مقبول خبریں

ایران کا بحرِہند میں امریکی جنگی جہاز کو کروز میزائل سے نشانہ بنانے کا دعویٰ 2026

ایران کا بحرِہند میں امریکی جنگی جہاز کو کروز میزائل سے نشانہ بنانے کا دعویٰ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے، اور دونوں ممالک کے درمیان عسکری تصادم کے خدشات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ 17 اور 18 جولائی 2026 کو سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق، ایرانی فوج نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ اس نے شمالی بحرِ ہند میں موجود ایک امریکی بحری جہاز کو کروز میزائل کے ذریعے نشانہ بنایا ہے۔ تاہم، اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تاحال تصدیق نہیں ہو سکی ہے، جس کی وجہ سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔ یہ دعویٰ امریکہ کی جانب سے ایران پر مسلسل ساتویں رات بمباری کے بعد سامنے آیا ہے، جس کے نتیجے میں خطے میں ایک نئی جنگ کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

بحرِ ہند میں ایرانی دعوے کی تفصیلات

ایران کی فوج اور پاسدارانِ انقلاب کے ذرائع نے 17 اور 18 جولائی 2026 کو یہ دعویٰ کیا کہ انہوں نے شمالی بحرِ ہند میں ایک امریکی جنگی جہاز کو کروز میزائل سے نشانہ بنایا ہے۔ یہ دعویٰ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا جب خطے میں امریکہ اور ایران کے درمیان تناؤ اپنی انتہا کو پہنچ چکا تھا۔ ایرانی میڈیا نے رپورٹس جاری کیں جن میں کہا گیا کہ ایرانی فوج نے امریکی حملوں کے جواب میں یہ کارروائی کی ہے۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق، فوج نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے اپنی کارروائیاں جاری رکھیں تو اس کا بھرپور اور مؤثر جواب دیا جائے گا۔ اسی طرح، ٹی وی ون یو ایس اے نے ایک اعلیٰ فوجی ذریعے کے حوالے سے تصدیق کی کہ یہ کارروائی واشنگٹن کی جانب سے بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی شروع کرنے کے اعلان کے فوراً بعد کی گئی ہے۔

مختلف خبر رساں اداروں نے اس دعوے کو نمایاں کوریج دی ہے، جس سے خطے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ روزنامہ دنیا اور ڈیلی جنگ نے بھی فوج کے اس دعوے کو اپنی شہ سرخیوں میں شامل کیا ہے، جس کے مطابق فوج نے شمالی بحرِ ہند میں امریکی بحری جہاز پر کروز میزائل سے حملے کا دعویٰ کیا ہے۔ پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس حملے کے بعد خطے میں جنگ کے بادل مزید گہرے ہو گئے ہیں۔ تاہم، ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے، جس کے باعث عالمی مبصرین کے درمیان یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا یہ حملہ واقعی ہوا ہے یا یہ محض ایران کی جانب سے ایک نفسیاتی جنگ کا حصہ ہے۔

خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور امریکی حملے

ایران کا یہ دعویٰ امریکہ کی جانب سے ایران پر مسلسل فضائی حملوں کے بعد سامنے آیا ہے، جس کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے ایران کے خلاف مسلسل ساتویں رات بھی فوجی حملے شروع کر دیے ہیں۔ ان حملوں کا مقصد فوجی صلاحیتوں کو کمزور کرنا بتایا گیا ہے۔ امریکی صدر اور کمانڈر اِن چیف کی ہدایت پر کیے جانے والے ان حملوں نے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ ان حملوں میں ساحلی دفاعی نظام، میزائل لانچنگ انفراسٹرکچر، ڈرون پوزیشنز اور بحری صلاحیتوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

امریکی ناکہ بندی نے بھی صورتحال کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔ امریکہ نے اپریل کے وسط میں ایران کی بحری ناکہ بندی شروع کی تھی۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ امریکہ ایران کے ساتھ مسائل کے حل کے لیے پرعزم ہے، تاہم ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی جاری ہے۔ اس ناکہ بندی کے دوران امریکی افواج نے ایران جانے والے تجارتی جہازوں کو بھی روکا اور بعض کو نشانہ بنایا ہے۔ اس کے جواب میں ایران نے آبنائے ہرمز کو بند رکھنے کا انتباہ جاری کیا ہے، جب تک امریکی کارروائیاں بند نہیں ہوتیں۔ آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کے لیے ایک انتہائی اہم آبی گزرگاہ ہے، اور اس کی بندش عالمی منڈیوں کے لیے شدید خطرات کا باعث بن سکتی ہے۔

ایران کی جانب سے دیگر جوابی کارروائیاں

بحرِ ہند میں امریکی جنگی جہاز کو نشانہ بنانے کے دعوے کے علاوہ، ایران نے خطے میں امریکہ کے دیگر فوجی اہداف کو بھی نشانہ بنانے کے متعدد دعوے کیے ہیں۔ پاسدارانِ انقلاب نے بحرین میں امریکی ڈرونز کے ڈپو اور مصنوعی ذہانت کے مرکز پر حملے کا دعویٰ کیا ہے، جس میں بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون کا استعمال کیا گیا۔ ای ٹی وی بھارت کے مطابق، ایران نے بحرین میں شیخ عیسیٰ ایئر بیس پر امریکی فوجی اڈوں اور کویت میں علی السلم ایئر بیس پر ایم کیو-9 ڈرونز کی تعیناتی کے لیے استعمال ہونے والے ریمپ کو نشانہ بنانے کا بھی دعویٰ کیا ہے، جس سے کئی ڈرونز تباہ ہو گئے۔

کویتی وزارتِ دفاع نے بھی تصدیق کی ہے کہ ان کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے متعدد بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا۔ کویتی فوج کے کئی مراکز اور فوجی کیمپ بھی ڈرون حملوں کا نشانہ بنے، جس میں متعدد اہلکار زخمی ہوئے۔ اسی طرح، اردن کی فوج نے بھی اعلان کیا ہے کہ انہوں نے اپنی فضائی حدود میں داخل ہونے والے ایران کے 10 میزائلوں کو کامیابی سے روک کر تباہ کر دیا۔ ان حملوں کے بعد بحرین میں فضائی حملے کے سائرن بج اٹھے اور شہریوں کو محفوظ پناہ گاہوں میں جانے کی ہدایت کی گئی۔ یہ تمام واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ خطے میں عسکری تصادم کی نوعیت صرف سمندری حدود تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ مختلف ممالک میں موجود امریکی تنصیبات تک پھیل چکی ہے۔

ایرانی فوجی قیادت کا ردعمل اور حکمت عملی

ایران کے سپریم لیڈر کے مشیر محسن رضاعی نے واضح الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے ایران پر مزید حملے کیے تو جنگ کا رخ بدل سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران دفاعی نہیں بلکہ جارحانہ حکمتِ عملی اختیار کر سکتا ہے اور اگر چند روز مزید حملے ہوئے تو مکمل جارحانہ آپریشن شروع کیا جائے گا۔ یہ بیان ایران کے بدلتے ہوئے فوجی موقف کی عکاسی کرتا ہے جو اب محض دفاع تک محدود نہیں رہنا چاہتا۔

پاسدارانِ انقلاب نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ امریکی بحری بیڑے ان کے ریڈار پر ہیں اور کسی بھی وقت نشانہ بن سکتے ہیں۔ پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان کے مطابق، امریکی فوج کی نقل و حرکت اور عسکری ساز و سامان بحری یونٹس کی مکمل نگرانی میں ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکی افواج ایران کی ممکنہ فوجی کارروائی کے “زیرو آور” کے قریب پہنچ چکی ہیں اور امریکی افواج ہر گزرتے لمحے کے ساتھ اس مرحلے کے قریب پہنچ رہی ہیں جب ایرانی مسلح افواج خطے کے سمندری علاقوں میں سینٹکام کی بحری یونٹس کے خلاف کارروائی کریں گی۔

پاسدارانِ انقلاب کی ایرو اسپیس فورس کے کمانڈر میجر جنرل مجید موسوی نے بھی سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی جوابی کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک جنوبی ساحلی علاقوں اور آبنائے ہرمز میں حالات دوبارہ معمول پر نہیں آ جاتے۔ یہ بیانات خطے میں موجود امریکی افواج کے لیے ایک واضح انتباہ ہیں اور یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ایران کسی بھی فوجی تصادم کی صورت میں بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہے۔

واقعہدعویٰ کرنے والا فریقٹارگٹمقاماستعمال شدہ ہتھیارتصدیق شدہ؟
امریکی جنگی جہاز پر حملہایرانامریکی جنگی جہازشمالی بحرِ ہندکروز میزائلغیر تصدیق شدہ
امریکی ڈرون ڈپو پر حملہ(پاسدارانِ انقلاب)امریکی ڈرون ڈپوبحرینبیلسٹک میزائل، ڈرونزدعویٰ شدہ
امریکی مصنوعی ذہانت سینٹر پر حملہ(پاسدارانِ انقلاب)امریکی مصنوعی ذہانت سینٹربحرینبیلسٹک میزائل، ڈرونزدعویٰ شدہ
کویت میں امریکی فوجی تنصیبات پر حملہایرانامریکی فوجی تنصیبات، ڈرون ریمپکویت (شیخ عیسیٰ ایئر بیس، علی السلم ایئر بیس)میزائل، ڈرونزدعویٰ شدہ (کویتی دفاع نے روکے)
اردن میں امریکی فوجی تنصیبات پر حملہایرانامریکی فوجی تنصیباتاردنمیزائل (10 میزائل روکے گئے)دعویٰ شدہ (اردنی دفاع نے روکے)

بحرِ ہند میں ایران کی بحری موجودگی اور صلاحیتیں

ایران کی بحری طاقت خلیج فارس، قلزم اور بحرِ ہند کے وسیع علاقے میں اس کے تزویراتی عزائم کو پورا کرنے کے لیے انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔ ایران کے پاس دو متوازی بحری افواج ہیں: اسلامی جمہوریہ ایران کی بحریہ (آرٹیش) اور سپاہ پاسداران انقلاب کی بحری شاخ (آئی آر جی سی نیوی)۔ آرٹیش بحریہ بڑے جنگی جہازوں جیسے فریگیٹیس، کورویٹیس اور آبدوزوں پر مشتمل ہے، جبکہ پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ چھوٹی، برق رفتار حملہ آور کشتیوں اور اینٹی شپ میزائلوں پر زیادہ انحصار کرتی ہے۔

ایران نے 1970 کی دہائی میں اپنی بحریہ اور بحری رسائی کو بحرِ ہند تک وسعت دینے کی منصوبہ بندی کی تھی، لیکن 1979 کے اسلامی انقلاب اور اس کے بعد لگنے والی پابندیوں نے اس عمل کو سست کر دیا۔ تاہم، حالیہ برسوں میں ایران نے اپنی مقامی اسلحہ سازی کی صنعت کو فروغ دیا ہے اور سوویت یونین، چین اور شمالی کوریا سے بھی فوجی سازوسامان حاصل کیا ہے۔ ایران مسلسل اپنی بحری صلاحیتوں میں اضافہ کر رہا ہے، جس میں آبدوزیں، اینٹی شپ میزائل اور میزائل کشتیاں شامل ہیں تاکہ خلیج فارس میں ممکنہ تنازعات کی صورت میں امریکی بحری جہازوں پر حملہ کرنے کی صلاحیت کو بڑھایا جا سکے۔ دسمبر 2014 میں، ایرانی بحریہ نے زمینی فوج اور فضائیہ کے ساتھ مل کر شمالی بحرِ ہند کے ایک وسیع علاقے پر مشترکہ مشقیں کیں۔ ان مشقوں میں نئے اینٹی شپ، برقناطیسی قوت اور صوتیات پر مبنی بحری بارودی سرنگیں بچھانے کے نظام کے ساتھ ساتھ ‘فاتح’ آبدوز کا بھی تجربہ کیا گیا۔

ایران نے ماضی میں بھی بحری ناکہ بندی اور آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی دھمکیاں دی ہیں، جس سے اس کی بحری قوت کی تزویراتی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ خطے میں جاری امریکی فوجی سرگرمیوں کے پیش نظر، ایران کی بحری موجودگی اور اس کی میزائل صلاحیتیں ایک اہم توازن کا عنصر بن چکی ہیں۔ مزید معلومات کے لیے ویکیپیڈیا پر ایرانی بحریہ کے بارے میں پڑھا جا سکتا ہے۔

عالمی برادری کے خدشات اور مستقبل کے امکانات

امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، خصوصاً بحرِ ہند میں امریکی جنگی جہاز کو نشانہ بنانے کے ایرانی دعوے نے عالمی برادری میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ اس خطے میں کسی بھی بڑے فوجی تصادم کے نتیجے میں عالمی توانائی کی سپلائی لائنز بری طرح متاثر ہو سکتی ہیں، جس کے سنگین عالمی اقتصادی اثرات مرتب ہوں گے۔ آبنائے ہرمز، جو دنیا کی سب سے اہم سمندری تجارتی گزرگاہوں میں سے ایک ہے، کی ممکنہ بندش عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔

چین جیسے ممالک نے بھی اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے، اقوامِ متحدہ میں چینی مندوب نے کہا ہے کہ امریکہ یمن اور بحرِ احمر میں ہونے والی صورتحال کا بھی ذمہ دار ہے۔ عالمی برادری کی جانب سے دونوں فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مذاکرات کے ذریعے حل تلاش کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے تاکہ خطے کو ایک بڑے تنازعے سے بچایا جا سکے۔ تاہم، امریکہ اور ایران دونوں ہی اپنے اپنے موقف پر قائم ہیں اور ایک دوسرے پر جارحیت کا الزام عائد کر رہے ہیں۔

مستقبل کے امکانات غیر یقینی ہیں۔ اگر امریکہ کے حملے جاری رہے اور ایران اپنی جارحانہ حکمتِ عملی کو عملی جامہ پہنایا تو خطے میں مکمل جنگ چھڑ سکتی ہے۔ اس سے نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ بحرِ ہند میں یہ مبینہ واقعہ خطے میں سمندری سیکورٹی کے حوالے سے نئے چیلنجز پیدا کر سکتا ہے اور عالمی بحری جہاز رانی کے لیے خدشات کا باعث بن سکتا ہے۔

نتیجہ

ایران کا بحرِہند میں امریکی جنگی جہاز کو کروز میزائل سے نشانہ بنانے کا دعویٰ خطے میں امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی کا ایک تازہ ترین اور انتہائی تشویشناک پہلو ہے۔ اگرچہ اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے، تاہم اس نے خطے میں تصادم کے خطرات کو نمایاں طور پر بڑھا دیا ہے۔ امریکہ کی جانب سے مسلسل فضائی حملوں اور جوابی کارروائیوں کے دعوؤں نے صورتحال کو نہایت نازک بنا دیا ہے۔ ایران کے فوجی حکام کے بیانات، جو دفاعی سے جارحانہ حکمت عملی کی طرف منتقلی کی نشاندہی کرتے ہیں، عالمی برادری کے لیے گہری تشویش کا باعث ہیں۔ عالمی طاقتوں کو چاہیے کہ وہ فریقین کو مذاکرات کی میز پر لائیں اور تناؤ میں کمی کے لیے ٹھوس اقدامات کریں تاکہ خطے کو ایک بڑے اور تباہ کن فوجی تصادم سے بچایا جا سکے، جس کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جائیں گے۔