اس قدر عام ہے کہ کئی بار اس کی وجہ سے اہم ملاقاتیں چھوٹ جاتی ہیں یا ہنگامی صورتحال میں بروقت مدد فراہم کرنے میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔ اس دیرینہ مسئلے کا حل ایک عرصے سے تلاش کیا جا رہا تھا، اور اب کراچی کے طلباء نے اپنی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے اس کا ایک مؤثر جواب فراہم کیا ہے۔
“پاتھ ورس اے آر” کا تعارف: کراچی کے طلباء کی جدید سوچ
انسٹیٹیوٹ آف بزنس مینجمنٹ (IoBM) کراچی کے باصلاحیت طلباء کے ایک گروپ نے اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے ایک منفرد اور جدید حل پیش کیا ہے۔ انہوں نے “پاتھ ورس اے آر” (PathVerse AR) نامی ایک موبائل ایپلیکیشن تیار کی ہے جو آگمینٹڈ ریئلٹی (AR) ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے عمارتوں کے اندر راستہ تلاش کرنے کا عمل انتہائی آسان بنا دیتی ہے۔ یہ ایپ صارفین کو ان کی مطلوبہ منزل تک قدم بہ قدم رہنمائی فراہم کرتی ہے، بالکل اسی طرح جیسے بیرونی نیویگیشن ایپس سڑکوں پر راستہ بتاتی ہیں۔ اس منصوبے کو کراچی میں منعقد ہونے والے سالانہ ٹیکنالوجی ایونٹ “ٹیک نوا” میں پیش کیا گیا، جہاں اسے شرکاء کی خصوصی توجہ حاصل ہوئی۔ اس ایپ کے ذریعے طلباء نے یہ ثابت کیا ہے کہ مقامی سطح پر بھی عالمی معیار کی ٹیکنالوجی پر مبنی حل تیار کیے جا سکتے ہیں۔ اس پروجیکٹ کے وائس پریزیڈنٹ محمد انس کے مطابق، عمارتوں کے اندر جی پی ایس سگنلز مؤثر طریقے سے کام نہیں کرتے، جس سے نئے طلباء اور وزٹرز کو اپنی منزل تک پہنچنے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ اس مسئلے کو مدنظر رکھتے ہوئے، ان کی ٹیم نے ایسی ایپ تیار کی جو اس چیلنج پر قابو پاتی ہے۔
ایپ کا طریقہ کار: آگمینٹڈ ریئلٹی اور آف لائن نیویگیشن
“پاتھ ورس اے آر” ایپ کا بنیادی کام کرنے کا طریقہ Augmented Reality (AR) اور آف لائن میپنگ سسٹمز پر مبنی ہے۔ جب کوئی صارف ایپ کھولتا ہے اور اپنی منزل کا انتخاب کرتا ہے، تو ایپ موبائل فون کے کیمرے کا استعمال کرتے ہوئے حقیقی دنیا کے ماحول پر ڈیجیٹل ہدایات اوورلے (overlay) کرتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ آپ اپنے موبائل کی سکرین پر چلتے ہوئے راستے کو براہ راست اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتے ہیں، جہاں تیر اور دیگر نشانات آپ کو بتاتے ہیں کہ کس سمت جانا ہے۔ یہ روایتی نقشوں سے کہیں زیادہ بدیہی اور آسان ہے۔
ایپ کی نمایاں خصوصیات میں درج ذیل شامل ہیں:
- آگمینٹڈ ریئلٹی گائیڈنس: صارف کے کیمرے کے ویو پر ورچوئل تیر اور نشانات ظاہر ہوتے ہیں جو انہیں منزل تک لے جاتے ہیں۔
- وائس گائیڈنس: ایپ آواز کے ذریعے بھی ہدایات فراہم کرتی ہے، تاکہ صارفین کو بار بار موبائل سکرین دیکھنے کی ضرورت نہ پڑے۔ یہ خصوصیت خاص طور پر اس وقت مفید ہے جب صارف کو اپنے آس پاس کے ماحول پر توجہ مرکوز کرنی ہو۔
- آف لائن میپنگ: “پاتھ ورس اے آر” کی ایک اور اہم خصوصیت اس کا آف لائن میپنگ سسٹم ہے، جو انٹرنیٹ یا GPS سگنل کے بغیر بھی کام کرتا ہے۔ یہ اسے ان عمارتوں کے لیے مثالی بناتا ہے جہاں وائی فائی یا موبائل سگنل کمزور ہوتے ہیں۔
- مختصر ترین راستہ: ایپ ہمیشہ صارف کو مطلوبہ مقام تک پہنچنے کا سب سے مختصر اور مؤثر راستہ فراہم کرتی ہے۔
- ریئل ٹائم ری روٹنگ: اگر صارف غلط راستہ اختیار کر لے تو ایپ فوری طور پر نئے راستے کی تجویز پیش کرتی ہے، تاکہ وہ اپنی منزل تک پہنچ سکے۔
- عمارت کی معلومات: ایپ عمارت میں موجود تمام ڈیپارٹمنٹس، دفاتر، کمروں اور دیگر اہم مقامات کی تفصیلات فراہم کرتی ہے، جس سے صارف کو اپنی مطلوبہ جگہ کا انتخاب کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔
یہ تمام خصوصیات مل کر ایک ہموار اور پریشانی سے پاک انڈور نیویگیشن کا تجربہ فراہم کرتی ہیں، جو خاص طور پر پیچیدہ اور کثیر المنزلہ عمارتوں میں انتہائی مفید ثابت ہوتی ہیں۔
“ٹیک نوا” ایونٹ اور طلباء کی جدت پسندی
“پاتھ ورس اے آر” کو کراچی میں منعقد ہونے والے سالانہ ٹیکنالوجی ایونٹ “ٹیک نوا” (Tech Nova) میں پیش کیا گیا تھا۔ یہ ایونٹ انسٹیٹیوٹ آف بزنس مینجمنٹ (IoBM) میں منعقد ہوا اور اس میں 35 سے زائد جامعات کے طلبہ نے حصہ لیا اور 45 سے زائد مختلف ٹیکنالوجی پروجیکٹس پیش کیے۔ “ٹیک نوا” ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جو نوجوانوں کو ٹیکنالوجی، تخلیقی سوچ اور عملی مہارتوں کا اظہار کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ اس ایونٹ میں صرف “پاتھ ورس اے آر” ہی نہیں بلکہ مصنوعی ذہانت، پروگرامنگ، ویب ڈیزائن اور دیگر جدید ٹیکنالوجیز سے متعلق کئی دیگر اہم اور مسئلہ حل کرنے والے منصوبے بھی پیش کیے گئے جن میں طلباء نے ایک دوسرے سے نئے آئیڈیاز کا تبادلہ کیا۔
پاکستان میں طلباء کی جانب سے اس طرح کی ایجادات کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ماضی میں بھی کراچی کے طلباء نے صحت عامہ کے شعبے میں منفرد ایجادات، جیسے اینٹی ڈپریسنٹ گوگلز اور اسمارٹ میڈیسن ڈسپنسر، پیش کی ہیں۔ اسی طرح، علی گڑھ انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے طلباء نے دل کی دھڑکن اور سانس بحال کرنے کی تربیت دینے والی ایک جدید مشین “ریسکیو ردھم، سی پی آر ٹریننگ اسسٹنٹ” بھی تیار کی ہے۔ ان تمام مثالوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانی نوجوانوں میں ٹیکنالوجی کے ذریعے معاشرتی مسائل کو حل کرنے کا گہرا جذبہ اور صلاحیت موجود ہے۔ “پاتھ ورس اے آر” اس جدت پسندی کی ایک اور درخشاں مثال ہے، جو نہ صرف تکنیکی اعتبار سے مضبوط ہے بلکہ حقیقی دنیا کے ایک اہم مسئلے کا عملی حل بھی پیش کرتی ہے۔ ایونٹ ڈائریکٹر خالد محبوب نے اس موقع پر مصنوعی ذہانت اور متعلقہ ٹیکنالوجی میں ترقی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی اور اس بات پر زور دیا کہ ایسے منصوبے تعلیم اور صنعت کے درمیان تعلق کو مزید مضبوط بنا سکتے ہیں۔
“پاتھ ورس اے آر” کے ممکنہ اثرات اور استعمال کے شعبے
“پاتھ ورس اے آر” جیسی ایپ کے معاشرتی اور عملی سطح پر وسیع مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس کے استعمال کے کئی ممکنہ شعبے ہیں، جن میں یہ انقلابی تبدیلی لا سکتی ہے:
| شعبہ | ممکنہ فوائد |
|---|---|
| تعلیمی ادارے (یونیورسٹیاں، کالجز) | نئے طلباء، اساتذہ اور مہمانوں کو کلاس رومز، لیبارٹریز، دفاتر اور لائبریریوں تک باآسانی رہنمائی۔ وقت کی بچت اور الجھن کا خاتمہ۔ |
| ہسپتال اور صحت کے مراکز | مریضوں اور ان کے لواحقین کو مختلف وارڈز، او پی ڈیز، شعبہ جات اور ڈاکٹروں کے کمروں تک فوری رسائی۔ ہنگامی صورتحال میں بروقت مدد۔ |
| شاپنگ مالز اور تفریحی مراکز | گاہکوں کو اپنی مطلوبہ دکانوں، فوڈ کورٹس، سنیما گھروں اور واش رومز تک آسان رہنمائی۔ خریداری کے تجربے کو بہتر بنانا۔ |
| سرکاری اور نجی دفاتر | زائرین کو متعلقہ دفاتر، ملاقات گاہوں اور شعبہ جات تک مؤثر طریقے سے پہنچانا۔ انتظامی کارکردگی میں بہتری۔ |
| ہوائی اڈے اور ریلوے اسٹیشن | مسافروں کو ان کے گیٹس، چیک اِن کاؤنٹرز، لاؤنجز اور دیگر سہولیات تک رہنمائی۔ سفر کو مزید ہموار بنانا۔ |
| خصوصی افراد کے لیے | نابینا افراد اور دیگر جسمانی چیلنجز کا سامنا کرنے والوں کے لیے آواز کی رہنمائی اور واضح بصری اشاروں کے ذریعے عمارتوں میں آزادانہ نقل و حرکت کو ممکن بنانا۔ |
اس ایپ کی بدولت نہ صرف افراد کی روزمرہ کی زندگی آسان ہو گی بلکہ یہ کاروباری اداروں کو بھی اپنی خدمات کو بہتر بنانے میں مدد دے گی۔ ہسپتالوں میں ہنگامی صورتحال میں قیمتی جانیں بچائی جا سکتی ہیں، اور کاروباری مراکز میں گاہکوں کا تجربہ بہتر ہو سکتا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں اسمارٹ سٹیز اور سمارٹ عمارتوں کی تعمیر میں ایک اہم جزو ثابت ہو سکتی ہے۔ خاص طور پر پاکستان جیسے ملک میں جہاں بہت سی نئی اور بڑی عمارتیں تیزی سے تعمیر ہو رہی ہیں، وہاں ایسی مقامی طور پر تیار کردہ ٹیکنالوجی کی ضرورت اور اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ یہ ایپ نہ صرف عملی مسائل کا حل پیش کرتی ہے بلکہ پاکستان کی ٹیکنالوجی کی صنعت کو بھی عالمی سطح پر نمایاں کر سکتی ہے۔
مستقبل کے عزائم اور چیلنجز
“پاتھ ورس اے آر” کے ڈویلپرز کے مستقبل کے عزائم واضح اور حوصلہ افزا ہیں۔ طلباء کے مطابق، وہ اس منصوبے کا دائرہ کار مزید وسیع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ اسے صرف جامعات تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ ہسپتالوں، شاپنگ مالز، سرکاری دفاتر اور دیگر بڑی عمارتوں میں بھی استعمال کیا جا سکے۔ یہ ایک بہت بڑا ہدف ہے جس کے حصول کے لیے کئی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
سب سے بڑا چیلنج مختلف عمارتوں کے لیے انڈور میپنگ ڈیٹا کی دستیابی اور اس کی مسلسل اپ ڈیٹ ہے۔ ہر عمارت کا اپنا ایک منفرد نقشہ اور لے آؤٹ ہوتا ہے، اور ایپ کو ہر نئی عمارت میں استعمال کرنے کے لیے اس کے تفصیلی انڈور میپس کو سسٹم میں شامل کرنا ہوگا۔ اس کے لیے وسیع پیمانے پر ڈیٹا اکٹھا کرنے، نقشے بنانے اور انہیں باقاعدگی سے اپ ڈیٹ کرنے کی ضرورت ہوگی۔ مزید برآں، AR ٹیکنالوجی کو تمام اسمارٹ فونز پر مؤثر طریقے سے چلانے کے لیے آپٹیمائزیشن اور مطابقت کو یقینی بنانا بھی ایک اہم چیلنج ہو سکتا ہے۔
فنڈنگ اور کمرشلائزیشن بھی اس منصوبے کی کامیابی کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ اس ٹیکنالوجی کو بڑے پیمانے پر لاگو کرنے کے لیے مالی وسائل کی ضرورت ہوگی، جو تحقیق و ترقی، ٹیم کی توسیع، اور مارکیٹنگ پر خرچ کیے جائیں گے۔ سرکاری اور نجی شعبے کی معاونت اس منصوبے کو حقیقت کا روپ دینے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، سیکیورٹی اور پرائیویسی کے خدشات کو دور کرنا بھی ضروری ہوگا، کیونکہ صارفین عمارتوں کے اندر اپنی نقل و حرکت کا ڈیٹا ایپ کے ساتھ شیئر کریں گے۔
ان چیلنجز کے باوجود، “پاتھ ورس اے آر” کے طلباء پرعزم ہیں اور ان کا وژن واضح ہے۔ ان کی محنت اور جدید سوچ پاکستان کو ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک نئی پہچان دلا سکتی ہے۔ اس طرح کی مقامی ایجادات کو فروغ دے کر اور انہیں عملی شکل دے کر ہی پاکستان ڈیجیٹل دور کے فوائد حاصل کر سکتا ہے اور عالمی ٹیکنالوجی کی دوڑ میں شامل ہو سکتا ہے۔ اس سلسلے میں حکومت اور صنعت دونوں کو ان نوجوان موجدین کی حوصلہ افزائی اور حمایت کرنی چاہیے تاکہ ان کے خواب حقیقت کا روپ دھار سکیں۔
مقامی جدت کا عالمی معیار
“پاتھ ورس اے آر” صرف ایک ایپلیکیشن نہیں بلکہ پاکستان کی مقامی جدت اور اس کی عالمی معیار پر کھڑا ہونے کی صلاحیت کا مظہر ہے۔ دنیا بھر میں انڈور نیویگیشن سسٹم پر کام ہو رہا ہے، لیکن کراچی کے طلباء نے Augmented Reality اور آف لائن صلاحیتوں کو یکجا کر کے ایک ایسا حل پیش کیا ہے جو کئی لحاظ سے منفرد ہے۔ یہ ایپ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی نوجوان محدود وسائل کے باوجود بھی عالمی سطح پر مسابقت کرنے والی ٹیکنالوجیز تیار کر سکتے ہیں۔
بیرونی نیویگیشن کے لیے GPS ایپس جیسے Google Maps اور Waze تو بہت عام ہیں، لیکن انڈور نیویگیشن ایک زیادہ پیچیدہ میدان ہے جہاں سیٹلائٹ سگنلز کی عدم موجودگی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے وائی فائی سگنلز، بلوٹوتھ بیکنز، اور یہاں تک کہ مقناطیسی فیلڈ سینسرز جیسی ٹیکنالوجیز پر بھی کام جاری ہے۔ تاہم، AR کو آف لائن صلاحیتوں کے ساتھ یکجا کرنا ایک ذہین نقطہ نظر ہے جو اسے خاص طور پر پاکستان جیسے ملک کے لیے عملی بناتا ہے، جہاں انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی ہمیشہ ہر جگہ دستیاب نہیں ہوتی۔
یہ ایجاد پاکستان میں ٹیکنالوجی کے ماحولیاتی نظام (ecosystem) کو مزید تقویت دیتی ہے۔ یہ دوسرے نوجوانوں کو بھی جدید مسائل کے حل کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔ اس طرح کی کامیابیوں سے نہ صرف نئے اسٹارٹ اپس کو جنم ملتا ہے بلکہ بین الاقوامی سرمایہ کاروں کی نظریں بھی پاکستانی ٹیلنٹ کی طرف مبذول ہوتی ہیں۔ ایک ملک کے طور پر، پاکستان کو اپنی اس صلاحیت کو مزید نکھارنے اور ایسے منصوبوں کو ریاستی سرپرستی اور صنعتی تعاون فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ اس طرح کی مقامی جدتیں، جو عالمی مسائل کا مقامی حل پیش کرتی ہیں، ملک کو نہ صرف خود کفیل بناتی ہیں بلکہ اسے ٹیکنالوجی برآمد کرنے والے ممالک کی صف میں بھی لا سکتی ہیں۔
اس سلسلے میں، پاکستان کے نوجوانوں کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے آئیڈیاز کو محض تصور تک محدود نہ رکھیں بلکہ انہیں عملی شکل دینے کے لیے مسلسل محنت کریں۔ حکومت اور تعلیمی اداروں کو بھی ان طلباء کو ایسے پلیٹ فارمز فراہم کرنے چاہییں جہاں وہ اپنے پروجیکٹس کو نمائش کر سکیں اور انہیں مزید ترقی دینے کے لیے سرمایہ کاری حاصل کر سکیں۔ جیسا کہ Express News کی ایک رپورٹ میں تفصیل سے بتایا گیا ہے، انڈور نیویگیشن کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے اس قسم کی ایپس جدید زندگی کی ضرورت بن چکی ہیں۔
نتیجہ
کراچی کے IoBM کے طلباء کی جانب سے “پاتھ ورس اے آر” ایپ کی تیاری پاکستان میں ٹیکنالوجی اور جدت کے ایک نئے باب کا آغاز ہے۔ یہ ایپ عمارتوں کے اندر راستہ تلاش کرنے کے ایک دیرینہ اور عام مسئلے کا ایک مؤثر اور جدید حل پیش کرتی ہے۔ Augmented Reality اور آف لائن میپنگ کے امتزاج کے ساتھ، یہ نہ صرف ایک آسان اور بدیہی نیویگیشن کا تجربہ فراہم کرتی ہے بلکہ ان جگہوں کے لیے بھی قابل استعمال ہے جہاں روایتی GPS سگنلز دستیاب نہیں ہوتے۔
اس ایجاد کے ممکنہ اثرات وسیع ہیں، جو تعلیمی اداروں، ہسپتالوں، شاپنگ مالز اور سرکاری دفاتر سمیت مختلف شعبوں میں کارکردگی اور صارف کے تجربے کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ یہ خصوصی افراد کے لیے بھی ایک اہم سہولت فراہم کرتی ہے۔ “ٹیک نوا” جیسے پلیٹ فارمز پر اس طرح کے منصوبوں کی نمائش پاکستانی نوجوانوں کی تخلیقی صلاحیتوں اور تکنیکی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اگرچہ مستقبل میں اس کے دائرہ کار کو وسعت دینے اور تجارتی پیمانے پر لاگو کرنے کے لیے چیلنجز موجود ہیں، لیکن مناسب تعاون اور وسائل کے ساتھ، “پاتھ ورس اے آر” پاکستان کی ٹیکنالوجی کی صنعت میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔ یہ مقامی جدت کا ایک روشن پہلو ہے جو عالمی معیار کی ٹیکنالوجی تیار کرنے کی پاکستانی صلاحیت کو اجاگر کرتا ہے اور ملک کو ایک ڈیجیٹل اور جدید مستقبل کی جانب گامزن کرتا ہے۔


