Table of Contents
ٹرمپ کا پھر یوٹرن عالمی سیاست میں ایک نئے موڑ کی نشاندہی کر رہا ہے جہاں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کو بہتر قرار دینے اور جوہری تنصیبات پر حملے کے ارادے کی تردید نے خطے اور عالمی طاقتوں کے درمیان تعلقات پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان طویل عرصے سے جاری کشیدگی اور فوجی محاذ آرائی نے عالمی امن کو خطرے میں ڈال رکھا تھا۔ ٹرمپ انتظامیہ نے اپنی پہلی مدت میں ایران کے ساتھ 2015 کے جوہری معاہدے سے یکطرفہ طور پر علیحدگی اختیار کی تھی اور “زیادہ سے زیادہ دباؤ” کی پالیسی اپنائی تھی، جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مزید خراب ہوئے اور بعض اوقات تو جنگ کا خطرہ سر پر منڈلاتا رہا۔ تاہم، حالیہ بیانات ایک واضح تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں، جو سفارتکاری اور مذاکرات کی طرف جھکاؤ کا اشارہ دیتے ہیں۔
ٹرمپ کی ایران پالیسی کا تاریخی پس منظر: زیادہ سے زیادہ دباؤ سے فوجی کارروائی تک
ڈونلڈ ٹرمپ نے 2018 میں ایران کے ساتھ طے پانے والے مشترکہ جامع ایکشن پلان (JCPOA) سے امریکہ کی دستبرداری کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے اس معاہدے کو “بدترین معاہدہ” قرار دیتے ہوئے یہ دعویٰ کیا تھا کہ یہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنے میں ناکام ہے۔ JCPOA سے انخلاء کے بعد، ٹرمپ انتظامیہ نے ایران پر سخت پابندیاں عائد کیں جنہیں “زیادہ سے زیادہ دباؤ” کی پالیسی کا نام دیا گیا۔ اس پالیسی کا مقصد ایران کو ایک نئے اور زیادہ جامع معاہدے پر مجبور کرنا تھا جو اس کے جوہری پروگرام کے ساتھ ساتھ اس کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور علاقائی پراکسی گروپس کی حمایت کو بھی محدود کرے۔
یہ پالیسی اگرچہ ایران کی معیشت پر شدید دباؤ ڈالنے میں کامیاب رہی، لیکن اس نے علاقائی کشیدگی کو بھی بڑھایا۔ تناؤ اس حد تک بڑھا کہ جون 2025 میں امریکہ اور اسرائیل نے ایران کی جوہری تنصیبات پر فوجی حملے کیے، جسے “آپریشن مڈنائٹ ہیمر” کا نام دیا گیا۔ ان حملوں میں ایران کی فردو، نطنز اور اصفہان میں موجود کلیدی جوہری افزودگی کی سہولیات کو نشانہ بنایا گیا، اور ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ان تنصیبات کو “مکمل طور پر تباہ” کر دیا گیا ہے۔ ان حملوں کے بعد، جو “بارہ روزہ جنگ” کا حصہ تھے، امریکی حکام نے اندازہ لگایا کہ ایران کے جوہری پروگرام کو تقریباً دو سال کا دھچکا لگا ہے۔ یہ حملے ٹرمپ کی اس سخت گیر پالیسی کا عروج تھے جس میں سفارتکاری کے بجائے فوجی طاقت کے استعمال کو ترجیح دی گئی تھی۔
تاہم، اس فوجی کارروائی کے باوجود، ایران نے اپنے جوہری پروگرام کو مکمل طور پر ترک نہیں کیا اور کشیدگی برقرار رہی۔ امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست یا بالواسطہ بات چیت کے کئی ادوار ہوئے، لیکن کوئی حتمی معاہدہ طے نہ پا سکا۔ عالمی برادری نے بھی اس کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا اور سفارتی حل پر زور دیا۔
“یوٹرن” کی حقیقت: سفارتکاری کی جانب جھکاؤ
ٹرمپ کا حالیہ “یوٹرن” اس بات کا اشارہ ہے کہ سابق صدر ایران کے حوالے سے اپنے سخت گیر موقف میں کچھ لچک دکھا رہے ہیں۔ جولائی 2026 میں انہوں نے واضح طور پر کہا کہ ایران میں حکومت کی تبدیلی نہیں بلکہ ایک معاہدہ ان کی ترجیح ہے۔ یہ بیان ایک اہم تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے، کیونکہ ماضی میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایران میں حکومت کی تبدیلی کے اشارے ملتے رہے ہیں۔
جون 2026 میں، امریکہ اور ایران کے درمیان ایک “یادداشت مفاہمت” پر دستخط کیے گئے، جو ایک مستقل جوہری معاہدے کی راہ ہموار کرنے کے لیے ایک چودہ نکاتی فریم ورک ہے۔ اس فریم ورک کے تحت، ایران نے جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے کا عہد کیا ہے، اور بدلے میں اسے پابندیوں میں نرمی اور منجمد اثاثوں کی واپسی کی پیشکش کی گئی ہے۔ ٹرمپ نے اس معاہدے کا دفاع کرتے ہوئے اسے اپنے مقاصد کا “نننانوے اعشاریہ نو فیصد” قرار دیا، حالانکہ ان کے اپنے اتحادی اس سے متفق نہیں تھے۔
مزید برآں، اپریل 2026 میں سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق، ٹرمپ ایران کے ساتھ ایک ایسے نئے جوہری معاہدے پر غور کر رہے تھے جس کے تحت ایران کو ایک دہائی کے بعد یورینیم کی افزودگی دوبارہ شروع کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ یہ پیش رفت ان کے سابقہ مطالبے سے نمایاں طور پر مختلف ہے جس میں وہ یورینیم افزودگی پر کم از کم 20 سالہ پابندی چاہتے تھے۔ یہ تمام اشارے ایک ایسی سفارتی حکمت عملی کی طرف بڑھتے ہوئے قدم ہیں جو فوجی تصادم سے بچتے ہوئے مذاکرات کے ذریعے حل تلاش کرنے کی کوشش کرتی ہے۔
مذاکرات کے دوران حملوں کو مؤخر کرنے کے بھی کئی مواقع سامنے آئے ہیں۔ جون 2026 میں، ٹرمپ نے ایران کے خلاف مجوزہ حملے مؤخر کرنے کا اعلان کیا تھا، یہ کہتے ہوئے کہ اس دن کوئی حملہ نہیں کیا جائے گا۔ اسی طرح، جولائی 2026 میں بھی آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے حوالے سے مذاکرات میں پیشرفت کے بعد، ٹرمپ نے دو ہفتے سے جاری فضائی کارروائیاں معطل کرنے کا حکم دیا تھا۔ ان اقدامات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ، اگرچہ اپنی فوجی صلاحیت کو برقرار رکھے ہوئے ہے، لیکن سفارتکاری کو ایک اور موقع دینے پر آمادہ ہے۔
جوہری تنصیبات پر حملوں کا تناظر اور ‘ارادے کی تردید’
سوال میں دی گئی یہ سطر کہ “جوہری تنصیبات پر حملے کا ارادہ نہیں” ایک پیچیدہ صورتحال کی نشاندہی کرتی ہے کیونکہ جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا، امریکہ اور اسرائیل نے جون 2025 میں ایرانی جوہری تنصیبات پر حملے کیے تھے۔ ان حملوں کو ٹرمپ نے “شاندار فوجی کامیابی” قرار دیا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ ایران کی کلیدی افزودگی کی سہولیات کو “مکمل طور پر تباہ” کر دیا گیا ہے۔
اس کے بعد بھی، ٹرمپ نے جون 2025 میں ہی یہ انتباہ دیا تھا کہ اگر ایران نے جوہری تنصیبات بحال کرنے کی کوشش کی تو دوبارہ حملہ کیا جائے گا۔ جولائی 2026 میں بھی ان کے بیانات سامنے آئے جن میں انہوں نے آبنائے ہرمز میں ایرانی حملوں کے جواب میں ایرانی پلوں یا بجلی گھروں کو تباہ کرنے کی دھمکی دی تھی۔ اسی طرح، جولائی 2026 میں ہی ٹرمپ نے “پکیکس ماؤنٹین” نامی ایک زیر زمین جوہری سہولت پر حملہ کرنے کی دھمکی دی تھی اگر ایران وہاں اپنے جوہری پروگرام کو بحال کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
اس تناظر میں، “جوہری تنصیبات پر حملے کا ارادہ نہیں” کا بیان اس حقیقت کی مکمل تردید نہیں ہو سکتا کہ ماضی میں ایسے حملے ہو چکے ہیں اور مستقبل میں بھی فوجی آپشن کو مکمل طور پر خارج از امکان قرار نہیں دیا گیا ہے۔ بلکہ، یہ بیان ایک مخصوص وقت یا مخصوص شرائط کے تحت، جیسے کہ ایک فعال مذاکراتی عمل کے دوران، حملوں کو روکنے یا ایک معاہدے کی صورت میں فوجی کارروائی سے گریز کرنے کے عزم کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ ایک طرح سے ایران پر دباؤ ڈالنے اور اسے مذاکرات کی میز پر لانے کی حکمت عملی کا حصہ ہے، جس میں فوجی طاقت کو ایک ممکنہ آپشن کے طور پر برقرار رکھا جاتا ہے لیکن فوری کارروائی سے گریز کیا جاتا ہے۔
امریکی عوام میں بھی اس جنگ کی حمایت کم ہوتی جا رہی ہے۔ جولائی 2026 کے ایک سروے کے مطابق، صرف ایک تہائی امریکی ایران کے ساتھ جاری جنگ کی حمایت کرتے ہیں، اور زیادہ تر کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے جنگ کے مقاصد کو واضح نہیں کیا۔ یہ عوامی دباؤ بھی صدر ٹرمپ کی پالیسی میں لچک پیدا کرنے کا ایک سبب ہو سکتا ہے۔
| اہم واقعہ | تاریخ | ٹرمپ کا موقف/کارروائی | اثرات |
|---|---|---|---|
| ایران جوہری معاہدے (JCPOA) سے انخلاء | 8 مئی 2018 | JCPOA کو “بدترین معاہدہ” قرار دیتے ہوئے امریکہ کی یکطرفہ علیحدگی۔ | ایران پر “زیادہ سے زیادہ دباؤ” کی پالیسی کا آغاز، پابندیوں میں اضافہ۔ |
| آپریشن مڈنائٹ ہیمر (جوہری تنصیبات پر حملے) | جون 22، 2025 | ایران کی فردو، نطنز اور اصفہان کی جوہری تنصیبات پر امریکی فضائی حملے۔ ٹرمپ نے “شاندار فوجی کامیابی” اور تنصیبات کی “مکمل تباہی” کا دعویٰ کیا۔ | علاقائی کشیدگی میں شدید اضافہ، ایران کے جوہری پروگرام کو 2 سال کا دھچکا۔ |
| ایران جوہری تنصیبات کی بحالی پر دوبارہ حملے کی دھمکی | جون 25، 2025 | ٹرمپ نے انتباہ کیا کہ اگر ایران نے جوہری تنصیبات بحال کرنے کی کوشش کی تو دوبارہ حملہ کیا جائے گا۔ | ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کی کوشش، جنگ کا خطرہ برقرار۔ |
| یادداشت مفاہمت پر دستخط | جون 2026 | امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری معاہدے کے لیے 14 نکاتی فریم ورک۔ ایران جوہری ہتھیار نہ بنانے کا وعدہ، پابندیوں میں نرمی۔ | سفارتکاری کی جانب جھکاؤ، مکمل جنگ سے گریز کی کوشش۔ |
| حملے مؤخر کرنے کا اعلان | جون 11، 2026 | ایران کے خلاف مجوزہ حملے مؤخر کرنے کا اعلان، مذاکرات کے لیے راستہ ہموار کیا۔ | مذاکرات کے لیے خیر سگالی کا اشارہ۔ |
| جوہری افزودگی پر نرمی کا امکان | اپریل 21، 2026 | ٹرمپ نے ایک دہائی بعد یورینیم افزودگی کی اجازت دینے والے نئے معاہدے پر غور کیا۔ | سابقہ سخت گیر موقف میں لچک۔ |
| جوہری تنصیبات پر نئے حملوں کی تیاری (پکیکس ماؤنٹین) | جولائی 23، 2026 | ٹرمپ نے “پکیکس ماؤنٹین” جوہری سہولت پر حملے کی دھمکی دی۔ | سفارتکاری کے ساتھ فوجی آپشن برقرار رکھنے کی دوغلی پالیسی۔ |
| آبنائے ہرمز میں حملے پر ایران کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکی | جولائی 23، 2026 | ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں کسی بھی حملے کے جواب میں ایران کے پلوں یا بجلی گھروں کو تباہ کرنے کی دھمکی دی۔ | فوجی دباؤ کو برقرار رکھنے کی حکمت عملی۔ |
| ایران میں حکومت کی تبدیلی نہیں، معاہدہ ترجیح | جولائی 06، 2026 | ٹرمپ نے کہا کہ ایران میں حکومت کی تبدیلی نہیں بلکہ معاہدہ ان کی ترجیح ہے۔ | سابقہ حکومت کی تبدیلی کی پالیسی سے انحراف۔ |
نئے معاہدے کے خد و خال اور ماضی سے تقابل
ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایران کے ساتھ نئے “یادداشت مفاہمت” (Memorandum of Understanding) کے تحت کئی نکات شامل ہیں جو ماضی کے JCPOA سے مختلف ہو سکتے ہیں، یا ٹرمپ انتظامیہ انہیں JCPOA سے بہتر قرار دے رہی ہے۔ اس فریم ورک کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے کا عہد کرتا ہے۔ یہ وہ بنیادی شرط ہے جس پر امریکہ ہمیشہ زور دیتا رہا ہے۔ اس کے بدلے میں ایران کو پابندیوں میں نرمی اور منجمد اثاثوں کی واپسی کی پیشکش کی جائے گی۔
ایک قابل ذکر تبدیلی یہ ہے کہ ٹرمپ نے بیلسٹک میزائل پروگرام کے حوالے سے اپنے موقف میں نرمی دکھائی ہے۔ جون 2026 میں، G7 سمٹ کے موقع پر انہوں نے کہا کہ بیلسٹک میزائل “وہ مسئلہ نہیں ہیں” جو جوہری ہتھیاروں کی سطح کا ہو۔ انہوں نے کہا کہ “میزائل سیارے کو نہیں اڑاتے” (جیسا کہ جوہری ہتھیار کرتے ہیں)۔ یہ بیان اسرائیل کے دیرینہ مطالبے کے برعکس ہے جو ایران کے میزائل پروگرام کو بھی ختم کرنا چاہتا ہے۔ ٹرمپ کے اس موقف نے بین الاقوامی برادری کو حیران کیا ہے اور اسے ایک اہم “یوٹرن” کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ ماضی میں ٹرمپ نے JCPOA کو اس کی ناکافی میزائل پابندیوں کی وجہ سے بھی تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

نئے فریم ورک میں یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ ایران کو اپنی یورینیم افزودگی کو محدود کرنا پڑے گا، اور اس کے ذخیرہ شدہ افزودہ مواد کے انتظام پر آئندہ 60 دنوں میں تکنیکی مذاکرات ہوں گے۔ JCPOA کے تحت، ایران کو یورینیم افزودگی کی سطح 3.67% تک محدود کرنی تھی اور اس کے ذخیرے کو کم کرنا تھا۔ ٹرمپ انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ نیا معاہدہ JCPOA سے بہتر ہے کیونکہ اس میں فوجی آپشن کو برقرار رکھا جائے گا، جو ان کے بقول JCPOA میں موجود نہیں تھا۔ تاہم، JCPOA میں بھی ایران نے واضح طور پر جوہری ہتھیاروں کے حصول سے انکار کیا تھا۔
اس تمام صورتحال کو مزید بہتر طور پر سمجھنے کے لیے ڈان نیوز کی رپورٹ دیکھنا مفید ہو سکتا ہے جو ٹرمپ کی ایران پالیسی میں اس تبدیلی پر روشنی ڈالتی ہے۔
علاقائی اور عالمی ردعمل: استحکام یا نئی کشیدگی؟
ٹرمپ کی ایران پالیسی میں اس “یوٹرن” پر علاقائی اور عالمی سطح پر ملا جلا ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ جہاں ایک طرف سفارتکاری کی جانب کسی بھی پیشرفت کو خوش آئند سمجھا جا رہا ہے، وہیں دوسری طرف بعض حلقوں میں تشویش بھی پائی جاتی ہے۔
- اسرائیل: اسرائیل نے، خاص طور پر وزیراعظم نیتن یاہو کی قیادت میں، ہمیشہ ایران کے جوہری پروگرام اور اس کے علاقائی اثر و رسوخ کے خلاف سخت موقف اپنایا ہے۔ ٹرمپ کا بیلسٹک میزائلوں کے حوالے سے نرم رویہ اسرائیل کے لیے تشویش کا باعث بن سکتا ہے، جو ایران کے میزائلوں کو اپنی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ سمجھتا ہے۔ اسرائیل امریکہ کی جانب سے ایران پر کسی بھی قسم کے حملے میں کلیدی کردار ادا کرتا رہا ہے اور 2025 کے حملوں میں بھی اسرائیلی حملے شامل تھے۔
- خلیجی ممالک: سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک بھی ایران کے علاقائی عزائم پر گہری تشویش رکھتے ہیں۔ امریکہ کا ایران کے ساتھ معاہدے کی طرف جھکاؤ ان ممالک کے لیے غیر یقینی صورتحال پیدا کر سکتا ہے، جو خطے میں امریکہ کو ایران کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے خلاف ایک مضبوط ڈھال کے طور پر دیکھتے ہیں۔
- یورپی یونین: یورپی ممالک، جو JCPOA کے حامی تھے اور اسے بچانے کی کوشش کرتے رہے ہیں، امریکہ کی سفارتکاری کی جانب واپسی کو مثبت قرار دے سکتے ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ بات چیت کے ذریعے حل تلاش کرنے پر زور دیا ہے۔
- ایران: ایران کی جانب سے ان پیشرفتوں پر محتاط ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ اگرچہ وہ مذاکرات کی بات کرتے رہے ہیں، لیکن وہ امریکی دباؤ کے سامنے جھکنے پر بھی تیار نہیں ہیں۔ جولائی 2026 میں ایرانی حکام کی جانب سے امریکی دباؤ کی پالیسی کی ناکامی کا دعویٰ کیا گیا تھا، اور جوہری ہتھیاروں کی تیاری پر سخت گیر مطالبات بھی سامنے آئے تھے۔
جولائی 2026 کے ایک سروے کے مطابق، امریکی عوام میں بھی ایران جنگ کی حمایت صرف 33 فیصد تک گر گئی ہے، اور 69 فیصد کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے جنگ کے مقاصد واضح نہیں کیے ہیں۔ یہ داخلی دباؤ بھی ٹرمپ کو سفارتکاری کی جانب راغب کر رہا ہے۔
مستقبل کے امکانات اور چیلنجز
ٹرمپ کی ایران پالیسی میں یہ “یوٹرن” خطے کے مستقبل کے لیے کئی امکانات اور چیلنجز لے کر آیا ہے۔
- معاہدے کی کامیابی: اگر امریکہ اور ایران کے درمیان ایک جامع اور قابل عمل معاہدہ طے پا جاتا ہے، تو یہ خطے میں کشیدگی کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے اور ایک نئے دور کا آغاز کر سکتا ہے۔ یہ ایران کے جوہری پروگرام کو پُرامن مقاصد تک محدود رکھنے اور اسے جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے لیے ایک ٹھوس بنیاد فراہم کر سکتا ہے۔ ٹرمپ خود بھی فروری 2026 میں کہہ چکے ہیں کہ “ہمیں ایک معاہدہ کرنا ہوگا، ورنہ ایران کے لیے صورتحال نہایت سنگین اور بہت تکلیف دہ ہوگی۔”
- بڑھتی ہوئی کشیدگی کا خطرہ: دوسری جانب، اگر مذاکرات ناکام ہو جاتے ہیں، تو فوجی تصادم کا خطرہ دوبارہ بڑھ سکتا ہے۔ ٹرمپ کے حالیہ دھمکی آمیز بیانات، جیسے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی حملے کے جواب میں ایرانی بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکی، یہ ظاہر کرتی ہے کہ فوجی آپشن کو ابھی بھی ایک اہم ہتھیار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
- علاقائی استحکام: خطے کے دیگر ممالک، خاص طور پر اسرائیل اور سعودی عرب، اس معاہدے کے نتائج سے براہ راست متاثر ہوں گے۔ ان کے خدشات کو دور کرنا اور خطے میں ایک وسیع تر سلامتی کا ڈھانچہ تیار کرنا ایک بڑا چیلنج ہو گا۔
- داخلی سیاست: امریکہ میں بھی ٹرمپ کی ایران پالیسی پر داخلی سیاسی بحث جاری رہے گی۔ ریپبلکن پارٹی کے اندر بھی ایران کے حوالے سے مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔
اس وقت صورتحال انتہائی نازک ہے اور ہر قدم کے دور رس نتائج ہو سکتے ہیں۔ ٹرمپ کا یہ “یوٹرن” ایک نئے، غیر متوقع مگر ممکنہ طور پر زیادہ مستحکم راستے کی جانب اشارہ ہو سکتا ہے، بشرطیکہ دونوں فریقین حقیقی سفارتکاری کے ذریعے ایک پائیدار حل تلاش کرنے میں کامیاب ہو جائیں۔
نتیجہ
ٹرمپ کا ایران پالیسی میں ایک بار پھر “یوٹرن” عالمی سیاست کا ایک اہم موڑ ہے۔ ماضی کی سخت گیر “زیادہ سے زیادہ دباؤ” کی پالیسی اور جوہری تنصیبات پر فوجی حملوں کے بعد، اب ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایک معاہدے کی خواہش کا اظہار اور جوہری حملوں کے ارادے کی مشروط تردید ایک نئی سفارتی کوشش کا آغاز ہے۔ اگرچہ یہ صورتحال کئی خدشات اور چیلنجز سے دوچار ہے، خاص طور پر ایران کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کی خواہشات اور بیلسٹک میزائل پروگرام کے حوالے سے، لیکن سفارتکاری کی جانب یہ جھکاؤ عالمی امن کے لیے ایک امید افزا قدم ہو سکتا ہے۔ حتمی کامیابی کا انحصار دونوں فریقین کی لچک، اعتماد سازی اور ایک پائیدار معاہدے تک پہنچنے کی خواہش پر ہو گا۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ایران کے ساتھ ایک بہتر معاہدہ فوجی تصادم سے کہیں زیادہ بہتر راستہ ہے۔


