مقبول خبریں

اپنا گھر اسکیم 2026: پنجاب کے رہائشیوں کے لیے آن لائن رجسٹریشن اور درخواست کا مکمل طریقہ

اپنا گھر اسکیم 2026 پنجاب کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم اور انقلابی قدم ہے جس کا مقصد مستحق اور کم آمدنی والے خاندانوں کو اپنے گھر کا خواب پورا کرنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔ پنجاب حکومت کی جانب سے شروع کی گئی یہ اسکیم، جسے خاص طور پر “اپنی چھت اپنا گھر” اور “اپنی زمین اپنا گھر” پروگرامز کے نام سے جانا جاتا ہے، بے گھر افراد کو رہائش فراہم کرنے اور موجودہ خستہ حال گھروں کی مرمت یا توسیع کے لیے بلا سود قرضے فراہم کرتی ہے۔ یہ پروگرام وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی قیادت میں شروع کیا گیا ہے، جس کا مقصد صوبے بھر میں لاکھوں خاندانوں کو مستفید کرنا ہے۔ پاکستان میں بڑھتی ہوئی آبادی اور شہروں میں رہائش کی بڑھتی ہوئی لاگت کے پیش نظر، حکومتی ہاؤسنگ اسکیمیں غریب اور متوسط طبقے کے لیے امید کی کرن بن کر ابھری ہیں۔ اس مضمون میں، ہم اپنا گھر اسکیم 2026 کے تحت آن لائن رجسٹریشن اور درخواست کے مکمل طریقہ کار، اہلیت کے معیار، درکار دستاویزات، اور دیگر اہم تفصیلات کا جائزہ لیں گے تاکہ پنجاب کے رہائشی اس سہولت سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں۔

اپنا گھر اسکیم 2026 کیا ہے؟

اپنا گھر اسکیم 2026 بنیادی طور پر دو بڑے پروگرامز پر مشتمل ہے جو پنجاب کے شہریوں کو رہائشی سہولیات فراہم کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ پہلا پروگرام “اپنی چھت اپنا گھر” ہے جو ان افراد کے لیے ہے جن کے پاس اپنی زمین موجود ہے لیکن مالی وسائل کی کمی کی وجہ سے وہ اپنے گھر تعمیر یا مرمت نہیں کر سکتے۔ اس اسکیم کے تحت ایسے مستحق خاندانوں کو بلا سود قرض فراہم کیے جاتے ہیں تاکہ وہ اپنے گھروں کی تعمیر مکمل کر سکیں یا اپنی خستہ حال چھتوں کی مرمت کرا سکیں۔

2026 میں، اس پروگرام کو مزید وسعت دی گئی ہے اور قرض کی حد میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ اب گھر کی تعمیر کے لیے 30 لاکھ روپے تک کا بلا سود قرض فراہم کیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل یہ حد 10 سے 15 لاکھ روپے تھی۔ اس کے علاوہ، ایسے افراد جو اپنی موجودہ چھتوں کی مرمت یا گھر کے انفراسٹرکچر کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں، انہیں 5 لاکھ روپے تک کا قرض دیا جاتا ہے۔ یہ قرض آسان اقساط پر 7 سے 9 سال کی مدت میں واپس کیے جا سکتے ہیں۔

دوسرا اہم جزو “اپنی زمین اپنا گھر” پروگرام ہے جس کے تحت بے گھر اور مستحق خاندانوں کو مفت رہائشی پلاٹ فراہم کیے جاتے ہیں۔ یہ پروگرام خاص طور پر ان افراد کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے جن کے پاس اپنا گھر بنانے کے لیے زمین بھی نہیں ہے۔ ابتدائی مراحل میں، پنجاب کے 19 اضلاع میں 23 ہاؤسنگ اسکیموں کے تحت 1,892 مفت پلاٹس فراہم کیے گئے ہیں، جن میں اٹک، بہاولنگر، بہاولپور، بھکر، چنیوٹ، فیصل آباد، گجرات، جھنگ، جہلم، قصور، خوشاب، لیہ، لودھراں، منڈی بہاؤالدین، اوکاڑہ، راجن پور، ساہیوال، سرگودھا، اور وہاڑی شامل ہیں۔ ان پلاٹس کے ساتھ ساتھ، مستفید ہونے والے افراد کو “اپنی چھت اپنا گھر” اسکیم کے تحت تعمیراتی قرضے بھی حاصل کرنے کی سہولت دی جاتی ہے تاکہ وہ اپنے گھروں کی تعمیر کر سکیں۔

حکومت کا ہدف ہے کہ آئندہ ساڑھے چار سالوں میں پنجاب کے تمام 36 اضلاع میں ایک لاکھ سستے مکانات فراہم کیے جائیں۔ اس اسکیم کو پنجاب ہاؤسنگ اینڈ ٹاؤن پلاننگ ایجنسی (PHATA) کے ذریعے چلایا جاتا ہے اور محکمہ ہاؤسنگ، شہری ترقی اور صحت عامہ انجینئرنگ (HUD&PHED) اس کی نگرانی کرتا ہے۔ حکومت نے نہ صرف مالی مدد فراہم کی ہے بلکہ ایک نیا ڈیجیٹل ماڈل بھی متعارف کرایا ہے تاکہ قرضوں کی فراہمی میں شفافیت اور تیزی کو یقینی بنایا جا سکے۔

اہلیت کا معیار: کون درخواست دے سکتا ہے؟

اپنا گھر اسکیم کے تحت درخواست دینے کے لیے چند بنیادی اہلیت کے معیار مقرر کیے گئے ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ مالی امداد واقعی مستحق خاندانوں تک پہنچے۔ پنجاب کے رہائشیوں کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ درج ذیل شرائط پر پورا اترتے ہوں:

  • شہریت اور رہائش: درخواست دہندہ پاکستان کا شہری ہو اور صوبہ پنجاب کا مستقل رہائشی ہو۔ “اپنی زمین اپنا گھر” اسکیم کے تحت، درخواست دہندگان صرف اپنے آبائی ضلع میں درخواست دے سکتے ہیں۔
  • ملکیت کی شرط: درخواست دہندہ کے نام پر پاکستان کے کسی بھی حصے میں کوئی دوسرا رہائشی گھر یا پلاٹ نہیں ہونا چاہیے۔ اس اسکیم کا مقصد ان افراد کو فائدہ پہنچانا ہے جو پہلی بار گھر کے مالک بن رہے ہیں یا جن کے پاس رہائش کا کوئی متبادل انتظام نہیں ہے۔
  • آمدنی کی حد: درخواست دہندہ کی ماہانہ گھریلو آمدنی 50,000 روپے سے کم ہونی چاہیے۔ تاہم، “وزیراعظم اپنا گھر پروگرام” (جو ایک وفاقی اسکیم ہے اور پنجاب کے رہائشی بھی اس کے اہل ہو سکتے ہیں) کے تحت آمدنی کی کوئی مخصوص حد مقرر نہیں کی گئی ہے، بلکہ قرض کی ماہانہ قسط آمدنی کے 65 فیصد سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔
  • عمر کی حد: درخواست دہندہ کی عمر 18 سال یا اس سے زیادہ ہونی چاہیے۔ وفاقی اپنا گھر پروگرام کے تحت 65 سال تک کے افراد درخواست دے سکتے ہیں۔
  • مالی ریکارڈ: درخواست دہندہ کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ یا قرض کے ڈیفالٹ کی تاریخ نہیں ہونی چاہیے۔ اسے کسی بھی بینک کا مقروض نہیں ہونا چاہیے۔
  • پیشہ: حکام کے مطابق، اسکیم میں کسی بھی پیشے کو نااہل قرار نہیں دیا گیا ہے۔ صحافی، وکلاء، ججز، پالیسی ساز، فوجی اہلکار، اور دیگر تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد اپنے گھر کے حصول کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔ تنخواہ دار اور غیر رسمی شعبے سے وابستہ افراد دونوں اہل ہیں۔
  • پلاٹ کا سائز (اپنی چھت اپنا گھر کے لیے): شہری علاقوں میں 1 سے 5 مرلہ اور دیہی علاقوں میں 1 سے 10 مرلہ پلاٹ کے مالک افراد قرض کے لیے اہل ہیں۔

درکار دستاویزات

اپنا گھر اسکیم کے لیے آن لائن یا آف لائن درخواست دیتے وقت کچھ ضروری دستاویزات فراہم کرنا لازمی ہے تاکہ درخواست کی جانچ پڑتال اور منظوری کا عمل مکمل ہو سکے۔ درخواست گزاروں کو درج ذیل دستاویزات تیار رکھنی چاہیئیں:

  • شناختی کارڈ (CNIC): درخواست دہندہ کا درست اور کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ لازمی ہے۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے نائیکوپ (NICOP) یا پی او سی (POC) درکار ہو سکتا ہے۔
  • آمدنی کا ثبوت: یہ سب سے اہم دستاویزات میں سے ایک ہے جو درخواست دہندہ کی مالی اہلیت کی تصدیق کرتی ہے۔ اس میں تنخواہ کی پرچی (Salary Slip)، کاروبار کی تفصیلات، بینک اسٹیٹمنٹس، یا آمدنی کے دیگر قابل قبول ذرائع شامل ہو سکتے ہیں۔
  • رہائش کا ثبوت: حالیہ یوٹیلیٹی بلز (بجلی، گیس، پانی) یا ڈومیسائل سرٹیفکیٹ جو آپ کے موجودہ رہائشی پتے کی تصدیق کرتا ہو۔
  • پلاٹ کی ملکیت کے کاغذات: اگر آپ “اپنی چھت اپنا گھر” اسکیم کے تحت تعمیراتی قرض کے لیے درخواست دے رہے ہیں تو آپ کو اپنے پلاٹ کی ملکیت کے ثبوت (مثلاً فرد، رجسٹری، انتقال وغیرہ) فراہم کرنا ہوں گے۔
  • خاندانی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ (FRC): کچھ اسکیموں کے لیے خاندانی تفصیلات فراہم کرنے کے لیے ایف آر سی کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
  • دیگر دستاویزات: معذوری کا سرٹیفکیٹ (اگر قابل اطلاق ہو)، بیوہ ہونے کا سرٹیفکیٹ (اگر قابل اطلاق ہو)، یا دیگر خصوصی حالات کی تصدیق کرنے والے دستاویزات۔
  • تصویر: حالیہ پاسپورٹ سائز کی تصاویر بھی درکار ہو سکتی ہیں۔

یہ یقینی بنانا ضروری ہے کہ تمام دستاویزات درست اور مکمل ہوں تاکہ درخواست کی منظوری میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔ نامکمل یا غلط معلومات کی صورت میں درخواست مسترد ہو سکتی ہے۔

آن لائن رجسٹریشن اور درخواست کا طریقہ کار

اپنا گھر اسکیم 2026 کے تحت آن لائن رجسٹریشن کا عمل انتہائی آسان بنایا گیا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں۔ پنجاب حکومت نے اس مقصد کے لیے پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (PITB) پورٹل اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو استعمال کیا ہے۔ آن لائن درخواست دینے کے درج ذیل مراحل ہیں:

  • سرکاری پورٹل تک رسائی: سب سے پہلے، آپ کو متعلقہ سرکاری ویب سائٹ یا پورٹل پر جانا ہوگا۔ پنجاب کی “اپنی چھت اپنا گھر” اسکیم کے لیے، شہری acag.punjab.gov.pk کے ذریعے آن لائن درخواست دے سکتے ہیں۔ وفاقی “وزیراعظم اپنا گھر پروگرام” کے لیے apnaghar.gov.pk/register پر جا کر اکاؤنٹ بنایا جا سکتا ہے۔
  • رجسٹریشن/اکاؤنٹ بنانا: پورٹل پر سب سے پہلے آپ کو اپنا اکاؤنٹ بنانا ہوگا۔ اس کے لیے آپ کو اپنی بنیادی معلومات جیسے نام، شناختی کارڈ نمبر، موبائل نمبر، اور ای میل ایڈریس درج کرنا ہوگا۔ ایک مضبوط پاس ورڈ سیٹ کر کے رجسٹریشن مکمل کی جاتی ہے۔
  • لاگ ان اور درخواست فارم پُر کرنا: اکاؤنٹ بننے کے بعد، اپنے دیے گئے یوزر نیم اور پاس ورڈ کے ساتھ لاگ ان کریں۔ اس کے بعد آپ کو ایک مکمل درخواست فارم نظر آئے گا جس میں ذاتی، خاندانی، اور مالی تفصیلات شامل ہوں گی۔ اپنی تمام معلومات درست اور احتیاط سے فراہم کریں۔
  • دستاویزات اپ لوڈ کرنا: درخواست فارم پُر کرنے کے ساتھ ہی آپ کو مطلوبہ دستاویزات (جیسے شناختی کارڈ کی کاپی، آمدنی کا ثبوت، پلاٹ کے کاغذات وغیرہ) اسکین کر کے اپ لوڈ کرنے ہوں گے۔ اس بات کو یقینی بنائیں کہ دستاویزات واضح اور درست ہوں۔
  • درخواست جمع کروانا اور ٹریکنگ: تمام معلومات اور دستاویزات اپ لوڈ کرنے کے بعد، اپنی درخواست جمع کروائیں۔ جمع کروانے کے بعد، آپ کو ایک ٹریکنگ آئی ڈی یا درخواست نمبر ملے گا۔ اس نمبر کو محفوظ رکھیں کیونکہ آپ بعد میں اسی پورٹل کا استعمال کرتے ہوئے اپنی درخواست کی حیثیت آن لائن چیک کر سکیں گے۔

آف لائن درخواست کا طریقہ کار:
جو افراد آن لائن درخواست نہیں دے سکتے، ان کے لیے آف لائن طریقہ بھی دستیاب ہے۔ آپ اپنی قرض کی درخواستیں متعلقہ ڈپٹی کمشنرز، اسسٹنٹ کمشنرز، اور پنجاب ہاؤسنگ اینڈ ٹاؤن پلاننگ ایجنسی (PHATA) کے دفاتر میں جمع کرا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، حکومت پنجاب نے درخواست گزاروں کی رہنمائی کے لیے ایک ٹول فری ہیلپ لائن نمبر 0800-09100 بھی مقرر کیا ہے جس پر کال کر کے مزید معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔

خصوصیت“اپنی چھت اپنا گھر” (پنجاب اسکیم)“وزیراعظم اپنا گھر پروگرام” (وفاقی اسکیم)
مقصدموجودہ گھروں کی مرمت/توسیع، نئے گھروں کی تعمیر، مفت پلاٹس۔تیار مکان/فلیٹ خریدنا، پلاٹ پر گھر تعمیر کرنا، موجودہ گھر کی مرمت۔
قرض کی رقم (2026)مرمت کے لیے 5 لاکھ تک، تعمیر کے لیے 30 لاکھ تک (بلا سود)۔کمرشل بینکوں سے 1 کروڑ تک، مائیکرو فنانس سے 50 لاکھ تک (سبسڈی یافتہ سود)۔
اقساط کی مدت7 سے 9 سال۔طویل مدتی، پہلے 10 سال 5% شرح سود۔
اہلیتپنجاب کا مستقل رہائشی، کوئی اور جائیداد نہ ہو، ماہانہ آمدنی 50,000 سے کم۔پاکستانی شہری، کوئی اور رہائشی یونٹ نہ ہو، 65 سال تک عمر۔
آن لائن پورٹلacag.punjab.gov.pk یا PITB پورٹل۔apnaghar.gov.pk/register۔
خاص فوائدبلا سود قرض، مفت پلاٹ (اپنی زمین اپنا گھر)۔سبسڈی یافتہ شرح سود، اوورسیز پاکستانی بھی اہل۔

قرض کی تفصیلات اور واپسی کے طریق کار

اپنا گھر اسکیم 2026 کے تحت قرض کی تفصیلات اور واپسی کے طریق کار کو عوامی سہولت کے مطابق ڈیزائن کیا گیا ہے تاکہ کم آمدنی والے خاندان آسانی سے اپنے قرض واپس کر سکیں۔

  • بلاسود قرض (اپنی چھت اپنا گھر): پنجاب حکومت کی “اپنی چھت اپنا گھر” اسکیم کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس کے تحت فراہم کیے جانے والے قرضے بلاسود ہوتے ہیں۔ یہ ایک بہت بڑی سہولت ہے جو مستفیدین پر مالی بوجھ کم کرتی ہے۔
  • قرض کی رقم: 2026 میں، گھر کی تعمیر کے لیے زیادہ سے زیادہ قرض کی حد کو بڑھا کر 30 لاکھ روپے کر دیا گیا ہے۔ جبکہ موجودہ چھتوں کی مرمت یا گھر کے انفراسٹرکچر کو مضبوط کرنے کے لیے 5 لاکھ روپے تک کا قرض فراہم کیا جاتا ہے۔
  • قسطوں کی ادائیگی: قرض کی واپسی 7 سے 9 سال کی آسان ماہانہ اقساط میں کی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر، 5 لاکھ روپے کے قرض کی ماہانہ قسط صرف 4,700 روپے رکھی گئی ہے۔ جبکہ 10 لاکھ روپے کے قرض کی ماہانہ قسط 9,300 روپے ہوگی۔ 15 لاکھ روپے کے قرض کے لیے ماہانہ قسط تقریباً 14,000 روپے بتائی گئی تھی، جسے اب 30 لاکھ کی حد بڑھنے کے بعد ایڈجسٹ کیا جائے گا۔
  • مہلت کی مدت: کچھ اسکیموں میں قرض کی تقسیم کے بعد ابتدائی 3 ماہ کی مہلت کی مدت بھی دی جاتی ہے، جس دوران کوئی قسط ادا نہیں کرنی ہوتی۔
  • سبسڈی یافتہ قرض (وزیراعظم اپنا گھر پروگرام): وفاقی “وزیراعظم اپنا گھر پروگرام” کے تحت، کمرشل اور اسلامی بینکوں سے 1 کروڑ روپے تک اور مائیکرو فنانس اداروں سے 50 لاکھ روپے تک کے قرضے فراہم کیے جاتے ہیں۔ ان قرضوں پر پہلے 10 سال کے لیے 5 فیصد کی مقررہ سبسڈی یافتہ شرح سود لاگو ہوتی ہے، جس کے بعد مارکیٹ کے مطابق شرح سود ہو سکتی ہے۔
  • مشترکہ درخواست: قرض کے حصول کے لیے زیادہ سے زیادہ چار افراد مشترکہ طور پر درخواست دے سکتے ہیں تاکہ قرض کی واپسی کی شرائط کو پورا کیا جا سکے۔ زیادہ عمر رکھنے والے افراد اپنے بچوں یا خاندان کے دیگر افراد کے ساتھ شراکت داری میں درخواست دے سکتے ہیں، بشرطیکہ شریک درخواست گزار ملازمت پیشہ ہوں یا ان کی آمدنی کا کوئی ذریعہ موجود ہو۔
  • آسان طریقہ کار: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بینکوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ قرض کی درخواستوں پر تیزی سے کارروائی کریں اور تقریباً ایک ماہ کے اندر اہل درخواستوں کی حتمی منظوری متوقع ہے۔ حکومت نے قرض نقصانات کے ابتدائی 10 فیصد کو برداشت کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی ہے تاکہ بینکوں کو زیادہ سے زیادہ فنانسنگ کی ترغیب ملے۔

اسکیم کے فوائد اور چیلنجز

اپنا گھر اسکیم 2026 کے بے شمار فوائد ہیں جو غریب اور متوسط طبقے کو ایک بہتر مستقبل فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں، تاہم کچھ چیلنجز بھی درپیش ہو سکتے ہیں۔

  • فوائد:
    • رہائش کی فراہمی: سب سے اہم فائدہ یہ ہے کہ یہ اسکیم لاکھوں بے گھر اور کم آمدنی والے خاندانوں کو اپنی چھت فراہم کرنے میں مدد دیتی ہے، جو ایک بنیادی انسانی ضرورت ہے۔
    • معاشی ترقی: ہاؤسنگ سیکٹر کی ترقی سے تعمیراتی صنعت اور اس سے منسلک دیگر 40 سے زائد صنعتوں کو فروغ ملتا ہے، جس سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور ملکی معیشت کو بھی فائدہ پہنچتا ہے۔
    • مالی بوجھ میں کمی: بلاسود یا سبسڈی یافتہ قرضے مستفیدین پر مالی بوجھ کم کرتے ہیں اور انہیں مہنگے کرایوں سے نجات دلاتے ہیں۔
    • شہری ترقی: یہ اسکیم منصوبہ بند شہری ترقی کو فروغ دیتی ہے اور کچی آبادیوں کے پھیلاؤ کو روکنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
    • پائیدار حل: حکومت کا ہدف طویل مدتی ہے کہ 4.5 سال کے اندر 100,000 مکانات تعمیر کیے جائیں، جو رہائشی مسئلے کا ایک پائیدار حل فراہم کرے گا۔
  • چیلنجز:
    • قیمتوں میں اضافہ: تعمیراتی مواد کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ اسکیم کے اہداف کو متاثر کر سکتا ہے۔ تاہم، حکومت نے قرض کی حد بڑھا کر اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کی ہے۔
    • شفافیت اور بدعنوانی: بڑی حکومتی اسکیموں میں ہمیشہ شفافیت کو برقرار رکھنا ایک چیلنج ہوتا ہے۔ حکومت نے ڈیجیٹل ماڈل متعارف کرا کر اور انسانی مداخلت کم کر کے شفافیت کو یقینی بنانے کی کوشش کی ہے۔
    • درخواستوں کی جانچ پڑتال: بڑی تعداد میں درخواستوں کی جانچ پڑتال اور مستحق افراد کی صحیح شناخت کرنا ایک مشکل کام ہو سکتا ہے۔
    • بنیادی ڈھانچہ: نئے ہاؤسنگ پراجیکٹس کے لیے بنیادی ڈھانچے کی فراہمی (سڑکیں، پانی، بجلی، سیوریج) ایک چیلنج ہو سکتی ہے۔
    • عوامی آگاہی: بہت سے مستحق افراد کو اسکیم کی تفصیلات اور درخواست کے طریقہ کار کے بارے میں مکمل معلومات نہیں ہوتی، جس کی وجہ سے وہ فائدہ نہیں اٹھا پاتے۔ حکومت آگاہی مہمات کے ذریعے اس کمی کو دور کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

مجموعی طور پر، یہ اسکیم پنجاب کے رہائشیوں کے لیے ایک بہت بڑا موقع فراہم کرتی ہے، اور حکومتی سطح پر ان چیلنجز کو حل کرنے کے لیے مسلسل کوششیں کی جا رہی ہیں۔ اس حوالے سے مزید معلومات کے لیے آپ سماء نیوز کی رپورٹ ملاحظہ کر سکتے ہیں کہ کس طرح اس اسکیم کے تحت بلا سود قرضے جاری کیے گئے ہیں۔

مستقبل کے امکانات اور حکومتی عزم

پنجاب حکومت اپنا گھر اسکیم کی کامیابی اور وسعت کے لیے پرعزم ہے، اور آئندہ سالوں میں اس کے مزید مثبت اثرات متوقع ہیں۔ “اپنی چھت اپنا گھر” پروگرام کے تحت اب تک 62 ہزار سے زائد خاندانوں کو 72 ارب روپے کے بلا سود قرضے فراہم کیے جا چکے ہیں، جس میں ایک ماہ میں 14 ارب روپے کا ریکارڈ بھی بنایا گیا ہے۔ محکمہ ہاؤسنگ کے مطابق، مجموعی طور پر 8,400 گھر مکمل ہو چکے ہیں جبکہ 51,000 سے زائد گھر زیر تعمیر ہیں۔

  • نئے ڈیجیٹل ماڈلز: حکومت نے حال ہی میں بلاسود ہاؤسنگ کے لیے ایک نیا ڈیجیٹل ماڈل منظور کیا ہے جس کے تحت اب بینک آف پنجاب براہِ راست قرضے جاری کرے گا۔ اس نئے ماڈل کے تحت 60 ارب روپے کے قرضوں سے مزید 40 ہزار کم لاگت کے گھر تعمیر کیے جائیں گے۔ قرض کی فراہمی مکمل طور پر ڈیجیٹل ہوگی جس میں انسانی مداخلت کم سے کم کی جائے گی تاکہ شفافیت اور تیزی کو یقینی بنایا جا سکے۔ زمین کی تصدیق اب لینڈ ریکارڈ کے ذریعے کی جائے گی اور قرض کی رقم مرحلہ وار تعمیر سے منسلک ہوگی۔
  • اسکیم کی توسیع: وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے “اپنی زمین اپنا گھر” پروگرام کو مستقبل میں پنجاب کے تمام اضلاع تک پھیلانے کا منصوبہ ظاہر کیا ہے۔ اسی طرح، “اپنی چھت اپنا گھر” پروگرام کا دائرہ کار بھی بڑھایا جا رہا ہے جس میں دو نئی کیٹیگریز متعارف کرانے کی منظوری دی گئی ہے۔
  • سرمایہ کاری میں اضافہ: پنجاب حکومت نے کم لاگت رہائشی منصوبوں کے فروغ کے لیے “افورڈیبل پرائیویٹ ہاؤسنگ اسکیمز رولز” میں اہم ترامیم کی تجویز تیار کی ہے۔ اس کا مقصد نجی شعبے کو سستے گھروں کی تعمیر کی جانب راغب کرنا اور ہاؤسنگ سیکٹر میں سرمایہ کاری بڑھانا ہے۔ مجوزہ ترامیم کے تحت نجی اور کوآپریٹو ہاؤسنگ اسکیموں کے لیے کم از کم 20 فیصد رہائشی رقبہ کم لاگت ہاؤسنگ کے لیے مختص کرنا لازمی قرار دیا جائے گا۔